30/04/2024
انویسٹمنٹ کا سب سے نفع بخش آپشن
یمین الدین احمد
معروف امریکی انویسٹر اور بزنس مین وارن بفیٹ سے ایک بار شئر ہولڈرز نے یہ سوال کیا کہ۔۔۔
بحیثیت ایک انتہائی ذہین اور کامیاب انویسٹر کے، آپ ہمیں کس نوعیت کی اور کہاں انویسٹ کرنے کا مشورہ دیں گے؟
پچھلے 100 سالوں کا کامیاب ترین انویسٹر مسکرایا اور کہا:
"میرا آپ کو یہ مشورہ ہے کہ آپ سب سے زیادہ انویسٹمنٹ اپنے آپ کو بہتر سے بہتر بنانے پر کیجیے۔ یعنی اپنے علم اور صلاحیتوں کو بڑھانے پر کام کیجیے، لائف اسکلز سیکھنے پر انویسٹ کیجیے، کتابیں پڑھنے پر انویسٹ کیجیے۔ کیونکہ جو چیزیں آپ ایک بار سیکھ لیں گے، وہ آپ سے کوئی چھین نہیں سکتا اور یہی انویسٹمنٹ آپ کی باقی تمام انویسٹمنٹس سمجھداری کے ساتھ کرنے کی بنیاد بنے گی۔"
لوگوں کا خیال تھا کہ وارن بفیٹ شئرز کی بات کرے گا، وہ انہیں بتائے گا کہ اس کمپنی کے شئرز میں انویسٹ کرو اور اس میں نہ کرو۔ وہ شئرز میں انویسٹ کرنے کے کچھ طریقے بتائے گا لیکن اس نے ایک الگ ہی انویسٹمنٹ کی بات کردی۔
جب میں اپنے معاشرے میں دیکھتا ہوں تو مجھے اکثر لوگ زمینوں میں، پراپرٹی میں اور "چیزوں" میں پہلے انویسٹ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
ہم یہ بنیادی بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اگر ہم حقیقی معنوں میں گرو کرنا چاہتے ہیں تو سب سے بہترین انویسٹمنٹ اپنی ڈویلپمنٹ پر کی جانے والی انویسٹمنٹ ہے۔
اللہ تعالٰی جنت نصیب فرمائے میرے والد رحمہ اللہ کو جنہوں نے مجھے 6 سال کی عمر سے پڑھنے کی عادت لگا دی تھی۔
پھر اس کے بعد پڑھنا اور اپنی صلاحیتوں کو بڑھانا زندگی کا جزو لازم بن گیا۔
مجھے کام کرتے ہوئے تقریبا" 28 سال ہوگئے ہیں اور اس عرصے میں، میں نے مختلف موضوعات پر کم و بیش 80 سے 100 کورسز / ورکشاپس کیے ہوں گے۔ یہ تعلیمی اور پروفیشنل ڈگریوں کے علاوہ ہیں۔
میں یہ نہیں کہوں گا کہ سارے کورسز بہت اچھے تھے لیکن ہر جگہ سے مجھے سیکھنے کو ملا، البتہ کچھ کورسز ایسے بھی رہے جنہوں نے میری زندگی بدلنے میں اہم کردار ادا کیا۔
میں روزانہ مختلف موضوعات پر لازمی مطالعہ کرتا ہوں۔ دین اسلام، تاریخ، پرسنل ڈویلپمنٹ، بزنس، لیڈرشپ، سیاست، سفر نامے، سوانح عمریاں، فکشن، غرض مختلف موضوعات پر مشورے کے ساتھ مطالعہ 24 گھنٹے کی زندگی کا جزو لازم ہے۔
سوشل میڈیا پر بھی ایسے خواتین و حضرات کو فالو کرنے کی کوشش رہتی ہے جن سے کچھ سیکھنے کو ملے۔
2020 میں کووڈ سے اب تک ہی تقریبًا 20 کے قریب مختلف کورسز کرچکا ہوں۔
اس ساری انویسٹمنٹ سے مجھے کیا فائدہ ہوا؟
میری علمی اور ذہنی استعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔
مزاج میں صبر اور شکر کے عناصر میں واضح اضافہ ہوا۔
یہ بات مکمل طور پہ واضح ہوگئی کہ مجھے تو زیادہ کچھ معلوم ہی نہیں ہے اور کتنا کچھ سیکھنے کو ہے۔ میرے علم اور صلاحیتوں میں بہتری کی بہت گنجائش موجود ہے۔
غیر ضروری بحث مباحثوں سے اللہ نے فاصلہ کروا دیا۔ کوئی کرنے کی کوشش بھی کرتا ہے تو کوشش یہ ہوتی ہے کہ نرمی سے جواب دے آگے بڑھ جایا جائے کہ آپ درست کہہ رہے ہیں
اپنی کمپنی اور کام کو ایک چھوٹی سی شروعات سے عالمی سطح پر لے جانے میں اللہ نے کامیابی دی۔
جمعہ بازار میں 60 روپے مزدوری سے شروع ہونے والا سفر آج ملکوں ملکوں جاری ہے۔
وہی 24 گھنٹے ہیں لیکن اللہ کے فضل سے اپنی ذاتی زندگی، اور فیملی لائف کے ساتھ ساتھ کئی بزنس اور چیریٹی پروجیکٹس مینیج ہوپارہے ہیں جبکہ نیند بھی بہت اچھے طریقے سے پوری ہوتی ہے۔
اللہ کے حقوق یعنی فرض نمازوں کے ساتھ ساتھ میرا ذکر کا نصاب بھی پورا ہوجاتا ہے۔
اپنے اوپر کی گئی انویسٹمنٹ ہی کی برکت سے اللہ تعالٰی دنیا بھر کے اسفار بھی کروا دیتے ہیں اور کام بھی لے لیتے ہیں۔
جیسے جیسے میں زندگی میں آگے بڑھتا گیا ہوں، میرا یہ خیال پختہ تر ہوتا گیا ہے کہ
ہم خواہ مخواہ کی غربت اور مایوسی کا شکار ہیں!
اور اس کی سب سے بڑی وجہ ہے، اپنی زندگی کو، اپنی ذات کو انویسٹمنٹ کے قابل ہی نہیں سمجھنا۔
اور اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ ہم خود سے متعارف ہی نہیں ہیں اور اپنے سوا، باقی سب کو اپنی حالت زار اور ناکامیوں کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔
گویا کہ شکست خوردہ ذہنیت یا victim mentality ہمارا اوڑھنا بچھونا بن گیا ہے۔
اگر آپ اعلٰی اخلاقی، نفسیاتی، جذباتی، روحانی اور مالیاتی بلندیوں پر پہنچنا چاہتے ہیں تو یہ بات گرہ سے باندھ لیجیے۔۔۔۔
آپ کی ذات، آپ کا جسم، آپ کا دماغ، آپ کا قلب، اور آپ کی روح آپ کی سب سے زیادہ انویسٹمنٹ کیے جانے کا مقام ہیں۔
اور اگر آپ یہ نہیں کررہے تو آپ اخلاقی، نفسیاتی، جذباتی، روحانی اور مالیاتی لحاظ سے ایک تھکی ہوئی زندگی جئیں گے۔
خود بھی تکلیف میں رہیں گے اور اپنے سے جڑے ہوئے لوگوں کو بھی تکلیف میں رکھیں گے۔
تو بتائیے پھر خود پر انویسٹمنٹ کرنے کی نیت کرتے ہیں؟
آج سے ہی یہ انویسٹمنٹ شروع کردیں اور کرتے چلے جائیں۔ تین سے پانچ سال میں آپ کہیں سے کہیں پہنچ چکے ہوں گے۔
کمنٹس میں بتائیے کہ آپ اپنی گروتھ کے لیے کن چیزوں پر انویسٹمنٹ کرنے پر آمادہ ہیں؟
اور اگر آپ والد یا والدہ ہیں تو بچوں کی زندگی پر کیا انویسٹمنٹ کررہے ہیں؟ ان کے لیے آپ کا کیا وژن ہے؟
وقت کی ریت پھسلتی جارہی ہے۔ زندگی برف کی مانند پگھلتی جا رہی ہے۔۔۔۔۔
دنیا کی سب سے نفع بخش انویسٹمنٹ آپ کا انتظار کررہی ہے۔
یمین الدین احمد
29 اپریل 2024ء
کراچی، پاکستان۔