Naksh Times

Call Website Contact the business

Naksh Times "Where Minds Meet Over Cup of Tea."

29/09/2026

Good morning

29/09/2026

سورینج کوئلہ کان کے 34 مزدور ایسے کان میں جان سے گئے نہ کوئی انکوائری نہ کسی زمہ دار کا تعین

کوہ سلیمان ایک بلوچ اپنے روایتی لباس ٹوپی اور کلہاڑی کے ساتھ یہاں کی خوبصورتی بیان کررہا ہے۔تصویر بہ شکریہ منیر مری
29/09/2026

کوہ سلیمان ایک بلوچ اپنے روایتی لباس ٹوپی اور کلہاڑی کے ساتھ یہاں کی خوبصورتی بیان کررہا ہے۔
تصویر بہ شکریہ منیر مری

ثقافت کا محافظ کون؟ازقلم:ملک سعید جانزبان و لباس قومی ثقافت کا اہم جز ہو سکتے ہیں، کل نہیں، یہ ایک الگ بحث ہے، مگر ہر قو...
24/09/2026

ثقافت کا محافظ کون؟
ازقلم:ملک سعید جان
زبان و لباس قومی ثقافت کا اہم جز ہو سکتے ہیں، کل نہیں، یہ ایک الگ بحث ہے، مگر ہر قوم کی کچھ روایات، کچھ اقدار اور کچھ معاشرتی رویے ضرور ہوتے ہیں جو اسے دوسری اقوام سے الگ رکھتے ہیں۔

مہمان نوازی، بزرگوں اور خواتین کا احترام، آس پڑوس کی غمی خوشی میں صرف شرکت نہیں بلکہ ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں گھر کے فرد کی طرح شریک ہونا، ہمسائے کا خیال رکھنا اور مشکل وقت میں اس کے بطور فردِ خانہ کھڑا ہونا—یہ سب ہمارے معاشرتی پہچان کا حصہ ہوا کرتے تھے۔ اس موسم میں چھتوں کی لپائی کے لیے اشر ہوتا تھا، محلہ دار مل جل کر ایک دوسرے کا ہاتھ بٹاتے، گرے ہوئے کو اٹھاتے، مشکل وقت میں بلاتفریق رنگ، نسل، فرقہ، مشکل کشائی اپنی ذمہ داری سمجھتے۔

اب ہم اپنا موازنہ ماضی قریب سے کریں تو ہر چیز سمتِ مخالف میں دوڑتی نظر آئے گی۔

اب کیوں ایک دوسرے کو دھکا دے کر گرانے والی سوچ پنپ رہی ہے؟ دھوکہ بازی، اخلاقی گراوٹ، حیا و اقدار کی پرواہ کیوں نہیں رکھی جا رہی؟

جانے کیسے غیر محسوسانہ طور پر ہمارے سماج میں آباد مختلف اقوام میں مشترکہ طور پر نمود و نمائش، خود کو دولت، عہدہ، ذات میں دگر سے اعلیٰ ظاہر کرنے کی دوڑ، لچر پن، ہلڑ بازی، خواتین کے ساتھ صنفی بنیادوں پر امتیازی سلوک، انتہا درجے کی بے حسی نے بڑی تیزی سے قبضہ جما لیا۔

ہم مسلمان بھی ہیں، اپنی روایات اور غیرت پر فخر کرنے والے بھی؛

قلعہ سیف اللہ میں نوجوان کی خودکشی ہو، ژوب کا واقعہ ہو یا نوشکی میں معصوم بچی کو ہوس کا نشانہ بنانے کے بعد بے دردی کے ساتھ سفاکانہ قتل—ایسے رویے نہ ہمارے مذہب سے مطابقت رکھتے ہیں، نہ ہی ثقافتی و قومی روایات سے۔

ایسے واقعات پر کتنے قومی اقدار کے پاسبانوں نے سوال اٹھایا، جرگہ بلایا، مذہبی زعما نے خطبات میں تدارک پر زور دیا یا کوئی حد مقرر کی؟

ہم نے ثقافت کو لباس تک محدود کر دیا، روایت کو نمائش بنا دیا اور غیرت کو صرف لفظ بنا کر رکھ دیا۔ اب اشر کی جگہ حشر ہونے لگا ہے۔

اب ہمارے پاس اپنی ثقافت کی حرمت کا محافظ صرف ایک لنگوٹہ / دستار رہ گیا ہے، جو تمام تر اقدار کے امین سر کا متلاشی ہے۔

بلوچستان کو ترقی دیتے محکمے https://www.facebook.com/share/p/1TzoREEneD/
24/09/2026

بلوچستان کو ترقی دیتے محکمے

https://www.facebook.com/share/p/1TzoREEneD/

محکمہ سیاحت بلوچستان کی تاریخی و بے مثال کاوش !
نیشنل ٹورازم ایوارڈز میں پورے بلوچستان سے ایک بھی سیاحتی ماہر، ایک بھی پیشہ ور ہوسپیٹلٹی ریسورس، اور ایک بھی فعال ٹورازم انفلوئنسر پیدا نہ ہونے دینے پر محکمہ سیاحت کو "ایوارڈ آف ایکسی لینس" سے نوازا گیا ہے۔ یہ عظیم الشان ایوارڈ محکمے کے انتہائی 'متحرک' افسران نے وصول کیا۔ ہماری دلی دعا ہے کہ محکمہ اس سال بھی اپنی اس 'شاندار ناکارکردگی' کا تسلسل برقرار رکھتے ہوئے یہ اعزاز دوبارہ حاصل کرے اور صوبے کا نام یونہی روشن رکھتا رہے۔
اس اعزاز کا اصل مقصد بلوچستان میں سیاحت کے جمود، مہمان نوازی انڈسٹری اور ایکسپرٹس کے فقدان، اور بلوچستان کی یوتھ کو ان کے حال پر چھوڑنے کے لیے محکمے کی 'انتھک بے حسی' اور 'مؤثر نااہلی' کو سراہنا تھا—اور ماشاءاللہ محکمہ اس پالیسی پر سختی سے گامزن ہے۔
تقریب میں پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا سے نجی شعبے کے ماہرین، سیاحتی نمائندے اور بین الاقوامی مندوبین شریک ہوئے، جبکہ بلوچستان کی نمائندگی حسبِ روایت صرف سرکاری افسران کے ٹی ڈی اے (T.A/D.A) پر مشتمل وفد نے کی۔ تقریب میں بلوچستان کی یوتھ کو مواقع سے محروم رکھنے اور بے پناہ سیاحتی صلاحیت کے باوجود صوبے کو پیچھے رکھنے کی محکمے کی صلاحیت کو خصوصی داد دی گئی۔
محکمہ سیاحت عزم رکھتا ہے کہ وہ بین الاقوامی سطح پر بلوچستان کے اس 'منفرد' اور 'حقیقت سے دور' امیج کو اجاگر کرنے کے لیے آئندہ بھی ایسے ہی کاغذی اقدامات جاری رکھے گا۔

سب سے پہلے پاکستان
سب سے پہلے بلوچستان

ایشین گیمز میں عاصم خان کی تاریخی کامیابی پر آغا محمد مینگل کی جانب سے مبارک بادکوئٹہ: بلوچستان مکس مارشل آرٹس (MMA) ایس...
23/09/2026

ایشین گیمز میں عاصم خان کی تاریخی کامیابی پر آغا محمد مینگل کی جانب سے مبارک باد

کوئٹہ: بلوچستان مکس مارشل آرٹس (MMA) ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل آغا محمد مینگل نے 20ویں ایشین گیمز، آئچی-ناگویا 2026 میں پاکستان کے لیے میڈل حاصل کرنے پر قومی مکس مارشل آرٹس کھلاڑی عاصم خان کو دلی مبارک باد پیش کی ہے۔

آغا محمد مینگل نے اپنے مبارک باد کے پیغام میں کہا کہ عاصم خان کی 60 کلوگرام مکس مارشل آرٹس کیٹیگری میں میڈل جیتنا پاکستان اور پاکستانی مکس مارشل آرٹس کے لیے ایک تاریخی اور قابلِ فخر کامیابی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کامیابی کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ مکس مارشل آرٹس کو پہلی مرتبہ ایشین گیمز میں شامل کیا گیا اور پاکستان کے ایم ایم اے کھلاڑی نے اس کھیل کے ایشین گیمز کے پہلے ہی ایونٹ میں ملک کے لیے میڈل حاصل کرکے تاریخ رقم کی۔

آغا محمد مینگل نے کہا کہ عاصم خان کی کامیابی نہ صرف ان کی ذاتی محنت، صلاحیت اور عزم کا ثمر ہے بلکہ یہ پاکستان میں مکس مارشل آرٹس سے وابستہ کھلاڑیوں، کوچز، آفیشلز اور پوری ایم ایم اے کمیونٹی کے لیے بھی باعثِ مسرت و فخر ہے۔

انہوں نے کہا کہ عاصم خان نے ایشین گیمز کے اس تاریخی ایونٹ میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے جس انداز میں میڈل حاصل کیا، وہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک مثال اور پاکستانی مکس مارشل آرٹس کے روشن مستقبل کی امید ہے۔

آغا محمد مینگل نے عاصم خان، ان کے کوچز، ٹیم آفیشلز اور پاکستان مکس مارشل آرٹس سے وابستہ تمام افراد کو اس تاریخی کامیابی پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ پوری پاکستانی ایم ایم اے کمیونٹی کو عاصم خان کی اس کامیابی پر فخر ہے۔

انہوں نے عاصم خان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ انہیں مستقبل میں بھی مزید کامیابیاں عطا فرمائے اور وہ اسی جذبے، محنت اور عزم کے ساتھ پاکستان کا نام عالمی سطح پر مزید روشن کرتے رہیں۔

ایک ایسے صوبے میں جہاں سیاحت اور مہمان نوازی کی صنعت میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے، بین الاقوامی فورمز پر نمائندگی کے لیے ...
19/09/2026

ایک ایسے صوبے میں جہاں سیاحت اور مہمان نوازی کی صنعت میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے، بین الاقوامی فورمز پر نمائندگی کے لیے موضوعاتی مہارت (Subject Matter Expertise) کا حامل ہونا ناگزیر ہے۔

بیوروکریٹک گردش کی پالیسی (Rotation Policy) کے تحت، ایک افسر جو صحت یا ہنگامی خدمات (جیسے PPHI یا Rescue 1122) کا تجربہ رکھتا ہو، وہ سیاحت، ثقافت اور ہاسپیٹیلیٹی جیسے تکنیکی شعبے میں صوبے کی مؤثر نمائندگی کیسے کر سکتا ہے؟ بین الاقوامی فورمز پر گفتگو کے لیے گہرے تکنیکی علم اور طویل مدتی وژن کی ضرورت ہوتی ہے۔
جب غیر ملکی دورے سرکاری خزانے سے فنڈ کیے جاتے ہیں، تو ان کا بنیادی مقصد صوبے کے لیے ٹھوس نتائج حاصل کرنا ہونا چاہیے۔ جیسے کہ غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) کا حصول، تکنیکی امداد کے معاہدے، یا صوبے کی برانڈنگ کے لیے ٹھوس حکمتِ عملی۔ کیا افسران ان پیچیدہ معاملات میں مطلوبہ نتائج لا پائیں گے؟
بیوروکریٹس کے بار بار تبادلے کی وجہ سے، بین الاقوامی دوروں سے حاصل ہونے والی بصیرت اور شراکت داریاں اکثر ضائع ہو جاتی ہیں۔ کیا یہ بہتر نہیں کہ ان فورمز پر متعلقہ ماہرین یا ایسے افسران کو بھیجا جائے جو اس شعبے میں طویل عرصے تک خدمات انجام دینے کے پابند ہوں؟ حکومت کو چاہیے کہ وہ سرکاری وفود کی بیرونِ ملک روانگی کے لیے ایک شفاف اور جوابدہ ہائبرڈ ڈیلیگیشن ماڈل اپنائے جس میں ماہرین کی شمولیت یقینی ہو ہر وفد میں انتظامی سربراہ (سیکرٹری) کے ساتھ متعلقہ شعبے کے تکنیکی ماہرین (مثلاً یونیورسٹی کے محققین، سیاحتی حکمتِ عملی ساز، یا نجی شعبے کے کنسلٹنٹس) کو لازمی طور پر شامل کیا جائے۔
پری کانفرنس اسٹریٹجک ایجنڈا کو دورے سے پہلے وفد کے واضح اور قابلِ پیمائش اہداف (Deliverables) عوامی طور پر شائع کیے جائیں۔
پوسٹ وزٹ رپورٹنگ کو دورے سے واپسی کے بعد، وفد 30 دنوں کے اندر ایک ایسی رپورٹ جمع کروائے جس میں بین الاقوامی بصیرت کو مقامی گورننس میں نافذ کرنے کے لیے عملی فریم ورک موجود ہو۔ بلوچستان کی ترقی کے لیے عوامی فنڈز کی شفافیت اور جوابدہی کے ساتھ ساتھ صحیح مہارت کا درست جگہ پر استعمال وقت کی اہم ضرورت ہے۔

#بلوچستان #ٹورازم #سیاحت #شفافیت #جوابدہی #بیوروکریسی #ویتنام

Address

Quetta Jinnah Road
Quetta
87300

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Naksh Times posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Naksh Times:

Shortcuts

Share