30/07/2026
افسوس هے که بڑے بڑے نامور دانشور شاعر ادیب اور بڑے بڑے عهدوں پر براجمان بھی سنی هوٸی باتوں پر یقین کر کے غلط پروپیگنڈا کر رهے هیں ۔انکی ایسی تعلیم اور ڈگریوں کا کیا فاٸده جو لکھ پڑھ نا سکیں اور دوسروں کی باتوں پر لگ کر کسی کی عزت اچھالی جاۓ افسوس سد افسوس۔
جهاں تک این اوسی کی بات هے تو اس میں ایسا کچھ نهیں لکھا هے که گلشن حدید کی کالج کو پپری میں شفٹ کیا جاۓ۔
خدارا سنی سناٸی شیطانی یا منافقتی باتوں پر دھیان نا دھریں
پڑھے لکھے باشعور شھریوں کی طرح پهلے تحریر کا اچھی طرح مطالعه کریں بعد میں سوچ سمجھ کر لکھیں۔