23/06/2026
منتہیٰ — ایک ماں کی اجڑی دنیا
سرگودھا کی ننھی منتہیٰ کا نام سنتے ہی دل بھاری ہو جاتا ہے۔
ایک چھوٹی سی بچی، ایک چھوٹا سا کام، اور ایک ایسا لمحہ جس نے سب کچھ بدل دیا۔ ہمیشہ کے لیے۔
اللہ اس معصوم کو جنت میں اعلیٰ مقام دے، اور اس کی ماں کو جس کی گود آج خالی ہے اسے صبر دے۔ کیونکہ یہ صدمہ الفاظ میں بیان نہیں ہوتا۔
ایک بات دل میں بہت کھٹکتی ہے۔ جب بھی ایسا کچھ ہوتا ہے، لوگ فوراً ماں کی طرف مڑ جاتے ہیں۔ "اکیلے کیوں بھیجا؟" "دھیان کیوں نہیں رکھا؟" جیسے اصل مجرم وہ ماں ہو جس کا دل ابھی ٹکڑے ٹکڑے ہوا ہے۔
ہم بھول جاتے ہیں کہ منتہیٰ پہلی بار نہیں گئی ہوگی اس دکان پر۔ ہمارے محلوں میں یہی تو ہوتا ہے۔ بچے گلی میں کھیلتے ہیں، دکان سے کچھ لے آتے ہیں، پڑوس میں چلے جاتے ہیں۔ یہ کوئی لاپرواہی نہیں، یہ ہماری زندگی کا حصہ رہا ہے ہمیشہ سے۔
اس ماں کو کیا پتا تھا کہ اس بار اس جانی پہچانی گلی میں کوئی درندہ بیٹھا ہے۔ جس ماں کی دنیا لٹ گئی ہو، اسے الزام دینا ظلم پر ظلم ہے۔
کبھی زینب، کبھی منتہیٰ۔ یہ سلسلہ کب رکے گا؟ اور کیسے رکے گا جب ہم ہر بار اصل سوال سے بھاگ کر ماں کو کوسنے لگتے ہیں؟
ایسے درندوں کو سزا ملنی چاہیے، ایسی سزا جو آنے والی نسلوں کو یاد رہے۔ لیکن ساتھ ساتھ ہمیں بطور معاشرہ بھی جاگنا ہوگا۔
آج اس ماں کو ہماری ہمدردی چاہیے، الزام نہیں۔ اور منتہیٰ کو انصاف چاہیے، بس انصاف۔
🕊️