05/11/2020
*_غربت_*
★ایک نو سال کا بچہ مسجد کے کونے میں چھوٹی بہن کے ساتھ بیٹھا ہاتھ اٹھا کر اللّٰه پاک سے نہ جانے کیا مانگ رہا تھا؟
کپڑوں میں پیوند لگے تھے مگر نہایت صاف ستھرے تھے اس کے ننھے ننھے سے گال آنسوؤں سے بھیگ چکے تھے بہت سے لوگ اس کی طرف متوجہ تھے اور وہ بالکل بےخبر اللّٰه پاک سے باتوں میں لگا ہوا تھا جیسے ہی وہ اٹھا ایک اجنبی نے بڑھ کر اسکا ننھا سا ہاتھ پکڑا اور پوچھا اللّٰه پاک سے کیا مانگ رہے تھے۔۔۔؟
اس نے کہا کہ میرے ابو مر گئے ہیں ان کے لئے جنت میری امی ہر وقت روتی رہتی ہے ان کے لئے صبر میری بہن ماں سے کپڑے مانگتی ہے اس کے لئے پیسے۔ اجنبی نے سوال کیا۔۔۔ کیا آب اسکول جاتے ہو۔؟
بچے نے کہا ہاں جاتا ہوں، اجنبی نے پوچھا، کس کلاس میں پڑھتے ہو۔؟
نہیں انکل میں پڑھنے نہیں جاتا، ماں چنے بنا دیتی ہے نا۔۔۔!!!
وہ اسکول کے بچوں کو بیچنے کے لئے جاتا ہوں۔ بہت سارے بچے مجھ سے چنے خریدتے ہیں ہمارا یہی کام دھندا ہے۔
بچے کا ایک ایک لفظ میری روح میں اتر رہا تھا۔
تمہارا کوئی رشتہ دار نہیں ہے۔۔۔؟ اجنبی نے نہ چاہتے ہوۓ بھی بچے سے پوچھ ہی لیا۔؟ امی کہتی ہے غریب کا کوئی رشتہ دار نہیں ہوتا، امی کبھی جھوٹ نہیں بولتی۔۔۔لیکن انکل جب ہم کھانا کھا رہے ہوتےہیں اور میں کہتا ہوں امی آپ بھی کھانا کھاؤ تو وہ کہتی ہیں میں نے کھالیا ہے اس وقت لگتا ہے کہ وہ جھوٹ بول رہی ہیں۔
بیٹا اگر گھر کا خرچ مل جاۓ تو تم پڑھوگے۔۔۔؟ بچہ نے کہا نہیں۔! بالکل نہیں۔۔۔!!! کیونکہ تعلیم حاصل کرنے والے غریبوں سے نفرت کرتے ہیں ہمیں کسی پڑھے ہوۓ نے کبھی نہیں پوچھا پاس سے گزر جاتے ہیں۔
اجنبی حیران بھی تھا اور پریشان بھی، پھر اس نے کہا کہ ہر روز اسی مسجد میں آتا ہوں کبھی کسی نے نہیں پوچھا یہاں تمام آنے والے میرے ابو کو جانتے ہیں مگر۔۔۔!!! ہمیں کوئی نہیں جانتا بچہ زور زور سے رونے لگا
انکل جب کسی کا باپ مر جاتا ہے تو سب اجنبی کیوں بن جاتے ہیں۔۔۔؟؟؟
میرے پاس بچے کے سوالوں کا کوئی جواب نہیں تھا ایسے کتنے معصوم ہوں گے جو حسرتوں سے زخمی ہیں، اور ایسے کتنے ہی کنبے ہونگے جن کے گھروں میں راشن کی قلت ہوگی ضرورت ہے ایسے لوگوں کی خبر گیری کی جائے اور ان کی مدد کی جائے۔
*نصیحت:- خود میں اور معاشرے میں تبدیلی لانے کی ایک کوشش آپ کیجئے اور دوسروں کو بھی تلقین کیجئے، شاید آپکی یہی کوشش غربت کے خاتمے کی ابتدا ثابت ہو۔*