Multan selling point

Multan selling point All products in wholesale rate available. All over Pakistan delivery.

28/04/2026

قسط #2
**نائٹس**

صلیب کے لیے لڑنے والوں کی دوسری لہر ابھری۔ اس دفعہ حملہ آور ہونے والے صلیبی جنگجو، نائٹس یعنی یورپ کے سردار تھے۔ انہوں نے یروشلم پر طوفانی یلغار کی اور فلسطین کے ایک علاقہ میں ایک لاطینی ریاست قائم کر لی۔ صلیبی پرچم کے ساتھ یہ پہلا کامیاب حملہ تھا جس نے نہ صرف ناقابل تسخیر مسلمانوں کے خلاف یورپیوں کو حوصلہ دیا بلکہ کشت و خون کا ایک نیا دور شروع کیا جو بعد کی صدیوں میں بھی جاری رہا اور ابھی تک جاری ہے۔ اس حملے کو صلیبی جنگ یا مسیحی جہاد کہا گیا۔ جس کا مطلب کافروں کے خلاف مقدس جنگ تھا۔ اس اولین صلیبی جنگ کے پس پردہ پائے جانے والے محرکات یا مفادات کیا تھے؟ اس کے لیے نائٹس کی ان سرگرمیوں پر ایک نظر ڈالنا کافی رہے گا جو وہ یروشلم آتے ہوئے سرانجام دے رہے تھے۔

"راستے میں وہ مسلمانوں، یہودیوں اور سیاہ فام عیسائیوں کا قتل عام کرتے رہے"
(صلیبی جنگیں - انسائیکلوپیڈیا انکا رٹا)
اعمال الفاظ سے زیادہ بلند آہنگ ہوتے ہیں۔ کیا یہ واقعی مقدس مذہبی جنگ تھی؟ نہیں۔ قطعاً نہیں بلکہ یہ ایک نسلی معرکہ آرائی تھی۔ اپنی نوعیت کی پہلی معرکہ آرائی جو صلیبی جنگ کے نام پر وجود میں آئی اور یہ صلیبی جنگیں آج بھی جاری ہیں... اسے انشاءاللہ ہم ثابت کریں گے۔"

جیسے جیسے وقت گزرا، صلیبی جنگوں کی تعداد اور مقدار میں اضافہ ہوتا گیا۔ اسی طرح نائٹس کی تعداد اور حیثیت میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔ مختلف پس منظر اور فرائض رکھنے کی وجہ سے ان کے نام اور خطابات بھی مختلف تھے۔

1- ٹیوٹانک نائٹس: جرمن سردار (یہ لفظ نارو ے سویڈن اور اینگلو سیکسن اقوام کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے)
2- سپینش نائٹس یا ہسپانوی سردار
3- پرتگیزی نائٹس
4- ہاسپٹلرز
سینٹ جان کے نائٹس یا مسافر نواز (1048ء میں راہبوں کی یہ مجلس فوجی طرز پر قائم ہوئی تھی)
5- ٹیمپلرز نائٹس معبدی سردار

محتاط محرکہ آراؤں اور ان گنت جانوں کے زیاں نے عیسائی دنیا کو باور کرا دیا کہ جب تک مسلمانوں میں امت کا تصور موجود ہے اور وہ شریعت پر کاربند ہیں تب تک وہ ناقابل تسخیر رہیں گے۔ چنانچہ اپنے دشمن پر غالب آنے کے لیے عیسائیوں نے اپنی فتح کا تصوریہ تبدیل کر لیا۔ میدان کارزار تبدیل ہو گئے اور حکمت عملی بھی۔ شجاعت کی جگہ دھوکہ دہی نے لے لی اور تلوار کی جگہ سیاست نے۔ اور پھر عیسائی بہت جلد اس قابل ہو گئے کہ یروشلم کی ارض مقدس پر مسلمانوں کے ساتھ کسی جنگ و جدل کے بغیر قبضہ کر لیں۔ اس مرحلہ پر مسلم دنیا ایک طرف منگولوں کے خطرے کی زد میں تھی تو دوسری طرف عیسائیوں کے ساتھ محاذ آرا تھی۔ "صلاح الدین ایوبی" کی اولاد نے ایک وقت میں ایک محاذ پر لڑنے کا فیصلہ کیا چنانچہ انہوں نے عیسائیوں کے ساتھ ایک معاہدہ کر لیا۔ اس معاہدہ کے مطابق عیسائی بادشاہ یروشلم پر حکومت کرے گا اور مسلمانوں کے جان و مال اور مساجد کے تحفظ کا ذمہ دار ہوگا۔ لیکن بہت جلد یہ شرائط بھلا دی گئیں۔ مسلمانوں کو پہلے کی طرح اذیتیں دی جانے لگیں۔ مؤذنوں کو اذان دینے سے روک دیا گیا۔
یہ صورت حال زیادہ عرصہ تک برقرار نہ رہ سکی۔ منگولوں کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنے والے خوارزمی مسلمان مشرق وسطیٰ کے اس حصہ میں جمع ہو گئے۔
اب مسلمان سلطان کو مسئلہ درپیش تھا کہ ان لوگوں کو کہاں آباد کیا جائے۔
چنانچہ اس نے ان خوارزمی مسلمانوں کی شکست کے غم و غصہ کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ منگولوں سے ہزیمت خوردہ لشکروں کو یروشلم کا قبضہ واپس لینے کی مہم پر مامور کر دیا گیا۔ تند و خو منگولوں کے ساتھ برسوں کی پختہ آزمائی کے تجربہ نے ان کے لیے یہ مہم یک طرفہ بنا
دی۔ یروشلم ایک مرتبہ پھر مسلمانوں کے ہاتھوں میں تھا۔ اس دفعہ یہ قبضہ بیسویں صدی تک برقرار رہا۔
مسلمانوں کے ہاتھوں سقوط یروشلم کے بعد 1291ء میں عکہ بھی مسلمانوں کے زیرنگیں ہو گیا۔ اور عکہ کے سقوط نے مقدس مسیحی سلطنت کی امید میں ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا۔ مسیحی سلطنت کے لیے سرگرداں نائٹس اب بے مصرف اور بے مقصد ہو گئے تھے (تاہم اتنے بے مصرف بھی نہیں ہوئے تھے اس کی وضاحت آگے آئے گی)۔ صلیبی محاربات ختم ہو جانے پر نائٹس کے گروہ مختلف سمتوں میں روانہ ہو گئے۔

**ٹیوٹا نک نائٹس** نے بالٹک کی ریاستوں کو اپنی منزل بنا لیا۔ وہاں "بے دین قبائلیوں" کو نیست و نابود کر کے ایک مسیحی فرمانروائی قائم کی جو پرشیا، لتھوانیا اور اسٹونیا پر مشتمل اور خلیج فن لینڈ تک پھیلی ہوئی تھی۔

**سپینش نائٹس** جزیرہ نما آئبیریا سے موروں (مسلمانوں) کو بے دخل کرنے کے لیے روانہ ہو گئے۔

**پرتگالی نائٹس** نے قریبی سمندروں میں جوہی شروع کر دی۔

**مسافر نواز یعنی ہاسپٹلرز نائٹس**
نے پہلے روڈز میں سرداریاں قائم کرنے کا فیصلہ کیا لیکن پھر مالٹا کو اپنی منزل بنا لیا۔ وہاں ٹائٹس آف مالٹا کی حیثیت سے انہوں نے تین صدیوں سے زیادہ عرصہ تک بحر روم کے علاقہ میں اپنا کنٹرول برقرار رکھا اور تجارت اپنے قبضہ میں لے لی۔ آج کل وہ ٹائٹس آف سینٹ جان کے نام سے کام کر رہے ہیں۔

**ٹیمپلرز نائٹس** ایک ایسا گروہ تھا جس کے سامنے بظاہر کوئی مقصد اور کوئی نصب العین نہیں تھا۔ وہ ہر منظر سے غائب ہو گئے لیکن زیر زمین پوری طرح موجود تھے۔ ان کے سامنے اب بڑا نصب العین اور بڑا ایجنڈا تھا جس پر وہ دیگر نائٹس کی بالواسطہ اعانت سے کام کرنے لگے۔ ان کی نظروں میں پوری دنیا اور عظیم ترین فرمانروائی تھی۔ ان کی حکمت عملی سمجھنے کے لیے ہمیں ان کی بنیاد اور رُخ نظر کو تفصیل سے دیکھنا ہوگا۔

28/04/2026

(یہ کتاب کامران رعد صاحب نے لکھی ہے)
**فری میسنز اور دجال**
قسط #1

**ارض مقدس**

شہنشاہ ایران خسرو خانی نے 614ء میں یروشلم پر قبضہ کر لیا لیکن اس کا قبضہ 14 سال سے زیادہ عرصہ تک برقرار نہ رہ سکا اور پھر 628ء میں بازنطینی شہنشاہ ہرقلیس نے یروشلم واپس لے لیا۔ مگر صرف 9 سال تک یہ شہر بازنطینی عملداری میں رہا اور 637ء میں خلیفہ اسلام حضرت عمرؓ نے اسے فتح کرلیا۔ 685ء سے 691ء کے دوران اموی خلیفہ عبدالمالک ابن مروان نے یہاں ایک مقدس عمارت تعمیر کی جسے آج قبة الصخره (Dome of the Rock) یا بیت المقدس کے نام سے جانا جاتا ہے۔

یروشلم اہل کتاب یعنی تینوں مذاہب کے پیروکاروں کے لیے ہمیشہ سے ایک مقدس شہر رہا ہے۔ مسلمان بھی انبیاء پر ایمان رکھتے ہیں چنانچہ کوئی بھی ایسا مقام جو کسی نبی سے تعلق رکھتا ہے وہ مسلمانوں کے لیے مقدس ہے۔ عہد نامہ عتیق کے مطابق قبة الصخره کا تعلق حضرت سلیمان علیہ السلام سے ہے چنانچہ اس کی مذہبی حیثیت ہر طرح کے شک و شبہ سے بالاتر ہے۔ عیسائی بھی حضرت سلیمان پر ایمان رکھتے ہیں چنانچہ حضرت عیسیٰ کی طرح حضرت سلیمان کا احترام کرتے ہیں لیکن یروشلم کی تقدیس ان کی نظروں میں اس لیے اہم تر ہے کہ حضرت عیسیٰ بیت لحم و یروشلم میں پیدا ہوئے تھے۔

مسلمانوں نے یروشلم میں اپنا اقتدار قائم کرنے کے بعد تینوں مذاہب کے لیے
اس کی اہمیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے کسی بھی مذہب کے زائرین کی یہاں آمد پر پابندی عائد نہ کی چنانچہ یہودی اور عیسائی زائرین کی آمد و رفت آزادی سے جاری رہی۔ یہ معمول صدیوں تک برقرار رہا یہاں تک کہ 1071ء میں یروشلم کا ترک سلجوقوں نے سنبھال لیا۔ انہوں نے زائرین کو روک دیا؟ اور اگر روک دیا تھا تو کیا اسباب تھے ...... سوال یہ نہیں ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ 1095ء میں پوپ "اربن دوم" نے عیسائی یورپ پر زور دیا تھا کہ ارض مقدس کو کافروں (مسلمانوں) سے چھین لیا جائے ۔ پوپ اربن کا کہنا تھا کہ مسلمانوں نے ہزاروں مسیحی بہن بھائیوں کو قتل کر دیا ہے۔ دنیا کے بہت بڑے حصے پر قبضہ کر لیا ہے اور یورپیوں کے لیے رہنے اور حکومت کرنے کی جگہ تنگ کر دی ہے (انقلابی مسیحی مورخین کا کہنا ہے کہ عیسائیوں کے قتل کے بارے میں پوپ اربن کا دعویٰ جھوٹ کا پلندہ تھا)۔

مسلمان ناقابل تسخیر اور اپنے خدا کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے کے لیے ہر وقت تیار کیوں رہتے ہیں؟ عیسائی اس طرح کیوں نہیں ہیں؟ یہ بہت بڑا سوال پوپ اربن اور اس کے ہم عصر دیگر مذہبی عمائدین کے سامنے جواب طلب تھا۔ اور اس سوال کا جواب بہت سادہ اور آسان تھا۔ مسلمان لڑائی میں اپنی جانیں دینے کے لیے اس لیے تیار رہتے ہیں کہ انہیں موت کے بعد جنت کی زندگی کا وعدہ دیا گیا ہے۔ عیسائیوں کے لیے ایسی کون سی بشارت ہو کہ وہ بھی صلیب کے لیے جانیں دینے پر تیار ہوسکیں؟ چنانچہ ایک جزا کا وعدہ وضع کیا گیا کہ جو لوگ صلیب کے کاز کے لیے لڑیں گے ان کے تمام گناہ معاف کر دیے جائیں گے اور ان کے لیے نجات یقینی ہوگی۔ پوپ اربن نے یہ وعدہ اپنی مذہبی حیثیت کی بنیاد پر کیا جو بنیادی طور پر بائبل کی تعلیمات کے منافی تھا۔ بائبل کے مطابق حضرت عیسیٰ آدم کے بیٹوں کے گناہوں کے کفارہ میں اپنا خون بہا چکے ہیں۔ یہ وعدہ "اعتراف گناہ" (Confession) کے تصور کو بھی ختم کرتا تھا۔
بہرحال اس وعدہ نے اپنا اثر دکھایا اور سب سے پہلے پوپ کی دعوت پر لبیک کہنے والا ایک جنونی گروہ غریب مردوں اور عورتوں پر مشتمل تھا جو ہنگری سے قسطنطنیہ پر چڑھائی کو کچل میں اتر آیا۔ یہ جنگجو دراصل غیر منظم شہری تھے جنہیں ہنگری کے سپاہیوں
نے تہہ تیغ کیا اور بچ رہنے والوں کا صفایا ترکوں نے کر دیا۔
اگلی قسط انشااللہ کل۔

26/04/2026

دجال کا پہلا حصہ کل سے

**فہرست**---|---پہلا حصہ: فری میسنز  پہلا باب: ارض مقدس  دوسرا باب: ٹمپلرز کا نقش  تیسرا باب: شاہ رابرٹ بروس  چوتھا باب:...
26/04/2026

**فہرست**
---|---
پہلا حصہ: فری میسنز
پہلا باب: ارض مقدس
دوسرا باب: ٹمپلرز کا نقش
تیسرا باب: شاہ رابرٹ بروس
چوتھا باب: ٹمپلرز کا امریکہ
پانچواں باب: فری میسنز
چھٹا باب: نظام، نشانات اور رسوم
ساتواں باب: حرم آبیف
آٹھواں باب: امریکہ کی جنگ آزادی
نواں باب: روتھ شیلڈز
دسواں باب: اسرائیل کا قیام
گیارہواں باب: پہلی جنگ عظیم
بارہواں باب: دوسری جنگ عظیم
تیرہواں باب: سلطنت عثمانیہ
فری میسنز اور زوال
چودہواں باب: ممالک متحدہ
پندرہواں باب: ہندوستان
سولہواں باب: ہندوستان میں ہندی اور ایشیائی جزائر
سترہواں باب: ہندوستان میں تعلیمی اور سیاسی جزائر
اٹھارواں باب: پاکستان
انیسواں باب: جدید بینکنگ کا نظام
بیسواں باب: ایک عالمی حکومت

24/04/2026

کل سے یہ قسط وار پوسٹ ہو گی۔۔ آپ سب سے گزارش ہے اسے ضرور پڑھیے گا

24/04/2026

فری میسنری۔۔۔ ایک خفیہ تنظیم
صلیبی جنگوں کے زمانے میں قائم ہوئی، ٹمپلرز کا قانون رائج کیا گیا ہے اور انسانوں کو ہر مذہب کے قید و بند سے آزاد کیا جائے۔
غزوہ اور اسلام۔۔۔ ایک مکمل فری میسنز نظام
دنیا پر غلبہ پانے کا سٹرکچر، جمہوریت، مغربی تعلیم، یورپ کی برتری، اسلامی خلافت کا انہدام، نقشہ بدلنا، تاریخ، مشہور مسلمان فری میسنز، اسلامی دنیا کا نیا بیانیہ جس میں بالخصوص سعودی عرب، افغانستان، شام، عراق اور مصر شامل ہیں۔
انقلابات کے پیچھے فری میسنز۔۔
عالمی تاریخ، جس طرح سے ہونا چاہیے، امریکہ کی تباہی، اصل داستان، امریکہ کی جنگ، آزادی اور امریکہ کے میسنز صدر، اسرائیل کا قیام، تنظیم آزادی فلسطین کو کون چلا رہا ہے۔
کبھی پردہ اصل لوگ
پہلی، دوسری اور اب تیسری عالمی جنگ۔۔۔ ایک عالمی حکومت کے قیام کے لیے۔
منی ماسٹرز
دولت کون کنٹرول کرتا ہے۔۔۔ بینکنگ سسٹم، فیڈرل ریزرو آف امریکہ کے عوام سے چھینا گیا سونا، بینک آف انگلینڈ، شیل، روٹھ شائلڈ بینکس، آئی ایم ایف، ورلڈ بینک۔
ڈ رگ ٹریڈ
ایسٹ انڈیا کمپنی، منافعوں پر چائے کی تجارت، بڑے بڑے ناموں کا انکشاف۔
یک چشم دجال
دجال کا مکمل احوال، خروج دجال، دجال کی نشانیاں، دجال ایک چشم ہے لیکن تنہا رہتا نہیں (حضرت محمد ﷺ صحیح بخاری)
سائنس و ٹیکنالوجی
بارش کی قوت، موسم میں رد و بدل کے سسٹمز، قدرتی وسائل کی ان کی کنٹرولنگ، مسیحا کی آمد، ڈرون مشینز، اجرام فلکی (غیر ارضی)، دجالی قوتیں فری میسنز کے ہاتھوں میں۔
قیامت (روز جزا) کی نشانیاں
وہ نشانیاں جو درست ثابت ہو چکی ہیں، چھوٹی نشانیاں اور بڑی نشانیاں۔
تمام حقائق
جو فری میسنز کی اپنی کتابوں سے ثابت ہوتے ہیں۔ ایک نئی تحقیق قرآن اور حدیث کی روشنی میں، ٹھوس شواہد، جس طرح آپ اس کتاب کو اپنے ہاتھوں میں محسوس کریں گے۔
بیداری کی آواز
عمل کا وقت
کامران رند

Kon kon parhna chahta hai
24/04/2026

Kon kon parhna chahta hai

Address

Mumtazabad Phatak Railway Road Multan
Multan

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Multan selling point posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Multan selling point:

Shortcuts

Share

Category