13/05/2026
🚨 14 سال کی عمر میں گھر چھوڑنے والی لڑکی کیسے مبینہ طور پر پاکستان کے سب سے خطرناک منشیات نیٹ ورک کا چہرہ بن گئی؟
انمول عرف پنکی کا نام اس وقت پورے ملک میں زیرِ بحث ہے۔ ماڈلنگ کے خواب دیکھنے والی ایک کم عمر لڑکی سے لے کر مبینہ طور پر ایک منظم منشیات نیٹ ورک کی مرکزی کردار بننے تک کی کہانی نے سوشل میڈیا، عوامی حلقوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں میں تہلکہ مچا دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پنکی نے نوجوانی میں گھر چھوڑا اور بعد ازاں ایک مبینہ منشیات فروش وکیل سے شادی کی۔ اسی دوران وہ جرائم کی دنیا کے قریب آئی اور پھر رفتہ رفتہ اس مبینہ نیٹ ورک کا اہم حصہ بنتی چلی گئی۔ طلاق کے بعد اس نے ایک پولیس افسر سے دوسری شادی کی، جبکہ بعد میں اپنے تین بھائیوں کے ساتھ مل کر مبینہ طور پر منشیات سپلائی کا باقاعدہ کاروبار شروع کیا۔
تحقیقاتی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ لاہور سے کراچی تک پھیلا ہوا یہ نیٹ ورک پوش علاقوں، نجی پارٹیوں اور تعلیمی اداروں تک سرگرم تھا۔ اطلاعات کے مطابق کم عمر نوجوانوں کو نشے کی جانب راغب کیا جاتا تھا، جبکہ مخصوص رابطوں اور آن لائن آرڈرز کے ذریعے منشیات سپلائی کی جاتی تھی۔
رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انمول عرف پنکی نے مبینہ طور پر ایک خفیہ لیبارٹری قائم کر رکھی تھی جہاں بیرونِ ملک سے آنے والی کوکین کو مزید طاقتور بنایا جاتا تھا۔ تفتیشی حکام کے مطابق ملزمہ اپنی مخصوص برانڈنگ کے ساتھ پیکنگ بھی کرواتی تھی، جس سے اس کے نیٹ ورک کی منظم نوعیت ظاہر ہوتی ہے۔
ذرائع کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے کئی برس تک صرف نام جانتے رہے لیکن اصل شناخت تک رسائی حاصل نہ کرسکے۔ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ بائیومیٹرک شناخت سے بچنے کیلئے اس نے چہرے پر تیزاب کے استعمال جیسے انتہائی اقدامات بھی کیے۔
کراچی کے علاقے گارڈن میں مشترکہ کارروائی کے دوران گرفتاری کے بعد جب ملزمہ کو عدالت میں پیش کیا گیا تو سب سے زیادہ بحث اس بات پر ہوئی کہ اسے بغیر ہتھکڑی عدالت لایا گیا۔ سوشل میڈیا صارفین نے سوال اٹھایا کہ کیا قانون صرف عام شہریوں کیلئے سخت ہے جبکہ بااثر افراد کو خصوصی رعایت دی جاتی ہے؟
رپورٹس کے مطابق تحقیقات میں بعض پولیس اہلکاروں، خواتین سہولت کاروں اور ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کے کردار کی بھی چھان بین کی جارہی ہے۔ اسی کیس میں کئی مشتبہ افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے جبکہ مزید انکشافات سامنے آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب عوامی حلقوں میں یہ سوال بھی شدت اختیار کر رہا ہے کہ اگر ایک مبینہ نیٹ ورک برسوں تک اتنے بڑے پیمانے پر کام کرتا رہا تو متعلقہ ادارے کہاں تھے؟ سوشل میڈیا پر لوگ اس کیس کو صرف ایک گرفتاری نہیں بلکہ پورے نظام کیلئے ایک بڑا سوالیہ نشان قرار دے رہے ہیں۔
#پاکستان #کراچی #منشیات