Humanity Thought

Humanity Thought Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Humanity Thought, Quetta Cantonment.

Pakistan zindabad 🤣🤣🤣
06/03/2026

Pakistan zindabad 🤣🤣🤣

Its dam True
06/03/2026

Its dam True

*خلاصہ پارہ 5*اس پارے میں سورۃ النساء کی آیت 24 سے لیکر 147 تک ہے۔ چوتھے پارے کے آخر میں بعض وہ رشتے ذکر کیے گئے تھے جن ...
02/03/2026

*خلاصہ پارہ 5*
اس پارے میں سورۃ النساء کی آیت 24 سے لیکر 147 تک ہے۔ چوتھے پارے کے آخر میں بعض وہ رشتے ذکر کیے گئے تھے جن سے نکاح کرنا جائز نہیں۔ اسی سے پانچویں پارے کا آغاز ہوا۔ نکاح کے معاملات کو اللہ تعالی نے بہت تفصیل سے بیان کیا ہے اس سے نکاح کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ یہاں یہ بتایا گیا کہ جو عورت کسی اور کے نکاح میں ہو اس سے نکاح جائز نہیں، اس کے علاوہ ہر عورت سے نکاح کیا جاسکتا ہے۔ مہر کی ادائیگی مرد پر لازم ہے، لیکن اگر عورت خوشی سے معاف کردے تو یہ جائز ہے۔ یہ بھی ہدایت دی گئی کہ اگر معاشی طور پر کمزور ہونے کے باعث آزاد عورت سے نکاح کرنے کی استطاعت نہ ہو تو لونڈی سے نکاح کر سکتے ہو۔ لیکن مہر کی ادائیگی پھر بھی لازم ہے گو کہ مقدار کم ہوگی۔ لونڈی کے حقوق آزاد عورت کے مقابلے میں آدھے ہوتے ہیں لہذا اگر اس سے گناہ سرزد ہوجائے تو اس کے اوپر حد بھی آدھی نافذ ہوگی۔
*اللہ کے احکام میں بظاہر پابندیاں ہیں لیکن اصل میں یہ باعث رحمت ہیں۔ بہت زیادہ آزادی ہمیشہ تباہی لاتی ہے۔*
اس کے بعد یہ واضح کیا گیا کہ باہمی رضامندی سے تجارت اور مناسب نفع لینا جائز ہے۔ لیکن کسی کا مال غصب کرنا، لین دین میں ظلم زیادتی کرنا، اور ہیراپھیری کرنا حرام ہے۔ *خودکشی کی ممانعت کی گئی ہے، یہ کبیرہ گناہ ہے*۔ ساتھ یہ خوشخبری سنائی کی *اگر کبیرہ گناہوں سے بچو گے تو اس کی برکت سے صغیرہ گناہ معاف کردیئے جائیں گے۔*
اللہ نے فضیلت کے مختلف معیار رکھے ہیں اس لیے یہ بھی بتایا گیا کہ جو کسی اور کو ملا اس کی حسرت یا اس سے حسد مت کرو۔ ہر کسی کو وہی ملتا ہے جو اس نے کمایا۔ *کسی کی فضیلت دیکھ کر اللہ سے اس کا فضل طلب کرو۔*
*مرد کو عورت پر ایک درجہ فوقیت حاصل ہے،* مرد کو قوام اس کی ذمہ داریوں کی وجہ سے بنایا گیا ہے۔ *تقویٰ کی بنیاد پر فضائل میں بعض اوقات عورت کا درجہ مرد سے بڑھ جاتا ہے۔* یہاں فضیلت کا معیار جنس ہرگز نہیں ہے۔
عورت اگر نافرمان ہو اور حدود سے نکلنے لگے تو اس کو سزا دی جاسکتی ہے، اس سزا کے بھی درجات مقرر ہیں۔ اطاعت گزار *عورت کو ستانا ہرگز جائز نہیں۔ نیک بیوی کی خصوصیت یہ بتائی گئی کہ شوہر کی فرمابردار ہوتی ہے، اس کی غیر موجودگی میں اپنی عزت، اس کے مال اور راز کی حفاظت کرتی ہے۔*
زوجین کے درمیان اگر ناراضگی حد سے بڑھ جائے تو اس کا حل بھی بتایا گیا کہ خاندان کے بزرگوں میں سے ثالث مقرر کرلیں جو حالات ٹھیک کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔ اختلاف کی صورت میں صلح کی ترغیب دی۔ لیکن اگر صلح کی گنجائش نا ہو تو علیحدہ ہونے کی اجازت ہے۔ *ایک سے زائد بیوی ہو تو حتی الامکان عدل کرو گوکہ مکمل عدل کرنا انسان کے اختیار سے باہر ہے۔*
اسکے بعد پھر اللہ تعالی نے اپنی عبادت، شرک سے بچنے، والدین، قرابت داروں، یتیموں، مسکینوں، رشتہ دار پڑوسی، غیر رشتہ دار پڑوسی، مجلس میں بیٹھنے والے ساتھی، مسافر لونڈیاں غلام سب کے ساتھ احسان کا حکم دیا۔ اس سے یہ واضح ہوا کہ کسی بھی مجلس، درسگاہ، سفر وغیرہ میں آپ کے ساتھ بیٹھنے والوں کا بھی حق ہے۔ بلا وجہ کسی کو تنگ نہ کریں مثلا ساتھ بیٹھنے والے کو کہنیاں مارنا، جگہ نہ دینا، بلاضرورت پھیل کر بیٹھ جانا اس سب کی ممانعت ہے۔ لونڈیوں اور غلاموں پر ملازمین اور نوکروں کو قیاس کیا جاسکتا ہے۔
*اللہ کو بہت زیادہ خود پسندی بھی پسند نہیں۔ چناچہ اپنی تعریف کرنے والا بھی اللہ کو پسند نہیں۔* بخیل کو عذاب کی وعید سنائی گئی۔ ساتھ ہی دکھاوے کے لیے خرچ کرنے والے کو بھی شیطان کا ساتھی کہا گیا۔ انسان اپنا کیا ہوا ہی کماتا ہے اللہ کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ اور نیکی کو اجر میں بڑھاتا رہتا ہے۔
اس کے بعد تیمم کا حکم آیا کہ اگر ضرورت کے وقت پانی میسر نہ ہو تو پاکی حاصل کرنے کے لیے پاک مٹی سے تیمم کر لو۔
یہاں بعض خصوصیات اہل کتاب کی بھی بتائیں گی اور ان کے برے اعمال کا ذکر کیا گیا جن میں سر فہرست کتاب اللہ کی آیات کو چھپانا، ان میں تحریف کرنا اور طاغوت کی پیروی کرنا تھا۔ انہی اعمال کی بدولت اللہ تعالی نے ان پر لعنت کی ہے۔
یہ بھی واضح کردیا کہ شرک کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا اس کے علاوہ ہر گناہ کی معافی ہے (اللہ کی مرضی سے)۔ دیوی دیوتا اور بتوں کو پکارنا شرک ھے
کفار کو وعید اور مومنین کو جنت کی خوشخبری سنائی گئی۔ پھر بعض ہدایات خاص مسلمانوں کے لیے لائی گئی کہ امانتیں ان کے اہل لوگوں کو دو، عدل کرو، انصاف پر قائم رہو، جھوٹی گواہی سے بچو چاہے اس کی زد میں تمہارے اپنے والدین اور رشتہ دار ہی کیوں نہ آرہے ہوں، حق بات کہو، اللہ اس کے رسول ﷺوالہٖ اور اپنے امیر کی اطاعت کرو۔ رسول ﷺوالہٖ کا حکم پورے شرح صدر کے ساتھ ماننا چاہیے۔ *رسول ﷺوالہٖ کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے۔* یہ *خوشخبری* بھی سنائی گئی کہ *اللہ اور اس کے رسول ﷺوالہٖ کی اطاعت کرنے والا قیامت کے روز انبیاء صدیقین شہداء اور صالحین کے ساتھ ہوگا،* اختلاف کی صورت میں اللہ اور اس کے رسول کی طرف رجوع کرو۔ *حکمران کی اطاعت صرف معروف میں ہوگی معصیت میں نہیں۔*
اس کے بعد بعض صفات *منافقین کی بیان کی گئییں کہ وہ نبی ﷺوالہٖ کے فیصلے نہیں مانتے بلکہ ان سے دل میں تنگی محسوس کرتے ہیں، مطلب پرست ہوتے ہیں، مسلمانوں میں افراتفری کی کوشش کرتے، افواہیں پھیلاتے ہین، نماز میں انتہائی سستی کرتے، اور اللہ کو کم یاد کرتے*۔
جہاد کا حکم دیا گیا اور یہ کہا گیا کہ اپنے بچاؤ کی حکمت عملی ہمیشہ تیار رکھو۔ شہید کی عظمت بتائی گئی اور یہ بھی کہ فتح اور شہادت دونوں صورتوں میں بہترین اجر ہے۔ مومن کا جہاد صرف اللہ کے لئے ہوتا ہے۔ بلا وجہ جہاد سے پیچھے رہنے والا مجاہد کی طرح نہیں ہوسکتا مجاہدین کو ایک درجہ فضیلت حاصل ہے۔ ان کے لئے اجر عظیم، اونچے درجات اور مغفرت کا وعدہ ہے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ لڑائی سے بھاگنا کوئی فائدہ نہیں دے گا موت تو بند مضبوط قلعوں میں بھی آجائے گی۔
*قرآن میں غور و فکر کی ترغیب دی گئی۔* اچھے کام میں سفارش بہترین عمل ہے اور برے کام کی سفارش کرنے والا برائی میں حصہ دار ہوگا۔ *دعا اور سلام کا بہترین جواب دو۔ سلام نیکیوں اور محبتوں کا باعث ہے*۔
صحابہ کرام کو منافقین کی حرکتوں سے خبردار کیا گیا اور اس کی مناسبت سے بعض احکام دیے گئے۔ کہا گیا تم انہیں ہدایت نہیں دے سکتے اس لئے انہیں اپنا دوست مت بناؤ۔
کسی کو ناحق قتل مت کرو اگر غلطی ہو جائے تو دیت ادا کرو یا اللہ کے حکم کے مطابق کفارہ ادا کرو۔ اور جو جان بوجھ کر یہ فعل انجام دے وہ اللہ کے غضب، لعنت اور عذاب کا مستحق ہے۔
ہجرت کی ترغیب دی گئی، مہاجر کے لیے وسعت اور اجر کی نوید سنائی گئی۔ اگر کوئی قدرت رکھنے کے باوجود ضرورت کے وقت ہجرت نا کرے تو اللہ اس سے ناخوش ہوتا ہے۔
سفر میں قصر نماز کی اجازت ہے۔ نبی کریم ﷺوالہٖ نے ہر طرح کے سفر میں نماز قصر کی۔ آپ سے کبھی یہ ثابت نہیں ہے کہ قصر کی مشروعیت کے بعد آپ نے سفر میں پوری نماز ادا کی ہو۔ صلاۃ الخوف کی مشروعیت اور طریقہ بیان ہوا۔ نماز کی اہمیت کا اس سے اظہار ہوتا ہے کہ دشمن سر پر کھڑا ہو تو بھی نماز کی چھوٹ نہیں۔ یہ اوقات مقررہ میں ہر مسلمان پر فرض ہے۔ نماز کے بعد اللہ تعالی کا ذکر کرنے کی فضیلت ہے۔ توبہ و استغفار کرنے والے کے لیے خوشخبری ہے۔ گناہ کا وبال کرنے والے پر ہی ہوتا ہے۔ غلطی کرکے الزام دوسرے پر لگا دینا بھی بڑا گناہ ہے۔ پھر اللہ تعالی نے نبی کریم ﷺوالہٖ پر اپنے احسان کا ذکر کیا جو اس کتاب کی صورت میں ہے، اور بتایا کہ ہم نے آپ کو علم و حکمت دی۔ آپ اُمٌی تھے اس لیے آپ کے علم کا واحد منبع وحی الہی تھا۔
*مجلس میں سرگوشی کرنا ناپسندیدہ فعل ہے۔ اگر مصلحت کا تقاضا ہو، اصلاح کی خاطر اور کسی کی عزت رکھنے کی خاطر ہو تو اجازت ہے اور اللہ کو مرغوب ہے۔*
نبی ﷺوالہٖ اور مسلمانوں کے طریقے کو چھوڑ کر دوسرا طریقہ اختیار کرنا یا دوسرا راستہ اپنانا عذاب کا سبب ہے۔ یہاں اجماع کی فرضیت ثابت ہوتی ہے۔
شیطان پر لعنت کی گئی اس کے ارادوں سے خبردار کیا۔ وہ اللہ کی تخلیق میں ردوبدل کرواتا ہے، باطل کو حق سے خلط ملط کرتا ہے، جھوٹی امیدیں دلاتا ہے، اور جھوٹے وعدے کرتا ہے۔ لہذا اس کے ساتھی بھی اس کے ساتھ جہنم میں جائیں گے۔ جزا اور سزا کسی کی امید اور آرزو پر منحصر نہیں ہے۔ ہر کوئی اپنے اچھے برے کا بدلہ پائے گا۔ *سب سے بہترین وہ ہے جو اسلام لائے، احسان کرے اور ابراہیم علیہ السلام کی طرح یکسو ہوجائے۔*
عورتوں یتیموں اور بچوں کے لئے بھلائی کے کام کرو۔ یتیم بچی سے نکاح کرو تو مہر ضرور ادا کرو۔
اللہ ہر چیز کا مالک و قادر مطلق ہے، اس پر بھی قادر ہے کہ *اگر تم اس کے احکام پر عمل پیرا نہ ہو تو سب کو ختم کرکے دوسرے لوگ لے آئے۔* لہٰذا اے *ایمان والو اپنے ایمان کی تجدید کرتے رہو* تو خوشخبری ہے ان کے لیے جو ایمان لائے۔ منافقین اور دین کو کھیل تماشا بنانے والوں کے لئے سخت عذاب کی وعید ہے۔ لیکن ان میں سے بھی جو توبہ کر لے اور اللہ کے لیے اپنے عمل کو خالص کر لے تو اجر کا وعدہ ہے۔
اختتام میں واضح کیا گیا کہ *اگر تم ایمان لے آو اور شکر ادا کرتے رہو تو اللہ کو تمہیں عذاب دینے کی کیا ضرورت ہے*۔ یعنی انسان کا اپنا کیا کرایا ہی اسے عذاب میں دھکیلتا ہے ورنہ اللہ کسی پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا

*خلاصہ پارہ 4*اس پارے میں سورہ آل عمران کی آیت 92 سے اختتام سورت تک ہے، اور سورۃ نساء کی ابتدائی 23 آیات ہیں۔ گزشتہ پارے...
28/02/2026

*خلاصہ پارہ 4*

اس پارے میں سورہ آل عمران کی آیت 92 سے اختتام سورت تک ہے، اور سورۃ نساء کی ابتدائی 23 آیات ہیں۔ گزشتہ پارے میں اللہ تعالی نے مفصل کلام انفاق فی سبیل اللہ پر کیا تھا، اس پارے کی کا آغاز پھر انفاق کی ترغیب سے ہوا اور یہ بتایا گیا کہ تم نیکی کے اعلی درجات پہ اس وقت تک نہیں پہنچ سکتے جب تک تم اپنی محبوب چیز اللہ کی راہ میں خرچ نہ کردو۔ یہاں مومنین کو اعلی درجے کی اخلاقی تعلیم دی جارہی ہے، اور مزید خرچ کرنے کی ترغیب دی جارہی ہے۔ یہ اللہ تعالی کی اپنے بندوں سے بے انتہا محبت ہے کہ یہ نہیں کہا گیا کہ جو پسند ہو وہ سب دے دو پھر ہی نیکی کو پہنچو گے، بلکہ یہ کہا گیا کہ جو پسند ہے اس میں سے کچھ دے دو۔
اس کے بعد یہود کے ایک اعتراض کا جواب دیا گیا کہ محمد علیہ الصلاة والسلام نے بعض وہ چیزیں بھی حلال قرار دے دیں جو حرام تھیں۔ چناچہ اللہ تعالی نے واضح کیا کہ یہ سب اصلا دین ابراہیمی میں حلال تھیں، یعقوب علیہ السلام نے اپنی کسی ضرورت کی وجہ سے ان کو چھوڑ رکھا تھا۔ محمد علیہ الصلاۃ والسلام نے کوئی حرام چیز حلال نہیں قرار دی۔
اہل کتاب نے تحویل قبلہ پر بھی بیت المقدس کی افضلیت کی بنا پر اعتراض اٹھایا کہ اسے قبلے کے طور پر چھوڑنا اچھا عمل نہیں ہے۔ سو اللہ تعالی نے واضح کردیا کہ اصلا سب سے پہلا قبلہ بیت اللہ ہی ہے جو ایک بابرکت اور امن والی جگہ پر قائم ہے۔ ساتھ ہی ساتھ حج کی فرضیت بھی واضح کر دی گئی کہ ہر صاحب استطاعت پر زندگی میں ایک دفعہ اس گھر کا حج فرض ہے۔
اس کے بعد اہل کتاب سے خطاب کرکے ان کے بعض گمراہ کن اعمال کی طرف توجہ دلائی گئی اور مسلمانوں کو تنبیہ کی گئی کہ نبی برحق کے ہوتے ہوئے ان بتوں کی پیروی مت کرنا ورنہ وہ تمہیں بھی حق سے محروم کردیں گے۔ مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور اسلام پر ہی جان دینا۔ ترک دنیا اللہ سے ڈرنے کا حق نہیں ہے، بلکہ تمام دنیاوی امور میں اللہ کے احکامات کا خیال رکھنا ہی دراصل اس سے ڈرنے کا حق ہے۔ ساتھ ہی ساتھ وحدت کی تعلیم بھی دی گئی اور اس کے لیے ہدایت یہ ہے کہ *اللہ کی رسی (یعنی نبی اکرم ﷺوالہٖ کی ذات اقدس )کو مضبوطی سے پکڑ لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔*
اس کے بعد سلسلہ کلام اس اہم چیز کی جانب موڑ دیا گیا جو اصل میں اس امت کی بعثت کا مقصد ہے، کہ تم میں ضرور ایک ایسا گروہ ہو جس کا کام ہی یہ ہو کہ نیکی اور بھلائی کے کاموں کی طرف لوگوں کی رہنمائی کرے اور برائی سے روکے۔ جو لوگ یہ کام انجام دیں گے وہی اصل میں کامیاب ہیں۔ اسی عمل کی وجہ سے تمہیں بہترین امت کا خطاب ملا ہے۔ اس ایک خاص جماعت کے علاوہ بھی ہر *امتی کو دین اور بھلائی کا داعی ہونا چاہیے جو اپنے اپنے سرکل میں برائی کے خلاف آگاہی پھیلائے، اور انسانیت کی بھلائی اور خیر خواہی کے لیے اپنے حصے کا کام انجام دے۔*
اس کے بعد مسلمانوں کو اہل کتاب کے بارے میں بتایا گیا کہ ان میں کچھ تو وہ ہیں جو اپنے اعمال رذیلہ کے سبب ذلیل ہوئے، لیکن سب ایک جیسے نہیں ہیں ان میں کچھ ایسے بھی ہیں جو حق پر قائم ہیں، راتوں کو اٹھ کر نماز پڑھتے ہیں اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا کار خیر انجام دیتے ہیں۔
یہاں کفار کے بارے میں بھی بتایا گیا ہے کہ آخرت میں ان کے مال اور اولاد ان کے کسی کام نہیں آئیں گے، نہ ہی ان کا صدقہ وخیرات کسی کام کا ہوگا، یہ صرف دنیا کی لذت میں مال خرچ کرتے ہیں۔ *لہذا انہیں اپنا رازدار نہ بناؤ۔ یہ مسلمانوں سے حد درجہ کا بغض رکھتے ہیں*۔ ضمنا منافقین کے بارے میں بھی بتایا گیا کہ جب تمہیں کوئی بھلائی ملے تو وہ ناراض ہوتے ہیں اور جب تمہیں کوئی برائی پہنچے تو بہت خوش ہوتے ہیں۔ تو صبر و تقویٰ کے ذریعہ سے ان کا مقابلہ کرو۔ اگر تمہارا کردار مضبوط ہے تو تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔
اس سورہ میں اللہ تعالی نے بہت مفصل تبصرہ غزوہ احد پر بھی کیا ہے۔ غزوہ احد میں مسلمانوں کو شروع میں فتح حاصل ہوئی تھی، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے روگردانی کرتے ہوئے مسلمان مکمل فتح سے پہلے مال غنیمت سمیٹتے میں لگ گئے، اس بنا پر ان کی فتح شکست میں تبدیل ہوگئی اور بہت سے مسلمان شہید ہو گئے۔ اس موقع پر ایک افواہ یہ بھی پھیلی کہ نبی کریم علیہ الصلاۃ والسلام نعوذ باللہ شہید ہوگئے ہیں۔ یہ سنتے ہی بہت سے مسلمان حوصلہ ہار گئے، کچھ تو منہ پھیر کر بھاگ گئے۔ کچھ نے ہتھیار ڈال دیے۔ یہ بات اللہ تعالی کو سخت ناپسند ہوئی۔ چنانچہ اللہ تعالی نے مسلمانوں کو پہلے تو حوصلہ دیا کہ جب بدر میں اللہ تعالی تمھاری مدد کرچکا ہے تو اب کیوں نہیں کرے گا۔ یہ خوشخبری بھی دی گئی کہ تمہارا رب پانچ ہزار فرشتوں سے تمہاری مدد کرے گا اگر تم اس پر بھروسہ کرو۔ اللہ کی مدد اسی اعتبار سے آتی ہے جتنا جوش و جذبہ ہوتا ہے۔ یہ بھی تعلیم دی گئی کہ کمزور نہ بنو اور نہ ہی دل چھوٹا کرو آخر میں تم ہی غالب ہو گے اگر عہد میں پکے اور ثابت قدم رہے۔ حالات ایک جیسے نہیں رہتے بلکہ کبھی ایک غالب آتا ہے کبھی دوسرا۔ اگر اب تمہیں زخم لگا ہے تو بدر میں وہ بھی منہ کی کھا چکے ہیں۔
اس شکست کے ذریعے تمہارا امتحان مقصود تھا کہ تم میں سے ایمان والے خالص ہوجائیں اور منافقین ظاہر ہوکر الگ ہوجائیں۔ *آزمائشیں ہی انسان کو خالص کرتی ہیں۔* لہذا اگر تم سمجھتے ہو کہ جنت میں یونہی داخل ہو جاؤ گے تو یہ تمہاری غلط فہمی ہے۔ اللہ نے ابھی تمہارا مزید امتحان لینا ہے۔ یہ بھی تنبیہ کی گئی کہ محمد علیہ السلام تو فقط ایک رسول ہیں تو کیا اگر وہ شہید ہوگئے یا نہ رہے تو تم دین سے ہی پھر جاؤ گے۔ *تم ایک لیڈر کی خاطر نہیں لڑ رہے بلکہ اللہ کے اس کلمے کی خاطر جہاد کے لئے آئے ہو جو اس نے دنیا میں بھیجا ہے۔* اللہ کی راہ میں تم سے پہلے بھی بہت لوگ نبیوں کے ساتھ مل کر اللہ کی راہ میں لڑے ہیں۔ وہ بھی اللہ سے مدد مانگتے تھے تو ان کو دنیا اور آخرت دونوں میں اچھا بدلہ ملا۔ *اللہ نے تو اپنا وعدہ سچا کر دکھایا تھا لیکن تم مال کی محبت میں ڈگمگا گئے*۔اللہ اپنے بندوں سے یہ چاہتا ہے کہ وہ دنیا کی چیزوں پر غم نا کریں۔
احد میں چونکہ بہت سے مسلمان شہید ہوگئے تھے تو منافقین نے یہ بات پھیلا دی کہ اگر یہ لوگ اپنے گھروں میں ہوتے تو زندہ رہتے اور اس آزمائش سے بچ جاتے۔ اللہ تعالی نے یہاں اس کی بھی نفی کی اور کہا کہ جو لوگ اس جنگ میں آنے پر تنگی محسوس کر رہے تھے ان کو بتا دو کہ اگر وہ اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو جن کی قسمت میں شہید ہونا تھا وہ اپنے گھروں میں بھی مارے جاتے۔ منافقین کو بھی اللہ تعالی نے یہ کہہ دیا کہ کہ اگر یہی سچ ہے تو تم اپنے آپ کو موت سے بچا کر دکھاؤ۔ پھر مسلمانوں کو تسلی دلائی کہ یہ شہادت عام موت نہیں بلکہ ایک بہت اعلیٰ مرتبہ ہے۔ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے اور اللہ کے راستے کی موت ہی بہترین منزل ہے۔ شہداء کے انعامات کا تذکرہ کیا گیا کہ وہ زندہ ہیں، رزق بھی پاتے ہیں اور جو ان کے بقیہ مجاہد ساتھی ہیں ان کے بارے میں خوش بھی ہوتے ہیں کہ وہ بھی عنقریب اس رتبے کو حاصل کریں گے۔
جنگ احد کے بعد یہ خبر مشہور ہوئی کہ دشمن پھر پلٹ کر حملہ کرنے والا ہے۔ چناچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مرتبہ پھر لوگوں کو حکم دیا کہ مقابلے کے لئے نکلیں۔ اس موقعہ پر کسی نے بھی بزدلی نہیں دکھائی اور زخموں سے چور چور بھی اٹھ کھڑے ہوئے اور مقابلے کے لئے "حسبنا الله ونعم الوكيل" کہتے ہوئے تیار ہوگئے۔ اللہ تعالی کو ان کا یہ عمل بے حد پسند آیا۔
مومنین کو حوصلہ دیا گیا کہ یہ کافر تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ان کو جو ڈھیل مل رہی ہے اس کا مقصد یہ ہے کہ وہ اپنے گناہوں میں بالکل جب غرق ہوجائیں پھر ایک ہی دفعہ قیامت میں پکڑے جائیں۔
اللہ تعالی نے درمیان میں سود کی حرمت کا بھی ذکر کیا۔ سودی لین دین انسان مال کی محبت میں کرتا ہے، یہ مشکل بھی مال کی محبت کی وجہ سے آئی تھی۔ مسلمانوں نے مال غنیمت کی وجہ سے رسول اللہ کے احکام کو نظر انداز کردیا تھا۔ اس لئے یہ واضح کیا گیا کہ *مال کی محبت تباہی لاتی ہے*۔
جنت اور اللہ کی مغفرت کی طرف دعوت دی گئی اور مومنین کی چند صفات انفاق سے متعلق بیان کی کہ *وہ ہمیشہ اللہ کی راہ میں کھلے اور چھپے خرچ کرتے ہیں، سخت غصہ کو ضبط کرتے ہیں، عفو درگزر کرتے ہیں، جب ان سے کوئی غلط کام ہوجائے تو استغفار کرتے ہیں۔* خوشخبری بھی دی گئی کہ *جو اللہ سے مغفرت کے طلبگار ہوتے ہیں اور اپنی غلطیوں پر اصرار نہیں کرتے اور مذکورہ بالا تمام خصوصیات کو اپناتے ہیں ان کو وہ جنت ملے گی جس کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ مومنین کی صفات یہ بھی ہیں کہ وہ کھڑے بیٹھے اور لیٹے اللہ تعالی کو یاد کرتے ہیں اس کا ذکر کرتے ہیں اور آسمان اور زمین کی تخلیق میں غوروفکر کرتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ یہ سب بے مقصد نہیں ہے۔*
اللہ تعالی نے نبی کریم ﷺوالہٖ کی بعض وہ صفات بھی بیان کی جو ایک صحیح لیڈر میں ہونی چاہیے: *تواضع، اپنے ساتھیوں کا خیال رکھنا، اہم کام مشورہ سے انجام دینا، اللہ پر توکل کرنا۔* اس سے یہ امر بھی واضح ہوا کہ اپنے امور باہمی مشورے سے طے کرنا پسندیدہ امر ہے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ رسول کا بھیجنا تم پر اللہ کا انعام ہے۔
خیانت سے خبردار کیا گیا کہ جو خیانت کرے گا وہ قیامت کے دن اس کا حساب دے گا۔ *بخل کی ممانعت کی گئی اور یہ بتایا گیا کہ جو جس چیز میں بخل کرے گا اسی کا طوق قیامت کے دن اسے پہنایا جائے گا۔*
یہ بھی بتا دیا گیا کہ ہر کوئی موت کا مزہ چکھے گا تو اصل کامیابی یہ ہے کہ آگ سے بچ کر جنت میں داخل ہو جاؤ۔ یہ بھی بتا دیا گیا کہ دین کا راستہ آزمائشوں کا راستہ ہے، اس کے لیے ہمت درکار ہے۔ *بڑے دل والے ہی بڑے کام کرتے ہیں۔ اس سفر میں تقوی اور صبر بہترین مددگار ثابت ہوں گے۔*
*منافقین کی صفت بتائی گئی کہ دوسروں کے کام کا کریڈٹ لیتے ہیں۔*
اس کے بعد خاتمہ سورت کی آیات ہیں جس میں چند دعائیں سکھائی گئی۔ اور یہ تسلی دی کی کسی کا عمل ضائع نہیں ہوگا۔ مرد یا عورت جو بھی بھلا کام کرے گا جنت میں جائے گا۔ اللہ تعالی کی طرف سے ان کے لئے بہترین ضیافت تیار ہے۔
یہ بھی تسلی دی گئی کہ کافروں کو دنیا میں پھلتا پھولتا دیکھ کر افسردہ نہ ہو۔ دنیا تو عارضی ٹھکانہ ہے اور ان کا عیش و عشرت بھی بس چند روزہ ہے۔ مومن کا اجر ہمیشہ باقی رہنے والا ہے۔ اہل کتاب کے مسلمانوں کی تحسین کی گئی اور تسلی دی گئی کہ ان کا اجر بھی اللہ کے پاس ہے۔ *پس اے مسلمانو صبر کرو، مضبوطی سے مقابلہ کرو، تقویٰ سے کام لو تکلیف دہ حالات میں بھی اللہ کی اطاعت پر جمے رہو، یہی اصل میں فلاح کے کام ہیں*۔
اس کے بعد سورۃ النساء شروع ہوتی ہے۔ اس کا آغاز تخلیق انسان اور اس کے بڑھنے کے طریقہ کار سے ہوا۔ اس سورت میں *بہت سے احکام گھریلو زندگی سے متعلق آئے ہیں۔ سب سے پہلی ہدایت یہ کی گئی کہ یتیموں کے مال کی حفاظت کرو۔* جب وہ بڑے ہو جائیں اور ان کو سمجھ بوجھ حاصل ہوجائے تو ان کا مال واپس کردو۔ اس سے پہلے ان کی ضروریات پوری کرتے رہو بلاضرورت ان کے مال سے اجرت مت لو۔ جب مال واپس کرو تو گواہ بنا لو تاکہ بعد میں دقت نہ ہو۔ یہ بھی تنبیہ کی کہ یتیم کا مال کھانا ایسا ہی ہے جیسے اپنے پیٹ میں آگ بھرنا۔
اس کے بعد وراثت کے احکام ذکر ہوئے اور واضح حکم آیا کہ مرد عورت سب کا وراثت میں متعین حصہ ہے۔ بعض رشتہ داروں کے حصے تفصیل سے بیان کئے گئے۔ یہ بھی حکم دیا گیا کہ اگر تقسیم وراثت کے وقت کچھ مسکین رشتہ دار ایسے بھی آجائے جن کا حصہ نہ ہوں تو انہیں بھی کچھ دے دو۔ اولاد میں مرد کا حصہ وراثت عورت کے حصے سے دوگنا ہے۔ لیکن یہ کوئی دائمی اصول نہیں ہے۔ بعض صورتوں میں عورت کا حصہ زیادہ ہے۔ *یہ بات بھی اہم ہے کہ وراثت کی تقسیم میت کے ذمے واجب الادا قرض کی ادائیگی اور وصیت کو پورا کرنے کے بعد ہوگی*۔ اس حکم کی اہمیت کے پیش نظر وراثت کے قانون کو اللہ کی حدود قرار دیا گیا۔ چناچہ جو اس پر عمل کرے گا جنت پائے گا اور جو اس سے پہلو تہی کرے گا جہنم پائے گا۔
*مرد کو ایک سے زائد چار شادیوں تک کی اجازت دی گئی لیکن عدل کی شرط کے ساتھ۔* اس کے بعد معاشرے کو زنا اور بدکاری سے روکنے کے لئے بعض احکام بیان کئے گئے ہیں۔ یہ بتایا گیا ہے کہ عورت کا جرم اگر چار گواہوں کے ذریعے ثابت ہو جائے تو اس جرم کی پوری سزا اس پر نافذ کرنی چاہیے۔ اسی طرح بدکار مرد کے لیے بھی سخت سزا کا حکم ہے۔ توبہ کا دروازہ پھر بھی کھلا رکھا گیا ہے لیکن توبہ وہی قابل قبول ہے جو نزع کی کیفیت سے پہلے کی گئی ہو۔ زنا کا جرم ثابت ہونے کے لیے شہادت کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔
اس کے بعد نکاح اور مہر سے متعلق بعض احکام بیان کئے گئے ہیں اور مردوں کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ عورتوں کے مہر خوش دلی سے ادا کرو۔ اگر تم بیوی سے علیحدہ ہورہے ہو تو اس سے مہر واپس نہ لو چاہے ڈھیروں ڈھیر بھی دیا ہو۔ یہ بھی *تاکید کی گئی عورتوں سے بھلے طریقے سے پیش آؤ*۔ پھر ان تمام عورتوں کا ذکر ہے جن سے نکاح کرنا جائز نہیں ہے۔ یہ تمام احکام جو اس سورت میں آئے ہیں وہ معاشرے کی اصلاح سے متعلق ہیں اور ان کا سلسلہ پانچویں پارے تک چلا جاتا ہے

*خلاصہ پارہ نمبر 3*اس پارے میں سورہ بقرہ کی بقیہ آیات (253 سے 286 تک) ہیں۔ ابتدا پارے میں رسل اللہ کا ذکر ہے کہ وہ سب ال...
28/02/2026

*خلاصہ پارہ نمبر 3*
اس پارے میں سورہ بقرہ کی بقیہ آیات (253 سے 286 تک) ہیں۔ ابتدا پارے میں رسل اللہ کا ذکر ہے کہ وہ سب اللہ کے منتخب بندے ہیں جن میں سے بعض کو بعض پر فضیلت حاصل ہے۔
اس کے بعد قرآن مجید کی سب سے عظیم آیت (آیت الکرسی) ہے جس میں اللہ تعالی نے اپنا تعارف کراتے ہوئے اپنی بعض عظیم الشان صفات کا تذکرہ کیا، اس آیت میں اللہ تعالی نے *26 کے قریب اپنے نام اور صفات بیان کی ہیں۔* پھر یہ بتایا کہ ہدایت و گمراہی واضح ہوچکی ہیں لہذا دین میں زور زبردستی کی ضرورت نہیں جو چاہے حق کا راستہ اختیار کرکے فلاح پا جائے۔
یہ بھی بتایا گیا کہ اللہ تعالی ایمان والوں کے دوست ہیں ان کو کفر کے اندھیروں سے نکال کر ایمان کی روشنی کی طرف لے جاتے ہیں جبکہ کفار کے شیطان دوست ان کو اندھیروں کی طرف دھکیلتے ہیں۔ اس کے بعد تین واقعات کے ذریعے یہ ثابت کیا گیا کہ اللہ تعالی مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے پر خوب قادر ہیں۔
اس کے بعد کی آیات میں انفاق فی سبیل اللہ پر انتہائی مفصل کلام کیا گیا اور یہ بتایا گیا کہ جو اللہ کی راہ میں خلوص نیت سے خرچ کرتے ہیں، اس کے بعد کوئی احسان نہیں جتاتے ان کے لیے ان کے رب کے پاس بہت بڑا اجر ہے۔ اس سے بھی منع کیا گیا کہ جب اللہ کی راہ میں دو تو بالکل ردی چئز نا دو۔ اس ضمن میں کچھ مثالیں بھیں ذکر کی گئیں جن سے خلوص نیت سے انفاق کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ نیز چھپا کر صدقہ دینا علانیہ دینے سے بہتر ہے۔ انسان جو بھی اللہ کے لیے خرچ کرتا ہے اس کا فائدہ اسی کو ہوتا ہے، اللہ کو اس کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ اللہ نیتوں کے حال بھی خوب جانتا ہے۔
پھر سود کی حرمت بیان کی گئی اور سود کھانے والوں کے خلاف اللہ اور رسول ﷺوالہٖ کی طرف سے اعلان جنگ کردیا گیا۔اس سے سود کی قباحت پوری طرح روشن ہوجاتی ہے۔
اس کے بعد آپس کے لین دین کے کچھ احکام ذکر کیے گئے۔ پھر اس سورہ کا اختتام دو عظیم آیات پر ہوا جن میں پہلے رسول اور مومنین کی تعریف کی گئی کہ یہ اللہ، فرشتوں، کتب، اور رسل پر ایمان رکھتے ہیں، اللہ کے احکام پر سر تسلیم خم کرتے ہیں اور اسی سے بخشش طلب کرتے ہیں۔ پھر مسلمانوں کے ایک جامع دعا سکھائی گئی جس پر سورہ بقرہ اختتام پذیر ہوئی۔
اس کے بعد سورہ آل عمران شروع ہوتی ہے جو مدنی سورہ ہے۔ اس کی شروع کی 80 کے قریب آیات نجران کے عیسائیوں کے وفد کی آمد کے موقعہ پر نازل ہوئیں۔ یہ آیات زیادہ تر عیسائیوں کے باطل عقائد سے بحث کرتی ہیں۔ شروع سورہ میں قرآن مجید کے حق کے ساتھ نزول کا ذکر کیا گیا، اور یہ بتایا گیا کہ یہ تورات اور انجیل کی تصدیق کرتا ہے۔ پھر یہ بتایا گیا کہ اس کتاب مجید میں کچھ آیات تو واضح ہیں اور وہی کتاب کی اصل ہیں، البتہ اس میں امتحان کی غرض سے کچھ آیات متشابہات بھی آئی ہیں جن کی حقیقت کا علم اللہ کو ہے۔ لیکن جن کے دلوں میں کجی ہے وہ فتنہ کی غرض سے متشابہات کے پیچھے لگ کر اپنے مطلب کے معنی نکالتے ہیں۔ اس لیے اس سے بچنا چاہئیے اور سمجھنے کے لئے اہل اللہ سے رجوع کرنا چاہیے
یہ بھی بتایا گیا کہ انسانوں کے لیے دنیا میں بہت سی چیزیں خوشنما بنائی گئی ہیں جن سے وہ محبت کرتا ہے، لیکن ان امور کی محبت میں آخرت سے غافل نہیں ہونا چاہئیے کیونکہ اللہ نے متقین کے لیے جو کچھ تیار کیا ہوا ہے وہ اس سے بہت بہتر ہے۔ *متقین وہ ہیں جو صابر، سچے، فرمانبردار، خرچ کرنے والے اور سحری کے اوقات میں استغفار کرنے والے ہیں۔* یہ وضاحت بھی کردی گئی کہ اللہ کے نزدیک اصل دین اسلام ہی ہے۔
اس کے بعد کفار کی بعض صفات بیان کیں کہ وہ انبیاء کو قتل کرتے ہیں، اللہ کے حکم سے منہ موڑتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تو آگ میں معدودے چند دنوں کے لیے ہی جائیں گے۔ اس لیے اللہ نے واضح کیا آخرت میں کوئی شک نہیں اس دن ہر کسی کو اس کے اعمال کا پورا بدلہ دیا جائے گا۔
نیز یہ بھی بتا دیا کہ عزت و ذلت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ جسے جو چاہتا ہے دیتا ہے۔ یہ حکم بھی دیا گیا کہ مسلمان کفار کو دوست نہ بنائیں، بلکہ *جو اللہ سے سچی محبت کرتا ہے اسے چاہئیے کہ رسول کریم ﷺوالہٖ کا اتباع کرے تاکہ اللہ بھی اس سے محبت کرے اور اس کے گناہ بخش دے۔*
اس تمھید کے بعد سیدنا عیسی علیہ السلام کی معجزانہ پیدائش کا قصہ ہے جو ان کے خاندان آل عمران کی فضیلت کے بیان سے شروع ہوتا ہے۔ اس ضمن میں ان کی والدہ کا مسجد میں رہنا، ولادت عیسی، سیدنا زکریا کی اولاد کی طلب اور دعا اور سیدنا یحیی کی ان کے ہاں ولادت کا ذکر بھی آیا۔ اس سے یہ بات واضح کی گئی کہ اللہ تعالی بڑھاپے میں اولاد دینے پر بھی قادر ہے، بغیر باپ کے اور بغیر والدین کے پیدا کرنے پر بھی قدرت رکھتا ہے اس کی قدرت سے بعید کچھ بھی نہیں ہے۔
ان قصوں کے درمیان یہ بھی بتایا گیا کہ یہ سب غیب کی خبریں ہیں جو آپ کو بذریعہ وحی دی گئی ہیں، آپ وہاں موجود نہیں تھے۔
سیدنا عیسی علیہ السلام کی معجزانہ پیدائش اور ان کے دیگر معجزات کے بعد ان کے دعوتی کام کا ذکر ہے، کہ وہ صرف اللہ کی عبادت کی دعوت دیتے تھے، ان کی دعوت کا اکثر لوگوں نے انکار کیا ماسوا چند حواریوں کے، اور کس طرح انہیں آسمان پر اٹھا لیا گیا۔
ان واقعات کے بعد اہل کتاب کو توحید کی دعوت دی گئی اور بتایا گیا کہ یہی اصل دین اور ملت ابراہیمی ہے، ابراہیم علیہ السلام کا یہودیت و نصرانیت سے کوئی تعلق نہیں تھا بلکہ وہ دین حنیف کے پیروکار تھے اور اسی دین کے پیروکار ان سے نسبت کے سب سے زیادہ حقدار ہیں۔ پھر اھل کتاب کی کچھ صفات و عادات بیان کی گئیں نیز یہ بھی بتایا گیا کہ وہ سارے ایک جیسے نہیں ہیں بلکہ ان میں کچھ امانت دار بھی ہیں۔
آخر میں یہ بتایا کہ سب انبیاء اللہ کی عبادت کی دعوت دیتے تھے نہ کہ کسی اور کی عبادت کا، اور ہر نبی سے آخری نبی پر ایمان اور اس کی مدد کا وعدہ لیا گیا تھا۔ اس لیے محمد کا دین اسلام ہی اصل دین ہے، اس کے علاوہ اللہ کی بارگاہ میں کچھ قبول نہیں۔ جو اس سے روگردانی کرے گا اس کے لیے آخرت میں آگ کا عذاب ہے جس کے بدلے کوئی فدیہ قبول نہیں ہوگا۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ توبہ کرلی جائے اور ایمان کی راہ اختیار کی جائے، *اللہ بہت مہربان اور توبہ قبول کرنے والے ہیں۔*

*خلاصہ پارہ 2*سورۃ البقرہ ایک نہایت جامع سورت ہے۔ اس میں دین کا پورا ضابطہ حیات مسلمانوں کو بتایا گیا ہے۔ اس پارے میں سو...
24/02/2026

*خلاصہ پارہ 2*

سورۃ البقرہ ایک نہایت جامع سورت ہے۔ اس میں دین کا پورا ضابطہ حیات مسلمانوں کو بتایا گیا ہے۔ اس پارے میں سورۃ البقرہ کی آیات آیت نمبر 141 سے 252 تک ہیں۔ اس پارہ کا آغاز تحویل قبلہ کے حکم سے ہوتا ہے۔ نبی کریم علیہ صلاۃ والسلام کی شدید خواہش تھی کہ بیت المقدس کے بجائے بیت اللہ کی طرف رخ کرکے عبادت کریں، چناچہ اس سورت میں بیت المقدس کی بجائے کعبہ مشرفہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا، اور ہمیشہ کے لئے بیت اللہ کو قبلہ قرار دے دیا گیا۔ یہ بھی حکم دیا گیا کہ جہاں کہیں بھی ہو نماز میں اپنا چہرہ بیت اللہ کی طرف ہی کرو۔ یہود، کفار اور منافقین نے اس حکم پر سخت اعتراضات کیے۔ اس کے جواب میں اللہ تعالی نے فرمایا کہ مشرق اور مغرب سب اللہ ہی کے ہیں تو جس طرف بھی تم رخ کرو وہ اللہ ہی کی طرف ہوگا۔
اس کے بعد اس دعا کی قبولیت کا ذکر ہے جو سیدنا ابراہیم نے مانگی، چنانچہ نبی کریم علیہ الصلاۃ والسلام کی بعثت کا ذکر کیا گیا اور *آپ کے چار وظائف* بتائے گئے کہ آپ صلی اللہ علیہِ وآلہ وسلم کو تمہاری طرف مبعوث کرنے کا مقصد یہ ہے کہ وہ تمہیں *میری آیات پڑھ کر سنائیں، تمہارا تزکیہ کریں، تمہیں کتاب وحکمت کی تعلیم دیں اور تمہیں وہ سب سکھائیں جو تم نہیں جانتے،* پس یہی آپ کی امت کا بھی مقصد ہونا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ *ذکر، شکر اور نماز کی بھی تلقین* کی گئی۔ یہ *تنبیہ* بھی کی گئی کہ *تمہاری زندگی میں آزمائشیں آتی رہیں گی تو اصل خوشخبری صبر کرنے والوں کے لیے ہے، اور صبر کرنے والے ہی ہدایت یافتہ ہیں۔* مصیبت کے وقت آخرت کو یاد کرنے کی تلقین بھی ہے، کیونکہ ایسا کرنے سے مصیبت ہلکی لگنے لگتی ہے۔
پھر اللہ تعالی نے مختصرا علم کو چھپانے والوں اور ان کے لیے تیار کردہ وعید کا تذکرہ کیا۔ اس کے بعد اپنی قدرت کی کچھ نشانیاں ذکر کرکے حلال اور طیب کھانے کی ترغیب دی، اور یہ بتایا کہ دنیا میں جو کچھ حلال ہے وہ کھاؤ پیو، اور ساتھ ہی مردار، خون، سور کا گوشت، غیر اللہ کے نام نذر کی ہوئی چیزوں کا حرام ہونا بھی واضح کر دیا۔
اللہ تعالی نے یہ بھی واضح کردیا کہ مخلوق کی محبت اگر حد سے بڑھ جائے تو وہ شرک کی طرف لے جاتی ہے۔ جو سب سے بڑا محبوب ہوتا ہے وہی اصل میں معبود ہوتا ہے، اور ایمان والوں کا اصل محبوب ان کا رب ہوتا ہے۔
پھر *آیت البر* لائی گئی جس میں نیکی کا ایک جامع تصور دیا گیا، کہ *نیکی تو اصل میں یہ ہے کہ عقیدہ درست ہو، حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی مناسب طریقے سے ہو، عہد کو پورا کیا جائے اور ہر قسم کے حالات میں صبر کیا جائے،* یہی اصل میں نیکی ہے۔ اس آیت میں باقی نیکیوں کو عمومی انداز میں ذکر کیا گیا، جبکہ *ایفائے عہد اور صبر* کا الگ سے ذکر کیا گیا، جو ان کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
اس کے بعد قصاص کے احکام بیان کئے گئے کہ جان کے بدلے جان ہوگی، اور قصاص کو زندگی سے عبارت کیا گیا کہ اصل میں تمہارے لئے قصاص میں ہی زندگی ہے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ اگر مقتول کے ورثاء راضی ہوں تو خون بہا کی بھی اجازت ہے۔
اس کے بعد وصیت کے احکام آئے، اور اس کو پورا کرنے کی تاکید کی گئی۔ (حدیث مبارکہ کے مطابق ایک تہائی مال میں وصیت کی جاسکتی ہے، بقیہ سارا مال وارثوں کا حق ہے)
اس کے ساتھ ساتھ تفصیل سے روزے کے احکام کا ذکر ہے۔ *روزہ ایک فرض عبادت ہے اور یہ آخرت میں کفایت کرنے والا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مریض اور مسافر کے لیے نرمی ہے وہ بعد میں قضا کر سکتے ہیں۔ روزہ تقوی پیدا کرنے میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے*۔ اس کی گنتی پوری کرنا لازم ہے لہذا قضا روزے رکھنا بھی فرض ہے، البتہ معذور جو بعد میں بھی ادا نہیں کرسکتا اس کے لیے فدیہ کی بھی اجازت ہے۔ یہ بھی واضح کردیا گیا کہ *رمضان کی اہمیت قرآن* کی وجہ سے ہے۔ یہ مہینہ اس لیے اتنا اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اسی مہینے میں قرآن نازل کیا گیا۔
اس کے بعد چند احکام جہاد وقتال کے بارے میں بتائے گئے ہیں۔ یہ واضح کیا گیا کہ *فتنہ پھیلانا قتل سے زیادہ برا ہے،* قتال تم پر فرض ہے اور یہ کہہ کر ہمت دلائی گئی کہ ہوسکتا ہے کہ جو چیز تمہیں ناپسند ہو وہی تمہارے لیے بہتر ہو اور جو چیز تمہیں پسند ہو وہی تمہارے لیے بری ہو۔ اور یہ خوشخبری سنائی گئی کہ جو بھی ایمان لے آئے اور ہجرت اور جہاد پر عمل پیرا ہو ان کے لئے رحمت کی امید اور مغفرت ہے۔ اور شہید کے درجات کی طرف بھی یہ کہ کر اشارہ کر دیا گیا کہ جو اللہ کی راہ میں مارے جائیں ان کو مردہ مت کہو، بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تم شعور نہیں رکھتے۔
یہاں سے حج اور عمرہ کے مفصل احکام آتے ہیں۔ حکم ہوا کہ یہ دونوں اعمال خالصتا اللہ کے لیے کرو، اور یہ حکم دیا کہ حج کے دوران کسی بے حیائی، لڑائی جھگڑے اور گالم گلوچ میں نہ پڑو۔ حج کا سفر نیکیوں کا سفر ہونا چاہیے اور زیادہ سے زیادہ بخشش مانگنی چاہیے۔
یہ بھی واضح ہوا کہ جنت کا راستہ آزمائشوں سے بھرا ہوا ہے کوئی شخص اس وقت تک کمال کو نہیں پہنچتا جب تک کہ وہ آزما نہ لیا جائے۔
اس پارے میں صحابہ کرام کے بعض سوالات کا بھی جواب دیا گیا ہے۔ اس میں انفاق کے مصارف کے بارے میں سوال کا جواب دیا گیا کہ جو بھی تمہارے ضرورت سے زائد ہو وہی خرچ کرو، اس میں سے سب سے *بہترین خرچ وہ ہے جو والدین، قرابت داروں، یتیموں مسکینوں اور مسافروں کے لیے اور ان کی مدد کے لیے خرچ کیا جائے*۔
اس کے علاوہ شراب اور جوئے کی حرمت کا ذکر کیا گیا۔ یتیموں کی اصلاح اور ان کی دیکھ بھال کی ترغیب دی گئی۔
اس پارے کے آخر میں تفصیل سے بعض احکام نکاح، طلاق، رضاعت، مہر، عورتوں کے بعد مخصوص مسائل، اور عدت کے احکام کا ذکر کیا گیا۔ یہ بتایا گیا کہ مومن مرد اور مومن عورت کا کافر مرد یا کافر عورت سے نکاح اور ازدواجی تعلق قائم نہیں ہوسکتا۔ درمیان میں شوہر اور بیوی کے ایک دوسرے پر جو حقوق ہیں ان کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ احکام کے بیان میں حقوق کا ذکر اس لیے ہوا کہ یہ بات بھی واضح کر دی جائے کہ طلاق کی نوبت
تب ہی آتی ہے جب حقوق پورے طریقے سے ادا نہ کئے جائیں۔ دو طلاقوں کے بعد تو رجوع کیا جاسکتا ہے، لیکن تیسری طلاق فیصلہ کن ہوتی ہے۔ تین طلاقیں ایک ساتھ دینا نامناسب اور شریعت کے خلاف ہے اسی طرح عورت کو اذیت دینے کے لئے بھی طلاق کا استعمال نہیں کرنا چاہئے۔ اللہ جل شانہ کی جانب سے عورت کو بالکل اجازت ہے کہ وہ عدت کے بعد دوسرا نکاح کرلے۔ اسی طرح بیوہ کے اوپر بھی چار ماہ دس دن عدت کرنا فرض ہے، اور اس دوران شوہر کے گھر میں رہنا اس کا حق ہے۔ عدت کے بعد اس کو دوسرا نکاح کرنے کی پوری اجازت ہے۔
پھر کچھ واقعات کے ذریعہ اہم سبق سکھائے گئے ہیں ان میں ایک واقعہ مردوں کو زندہ کر کے دکھائے جانے کا ہے۔ آخر میں سلسلہ کلام بنی اسرائیل کی طرف دوبارہ موڑ دیا گیا، اور داؤد علیہ السلام کا قصہ، طالوت کی بادشاہت اور جالوت کے لشکر سے مقابلہ کا ذکر کیا گیا۔ اس واقعے کے ذکر سے ایک اہم نکتہ یہ بھی واضح کیا گیا کہ *کامیابی کا تعلق وسائل اور اسباب کے بجائے اللہ کی مدد اور اس پر بھروسہ سے ہوتا ہے۔*

24/02/2026

افسوسناک خبر ! عمران خان کی بہن نورین نیازی اڈیالہ جیل کے باہر نماز کیلئے جاتے ہوئے پاؤں پھسلنے سے نالے میں گر گئیں 🤲🥺💔

*خلاصہ پارہ نمبر 1*اس پارے میں دو سورتیں ہیں سورۃ الفاتحہ اور سورۃ البقرہ کی 141 آیات۔ سورۃ الفاتحہ اگرچہ نزولی اعتبار س...
23/02/2026

*خلاصہ پارہ نمبر 1*
اس پارے میں دو سورتیں ہیں سورۃ الفاتحہ اور سورۃ البقرہ کی 141 آیات۔ سورۃ الفاتحہ اگرچہ نزولی اعتبار سے بعد میں آتی ہے لیکن ترتیب کے اعتبار سے قرآن مجید کی سب سے پہلی سورت ہے۔ سورۃ الفاتحہ کی بے انتہا فضیلت ہے، مفسرین نے اس کے 36 نام بتائے ہیں ۔ یہ وہ واحد سورت ہے جس کی فضیلت اللہ تعالی نے خود قرآن کریم میں بیان کی ہے۔ ارشاد ہے *ولقد آتیناک سبعا من المثانی والقرآن العظیم* اس آیت میں سورۃ الفاتحہ کو بار بار پڑھنے والی سات آیات کہا گیا ہے۔ اس سورت میں اللہ تبارک وتعالی نے اپنا تعارف کروایا ہے، اور اس کے لیے اپنی صفت رحمت کو خاص طور سے استعمال کیا ہے۔ یہ سورت ایک بھرپور دعا ہے، اس کے آخری حصے میں مومنین کو خصوصی طور پر دعا سکھائی گئی ہے۔ یہ دعا سب سے زیادہ نفع بخش ہے اس کے ذریعے اس چیز کی طرف *توجہ دلائی گئی ہے کہ مانگنے والی چیزوں میں سب سے اہم چیز ہدایت ہے۔ اس راستے کی طرف ہدایت جو اللہ تعالی تک پہنچا دے، وہ جو نیک اور متقی لوگوں کا راستہ ہے۔*
اس سورت میں انسان اللہ تعالی سے یہ دعا کرتا ہے کہ مجھے وہ ہدایت دے جو مجھے سیدھا راستہ بتا دے۔ اس درخواست کے جواب میں اللہ تعالی اپنی پوری کتاب قرآن کریم ہمیں عطا فرماتے ہیں۔ اسی چیز سے سورۃ بقرہ شروع ہوتی ہے۔ سورۃ البقرہ پہلی سورت ہے جو پوری مدینہ منورہ میں نازل ہوئی۔ اس سورت کا آغاز *مومنین کے تعارف سے کیا گیا ہے کہ وہی اس کتاب سے ہدایت حاصل کرتے ہیں، اور یہ واضح کیا گیا ہے کہ ہدایت اور تقویٰ کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ انسان ہر اس چیز پر ایمان لائے جو محمد علیہ الصلاۃ والسلام پر نازل کی گئی، اور وہ دو صورتوں میں ہے: قرآن اور سنت۔ پھر ان ہدایت یافتہ لوگوں کی صفات بیان کی گئی ہیں کہ وہ غیب پر ایمان لاتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، کتب اللہ پر ایمان لاتے ہیں، اور آخرت پر یقین رکھتے ہین۔ جو یہ شرائط پوری کرے گا وہی ہدایت یافتہ ہوگا اور وہی کامیاب ہوگا۔*
اس کے بعد دوسرے گروہ یعنی کفار کا ذکر کیا گیا ہے اور پھر تیسرے گروہ *منافقین کا ذکر ہے جو ایمان اور کفر کے درمیان میں رہتے ہیں۔ اللہ تعالی ان کے ایمان کا انکار کرتے ہیں کیونکہ ان کا اعتقاد اور عمل ایک جیسا نہیں ہے، ان کے قول اور فعل میں تضاد ہے۔ اسلام، دین اور مسلمانوں کا مذاق اڑانا منافقت کی سب سے بڑی نشانی بتائی گئی ہے۔* ساتھ ساتھ مثالوں سے منافقین کا حال ظاہر کیا گیا ہے۔
پھر اللہ تعالی تمام انسانیت سے خطاب کرکے اپنی عبادت کی طرف بلاتے ہیں، اپنی پہچان کے لئے اپنی قدرت کی بعض نشانیوں کا ذکر کرتےہیں۔ پھر اپنی کتاب کی ثقاہت اور authenticity کو چیلنج کے ذریعہ سے واضح کرتے ہیں۔
اس سب کے بعد کافروں کو جہنم کی وعید اور مسلمانوں کو جنت کی بشارت دی گئی ہے نیز جنت کا مختصر تعارف کروایا گیا ہے۔ کفار، منافقین اور مومنین کے بعد ایک اور گروہ *فاسفین کا ذکر کیا گیا ہے جن کی سب سے بڑی خصوصیت یہ بتائی ہے کہ وہ اللہ سے کیے ہوئے وعدے توڑتے ہیں اور قطع رحمی کرتے ہیں۔*
اس کے بعد انسانیت کے آغاز اور تخلیق آدم کے بارے میں کلام کیا گیا ہے اس ضمن میں حضرت سیدنا آدم علیہ السلام کی پیدائش اور ان کو اپنا خلیفہ بنانے اور اس سلسلے میں فرشتوں اور آدم کے امتحان کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ اللہ کے حکم سے فرشتوں نے حضرت آدم کو سجدہ کیا لیکن ابلیس نے سجدہ کرنے سے انکار کیا جس کی وجہ سے وہ راندہء درگاہ ہوا پھر اس نے آدمی کو طرح طرح سے بہکانا شروع کیا یہاں تک کہ آدم علیہ السلام سے نادانستہ طور پر بھول ہوگئی اور وہ جنت سے زمین پر اتار دیے گئے۔ پھر اللہ تعالی سے نے انہوں نے توبہ کی جو قبول ہوگئی۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ انسان کو پیدا ہی دنیا کے لیے کیا گیا تھا، جنت میں صرف امتحان کی غرض سے آدم علیہ السلام کو رکھا تھا، اور یہ بتانا مقصود تھا کہ اگر نافرمانی کی تو جنت نہیں ملے گی۔
تمام انسانوں سے خطاب اور تخلیق آدم کے ذکر کے بعد اللہ تعالی بنی اسرائیل سے مفصل خطاب کرتے ہیں اور حضرت موسی السلام کے واقعات بیان کرتے ہیں۔ سب سے پہلے انہیں ایمان کی طرف بلایا گیا اور دین کی کے چیدہ چیدہ نکات کا ذکر کیا گیا، آخرت سے ڈرایا گیا کہ وہاں کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا اس کے بعد ان نعمتوں کو بیان کیا گیا جو اللہ تعالی نے ان کو دی تھیں شاید کہ وہ ایمان لے آئیں۔ خصوصی طور پر اس واقعہ کا ذکر ہے کہ جب حضرت موسی علیہ السلام کوہ طور پر گئے تو ان کی غیر موجودگی میں ان کی قوم نے بچھڑے کو اپنا معبود بنا لیا پھر بھی اللہ تعالی نے ان کو معاف فرما دیا اور ان کو من و سلویٰ کی نعمت عطا فرمائی، بارہ قبیلوں کے لیے بارہ چشمے معجزانہ طور پر جاری فرمائے لیکن یہ نہایت ناشکری سرکش اور گستاخ قوم ثابت ہوئے اور نتیجتا عذاب میں گرفتار ہوئے۔ درمیان میں عمومی طور پر ان چیزوں کا ذکر بھی کیا گیا ہے جن کا اللہ تعالی نے بنی اسرائیل سے عہد لیا تھا اور اس لیے ذکر کیا گیا ہے تاکہ ہم بھی اس پر عمل کریں، ان میں ایک اللہ کی عبادت، والدین سے حسن سلوک اور اس کے ساتھ ساتھ رشتہ داروں، یتیموں اور مسکینوں سے اچھا سلوک، لوگوں سے اچھی اور بھلی بات کرنا، نماز قائم کرنا اور زکوۃ ادا کرنا ہے۔ اس طرح ان کی اس غلط فہمی کی بھی تردید کی گئی کہ جنت میں صرف یہودی اور عیسائی جائیں گے۔ بلکہ جس کسی نے بھی اللہ کے لئے اپنا چہرہ جھکا دیا اور نیکی کرتا چلا گیا، اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لے آیا تو اس کا اجر اس کے رب کے پاس ہے اور وہ ہر قسم کے خوف اور غم سے آزاد ہوگا۔ مختلف فرقے اور لوگ ایک دوسرے کو گمراہ قرار دیتے رہتے ہیں، لیکن اللہ تعالی نے واضح کردیا کہ اس کا فیصلہ صرف اللہ کرے گا کہ کون حق پر ہے اور کون باطل پر ہے۔ کسی قوم میں ہونا کوئی کامیابی کی نشانی نہیں ہے۔
اس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عظمت کا ذکر ہے کہ وہ اپنے رب کی ہر آزمائش میں کامیاب ہوئے، اور انعام کے طور پر انہیں سب لوگوں کا پیشوا بنایا گیا۔ پھر اللہ نے ان کے اور ان کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ہاتھوں خانہ کعبہ کی تعمیر کروائی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالی سے دعا کی کہ ان کی اولاد میں ایسا نبی پیدا ہو جو ساری دنیا کو ہدایت دے۔ یہ بشارت ہمارے نبی حضرت محمد علیہ السلام کے ظہور سے قبول ہوئی۔ ہمارے نبی علیہ الصلاۃ والسلام سارے عالم کے لئے نبی بنا کر بھیجے گئے اور آپ کے ذریعے ساری دنیا کو ہدایت ملی۔
آخر میں پھر پچھلی قوموں کی اس بات کی تردید کردی گئی کہ آباء واجداد پر فخر کرنے سے کوئی جنت میں نہیں جائے گا بلکہ ہر کسی کا عمل اس کے ساتھ ہے۔ ہر کوئی اپنا حساب خود دے گا اور کسی سے کسی اور کے عمل کا حساب نہیں لیا جائے گا( ہاں مگر ہر حکمران /سربراہ سے اُسکی رعایا کے بارے میں ضرور پوچھ گُچھ ھوگی)۔ چناچہ اللہ کے دین کو اپنا لو، اللہ کے دین سے اچھا اور کیا ہوسکتا ہے۔ دوسروں کے عمل پر بھروسا نہیں کرنا چاہیے انسان کو وہی کچھ ملے گا جو اس نے کمایا۔ صرف اپنے حسب نسب کوئی فائدہ نہیں دے گا-مگر نسبت ِ نبی ﷺوآلٖہ💖 اور اہلِ بیت علیہ السلام و اصحابۂ کرام رض اور اولیائے کاملین کی صُحبت اپنانا ہی وہ صراطِ مستقیم ھے جسکی دعا سورہ الفاتحہ میں بار بار مانگتے رہنے کی تاکید کی گئی ھے اور حقیقت میں یہی اللہ کا رنگ ھے جس میں رنگ جانے کا حُکم ھے۔

Address

Quetta Cantonment

Telephone

03458325566

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Humanity Thought posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Humanity Thought:

Share