07/14/2026
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) امریکی عدالتی نظام میں ایک انتہائی اہم اور غیر معمولی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی عدالت نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے انٹرنل ریونیو سروس کے خلاف دائر کیے گئے دس ارب ڈالر کے ہرجانے کے مقدمے کو مسترد کرتے ہوئے ان کے وکلا کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کا حکم دے دیا ہے فلوریڈا کی ضلعی عدالت کی جج کیتھلین ولیمز نے اپنے چھپن صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں اس پورے مقدمے کو عدالتی عمل کا بدترین استحصال اور خود غرضی کا منہ بولتا ثبوت قرار دیا ہے جج نے ریمارکس دیے کہ یہ مقدمہ انصاف کے حصول کے لیے نہیں بلکہ ایک ایسے نام نہاد سمجھوتے کو قانونی حیثیت دینے کے لیے دائر کیا گیا تھا جس کا مقصد صدر کے قریبی ساتھیوں اور کاروباری اداروں کو ٹیکس آڈٹ سے استثنیٰ دلوانا اور ٹیکس دہندگان کے اربوں ڈالر کو غیر قانونی فنڈز میں منتقل کرنا تھا فیصلے کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے دو بڑے بیٹوں نے عدالت سے بدنیتی پر مبنی کارروائی کی اور ایسے افراد کو مقدمے میں فریق بنایا جو درحقیقت خود حکومت کے زیر انتظام تھے جس کی وجہ سے عدالتی کارروائی میں کبھی بھی حقیقی مخالفت یا قانونی تنازع پیدا ہی نہیں ہو سکا جج نے ٹرمپ کے وکیل الیگزینڈرو بریٹو کو فلوریڈا بار کے پاس تادیبی کارروائی کے لیے بھجوا دیا ہے جبکہ دوسرے وکیل ڈینیئل ایپسٹین کو جنوبی ڈسٹرکٹ آف فلوریڈا میں قانون پریکٹس کرنے سے ایک سال کے لیے روک دیا گیا ہے فیصلے میں قائم مقام اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ اور ایسوسی ایٹ اٹارنی جنرل اسٹینلے وڈورڈ کے کردار پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے اور ان کی متعلقہ بار کونسلوں کو بھی عدالتی حکم کی کاپیاں ارسال کرنے کا حکم دیا گیا ہے اس مقدمے میں ٹرمپ نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ان کے ٹیکس ریکارڈ لیک ہونے سے انہیں بھاری نقصان پہنچا ہے تاہم جج نے نشاندہی کی کہ یہ پوری کارروائی ایک خود ساختہ ڈرامہ تھا جس کے ذریعے ایک اعشاریہ سات سات چھ ارب ڈالر کا نام نہاد انسداد ہتھیار فنڈ قائم کرنے کی کوشش کی گئی تھی جسے بعد ازاں شدید عوامی اور سیاسی دباؤ کے بعد ختم کر دیا گیا یہ فیصلہ نہ صرف ٹرمپ کی قانونی ٹیم کے لیے ایک کاری ضرب ہے بلکہ امریکی تاریخ میں عدالتی عمل کے اس طرح کے غلط استعمال پر اب تک کا سب سے سخت ردعمل بھی سمجھا جا رہا ہے جس نے ملکی سیاسی اور عدالتی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے