راہ نجات

راہ نجات Free Palestine

*سومنات کا مندر اتنا بڑا تھا کہ ھندوستان کے سب راجے اس کے لئے جاگیریں وقف کرتے، اپنی بیٹیوں کو خدمت کے لئے وقف کرتے، جو ...
19/05/2024

*سومنات کا مندر اتنا بڑا تھا کہ ھندوستان کے سب راجے اس کے لئے جاگیریں وقف کرتے، اپنی بیٹیوں کو خدمت کے لئے وقف کرتے، جو کہ ساری عمر کنواری رھتیں اور انہیں دیوداسیاں کہا جاتا، ھر وقت 2000 برھمن پوجا پاٹ کرنے کے لئے حاضر رھتے اور 500 گانے بجانے والی خوبصورت عورتیں اور 300 قوال ملازم تھے، سومنات کے بت کی چھت 56 ستونوں پہ قائم تھی وھاں مصنوعی یا سورج کی روشنی کا بندوبست بالکل بھی نہیں تھا بلکہ ھال کی قندیلوں میں جڑے اعلیٰ درجے کے جواھرات روشنی مہیا کرتے تھے،*

*ﷲ کے دلاور سلطان محمود غزنوی بت شکن سونے و چاندی کے چھوٹے چھوٹے بتوں کو روندنے کے بعد بادشاہ بت کے سامنے جا کھڑے ھوئے، یہ بت 6 فٹ زمین کے اندر اور 9 فٹ زمین سے بلند تھا۔*

*اسی دوران شہر کے معزز سمجھے جانے والے ھندوؤں نے منہ مانگی مال و دولت کی پیش کش کی کہ سومنات کے بادشاہ بت کو کچھ نا کہیں، تو سلطان محمود غزنوی کے دیسی دانشوروں نے مشورہ دیا کہ پتھر کو توڑنے کا کیا فائدہ جبکہ مال و دولت مسلمانوں کے کام آئے گا (یہی کنویں میں کتے والی سوچ ھمارے آجکل کے حکمرانوں کی ھے کہ جہاد میں کیا فائدہ ھم اپنی معیشت مضبوط کرتے ھیں)*

*سلطان محمود غزنوی نے دیسی دانشوروں کی بات سُن کر کہا کہ "اگر میں نے تمہاری بات مان لی تو دنیا اور تاریخ مجھے بت فروش کہے گی جبکہ میری چاھت یہ ھے کہ دنیا و آخرت میں مجھے محمود بُت شکن کے نام سے پکارا جائے"*

*یہ کہتے ھی محمود بُت شکن کی توحیدی غیرت جوش میں آئی اور ھاتھ میں پکڑا ھوا گُرز سومنات کے دے مارا، اس کا منہ ٹوٹ کر دور جا گرا، پھر سلطان کے حکم پہ اس کے دو ٹکڑے کئے گئے تو اس کے پیٹ سے اس قدر بیش بہا قیمتی ھیرے، جواھرات اور موتی نکلے کہ جو ھندو معززین اور راجوں کی پیش کردہ رقم سے 100 گنا زیادہ تھے.*

*اسی لئے کافر مؤرخین سلطان محمود غزنوی کو ڈاکو کہتے ھیں .. جبکہ اسلام اسے مال غنیمت کہتا ھے۔*

*یاد رکھیں غیرت مند مسلمان بت شکن ھے... بت فروش نہیں..*

*بت شکن سلطان محمود غزنوی رح وہ ھستی ھے، جب ظاھر شاہ کی حکومت میں 1974ء کو زلزلہ آیا، محمود غزنوی کی قبر پھٹ گئی۔ منتظمین نے قبر کو ٹھیک کرنے کے لئے پوری قبر کھول دی۔ اس کو مرے ھوئے 1000 سال ھو گئے تھے۔ ان کی قبر میں عجیب منظر تھا، اس کا کفن تک میلا نہیں ھوا تھا۔*

*1000 سال بعد بھی اس کا کفن ویسے کا ویسا ھی تھا۔ اس کا ھاتھ سینے پر تھا اور کفن سینے سے کھلا ھوا تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ جیسے اسے آج ھی کوئی قبر میں اتار کر گیا ھے۔*

*اس کے ھاتھ کو ھاتھ لگایا گیا تو وہ نرم و نازک تھا۔ ساری دنیا میں اس بات کی خبر پھیل گئی۔*

*اللہ کے دین، ملک و ملت کی حفاظت کرنے والوں کو اللہ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی بلند مقام عطا کرتا ھے۔*

*اللہ پاک ھم سب کو عمل نیک کرنے کی توفیق دے آمین……*

27/04/2024

Address

Hamayoun Medical Store , Iqbal Bazar
Kamalia
36350

Telephone

+923105960740

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when راہ نجات posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to راہ نجات:

Shortcuts

Share