Fashion house and selling

Fashion house and selling This page brings a fresh rising light to ones mind .My wok is to Cherish through my page .I want to

26/06/2025
1200 price
14/01/2024

1200 price

Darood un per ,salam in per, K Jin ka zikr sab se aalaa hai
23/09/2022

Darood un per ,salam in per,
K Jin ka zikr sab se aalaa hai

24/07/2022

آج مجھے جیل میں آئے دو سال مکمل ہو چکے تھے۔ دسمبر 1951 کی ایک شام تھی جب میں منشیات اسمگل کرتے پکڑا گیا تھا۔ دس سال کی قید سن کر بھی میں گھبرایا نہیں۔ مجھے امید تھی کہ میرا گروہ مجھے یہاں سے چھڑوا لے گا، لیکن آج دو سال ہو چکے ہیں مجھے چھڑوانے کوئی نہیں آیا۔ اب میں اکثر تنہائی میں روتا ہوں اور اپنے گناہوں کی معافی مانگتا ہوں۔ نہ جانے کیوں اب اس کال کوٹھری سے میرا دل گھبرانے سا لگا ہے۔ اب تو جیل سپریڈنٹ کو بھی مجھ پر ترس آنے لگا ہے۔ وہ بھی اکثر مجھ سے حال احوال پوچھنے آجاتا ہے ...

1953 کا ہی ایک روشن دن تھا جب جیل میں ایک نیا قیدی آیا۔ وہ باقی سب سے بہت مختلف تھا۔ اس کا دراز قد، روشن چہرہ اور سر پر عمامہ اس کی شخصیت کو متاثر کن بنانے کیلئے کافی تھا۔ اس کے چہرہ کا اطمینان دیکھ کر مجھے بہت حیرت ہوا کرتی تھی۔جیلر نے بتایا کہ :


لیکن میرا دل قطعی ماننے کو تیار نہ تھا کہ ایسا شخص باغی بھی ہو سکتا ہے۔ اسے میرے ساتھ والی بند کوٹھری میں رکھا گیا تھا۔ اس کے اور میرے کمرے کے درمیان ایک چھوٹا سا روشن دان تھا جس سے میرے لئے اس پر نظر رکھنا مشکل نہ تھا۔ میں اکثر اس کے معمولات دیکھ کر حیرت زدہ رہ جاتا۔ پانچ وقت نماز پڑھنے کے علاوہ ہر وقت وہ درود شریف کا ورد کر رہا ہوتا۔ دو دن ایسے ہی گزر گئے، تیسرے دن شور کی آواز سن کر میری آنکھ کھل گئی اور سامنے کا منظر دیکھ کر میری چیخ نکل گئی۔ پانچ چھ افراد جو شکل سے کسی محکمے کے افسران لگتے تھے وہ اس شخص پر لاٹھیوں کی برسات کر رہے تھے اور وہ ہر لاٹھی پر الحمدللہ کہ اٹھتا۔ تھوڑی دیر گزری تھی کہ ایک افسر کے اشارے پر وہاں سانپ لائے گئے اور اس کے برہنہ جسم پر سانپوں کو چھوڑ دیا گیا۔ وہ سانپ اس قدر زہریلے تو نہ تھے کہ اس کی جان لیتے تاہم وہ اس کا جسم نوچ رہے تھے۔ افسر نے چلا کر کہا :
...

قیدی نے غضبناک آنکھوں سے افسر کو دیکھا اور چلا کر کہا :
...

میرے ذہن میں کئی سوالات اٹھ رہے تھے کہ یہ شخص کون ہے، یہ افسر اسے کس جرم میں مار رہے ہیں اور یہ اب تک ڈٹ کر کیوں اور کیسے کھڑا ہے ...؟

ان کے جانے کے بعد مجھ سے رہا نہ گیا میں نے صدا لگائی
" اے اللہ کے نیک بندے! تو کون ہے اور یہاں کیوں آیا ہے اور یہ لوگ تجھے کیوں مار رہے ہیں ...؟ "

اس شخص کے چہرے پر ایک مسکراہٹ پھیل گئی اور وہ بولا :
" قادیانی رسول اللہ کو آخری نبی تسلیم نہیں کرتے۔ تمام مسلمان یہ مطالبہ کر رہے کہ ان کو کافر قرار دیا جائے۔ ملک میں تحریک ختم نبوت کی ابتداء ہو چکی ہے اور ان شاءاللہ تعالٰی ہم تب تک امن سے نہ بیٹھیں گے، جب تک قادیانی آئینی طور پر کافر قرار نہیں دیئے جاتے ... "

میرے تن بدن میں آگ سی لگ چکی تھی۔ میں گناہگار ضرور تھا، لیکن سرور کائنات حضرت محمّد مصطفٰی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم سے انتہا کی عقیدت رکھتا تھا۔ اب مجھے رہ رہ کر خود پر غصہ آنے لگا کہ میں منشیات کے برے کام میں کیوں پڑا ورنہ آج میں بھی ان کے شانہ بشانہ کھڑا ہوتا۔ میں نے اس شخص سے اس کا نام دریافت کیا
تو اس شخص نے مختصر سا جواب دیا :
" "

یہ نام سن کر میرے جسم پر سکتہ طاری ہو گیا، میں کچھ اور کہنے کی جسارت نہ کر سکا، میری آنکھیں نم ہو چکی تھیں، میں زور سے چیخنا چاہتا تھا لیکن آواز میرے حلق میں ہی اٹک گئی تھی۔ میں اس شخص کو جانتا تھا، میں نے اپنے بچپن میں ہر ایک کی زبان پر اس کا نام دیکھا تھا۔ یہ وہی تھا جس نے قائداعظم کو پنجاب کے کئی اضلاع سونپے تھے۔ یہ وہی تھا جسے قائد اعظم بھی کہا کرتے تھے کہ :
...

یہ وہی تھا، جس کا شمار مسلم لیگ کے قائدین میں ہوتا تھا اور آج یہ میرے سامنے ایک تاریک کوٹھری میں موجود تھا۔ اللہ رسول کی محبت اسے کہاں لے آئی تھی اور پھر بےاختیار میری زبان سے اس کیلئے دعائیں نکلنے لگیں۔ اگلے دن وہ ایمان فراموش افسر پھر آٹپکے اور اب کی بار میں چلا اٹھا :
"او ظالمووو! تمہیں شرم نہیں آتی تم کسے مار رہے ہو، کیا تمہیں نارِ جہنم نہیں ڈراتی ...؟ "

لیکن ان سنگدلوں پر اثر نہ ہوا اور مولانا کو آج گھنٹوں برف کے بلاکوں پر لٹایا گیا اور جب مولانا بےہوش ہو گئے تو انہیں چھوڑ کر چلے گئے۔ میں رو رو کر مولانا کو آواز لگا رہا تھا۔ جب تشدد بڑھنے لگا تو مولانا پر کھانا پانی بھی بند کر دیا گیا لیکن مولانا کو نہ پیچھے ہٹنا تھا نہ وہ ہٹے۔ وقت تیزی سے گزر گیا۔ چند سال بعد مولانا رہا ہو چکے تھے لیکن یہ بات میں ہی جانتا تھا کہ کونسا ایسا ظلم ہے جو ان کے جسم پر نہ ڈھایا گیا۔ مجھے اب مولانا کی یاد بےقرار رکھتی تھی۔ میں بھی ختم نبوت صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ کی عظیم المرتبت تحریک میں شامل ہونا چاہتا تھا۔ آج 5 جنوری 1961 ہے، کل صبح مجھے رہا کر دیا جائے گا اور میں ابھی سے تصورات کی دنیا میں خود کو مولانا کے شانہ بشانہ تاجدار ختم نبوت صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم کی صدا بلند کرتے دیکھ رہا ہوں۔ اللہ کی ان پہ کروڑوں رحمتیں ہوں اور انکے صدقے ہماری مغفرت ہو آمین ثمہ آمیـــــــــــــــــن یارب العالمین ... ( ِ_مُکرر )

( عزیز قارئین کرام! اگر ممکن ہو تو ہر پیج پر اور ہر ہر گروپ میں شئیر کریں زیادہ سے زیادہ، ایک نیک و خاص مقصد کی نیت سے!)

#طالبِ_دُعا : ٰن

12/07/2022

The saint soul
حضرت امیر خسرو رحمته الله علیه نے ایک بار بہت خوبصورت نعتیه رباعی
لکھی اور حضرت نظام الدین اولیاء رحمته الله علیه کی خدمت میں پیش
کی . حضرت نے رباعی سنکر فرمایا " خسرو ! رباعی خوب هے لیکن
سعدی کی جو رباعی هے بلغ العلے بکماله ، اسکا جواب نہیں "
اگلے دن حضرت امیر خسرو نے پہلے سے زیادہ محنت سے مزید اچھی
رباعی لکھی اور پیرو مرشد کو سنائی تو انھوں نے سن کر پھر فرمایا که
خسرو رباعی خوب هے لیکن سعدی کی رباعی کا جواب نہیں . حضرت
امیر خسرو نے کئی بار محنت کی لیکن پیرو مرشد هر بار یہی فرماتے
که خسرو ! رباعی خوب هے لیکن سعدی کی رباعی کا جواب نہیں . آخر
ایک دن حضرت امیر خسرو نے عرض کی " سیدی ! سعدی نے بھی
نعتیه رباعی لکھی اور میں بھی کئی دن سے نعت لکھ کر پیش کر رها
هوں لیکن آپ هر بار یہی فرماتے هیں که سعدی کی رباعی کا جواب
نہیں ، ایسا کیوں هے ؟
پیرو مرشد نے فرمایا ،
اچھا ، جاننا چاهتے هو تو آج آدھی رات کے وقت آنا .
چنانچہ امیر خسرو آدھی رات کے وقت حاضر خدمت هوئے تو مرشد کو
وظائف میں مشغول پایا . فرمایا ، " خسرو ! ادھر آؤ ، میرے پاس بیٹھو اور
دیکھو"
مرشد کی توجه هوئی اور حضرت امیر خسرو نے دیکھا که دربار رسالت
صلی الله علیه وآله وسلم آراستہ هے صحابه کرام اور هزاروں اولیاء کرام
موجود هیں . شیخ سعدی دربار میں موجود هیں اور پڑھ رهے هیں ،
بلغ العلے بکماله ،...
کشف الدجا بجماله ...
حسنت جمیع خصاله ...
صلو علیه وآله ... صلو علیه وآله ...
اور نبی کریم صلی الله علیه وآله وسلم فرما رهے هیں ،
سعدی ! پھر پڑھو ،
سعدی کہتے هیں لبیک یا سیدی ! اور پھر رباعی پڑهنے لگتے هیں ،
رباعی ختم هوتی هے اور نبی اکرم صلی الله علیه وآله وسلم فرماتے
هیں ، سعدی ! پھر پڑھو اور سعدی پھر پڑھنے لگتے هیں .
یه دیکھ کر امیر خسرو نے عرض کیا ، پیرو مرشد ! لکھتا تو میں بھی خوب
هوں لیکن سعدی کی رباعی کا جواب نہیں ...
اور واقعی اس رباعی کا جواب نہیں . کہتے هیں جب حضرت سعدی نے
یه رباعی لکھی تو تین مصرعے لکھ لئے ،
بلغ العلے بکماله ...
کشف الدجا بجماله ...
حسنت جمیع خصاله ...
لیکن چوتھا مصرع موزوں نہیں هو رها تها اسی پریشانی میں سو گئے تو
خواب میں نبی کریم صلی الله علیه وآله وسلم کی زیارت کی اور دیکھا
که سرکار صلی الله علیه وآله وسلم فرما رهے هیں ،
سعدی کہتے کیوں نہیں ،
صلو علیه وآله ...
تب سے یه رباعی زبان زد عام هے🌹🌷

Please watch and subscribe
19/06/2022

Please watch and subscribe

This video is about baby dresses of summer and Eid .. It's informative video for tailors

28/04/2022

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Fashion house and selling posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share