Amna's Collection

Amna's Collection 😂 Daily Saas Bahu Funny Reels & Real Stories | Bahu vs Saas Drama | Lahore ki Amna ki Collection ❤️
New Reels Every Day | Tag your Susral Wale!"

ظالم شوہر اور بیٹی کا صبربیٹیاں تو گھر کی رونق اور مان ہوتی ہیں، پر جب وہی بیٹی کسی ظالم کے ہتھے چڑھ جائے تو ماں کا کلیج...
19/06/2026

ظالم شوہر اور بیٹی کا صبر
بیٹیاں تو گھر کی رونق اور مان ہوتی ہیں، پر جب وہی بیٹی کسی ظالم کے ہتھے چڑھ جائے تو ماں کا کلیجہ خون کے آنسو روتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں "صبر کرو"، پر کوئی اس ماں سے پوچھے جو روز اپنی ہنستی کھیلتی بچی کو اندر ہی اندر مرتے دیکھتی ہے۔ یا اللہ! کسی کی معصوم بیٹی کو ایسے امتحان میں نہ ڈالنا جہاں وہ سسک سسک کر جئیے۔ آمین۔

شادی کے  تین مہینے بعد بھائی واپس آیا مگر  تابوت میں "میرے شوہر مجھے مارتے ہیں..."اسلام آباد کے ایک مصروف کیفے میں بیٹھی...
19/06/2026

شادی کے تین مہینے بعد بھائی واپس آیا مگر تابوت میں

"میرے شوہر مجھے مارتے ہیں..."

اسلام آباد کے ایک مصروف کیفے میں بیٹھی عورت نے یہ جملہ کہا تو میرے بھائی احسن کے ہاتھ میں پکڑا کافی کا کپ رک گیا۔

وہ عورت سادہ لباس میں تھی۔

چہرے پر اداسی، آنکھوں میں نمی اور آواز میں ایسا درد تھا کہ سننے والا فوراً ہمدردی محسوس کرے۔

احسن ایک صحافی تھا۔

لوگوں کی کہانیاں سننا اس کے کام کا حصہ تھا۔

اس دن اسے اندازہ نہیں تھا کہ وہ جس کہانی کو سن رہا ہے، چند سال بعد خود اسی کہانی کا مرکزی کردار بن جائے گا۔

عورت کا نام زارا تھا۔

تین بچوں کی ماں۔

اس کا دعویٰ تھا کہ اس کا شوہر اسے مارتا ہے، اس کی عزت نہیں کرتا اور اسے زندہ لا ۔ش بنا دیا ہے۔

احسن بار بار کہتا:

"اگر حالات اتنے خراب ہیں تو قانونی راستہ اختیار کرو۔"

مگر زارا ہر بار روتے ہوئے کہتی:

"میں صرف کسی کا سہارا چاہتی ہوں..."

وہ ملاقاتیں بڑھتی گئیں۔

پھر فون کالز۔

پھر لمبی راتوں کی گفتگو۔

اور پھر وہی ہوا جس کا ڈر میرے والد کو شروع دن سے تھا۔

ایک دن زارا نے اپنے شوہر سے طلاق لے لی۔

چند ماہ بعد اس نے احسن سے شادی کر لی۔

گھر میں طوفان آ گیا۔

ابو نے سخت مخالفت کی۔

لیکن محبت میں ڈوبا انسان اکثر وہ نہیں دیکھتا جو باہر والے صاف دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

شادی کے بعد شروع میں سب کچھ معمول کے مطابق لگتا رہا۔

پھر زارا نے احسن کی خوراک سنبھال لی۔

وہ خود کو نیوٹریشن ایکسپرٹ کہتی تھی۔

روز نئے سپلیمنٹ۔

نئی وٹامنز۔

نئی دوائیں۔

"یہ تمہاری صحت کے لیے ہیں۔"

احسن ایک فٹنس شوقین اور باڈی بلڈر تھا۔

اس نے سوال کرنا چھوڑ دیا۔

اعتماد مکمل ہو چکا تھا۔

پھر ایک اور تبدیلی آئی۔

زارا کو احسن کے کام میں غیرمعمولی دلچسپی ہونے لگی۔

وہ اکثر پوچھتی:

"آج کس پروگرام کی کوریج کی؟"

"کس افسر سے ملاقات ہوئی؟"

"اگلے ہفتے کہاں جا رہے ہو؟"

احسن اسے اپنی کامیابیاں سمجھ کر سب بتاتا رہا۔

اسے اندازہ نہیں تھا کہ بعض سوال صرف دلچسپی کی وجہ سے نہیں پوچھے جاتے۔

پھر ایک دن احسن گھر آیا اور ابو سے کہا:

"میں ملائیشیا پڑھنے جا رہا ہوں۔ میرا حصہ دے دیں۔"

گھر میں شدید جھگڑا ہوا۔

لیکن آخرکار ابو مان گئے۔

چند ہی دنوں میں جائیدادیں فروخت ہو گئیں۔

احسن اور زارا لاہور چھوڑ کر چلے گئے۔

اور پھر...

صرف ایک مہینے بعد فون آیا۔

وہ فون کال جس نے پورے خاندان کی دنیا بدل دی۔

"آپ کے بیٹے کا انتقال ہو گیا ہے..."

ایک مہینے پہلے جو شخص اپنے مستقبل کے خواب لے کر گیا تھا...

اب تابوت میں واپس آ رہا تھا۔
تابوت جب گھر پہنچا تو محلے کے لوگ جمع تھے۔

ہر شخص حیران تھا۔

صرف ایک مہینہ پہلے احسن اپنے خوابوں کے ساتھ گیا تھا۔

اب خاموش لکڑی کے صندوق میں واپس آیا تھا۔

لیکن سب سے عجیب بات زارا تھی۔

کچھ لوگ اس کی حالت دیکھ رہے تھے۔

کچھ لوگ اسے دیکھ کر ایک دوسرے کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھ رہے تھے۔

کیونکہ جہاں احسن کی ماں بار بار بے ہوش ہو رہی تھی، وہاں زارا کے چہرے پر وہ ٹوٹ پھوٹ نظر نہیں آ رہی تھی جس کی سب توقع کر رہے تھے۔وہ اپنی پاکستان والی سہیلیوں کے ساتھ قہقہے لگا رہی تھی

احسن کی تدفین ہوئی۔

اسی رات ابو کو شدید دل کا دورہ پڑا۔

شاید وہ اپنے جوان بیٹے کی موت برداشت نہ کر سکے۔

اگلے دن دوسرا جنازہ اٹھا۔

چوبیس گھنٹوں کے اندر ایک ہی گھر سے دو جنازے نکلے۔

امی کی آنکھوں سے آنسو خشک ہو چکے تھے۔

گھر میں خاموشی تھی۔

لیکن زارا کی زندگی جیسے رکنے کے بجائے تیزی سے آگے بڑھ رہی تھی۔

چند ہفتوں بعد اس نے جائیداد، بینک اکاؤنٹس اور قانونی کاغذات کے بارے میں سوالات شروع کر دیے۔

پھر وکیل آ گئے۔

پھر عدالتیں۔

پھر دعوے۔

پھر کاغذات۔

اور آہستہ آہستہ خاندان کو اندازہ ہوا کہ احسن نے زندگی کے آخری مہینوں میں کئی اہم دستاویزات پر دستخط کیے تھے۔

ایسے دستخط جن کے بارے میں کسی کو علم نہیں تھا۔

امی اکثر ایک ہی سوال پوچھتی تھیں۔

"ایک مہینے میں ایسا کیا ہوا تھا؟"

مگر جواب کسی کے پاس نہیں تھا۔

پھر ایک دن احسن کے ایک پرانے دوست نے فون کیا۔

اس نے کہا:

"میرے پاس کچھ ہے جو آپ لوگوں کو دیکھنا چاہیے۔"

وہ ایک ہارڈ ڈرائیو تھی۔

اس میں احسن کی کچھ ریکارڈنگز تھیں۔

کچھ ویڈیوز۔

کچھ وائس نوٹس۔

اور کچھ نجی نوٹس۔

گھر کے سب لوگ سانس روکے بیٹھے تھے۔

ایک ریکارڈنگ میں احسن کہہ رہا تھا:

"مجھے عجیب سی کمزوری محسوس ہوتی ہے۔"

دوسری میں:

"زارا کہتی ہے یہ وٹامنز ہیں، مگر مجھے پہلے کبھی ایسی کیفیت نہیں ہوئی۔"

پھر ایک فائل میں ایک جملہ ملا جس نے سب کو خاموش کر دیا۔

"اگر میرے ساتھ کچھ غیر معمولی ہو جائے تو میری ای میلز ضرور چیک کرنا۔"

کمرے میں سناٹا چھا گیا۔

احسن نے یہ جملہ اپنی موت سے صرف بارہ دن پہلے ریکارڈ کیا تھا۔

اسی رات احسن کی ای میلز کھولی گئیں۔

اور وہاں ایک ایسا نام بار بار سامنے آ رہا تھا جسے خاندان میں کوئی نہیں جانتا تھا۔

"ساحل"

نہ رشتہ دار۔

نہ دوست۔

نہ کولیگ۔

لیکن زارا اس نام سے مسلسل رابطے میں تھی۔

دن میں کئی بار۔

رات میں کئی بار۔

اور حیرت کی بات یہ تھی کہ یہ رابطے احسن کی وفات کے فوراً بعد بھی جاری رہے تھے۔

امی نے پہلی بار سر اٹھا کر کہا:

"یہ ساحل کون ہے؟"

اور شاید یہی وہ سوال تھا جس کے جواب نے پورے معاملے کا رخ بدل دینا تھا...
اگلے چند دنوں تک پورا خاندان صرف ایک نام کے پیچھے لگا رہا۔

ساحل۔

آخر یہ کون تھا؟

احسن کے ای میل ریکارڈز، کال لاگز اور نوٹس میں یہی نام بار بار سامنے آ رہا تھا۔

پھر ایک دن احسن کے دوست نعمان نے ایک تصویر نکالی۔

تصویر دیکھتے ہی امی کے ہاتھ کانپنے لگے۔

کیونکہ تصویر میں زارا ایک آدمی کے ساتھ کھڑی تھی۔

وہ آدمی ساحل تھا۔

اور سب سے حیران کن بات یہ تھی کہ تصویر احسن کی وفات کے دن کی تھی۔

"یہ کیسے ہو سکتا ہے؟"

امی کی آواز لرز گئی۔

"وہ تو کہتی تھی کہ وہ کسی کو نہیں جانتی۔"

مگر راز ابھی ختم نہیں ہوا تھا۔

تحقیقات کے دوران ایک اور حقیقت سامنے آئی۔

ساحل کوئی نیا شخص نہیں تھا۔

بلکہ زارا کے ماضی سے جڑا ہوا ایک پرانا نام تھا۔

وہ نام جسے اس نے شادی کے بعد کبھی گھر میں ذکر تک نہیں کیا تھا۔

اسی دوران ایک بینک افسر نے خاندان کو اطلاع دی کہ احسن کے کچھ اکاؤنٹس سے بڑی رقوم منتقل ہوئی ہیں۔

قانونی طور پر سب کچھ درست دکھائی دے رہا تھا۔

دستخط موجود تھے۔

اجازت نامے موجود تھے۔

کاغذات مکمل تھے۔

مگر ایک سوال سب کو پریشان کر رہا تھا۔

صرف ایک مہینے میں اتنے فیصلے کیسے ہو گئے؟

احسن تو ہمیشہ ہر مالی معاملے میں ابو سے مشورہ کرتا تھا۔

پھر اچانک ایسا کیا ہوا کہ اس نے سب کچھ بدل دیا؟

کچھ ہفتوں بعد ایک اور رپورٹ سامنے آئی۔

اس رپورٹ میں لکھا تھا کہ وفات سے پہلے احسن مسلسل نیند کی ادویات اور مختلف سپلیمنٹس استعمال کر رہا تھا۔

مگر خاندان کا دعویٰ تھا کہ احسن کو کبھی نیند کی بیماری نہیں تھی۔

پھر وہ یہ سب کیوں لے رہا تھا؟

نعمان کو اچانک ایک بات یاد آئی۔

اس نے کہا:

"احسن اکثر کہتا تھا کہ زارا اس کی صحت کا بہت خیال رکھتی ہے۔"

"ہر رات سونے سے پہلے وہ خود دوائیاں نکال کر دیتی تھی۔"

کمرے میں ایک بار پھر خاموشی چھا گئی۔

کسی کے پاس جواب نہیں تھا۔

صرف سوال تھے۔

بہت سارے سوال۔

اسی دوران زارا نے ایک اور حیران کن قدم اٹھایا۔

وہ اچانک لاہور چھوڑ گئی۔

کسی کو کچھ بتائے بغیر۔

فون بند۔

رابطہ ختم۔

پتہ غائب۔

جیسے زمین نگل گئی ہو۔

مہینوں بعد ایک نجی تحقیق کار نے خبر دی کہ زارا اپنے پرانے خاندان کے قریب دیکھی گئی ہے۔

وہی شہر۔

وہی علاقے۔

وہی لوگ جن سے اس کا تعلق کبھی ختم نہیں ہوا تھا۔

اور وہاں ایک چھوٹا سا بچہ بھی تھا...

وہ بچہ جو احسن کی وفات سے کچھ عرصہ پہلے پیدا ہوا تھا۔

تحقیق کار نے جب بچے کی تصویر بھیجی تو امی کئی منٹ تک تصویر کو دیکھتی رہیں۔

پھر آہستہ سے بولیں:

"یہ بچہ بالکل احسن جیسا لگتا ہے..."

یہ شاید اس پوری کہانی کی واحد معصوم جان تھی۔

لیکن اصل راز ابھی بھی پردے میں تھا۔

کیونکہ احسن کے لیپ ٹاپ سے ایک خفیہ فولڈر ملا تھا۔

ایسا فولڈر جو پاس ورڈ کے بغیر نہیں کھل سکتا تھا۔

اور مرنے سے ایک ہفتہ پہلے احسن نے نعمان کو ایک مختصر پیغام بھیجا تھا:

"اگر کبھی میں واپس نہ آؤں تو فولڈر 47 ضرور کھولنا..."

اب سب کی نظریں فولڈر 47 پر تھیں۔

کیونکہ شاید احسن نے اپنی موت سے پہلے وہ سب کچھ وہاں محفوظ کر دیا تھا جسے وہ کسی سے کہہ نہیں سکا...

اس رات کسی کی آنکھ نہیں لگی۔

سب کی نظریں صرف ایک چیز پر تھیں۔

فولڈر 47۔

احسن نے مرنے سے صرف ایک ہفتہ پہلے اس کا ذکر کیا تھا۔

نعمان کئی گھنٹے پاس ورڈ توڑنے کی کوشش کرتا رہا۔

آخر صبح چار بجے فولڈر کھل گیا۔

اندر صرف تین چیزیں تھیں۔

ایک ویڈیو۔

ایک آڈیو ریکارڈنگ۔

اور ایک دستاویز جس کا نام تھا:

"اگر میرے ساتھ کچھ ہو جائے"

کمرے میں مکمل خاموشی تھی۔

سب سے پہلے ویڈیو چلائی گئی۔

اسکرین پر احسن بیٹھا تھا۔

چہرہ کمزور۔

آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے۔

وہ پہلے والا مضبوط باڈی بلڈر احسن نہیں لگ رہا تھا۔

چند لمحے خاموش رہنے کے بعد اس نے کیمرے کی طرف دیکھا۔

اور بولا:

"اگر تم لوگ یہ ویڈیو دیکھ رہے ہو تو شاید میں تم لوگوں کے درمیان نہیں ہوں۔"

امی کی سسکی نکل گئی۔

احسن نے پانی پیا اور دوبارہ بولنا شروع کیا۔

"پچھلے چند مہینوں سے مجھے لگ رہا ہے کچھ ٹھیک نہیں۔"

"میں ہر وقت تھکا رہتا ہوں۔"

"مجھے ایسی نیند آتی ہے جس پر میرا اختیار نہیں رہتا۔"

"اور عجیب بات یہ ہے کہ ڈاکٹر میری رپورٹس کو نارمل کہہ رہے ہیں۔"

کمرے میں بیٹھے سب لوگ ایک دوسرے کا چہرہ دیکھنے لگے۔

پھر ویڈیو میں احسن نے ایک نام لیا۔

"زارا..."

کمرے کا ماحول بدل گیا۔

"میں الزام نہیں لگا رہا۔"

"شاید میں غلط ہوں۔"

"لیکن کچھ باتیں مجھے پریشان کر رہی ہیں۔"

"کچھ چیزیں ایسی ہیں جن کا جواب میرے پاس نہیں۔"

ویڈیو ختم ہو گئی۔

اب سب کی نظریں آڈیو فائل پر تھیں۔

فائل کھولی گئی۔

پہلے چند سیکنڈ صرف شور تھا۔

پھر دو آوازیں سنائی دیں۔

ایک زارا کی تھی۔

دوسری ایک نامعلوم مرد کی۔

"وہ مان گیا؟"

مرد نے پوچھا۔

"ہاں..."

زارا نے جواب دیا۔

"اب سب کچھ میرے کنٹرول میں ہے۔"

آڈیو اچانک ختم ہو گئی۔

کمرے میں سناٹا چھا گیا۔

نعمان نے کئی بار ریکارڈنگ سنی۔

لیکن آگے کچھ نہیں تھا۔

صرف یہی چند جملے۔

کافی نہیں تھے۔

لیکن سوال ضرور پیدا کرتے تھے۔

پھر آخری فائل کھولی گئی۔

وہ ایک تحریر تھی۔

احسن نے لکھا تھا:

"میں نہیں جانتا کہ میں شک میں مبتلا ہوں یا حقیقت کے قریب۔"

"لیکن اگر میرے ساتھ کچھ ہو جائے تو میرے مالی ریکارڈ، میری ای میلز اور میری بیرون ملک ٹرپ کی تفصیلات ضرور دیکھنا۔"

"کچھ لوگ وہ نہیں جو نظر آتے ہیں۔"

یہ آخری لائن پڑھتے ہی امی رونے لگیں۔

مگر اصل دھماکہ ابھی باقی تھا۔

دو دن بعد نعمان کو ملائیشیا سے ایک ای میل موصول ہوئی۔

ای میل ایک ایسے شخص نے بھیجی تھی جو احسن کے ساتھ آخری دنوں میں رابطے میں تھا۔

اس کے ساتھ چند تصاویر منسلک تھیں۔

پہلی تصویر عام تھی۔

دوسری بھی۔

لیکن تیسری تصویر دیکھ کر سب کے چہروں کا رنگ اڑ گیا۔

کیونکہ تصویر میں زارا اکیلی نہیں تھی۔

اس کے ساتھ وہی آدمی کھڑا تھا...

ساحل۔

اور تصویر کی تاریخ احسن کی وفات سے صرف تین دن پہلے کی تھی۔

اب سوال یہ نہیں تھا کہ ساحل کون ہے۔

سوال یہ تھا:

احسن کی موجودگی میں زارا ساحل سے خفیہ ملاقاتیں کیوں کر رہی تھی؟

اور اس سے بھی بڑا سوال...

کیا احسن کو یہ سب معلوم ہو چکا تھا؟

اسی لمحے نعمان کے فون پر ایک نامعلوم نمبر سے پیغام آیا۔

صرف ایک جملہ لکھا تھا:

"فولڈر 47 بند کر دو... ورنہ اگلا تابوت بھی لاہور پہنچے گا۔"احسن کے بیٹے کا
نعمان کے فون پر آیا ہوا پیغام پورے گھر پر بجلی بن کر گرا۔

پہلی بار سب کو احساس ہوا کہ شاید معاملہ صرف ایک موت کا نہیں۔

کچھ دن تک کسی نے کچھ نہیں کیا۔

امی ڈری ہوئی تھیں۔

نعمان بھی خاموش ہو گیا۔
سرکاری تحقیق کار کو تمام ریکارڈ دے دیے گئے۔
چند ہفتوں بعد رپورٹ آ گئی۔

اور رپورٹ میں وہ راز تھا جس نے پوری کہانی ختم کر دی۔
پتا چلا کہ ساحل کا پاکستان میں کوئی ریکارڈ نہیں تھا اور ایک پرانے پاسپورٹ پر وہ زارا کا شوہر تھا اب وہ کوئی خفیہ ایجنٹ یا بین الاقوامی مجرم تھا۔یا صرف وہ زارا کا پرانا خاوند تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک ایسا شخص جس سے اس کا رابطہ کبھی مکمل طور پر ختم ہی نہیں ہوا تھا۔

مزید تحقیقات میں معلوم ہوا کہ زارا نے احسن سے کئی مالی معاملات چھپائے تھے۔

وہ بھائی کی تمام پراپرٹی لینے کے لئے مختلف لوگوں کو الگ الگ کہانیاں سناتی رہی تھی۔

کسی کو مظلوم بیوی کی کہانی۔

کسی کو بے سہارا ماں کی۔

کسی کو وفادار شریکِ حیات کی۔

اور ہر شخص کے سامنے ایک مختلف زارا ہوتی تھی

لیکن ایک حقیقت کبھی ثابت نہ ہو سکی۔

احسن کی موت حادثہ تھی، غلطی تھی یا کچھ اور؟

کوئی عدالت۔

کوئی رپورٹ۔

کوئی گواہ۔

اس سوال کا حتمی جواب نہ دے سکا۔

صرف اتنا معلوم ہوا کہ آخری دنوں میں احسن نے ضرورت سے زیادہ نیند آور ادویات استعمال کی تھیں۔

مگر یہ کیوں ہوا؟

کیسے ہوا؟

اور کس کی غلطی تھی؟

یہ راز احسن کے ساتھ قبر میں چلا گیا۔

مقدمہ کئی ماہ چلا۔

جائیدادوں کے جھگڑے ہوئے۔

کاغذات سامنے آئے۔

دعوے اور جوابی دعوے ہوئے۔

آخرکار زارا اپنی زندگی میں آگے بڑھ گئی۔شاید واپس ملائيشيا چلی گیی یا وہ شہر بدل گئی۔

لوگ بدل گئے۔

زندگی بدل گئی۔

لیکن لاہور کے اس گھر میں وقت جیسے وہیں رک گیا تھا۔

امی ہر جمعہ احسن کی قبر پر جاتیں۔

خاموش کھڑی رہتیں۔
آج بھی ہم نہیں جانتے بھائی کا بیٹا کہاں ہے کیا حقیقت میں زارا پوری پلانننگ سے بھائی کی زندگی میں شامل ہوئی تھی اگر تھی تو اس نے بچہ کیوں پیدا کیا

کیا وہ اپنے پرانے خاوند کے پاس چلی گیی کیا یہ اس کے اور اس کے خاوند کے لوگوں کو لوٹنے کے طریقہ کار تھے ۔

۔۔۔۔۔۔۔یا وہ را کی ایجنٹ تھی کیوں کہ بھائی کی ساری تحقیقات اٹامک انرجی کے لوگوں سے منسلک تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔

آج اس بات کو ١١ سال گزر گئے ۔۔۔۔۔۔اور امی روزانہ دروازہ کی دستک پر چونک جاتی ہیں کہ شاید بھائی کا بیٹا وہ لوٹا دے ۔۔۔۔۔۔۔

18/06/2026

جو خواتین جہیز کے نام پر پوری زندگی اذیت میں رہی اگر ان کے باپ نے یہ جواب دیا ہوتا تو وہ بچ جاتی ؟ 🤔

ایک باپ کا وہ جواب جو ہر لالچی انسان کے منہ پر طمانچہ ہے۔ اس ویڈیو کو ان لوگوں تک پہنچائیں جنہیں لگتا ہے کہ بیٹی کا رشتہ صرف جہیز کی لسٹ کا نام ہے

18/06/2026

اچھی ساس کی شان ہی الگ ہوتی ہے ۔۔Shan Foods Global

18/06/2026

Rishta meeting ka yeh anjaam! 😂 ☕️
Jab CA ka result aur Rishta dono hi 'pending' hon, toh aisi baatein toh honi hi thin. Pakistani Rishta meetings ki reality!
"

"آج میرے بچے مجھ سے نفرت کرتے ہیں...وه کہتے ہیں آپ اس دن پولیس بلا سکتی تھی  اور شاید وہ غلط بھی نہیں"میرا نام زبیدہ ہے۔...
18/06/2026

"آج میرے بچے مجھ سے نفرت کرتے ہیں...وه کہتے ہیں آپ اس دن پولیس بلا سکتی تھی اور شاید وہ غلط بھی نہیں"

میرا نام زبیدہ ہے۔

میں گزشتہ 20 سال سے جرمنی میں رہ رہی ہوں۔

لوگ سمجھتے ہیں کہ بیرونِ ملک زندگی آسان ہوتی ہے، لیکن بعض گھروں کے بند دروازوں کے پیچھے ایسی کہانیاں دفن ہوتی ہیں جنہیں سن کر روح کانپ جاتی ہے۔

میری شادی جابر سے ہوئی تھی۔میرے گھر والوں نے رشتہ کرتے ہوے خوشی سے کہا نہ نند نہ ساس سسر عیش کرو گی ۔۔۔۔۔۔۔۔

شروع میں وہ سخت مزاج تھا، پھر سختی تشدد میں بدل گئی۔

اس کے نزدیک گھر ایک خاندان نہیں، ایک چھاؤنی تھا۔

ہر چیز کے اصول تھے۔

ہر چیز کی سزا تھی۔

ایک دن فجر کی نماز کے بعد میری آنکھ لگ گئی۔

اچانک کسی نے میری ٹانگ پکڑ کر زور سے کھینچا۔

میں بیڈ سے نیچے جا گری۔

سامنے جابر کھڑا تھا۔

"جب پتہ ہے فجر کے بعد سونا منع ہے تو کیوں سوئی؟"

اس دن کے بعد مجھے سمجھ آ گیا کہ اس گھر میں میری حیثیت بیوی کی نہیں، قیدی کی ہے۔

مارنا اس کے لیے اتنا عام تھا جیسے کسی پولیس افسر کے لیے جرمانہ لکھنا۔

کبھی ہاتھ۔

کبھی بیلٹ۔

کبھی ڈنڈا۔

اور کبھی الفاظ...

جو جسم سے زیادہ روح کو زخمی کرتے تھے۔

میں نے برداشت کیا۔

ایک سال...

پانچ سال...

دس سال...

پھر بچے بڑے ہونے لگے۔

میں سوچتی تھی بچوں کی خاطر صبر کر لوں۔

شاید ایک دن سب ٹھیک ہو جائے۔

لیکن کچھ لوگ بہتر نہیں ہوتے، صرف زیادہ خطرناک ہو جاتے ہیں۔

ایک دن میں کمرے میں بند تھی۔

باہر سے بچوں کے رونے کی آوازیں آ رہی تھیں۔

میں بھاگ کر نکلی تو دیکھا کہ جابر نے دو بچوں کو باندھ رکھا تھا اور ڈنڈے سے مار رہا تھا۔

ان کے چیخنے کی آواز آج بھی میرے کانوں میں گونجتی ہے۔

میں نے روکنے کی کوشش کی تو مجھے بھی دھکا دے دیا گیا۔

اس رات میرے بیٹے نے مجھ سے ایک سوال پوچھا تھا۔

"امی... آپ نے پولیس کیوں نہیں بلائی؟"

میرے پاس جواب نہیں تھا۔

وقت گزرتا گیا۔

بچے بڑے ہوتے گئے۔

اور میرے خلاف ہوتے گئے۔

آج میری بڑی بیٹی 18 سال کی ہے۔

وہ کہتی ہے:

"آپ ہمیں بچا سکتی تھیں۔"

میرا بیٹا کہتا ہے:

"آپ واپس پاکستان جا سکتی تھیں۔"

دوسرا کہتا ہے:

"آپ نے ہمیں اس آدمی کے ساتھ کیوں چھوڑ دیا؟"

اور شاید سب سے تکلیف دہ جملہ یہ تھا:

"آپ نے ہمیں پیدا ہی کیوں کیا اگر بچا نہیں سکتی تھیں؟"

میں خاموش ہو جاتی ہوں۔

کیونکہ میرے پاس واقعی کوئی جواب نہیں۔

میں نے جو کچھ کیا، بچوں کی خاطر کیا۔

اور آج وہی بچے کہتے ہیں کہ میری خاموشی نے ان کی زندگی برباد کر دی۔

جابر آج بھی گھر کے خرچے دیتا ہے۔

بچے بھی اب اسی پر مالی طور پر انحصار کرتے ہیں۔

اس لیے وہ اسے ناراض نہیں کرتے۔

مگر مجھ سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔

جابر مجھ سے بات تک نہیں کرتا۔باہر کتنی لڑکیاں کے ساتھ سوتے ہیں مجھے نہیں معلوم

بس جب اس کی ضرورت ہو، میرے کمرے میں آتا ہے اور پھر ایسے چلا جاتا ہے جیسے میں انسان نہیں، کوئی چیز ہوں۔

سچ کہوں تو اب مجھے اس سے محبت نہیں۔

صرف نفرت باقی ہے۔

لیکن 20 سال بعد...

چار بچوں کے بعد...

میں کہاں جاؤں؟

کبھی کبھی آئینے میں خود کو دیکھ کر سوچتی ہوں...

میں زیادہ مظلوم ہوں یا زیادہ قصوروار؟

کیا ایک ماں کی خاموشی بھی ظلم میں شامل ہو جاتی ہے؟

آپ میری جگہ ہوتے تو کیا کرتے؟

اور کیا میرے بچوں کو مجھ سے نفرت کرنے کا حق ہے؟

17/06/2026

Overseas Family Stories
انگلینڈ کے ایک عالیشان گھر میں رہنے
والی سلمیٰ کی زندگی اس وقت بدل گئی جب شوہر کے انتقال کے بعد، اس کے اپنے اکلوتے بیٹے نے اسے سڑک پر لا کھڑا کیا۔ وہ رات جو اس نے انگلینڈ کی شدید ٹھنڈ میں ایک بینچ پر روتے ہوئے گزاری، اس نے ایک ماں کے اندر کے جذبات کو ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دیا۔

لیکن کیا وہ ماں واقعی بے بس تھی؟ کیا اسے علم نہیں تھا کہ اس کا بیٹا اس کے ساتھ کیا کرنے والا ہے؟

اس حیران کن اور جذباتی کہانی کا انجام دیکھ کر آپ کی آنکھیں نم ہو جائیں گی، مگر ایک مضبوط ماں کی ہمت آپ کو حیران کر دے گی۔

پوری کہانی جاننے کے لیے ویڈیو کو آخر تک ضرور دیکھیں۔ 👇

17/06/2026

90 کی دہائی کی اصل مہندی والی رات
پیلا جوڑا، ہری چوڑیاں، مہندی کے تھال، لُڈی، ڈھولکی اور ماں کا خاص سونے کا سیٹ 💛

کیا آپ کو بھی یہ والا ماحول یاد ہے؟ ❤️

آج کل لڑکی دیکھنے جاتے ہو تو کیا پوچھتے ہو؟ 😅 اور خالی ہاتھ جاتے ہو اگر نہیں تو ١٠ لڑکیوں کے گھر جایئں تو 10 کیک 🙃 لیکن ...
17/06/2026

آج کل لڑکی دیکھنے جاتے ہو تو کیا پوچھتے ہو؟ 😅 اور خالی ہاتھ جاتے ہو اگر نہیں تو ١٠ لڑکیوں کے گھر جایئں تو 10 کیک 🙃 لیکن وہ بھی چائے تو پلاتے ہیں حساب برابر

90 کی دہائی میں منگنی پر مٹھائی کا ڈبہ، سوٹ اور گولڈ لے کر جاتے تھے۔ ۔۔


آج کل منگنی پر کیا دیتے ہو؟ صرف رِنگ؟ یا اب کچھ اور نیا ٹرینڈ چل رہا ہے؟باسکٹ میں کیا کیا ہوتا ہے ؟؟؟؟

کمنٹ میں ضرور بتائیں 👇

Address

Bahria Town
Lahore

Telephone

+923414681458

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Amna's Collection posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share