04/10/2025
بلعم بن باعوراء کی کہانی
ایک زمانہ تھا جب حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم بنی اسرائیل کو لے کر سرزمینِ مقدس کی طرف بڑھ رہے تھے۔ ان کے راستے میں ایک بڑی قوم رہتی تھی جس کا بادشاہ اپنے اقتدار پر نازاں تھا۔ اس کو ڈر تھا کہ اگر موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم یہاں آ گئی تو اس کی بادشاہت ختم ہوجائے گی۔
اس بادشاہ نے سنا کہ ایک بہت بڑا عالم اور زاہد ہے جس کا نام بلعم بن باعوراء ہے۔ وہ اتنا نیک اور صاحبِ علم سمجھا جاتا تھا کہ اللہ کے خاص نام (اسم اعظم) سے دعا کرتا تو فوراً قبول ہو جاتی۔ لوگ اس کو اللہ کا ولی مانتے تھے۔
بادشاہ نے اپنے درباریوں کے ساتھ مل کر بلعم کے پاس جا کر کہا:
"موسیٰ اور اس کی قوم تمہاری زمین پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ تم اللہ کے حضور دعا کرو کہ وہ ان کو تباہ کردے۔"
بلعم بن باعوراء نے پہلے انکار کیا اور کہا:
"یہ موسیٰ اللہ کا نبی ہے، میں اس کے خلاف دعا کیسے کر سکتا ہوں؟"
لیکن بادشاہ نے اسے بار بار لالچ دیا، مال و دولت پیش کی، دنیاوی عزت اور عورتوں کا فتنہ اس کے سامنے رکھا۔ رفتہ رفتہ شیطان نے اس کے دل میں دنیا کی محبت ڈال دی اور وہ اپنے علم اور عبادت کو بھلا بیٹھا۔
آخرکار وہ تیار ہوگیا اور موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کے خلاف بددعا کے لیے پہاڑ پر چڑھ گیا۔ جیسے ہی اس نے دعا کے لیے زبان کھولی، اللہ تعالیٰ نے اس کی زبان الٹ دی۔ جو بددعا وہ موسیٰ کے لیے کرنا چاہتا تھا، وہ خود اس کی قوم پر پلٹ گئی۔
بلعم بن باعوراء چیخ اٹھا لیکن اب دیر ہوچکی تھی۔ وہ اللہ کے عذاب کا شکار ہوا۔
---
قرآن کی مثال
اللہ تعالیٰ نے سورہ الاعراف (آیات 175-176) میں فرمایا کہ بلعم بن باعوراء کی مثال اس کتے کی طرح ہے جسے ہانکو یا چھوڑ دو، وہ ہانپتا ہی رہتا ہے۔ یعنی وہ علم اور عبادت کے باوجود اپنی خواہشات کا غلام بن گیا اور ہمیشہ کے لیے ذلیل ہوگیا۔
---
سبق
1. علم بغیر عمل کے بوجھ ہے۔
2. دنیا کی محبت انسان کو اللہ کے قریب سے دور کردیتی ہے۔
3. اللہ کی دی ہوئی نعمت اور علم کی ناقدری تباہی کا سبب بنتی ہے۔