11/03/2026
عید قریب آتے ہی درزی کی دکان کا منظر ہی بدل جاتا ہے۔
ہر طرف کپڑوں کے ڈھیر، قینچی کی آواز، استری کی بھاپ اور مشینوں کی مسلسل گڑگڑاہٹ۔ صبح دکان کھلتی ہے تو گاہک پہلے سے دروازے پر کھڑے ہوتے ہیں۔ ہر کسی کی ایک ہی بات:
‘بھائی بس عید سے پہلے کپڑے تیار کر دینا۔’
درزی بیچارہ خاموشی سے اپنا کام کرتا رہتا ہے۔ کبھی کپڑا کاٹتا ہے، کبھی سلائی کرتا ہے اور کبھی استری سے کپڑے سیدھے کرتا ہے۔ آنکھوں میں تھکن ضرور ہوتی ہے مگر ہاتھ رکنے کا نام نہیں لیتے۔
ادھر گاہکوں کے بھی اپنے نخرے ہیں۔ کوئی کہتا ہے گلا تھوڑا سا اور کھلا کر دو، کوئی آستین تنگ کرنے کو کہتا ہے، اور کوئی آخری وقت پر کہتا ہے کہ کل ہی چاہیے۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ عید کی خوشی میں درزی کا بھی بڑا حصہ ہوتا ہے۔ جب لوگ عید کے دن نئے کپڑے پہن کر خوش ہوتے ہیں تو ان خوشیوں کے پیچھے کسی درزی کی بے شمار جاگی ہوئی راتیں اور محنت چھپی ہوتی ہے۔
اسی لیے کہتے ہیں کہ عید صرف خوشی کا نام نہیں، بلکہ محنت کرنے والوں کی کہانی بھی ہے۔”**
Season 2026