23/11/2019
وہ سجھ رہا تھا میرا مقابلہ چند کرپٹ لوگوں سے ہے اور یہ بازی میں آسانی سے جیت جاؤنگا اور اپنے مُلک سے کرپشن کا ہمیشہ کیلئے خاتمہ کر دونگا لیکن اسے شاید معلوم نہ تھا کہ اِس کا مقابلہ چند کرپٹ لوگوں سے نہیں بلکہ مافیاز کے ساتھ ہے۔ اِس نے آتے ہی کرپٹ پولیس آفیسران کو نکالا اور اگلے دن ہی عدالت نے ان سب کو بحال کر دیا۔ اِس نے سوچا صحت کے محکمہ کو ٹھیک کیا جائے تو مسیحا کے رُوپ میں چُھپے مافیا نے پھڑ پھڑانا شروع کر دیا اور ہڑتالیں شروع کر دی۔ اِس نے سوچا اِس قوم کی پٹواری کلچر سے جان چھڑائی جائے اور کمپیوٹرائز نظام لایا جائے تو پٹواری اِحتجاج کرنے لگے۔ اِس نے سوچا مُلک کا زیادہ تر تاجر طبقہ ٹیکس نہیں دیتا اُنہیں ٹیکس نیٹ میں شامل کیا جائے تو تاجروں نے آسمان سر پر اُٹھا لیا۔ اِن سب نے جب دیکھا کہ یہ شخص تو ہم سب پر ہاتھ ڈال رہا ہے تو سب نے ایکا کر لیا اور اِس ایک شخص کو ناکام بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے اور اِن لوگوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو اِس شخص کی صفوں میں شامل ہیں مگر دل کہیں اور ہیں۔ وہ جن پر ہاتھ ڈالتا ہے وہی مافیا کی مدد لیکر دوبارہ اِس کے سامنے آ جاتا ہے۔ اِن سب حالات میں مزے کی بات یہ ہے کہ اِس شخص کا حوصلہ پست نہ ہوا کہ شاید ہار ماننا اِس کی فطرت میں نہیں
وہ تو بس آخری گیند تک لڑنا جانتا ہے ..!! 😢👇
اللہ اس کی مدد کرے اس کو اس گندے سسٹم سے جان چھڑانے کی توفیق دے ۔۔۔آمین
IMRANKHAN