14/07/2026
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
زندگی کا ایک مرحلہ ایسا بھی آتا ہے جب انسان جسمانی اور ذہنی طور پر اس قدر تھک چکا ہوتا ہے کہ نہ اس میں اپنی تکلیف بیان کرنے کی طاقت رہتی ہے، نہ کسی سے شکوہ کرنے کی ہمت۔ وہ خاموش رہتا ہے، کیونکہ بعض درد ایسے ہوتے ہیں جنہیں الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ اس کی مسکراہٹ کے پیچھے بے شمار آزمائشیں اور اس کی خاموشی میں ان گنت کہانیاں چھپی ہوتی ہیں۔
کبھی کبھی زندگی انسان کو ایسے موڑ پر لا کھڑا کرتی ہے جہاں جدائی، خاموشی اور تکلیف ایک ساتھ اس کا امتحان لینے لگتے ہیں۔ انسان جسمانی سے زیادہ ذہنی طور پر تھک جاتا ہے۔ وہ چاہ کر بھی اپنے دل کا حال کسی سے بیان نہیں کر پاتا، کیونکہ کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جنہیں الفاظ نہیں، صرف اللہ ہی سمجھتا ہے۔
زندگی نے ایک بات ضرور سکھا دی کہ ہر تکلیف کا گلہ لوگوں سے نہیں کیا جا سکتا۔ کچھ درد ایسے ہوتے ہیں جنہیں نہ کوئی سمجھ سکتا ہے اور نہ ہی کوئی کم کر سکتا ہے۔ اس لیے ایک وقت کے بعد انسان لوگوں سے شکوہ کرنا چھوڑ دیتا ہے، کیونکہ اسے یقین ہو جاتا ہے کہ دل کا حال صرف اللہ ہی جانتا ہے
آخر میں آپ سب سے ایک عاجزانہ گزارش ہے کہ ہمیں اپنی دعاؤں میں ضرور یاد رکھیے۔ اگر ہم کسی آزمائش، تکلیف یا جدائی کے مرحلے سے گزر رہے ہیں تو دعا کیجیے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں صبرِ جمیل، قلبی سکون، ثابت قدمی اور اپنی رضا پر راضی رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ ہم س�