Sarwar Jamil Weaving

Sarwar Jamil Weaving We manufacture different varities of ladies and gents suiting grey fabric.

01/01/2026
07/10/2022

کاٹن ورلڈ ڈے پر خصوصی تحریر

*سفید سونے کا عالمی دن*

*7000سال کی انسانی تاریخ بتا رہی ہے کہ انسان اور کاٹن ہمیشہ ساتھ رہے ہیں*

*اس وقت دنیا میں جتنے بھی نیچرل اور آرٹیفیشل فائبرز موجود ہے صحت کے ماہرین متفق ہیں کہ انسان کی جلد اور صحت کے لئے کاٹن ہی بہترین ہے*

*دنیا میں جہاں جہاں آبادی زیادہ ہے وہاں وہاں کپاس بھی زیادہ پیدا ہوتی ہے*

*آج دنیا میں کپاس کی فصل نے لاکھوں کسانوں کو غربت کی لکیر کے نیچے سے نکالا پے*

*پاکستان امریکی کاٹن کا سب سے بڑا خریدار بن کر ابھرا ہے لیکن ہمیں چاہیے کہ اپنی ضرورت کی کاٹن خود پیدا کریں*

کوئی نہیں جانتا کہ روئی کتنی پرانی ہے۔ میکسیکو میں غاروں میں تلاش کرنے والے سائنسدانوں کو روئی کے ٹکڑے اور سوتی کپڑے کے ٹکڑے ملے جو کم از کم 7,000 سال پرانے ثابت ہوئے جبکہ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ اس سوتی کپڑوں میں کپاس کا ریشہ اتنا ہی بہتر نظر آیا جتنا آج امریکہ کی کپاس میں ہوتا ہے
پاکستان میں دریائے سندھ کی وادی میں، 3000 سال قبل مسیح ۔ اور لگ بھگ اسی وقت مصر کی وادی نیل میں کپاس کاشت ہوتی تھی اور اس سے انسانی لباس تیار کیا جاتا تھا
800 عیسوی میں جب کولمبس نے 1492 میں امریکہ کو دریافت کیا تو اس نے جزائر بہاما میں کپاس کی کاشت دیکھی۔ 1500 تک کاٹن سے پوری دنیا واقف تھی
خیال کیا جاتا ہے کہ کپاس کا بیج فلوریڈا میں 1556 میں اور ورجینیا میں 1607 میں لگایا گیا تھا۔ 1616 تک نوآبادیات ورجینیا میں دریائے جیمز کے کنارے کپاس اگاتے تھے
انگلستان میں پہلی بار 1730 میں مشینری کے ذریعے کاٹن سے دھاگہ بنانا شروع کیا گیا مطلب سپنگ انڈسٹری کا آغاز برطانیہ میں 1730میں ہوا اس سے پہلے دنیا میں کاٹن سے دھاگہ ہاتھ سے چلنے والے چرکہ پر بنایا جاتا تھا
ایلی وٹنی، جو میساچوسٹس کے رہنے والے ہیں، نے 1793 میں کاٹن جینگ مشنری اپنے نام سے رجسٹرڈ کرائی حالانکہ پیٹنٹ آفس کے ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ پہلی کاٹن جینگ مشنری کو نوح ہومز نامی مشینی ماہر نے وٹنی کے پیٹنٹ کے دائر ہونے سے دو سال پہلے بنایا تھا۔ جینگ کاٹن جینگ متعارف ہونے کا مطلب یہ ہوا کہ کاٹن میں انقلاب آ گیا کیونکہ انسانی ہاتھ کی نسبت جینگ مشنری سینکڑوں گنا زیادہ تیزی سے پھٹی میں سے کاٹن اور کاٹن سیڈ بنولہ کو الگ الگ کر دیتی ہے
کاٹن جینگ نے تیزی سے بڑھتی ہوئی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو بڑی مقدار میں کاٹن فائبر کی فراہمی ممکن بنائی۔ اور پھر دیکھتے ہیں دیکھتے امریکہ میں کاٹن پیداوار ملین گانٹھ میں تبدیل ہو گئی امریکہ سے یہ کاٹن یورپ کی سپنگ ملوں میں پہنچی اور پھر ملبوسات کی دنیا میں ایک جدید انقلاب آیا
ویسے تو دنیا میں اب بہت سے فائبرز ہیں مطلب ریشے ہیں جن سے دھاگہ اور پھر اس دھاگہ سے کپڑا تیار ہوتا ہے جانوروں کے بالوں اور ریشم بھی نیچرل فائبر شمار ہوتے ہیں جبکہ اب تو لکڑی کی مدد سے وسکوس فائبرز اور پٹرولیم بیس پولسٹر فائبر ٹینسل سمیت متعدد فائبرز موجود ہیں لیکن ان سب میں کپاس آج بھی اپنا منفرد مقام رکھتی ہے
آج تک جتنی بھی میڈیکل سائنس میں ریسرچ ہوئی ہے ماہرین نے کاٹن کے ملبوسات کو انسانی صحت انسانی جلد کے لئے سب سے بہتر پایا ہے کاٹن سے بنئے کپڑے کو ماحول دوست بھی قرار دیا جاتا ہے دنیا کے ماہرین متفق ہیں کہ انسانی خوراک کی ہینڈلنگ میں سوتی تھیلوں سے بہتر اور کچھ نہیں ہے اور سب سے کمال بات یہ ہے کہ اگر ہم 3اور چار ہزار سال قبل انسانی آبادی کے خطوں کو لین یا آج زیادہ آبادی والے ممالک اور براعظموں کو دیکھیں تو حیران کن طور پر ہم دیکھیں گے کہ وہاں کاٹن اگائی جاتی ہے بلکہ ہم کہیں گے کہ وہاں وہاں کاٹن اگتی ہے اب دنیا میں جہاں جہاں آبادیاں کم ہیں وہاں وہاں کاٹن اگتی ہی نہیں ہے مطلب کاٹن اگانے کے لئے جو موسم اور ماحول چاہیے وہ انسانیت کو بھی سوٹ کرتا ہے ہم کہ سکتے ہیں انسان اور کپاس کے پودے کو جو موسم اور ماحول موافق ہے وہ لگ بھگ یکساں ہے
اس وقت دنیا کی سب سے زیادہ آبادی ایشاء میں ہے اور دنیا کی سب سے زیادہ کاٹن بھی ایشیا میں پیدا ہوتی ہے
اس وقت دنیا میں کاٹن پیدا کرنے والے پہلے پانچ ممالک پہلے نمبر پر چین ہے دوسرے پر انڈیا کے تیسرے پر امریکہ ہے چوتھے پر برازیل ہے اور پانچویں پر پاکستان ہے یاد رہے کہ پانچ سال قبل دنیا میں کاٹن پیدا کرنے والے چوتھا بڑا ملک پاکستان تھا لیکن اب ہم پانچویں نمبر پر چلے گئے ہیں
دنیا میں گذشتہ ایک دہائی میں کاٹن کی قیمتوں میں اضافہ کا رحجان ہے جس کی وجہ سے افریقہ کے غریب ممالک میں بھی کپاس کاشت شروع ہو گئی ہے ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کے 50 کروڑ لوگوں کو کپاس کی کاشت نے غربت کی لکیر سے نیچے سے نکالا ہے
افریقہ میں گذشتہ 8سالوں میں 8ملین کسان کپاس کاشت کر کے خوشحال ہوئے ہیں
پاکستان میں کپاس سب سے مہنگی اور نقد آور فصل اور ملک کی یہ واحد فصل ہے جو ملکی جی ڈی پی پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے پاکستان میں کہا جاتا ہے کہ اگر ملکی کاٹن پیداوار ایک کروڑ 50لاکھ گانٹھ ہو جائے تو پاکستان عالمی مالیاتی اداروں کے چنگل سے نکل سکتا ہے دنیا میں کاٹن ریسرچ کے درجنوں ادارے کام کر رہے ہیں کاٹن سیڈز پر مسلسل کام ہو رہا ہے کاٹن جسے سفید سونا بھی کہا جاتا ہے اس وقت بھی دنیا میں اس کی قیمت کافی بلند ہے
پوری دنیا میں سالانہ کاٹن کی 60سے 80ارب ڈالرز کی تجارت ہوتی ہے امریکہ دنیا میں کاٹن کا سب سے بڑا ایکسپورٹر ہے جبکہ چین دنیا میں کاٹن کی پیداوار میں نمبر ون ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں کاٹن کا سب سے بڑا امپورٹر ہے پاکستان میں سیلاب اور بارشوں نے کپاس کی فصل کو بہت نقصان پہچایا ہے جس کی وجہ سے گذشتہ چار ہفتوں سے پاکستان امریکی کاٹن کا سب سے بڑا خریدار بن کر سامنے آ رہا ہے
اب حیران کن صورتحال دیکھیں کہ جنوبی پنجاب پاکستان میں کاٹن پیدا کرنے والا سب سے بڑا خطہ ہے جبکہ جنوبی پنجاب کی ٹیکسٹائل ملوں میں سالانہ 120سے 150ارب روپیہ کی کاٹن امریکہ اور دیگر ممالک سے آتی ہے اس پر پاکستان کے حکمرانوں اور ریسرچ اداروں کو سوچنا ہو گا کہ ہم کاٹن کے ایسے سیڈز استعمال کریں کہ ملکی کھپت کی کاٹن ملک میں اگائی جائے
7اکتوبر کو پوری دنیا میں کاٹن کا ورلڈ ڈے منایا جاتا ہے ایک افریقی ملک کی درخواست پر اقوام متحدہ نے اس دن کو منانے کا آغاز کیا تھا پاکستان میں جہاں کپاس کی فصل جی ڈی پی کو سب سے زیادہ سپورٹ کرتی ہے سات اکتوبر کو خصوصی طور پر منانا چاہیے بلکہ سرکاری سطح پر یہ دن منانا چاہیے
پاکستان میں کپاس کی ترقی اب وقت کی ضرورت بن گئی ہے۔۔۔

Address

Street #4 , Qaim Sain Road Near Asghar Sizing Faiabad
Faisalabad
38000

Telephone

+923215666660

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sarwar Jamil Weaving posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Sarwar Jamil Weaving:

Share