Cotton&Yarn

Cotton&Yarn Cotton & Yarn
Deals of All types of yarn

تحریر !!! سید مدبر شاہ مشینیں خاموش نہیں ہوتیں ان کے ساتھ چولہے بھی ٹھنڈے ہوتے ہیں پاکستان ایک ایسا ملک ہے جسے قدرت نے ب...
22/05/2026

تحریر !!! سید مدبر شاہ

مشینیں خاموش نہیں ہوتیں ان کے ساتھ چولہے بھی ٹھنڈے ہوتے ہیں

پاکستان ایک ایسا ملک ہے جسے قدرت نے بے شمار وسائل، محنتی عوام اور جغرافیائی اہمیت سے نوازا ہے، لیکن بدقسمتی سے یہاں عام آدمی آج مہنگی بجلی گیس اور پٹرول کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ دوسری طرف حکمران طبقہ اور بااثر لوگ اپنی دولت بیرونِ ملک جائیدادوں اور شاہانہ اخراجات پر خرچ کر رہے ہیں
صنعتوں کی مسلسل بندش ملک کی معیشت کے لیے خطرناک اشارہ ہے۔ جب کارخانے بند ہوتے ہیں تو صرف مشینیں خاموش نہیں ہوتیں بلکہ لاکھوں خاندانوں کے چولہے بھی ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں۔ اگر یہی صورتحال جاری رہی تو بے روزگاری اور معاشی مشکلات مزید بڑھیں گی۔
پاکستان کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت صنعتوں کو سہارا دے کاروباری لاگت کم کرے اور عوام کو ریلیف فراہم کرے تاکہ ملک ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو سکے
ختم شد

تحریر!!! سید مدبر شاہامریکہ اسرائیل ایران جنگ نامی گائے کا دودھ کہاں جا رہا ہے؟ 28 فروری 2026کو امریکہ اسرائیل ایران جنگ...
19/05/2026

تحریر!!! سید مدبر شاہ

امریکہ اسرائیل ایران جنگ نامی گائے کا دودھ کہاں جا رہا ہے؟

28 فروری 2026کو امریکہ اسرائیل ایران جنگ کے بعد جو خام تیل اوپر گیا اور دنیا کی پٹرولیم مصنوعات کا کاروبار کرنے والی کمپنیوں نے سینکڑوں ارب ڈالرز کمائے زیادہ پیسہ پچاس بڑی کمپنیوں نے کمایا
ان دنیا کی ٹاپ 50کمپنیوں میں امریکہ کی سب سے زیادہ 17کمپنیاں ہیں کینڈا کی 5 جبکہ چین کی تین کمپنیاں ہیں
کمال کی بات یہ ہے کہ تیل کے اوپر جانے سے منافع کمانے والی عرب کمپنیاں بھی طویل عرصہ سے اپنی سرمایہ کاری امریکہ میں کرتی ہیں اب سمجھ لیں دنیا میں پٹرول مہنگا ہونے کا بڑا فائدہ امریکہ کو ہو رہا ہے
اب امریکہ ایک طرف اسلحہ فروخت کر کے پیسہ بنا رہا ہے دوسری طرف خام تیل کا ریٹ اوپر ہونے سے بے پناہ مالی فوائد سمیٹ رہا ہے
امریکہ ایران سے جنگ کیوں بند کرے گا؟؟؟
اس لئے نہ امریکہ ایران کو مکمل ختم کرے گا اور نہ یہ جنگ بند کرے گا بلکہ اس کو لٹکا کر پیسہ بنائے گا
امریکہ ایران جنگ امریکہ کے لئے ایسی گائیں ہے جو روز اسے مکھن والا دودھ دیتی ہے

مندرجہ ذیل وہ کمپنیاں ہیں جنہوں نے جنگ کے بعد خام تیل میں تیزی سے بڑا منافع کمایا ہے جنگ نہ ہوتی تو کبھی یہ منافع ان کمپنیوں کو نہ ہوتا👇
Top Global Majors & NOCs (1-15)
Saudi Aramco - سعودی عرب
ExxonMobil (XOM) - USA
Chevron (CVX) - USA
PetroChina - چین
Shell (SHEL) - UK/Netherlands
TotalEnergies (TTE) - فرانس
ConocoPhillips (COP) - USA
CNOOC - چین
BP - UK
Petrobras - برازیل
Rosneft - روس
Gazprom - روس
Equinor - ناروے
Suncor Energy - کینیڈا
Canadian Natural Resources (CNQ) - کینیڈا
دیگر بڑی Upstream/E&P کمپنیاں (16-35)
EOG Resources - USA
Occidental Petroleum (OXY) - USA
Devon Energy (DVN) - USA
Diamondback Energy (FANG) - USA
Hess Corporation - USA
Marathon Oil - USA (اب ConocoPhillips کا حصہ)
APA Corporation - USA
Pioneer Natural Resources (اب Exxon کا حصہ) - USA
Continental Resources - USA
SM Energy - USA
Tourmaline Oil - کینیڈا
Ovintiv - USA/Canada
Cenovus Energy - کینیڈا
Imperial Oil (IMO) - کینیڈا
ENI - اٹلی
Repsol - ہسپانوی
OMV - آسٹریا
Wintershall Dea - جرمنی
Lukoil - روس
اضافی اہم کمپنیاں (36-50)
Sinopec - چین
Kuwait Petroleum Corporation (KPC) - کویت
ADNOC - متحدہ عرب امارات
QatarEnergy - قطر
National Iranian Oil Company (NIOC) - ایران
Pemex - میکسیکو
Ecopetrol - کولمبیا
YPF - ارجنٹائن
Petronas - ملائیشیا
Pertamina - انڈونیشیا
ONGC - بھارت
Oil India - بھارت
Santos - آسٹریلیا
Woodside Energy - آسٹریلیا
Murphy Oil - USA
Chord Energy / Chord Energy Corp - USA
ختم شد

📢📢 *انتہائی اہم معلومات: بجلی کے بلوں پر سبسڈی کا نیا سرکاری قانون!* تمام عوام کو مطلع کیا جاتا ہے کہ گورنمنٹ کی طرف سے ...
19/05/2026

📢📢 *انتہائی اہم معلومات: بجلی کے بلوں پر سبسڈی کا نیا سرکاری قانون!*

تمام عوام کو مطلع کیا جاتا ہے کہ گورنمنٹ کی طرف سے ایک نیا فیصلہ سامنے آیا ہے، جس سے عام عوام (خاص طور پر غریب طبقہ جو صرف بل لیتا ہے اور جا کر جمع کروا آتا ہے) شدید متاثر ہو سکتا ہے۔ عام لوگوں کو ان ہیرا پھیریوں کا علم نہیں ہوتا، اس لیے اس پیغام کو غور سے پڑھیں۔

*مسئلہ کیا ہے؟*

- اس ماہ کے بجلی کے بلوں پر، جن صارفین کے *200 سے کم یونٹ* استعمال ہوئے ہیں، ان کے بل پر گورنمنٹ نے ایک *QR Code* دیا ہے۔

- اس کوڈ پر لکھا ہے کہ گورنمنٹ آپ کو 200 سے کم یونٹ استعمال کرنے پر سبسڈی دے رہی ہے۔

- *شرط:* اگر آپ اس سبسڈی کو آئندہ بھی جاری رکھنا چاہتے ہیں، تو آپ کو یہ کوڈ اسکین کر کے اپنی معلومات کی تصدیق کرنی ہوگی۔

*عمل نہ کرنے کا نقصان :*

- اگر آپ یہ عمل نہیں کریں گے، تو آپ کی 200 یونٹ والی *سبسڈی اگلے ماہ سے ختم* کر دی جائے گی۔

- سبسڈی ختم ہونے کی صورت میں، پہلے ہی یونٹ سے آپ پر وہی ریٹ لاگو ہوگا جو 201 یا اس سے زائد یونٹ والے کو لگتا ہے۔

- یاد رہے کہ اگر یہ ریٹ ایک بار لگ گیا، تو اگلے *6 ماہ تک* یہی بھاری ریٹ لگتا رہے گا۔

- *نوٹ:* باقاعدہ بل پر یہ بات لکھی ہوئی ہے کہ اگر تصدیق نہیں کریں گے تو 200 یونٹ والی سبسڈی ختم کر دی جائے گی۔ ہزاروں غریب لوگ ایسے ہوں گے جن کو اس چیز کا علم ہی نہیں ہوگا اور اگلے ماہ سے ان کا بل اچانک بہت زیادہ آنا شروع ہو جائے گا۔

📲 *اسکین اور تصدیق کرنے کا طریقہ (بہت آسان):*

ہر وہ بل جس پر 200 سے کم یونٹ استعمال ہوئے ہیں، اس پر *2 QR Code* ہوں گے۔ آپ نے درج ذیل طریقے سے عمل کرنا ہے:

- *کوڈ اسکین کریں:* بل پر موجود *اوپر والے کوڈ کو* (جس پر سبسڈی کا ذکر ہے) اپنے ٹچ موبائل کے کیمرے یا QR اسکینر سے اسکین کریں۔

- *ویب سائٹ پر جائیں:* اسکین کرتے ہی موبائل آپ کو براہِ راست متعلقہ سرکاری ویب سائٹ پر لے جائے گا۔

- *ڈیٹا چیک کریں:* وہاں موجود اپنا ڈیٹا (معلومات) دیکھیں اور فارم کو OKAY کریں۔

*او ٹی پی (OTP) کوڈ درج کریں:* تصدیق کرنے پر آپ کے موبائل سم نمبر پر ایک کوڈ (SMS) آئے گا، وہ کوڈ وہاں لکھیں اور *Verify* پر کلک کریں۔

- *مراحل مکمل:* ایسا کرنے کے بعد اسکرین پر *VERIFIED* لکھا ہوا آ جائے گا، جس کا مطلب ہے آپ کا عمل مکمل ہو گیا ہے۔

📊 *ریٹ کا فرق (مثال کے طور پر):*

- *سبسڈی کے ساتھ (موجودہ ریٹ):* ابھی 100 یونٹ تک تقریباً 10 روپے فی یونٹ ہے، اور 101 سے 199 یونٹ پر تقریباً 14 روپے ہے۔

- *سبسڈی ختم ہونے کے بعد (نیا ریٹ):* اگر اسکین والا کام نہیں کریں گے تو پہلے ہی یونٹ سے *رہائشی بل پر 25 سے 27 روپے* اور *کمرشل پر 38 روپے* فی یونٹ کا ریٹ لگے گا۔

🤝 *آپ سے اپیل:*
تمام بھائیوں سے گزارش ہے کہ اپنے بلوں پر یہ کام خود بھی کریں اور اپنے آس پاس موجود غریب، سادہ لوح اور ان پڑھ لوگوں کی بھی مدد کریں تاکہ کسی کا نقصان نہ ہو۔ اس معلومات کو ہر جگہ پہنچائیں تاکہ سب کا بھلا ہو سکے!

WhatsApp Group Invite

17/05/2026
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 13 مئی 2026 کو بیجنگ پہنچے اور 15مئی کو واپس روانہ ہو گئے  ان کے ساتھ 16 سے 17 بڑے امریکی بزنس لیڈ...
15/05/2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 13 مئی 2026 کو بیجنگ پہنچے اور 15مئی کو واپس روانہ ہو گئے ان کے ساتھ 16 سے 17 بڑے امریکی بزنس لیڈرز اور سی ای اوز کی ایک بڑی وفد تھا۔ یہ تقریباً 9 سال بعد کسی امریکی صدر کا چین کا سرکاری دورہ ہے، جس کا مقصد تجارت، ٹیکنالوجی، اے آئی، سرمایہ کاری اور باہمی تعلقات کو بہتر بنانا ہے۔
ٹرمپ کے ساتھ اہم بزنس شخصیات 👇
ایلون مسک (Tesla اور SpaceX)
ٹم کک (Apple کے سی ای او)
جینسن ہوانگ (Nvidia کے سی ای او، آخری لمحات میں شامل)
لیری فنک ؛(BlackRock کے سی ای او)
اسٹیفن شوارزمین (Blackstone کے سی ای او)
کیلی اورٹبرگ (Boeing کے سی ای او)
جین فریزر (Citigroup کی سی ای او)
ڈیوڈ سولومن (Goldman Sachs)
چک رابنز (Cisco کے سی ای او، کچھ رپورٹس میں شامل)
کرسٹیانو آمون (Qualcomm کے سی ای او)
رائن مک انرنی (Visa کے سی ای او)
مائیکل میباخ (Mastercard کے سی ای او)
برائن سائیکس (Cargill کے سی ای او)
لاری کلپ (GE Aerospace)
سنجے مہروترا (Micron)
جبکہ کچھ کمپنیوں کے نمائندے بھی ساتھ ہیں Meta، Illumina، Coherent
وغیرہ بھی ہمراہ تھے
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کے ساتھ اچھی بزنس ڈیلز کیں اپنے طیارے اور خام تیل فروخت کیا سویابین سمیت امریکی زرعی مصنوعات چینی کمپنیاں خریدیں گی کا پکا وعدہ لیا اور واپس روانہ ہو گئے
ختم شد

تحریر!!! سید مدبر شاہ 15/05/2026امریکی کاٹن سیل کا کمزور ہفتہ نیویارک مارکیٹ میں میں بھی نمایاں کمی امریکی ادارے  (USDA)...
15/05/2026

تحریر!!! سید مدبر شاہ
15/05/2026
امریکی کاٹن سیل کا کمزور ہفتہ نیویارک مارکیٹ میں میں بھی نمایاں کمی

امریکی ادارے (USDA) کی تازہ ترین ویکلی کاٹن سیلز رپورٹ کے مطابق امریکی کاٹن کے اس ہفتہ میں اہم خریدار یہ رہے
​ویتنام: 31,800 گانٹھیں (RB) پہلے نمبر پر
​انڈونیشیا: 4,100 گانٹھیں (RB) دوسرے نمبر پر جبکہ
​ترکی اور پاکستان: (مشترکہ طور پر تیسرے نمبر پر) 2,700 گانٹھیں دونوں نے یکساں خریدیں اس سے ظاہر ہوا کہ پاکستان اس ہفتہ بھی امریکی کاٹن کا نمایاں خریدار ہے

​اس ہفتے امریکی اپ لینڈ کاٹن (Upland Cotton) کی طلب میں غیر معمولی مندی دیکھی گئی۔ 47,700 گانٹھوں کی خالص فروخت اس مارکیٹنگ سال کی کم ترین سطح ہے، جو کہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں 61 فیصد اور گزشتہ چار ہفتوں کی اوسط کے مقابلے میں 66 فیصد کم ہے۔ یہ اعداد و شمار عالمی مارکیٹ میں روئی کی طلب میں عارضی گراوٹ یا خریداروں کے انتظار کی پالیسی کی نشاندہی کرتے ہیں۔

​اگرچہ نئی فروخت کم رہی، لیکن ترسیل (Exports) کا عمل جاری ہے۔ کل 290,300 گانٹھیں برآمد کی گئیں، جن میں ویتنام (84,100 RB) سب سے بڑی منزل رہا۔ اس کے بعد ترکی، بنگلہ دیش اور چین کا نمبر آتا ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ پرانے آرڈرز کی ترسیل ابھی بھی مستحکم رفتار سے جاری ہے۔
​ پیما کاٹن (Pima Cotton)
​اعلیٰ معیار کی پیما کاٹن کی فروخت میں بھی 19 فیصد کمی دیکھی گئی، تاہم بھارت 5,900 گانٹھوں کے ساتھ اس کا سب سے بڑا خریدار بن کر ابھرا ہے۔ چین نے مستقبل (2026/2027) کے لیے پیما کاٹن کی خریداری میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔

​مجموعی طور اس ہفتہ میں امریکی کاٹن کی ایکسپورٹ سست روی کا شکار رہی جہاں ویتنام واحد بڑا خریدار رہا جس نے نمایاں خریداری کی۔ دوسری طرف، چمڑے کی صنعت میں چین کی طلب مستحکم ہے، جو امریکی برآمدی مارکیٹ کو سہارا دے رہی ہے۔ پاکستان کی پوزیشن اس ہفتے محدود رہی، جہاں اس نے اپ لینڈ کاٹن کی معمولی خریداری کی لیکن ساتھ ہی مستقبل کے کوٹے (2026/2027) میں 2,200 گانٹھوں کی کمی بھی کی۔

Address

Umer Building F-1, 1st Floor Railway Road, Multan Cantt
Multan
600000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Cotton&Yarn posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share