Aiby's style

Aiby's style This page"Aiby's style"is about different types of things relating to the names of the people star

Stranger in the woods یہ واقعہ آج سے پانچ دن پہلے میرے اور میرے کزن کے ساتھ پیش آیا، اور یہ کافی لمبی کہانی ہے۔میں ساؤتھ...
16/05/2026

Stranger in the woods
یہ واقعہ آج سے پانچ دن پہلے میرے اور میرے کزن کے ساتھ پیش آیا، اور یہ کافی لمبی کہانی ہے۔

میں ساؤتھ کیرولائنا میں رہتا ہوں، اور میرا گھر ایک خوبصورت جگہ پر ہے جس کے بالکل سامنے ایک گھنا جنگل ہے۔ یہ جمعہ کا دن تھا، 21 مارچ، اور میں اور میرا کزن اس رات لیونگ روم میں سوئے تھے کیونکہ ہم نے اگلے دن اسی جنگل میں ایک دن کے کیمپنگ ٹرپ کا پلان بنایا تھا جو میرے گھر کے سامنے تھا۔

میں صبح تقریباً 9:30 بجے سب سے پہلے جاگا اور اپنے کزن کو بھی جگایا۔ پھر ہم نے پورے دن کے لیے ضروری سامان پیک کیا اور جنگل کی طرف نکل گئے۔ جس علاقے میں ہم گئے تھے وہ بہت گھنا تھا کیونکہ چھ مہینے پہلے ایک طوفان آیا تھا۔ وہاں ہر جگہ تقریباً 5 فٹ چوڑی اور 5 فٹ گہری کھائیاں بنی ہوئی تھیں، اور اتنے زیادہ گرے ہوئے درخت تھے کہ دوڑنا بھی ممکن نہیں تھا۔

آخرکار ہمیں ایک جگہ ملی جہاں ہم نے کیمپ لگانے کا فیصلہ کیا۔ اگلے دو گھنٹوں میں ہم نے ایک مکمل سروائیول شیلٹر بنا لیا جس میں چھت بھی تھی۔ لیکن اس دوران ہمیں تقریباً 50 فٹ دور سے عجیب آوازیں آتی رہیں۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی درخت پر کلہاڑی چلا رہا ہو، اور کبھی کبھی پانی میں چھپاکے کی آواز بھی آتی تھی۔

ہم تھوڑا گھبرا گئے تھے، لیکن ہم پہلے بھی کئی بار ان جنگلات میں آ چکے تھے، اس لیے ہم نے سوچا کہ شاید یہ قریبی نالے کی آواز ہو۔

اب اصل خوفناک حصہ شروع ہوتا ہے۔

میں شیلٹر کی چھت پر آخری کام کر رہا تھا اور میرا کزن دیواروں پر کام کر رہا تھا۔ اچانک مجھے ایک انسانی آواز سنائی دی، جیسے کوئی اپنے کتے کو بلا رہا ہو۔ میں فوراً اوپر دیکھنے لگا، لیکن میں پرسکون رہا کیونکہ مجھے لگا یہ کوئی انسان ہی ہوگا۔

میں فوراً اپنے کزن کی حفاظت کے موڈ میں آ گیا کیونکہ وہ مجھ سے چھوٹا ہے۔ میں نے اسے کہا کہ وہ اس سمت پر نظر رکھے جہاں سے آواز آئی تھی، اور میں نے سامان سمیٹنا شروع کر دیا۔ میں نے اسے آگے چلنے دیا کیونکہ اسے راستہ اچھی طرح معلوم تھا، اور میں نہیں چاہتا تھا کہ وہ “انسان” ہمارے پیچھے سے اسے نقصان پہنچائے۔

جیسے ہی ہم وہاں سے نکلنے لگے، میں نے آخری بار پیچھے دیکھا… اور میری خوف سے جان نکل گئی۔ میں نے ایک نقاب پوش آدمی کو دیکھا، جو ہم سے تقریباً 20 فٹ کے فاصلے پر تھا۔ اس کا رنگ سفید سا لگ رہا تھا اور اس نے پورے کالے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔

میں بہت زیادہ ڈر گیا تھا، لیکن میں نے کچھ نہیں کہا تاکہ میں خود یا اپنے کزن کو نہ ڈراؤں۔ میں نے بس اسے جلدی کرنے کو کہا۔

تقریباً 30 منٹ بعد ہم درختوں کی لائن کے قریب پہنچ گئے تھے، اور میرا گھر دور سے نظر آنے لگا تھا۔ اچانک میں نے آنکھ کے کونے سے اسی نقاب پوش آدمی کو دیکھا، جو درخت سے درخت کے پیچھے دوڑ رہا تھا، جیسے وہ ہمارا پیچھا کر رہا ہو۔

میں نے پھر بھی کچھ نہیں کہا کیونکہ مجھے لگا شاید مجھے وہم ہو رہا ہے، اور میں ہم دونوں کو مزید پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا۔

آخرکار جب ہم جنگل سے باہر نکلے، تو ہم دونوں دوڑتے ہوئے میرے گھر کی طرف بھاگے اور دروازہ زور سے بند کر دیا۔ تب میرے کزن نے مجھے بتایا کہ اس نے بھی بالکل اسی آدمی کو درختوں کے پیچھے دوڑتے ہوئے دیکھا تھا۔

میں اب کبھی بھی اس جنگل میں اکیلا نہیں جاؤں گا، خاص طور پر اس جگہ پر جہاں یہ واقعہ پیش آیا۔ میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ سب سچ ہے، اور یہ سب بیان کرتے ہوئے میری آنکھوں میں آنسو آ گئے تھے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ اگر میں نے وہ آواز نہ سنی ہوتی، تو شاید ہم آج لاپتہ ہوتے… یا اس سے بھی بدتر۔

ہم موت سے صرف 20 فٹ کے فاصلے پر تھے۔

رات کے 2 بج کر 13 منٹ ہوئے تھے جب احمد کے فون پر اچانک وائبریشن ہوئی۔ کمرہ مکمل اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا، صرف لیپ ٹاپ کی...
13/05/2026

رات کے 2 بج کر 13 منٹ ہوئے تھے جب احمد کے فون پر اچانک وائبریشن ہوئی۔ کمرہ مکمل اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا، صرف لیپ ٹاپ کی ہلکی نیلی روشنی دیواروں پر پھیل رہی تھی۔ باہر بارش مسلسل کھڑکی سے ٹکرا رہی تھی، جیسے کوئی اندر آنے کی ضد کر رہا ہو۔

احمد نے فون اٹھایا… اور اس کا دل ایک لمحے کے لیے رک گیا۔

بلال کی طرف سے وائس میسج۔

اس کی سانسیں تیز ہو گئیں۔ بلال تین دن پہلے مر چکا تھا۔ سب نے کہا تھا کہ وہ ایک حادثہ تھا، رات کے وقت گاڑی دریا میں جا گری تھی۔ پولیس نے کیس جلدی بند کر دیا تھا۔

کانپتے ہاتھوں سے احمد نے میسج پلے کیا۔

شور… پھر ایک جانی پہچانی مگر کمزور آواز سنائی دی۔

"احمد… اگر تم یہ سن رہے ہو… تو سمجھ لو… میری موت حادثہ نہیں تھی… وہ لوگ—"

آواز اچانک بند ہو گئی۔

احمد کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ اس نے فوراً وقت دیکھا۔

"20منٹ پہلے ریکارڈ کیا گیا"

یہ کیسے ممکن ہے…؟" اس نے خود سے کہا۔
اگلی صبح احمد سیدھا بلال کے گھر پہنچا۔ بلال کی ماں کی آنکھیں مسلسل رونے سے سوجی ہوئی تھیں۔ انہوں نے بغیر کچھ کہے ایک کالی ڈائری احمد کے ہاتھ میں تھما دی۔

"یہ اس نے تمہارے لیے چھوڑی تھی۔"

احمد نے ڈائری کھولی۔ زیادہ تر صفحات پر بے ترتیب نوٹس تھے، مگر ایک جملہ بار بار لکھا ہوا تھا۔

"کسی پر بھروسہ مت کرنا"

اس کے جسم میں سنسنی دوڑ گئی۔ آخری صفحے پر ایک نقشہ بنا تھا۔

"پرانا گودام — دریا کے قریب"

اسی شام احمد وہاں پہنچ گیا۔

گودام سنسان اور تاریک تھا۔ ٹوٹی کھڑکیاں، زنگ آلود دروازے، اور ہر طرف نمی کی بو۔ جیسے ہی وہ اندر داخل ہوا، اسے زمین پر تازہ قدموں کے نشان نظر آئے۔

کوئی یہاں حال ہی میں آیا تھا۔

ایک کونے میں ایک لیپ ٹاپ رکھا تھا، جو پہلے سے آن تھا۔ اسکرین پر صرف ایک ویڈیو فائل تھی۔

"اگر میں مر جاؤں"

احمد نے ویڈیو چلائی۔

بلال اسکرین پر نظر آیا، خوفزدہ، پسینے میں بھیگا ہوا۔

"احمد… اگر تم یہ دیکھ رہے ہو تو شاید میں مر چکا ہوں… کمپنی میں سب کچھ غلط ہے… وہ لوگ صرف پیسہ نہیں چراتے… وہ لوگوں کو ختم کر دیتے ہیں…"

اچانک ویڈیو کے پیچھے ایک سایہ نمودار ہوا۔ بلال نے گھبرا کر پیچھے دیکھا—

ویڈیو بند ہو گئی۔

اسی لمحے احمد کو اپنے پیچھے قدموں کی آواز سنائی دی۔

اس نے فوراً مڑ کر دیکھا۔

دروازے کے پاس ایک لمبا آدمی کھڑا تھا، سیاہ رین کوٹ میں، چہرہ مکمل اندھیرے میں چھپا ہوا۔

"تمہیں یہاں نہیں آنا چاہیے تھا۔"

احمد آہستہ آہستہ پیچھے ہٹا۔

"تم کون ہو؟"

آدمی ہلکا سا ہنسا۔

"یہی سوال بلال نے بھی پوچھا تھا۔"

احمد کے جسم میں خوف پھیل گیا۔

"تم نے اسے کیوں مارا؟"

آدمی نے سر ہلایا۔

"ہم صرف ان لوگوں کو ہٹاتے ہیں جو سچ کے بہت قریب پہنچ جاتے ہیں۔"

اچانک باہر پولیس کی گاڑیوں کی آواز گونجی۔ احمد کے چہرے پر امید کی ایک جھلک آئی۔

"میں بچ گیا…"

لیکن جیسے ہی ایک پولیس افسر گاڑی سے اترا، اس نے اس سیاہ کوٹ والے آدمی کو سلیوٹ کیا۔

احمد کا چہرہ زرد پڑ گیا۔

"یہ… سب ایک ساتھ ہیں…"

آدمی آہستہ آہستہ اس کے قریب آیا۔

"بلال نے بھی یہی سوچا تھا کہ کوئی اسے بچا لے گا۔"

احمد پیچھے ہٹتے ہوئے لیپ ٹاپ کی طرف دیکھنے لگا۔ اچانک اسکرین خود بخود آن ہو گئی۔

ویڈیو دوبارہ چلنے لگی۔

مگر اس بار…

اسکرین پر بلال نہیں تھا۔

وہ خود تھا۔

احمد۔

اسی جگہ… اسی حالت میں۔

ویڈیو میں موجود احمد بولا:

"اگر تم یہ دیکھ رہے ہو… تو تم پہلے ہی ان کے کھیل کا حصہ بن چکے ہو…"

حقیقی احمد کے ہاتھ کانپنے لگے۔

"یہ… یہ ناممکن ہے…"

سیاہ کوٹ والا آدمی مسکرایا۔

"ہم لوگوں کو صرف ختم نہیں کرتے… ہم ان کی کہانی کو اپنے طریقے سے لکھتے ہیں۔"

اچانک کسی نے پیچھے سے احمد کے سر پر وار کیا۔

ہر چیز اندھیرے میں ڈوب گئی۔

تین دن بعد احمد کو لاپتہ قرار دے دیا گیا۔ پولیس کو کچھ نہ ملا۔ نہ کوئی ثبوت، نہ کوئی گواہ۔

سب کچھ جیسے ہوا ہی نہ ہو۔

مگر ایک رات…

احمد کی بہن کے فون پر ایک وائس میسج آیا۔

احمد کے نمبر سے۔

اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے جب اس نے پلے کیا۔

"اگر تم یہ سن رہی ہو… تو دروازہ مت کھولنا… وہ لوگ—"

آواز اچانک بند ہو گئی۔

اسی لمحے دروازے پر دستک ہوئی۔

ٹھک… ٹھک… ٹھک…

"دروازہ کھولو… میں احمد ہوں…"

اس کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔ اس نے آہستہ سے دروازے کی جھری سے باہر دیکھا۔

باہر احمد کھڑا تھا۔

لیکن اس کی آنکھیں بالکل سیاہ تھیں۔

اور اس کے پیچھے…

وہی سیاہ کوٹ والا آدمی کھڑا مسکرا رہا تھا۔
اگلی صبح خبر آئی:

احمد کی بہن بھی لاپتہ ہو گئی۔

اور اسی رات…

شہر کے مختلف لوگوں کو ایک ہی وائس میسج موصول ہوا:

"کسی پر بھروسہ مت کرنا…"

09/10/2025
04/10/2025

لینا نے اپنے نئے اپارٹمنٹ میں رہائش اختیار کی، اور نئے سرے سے زندگی شروع کرنے کے لئے بے تاب تھی۔ سامان ترتیب دیتے ہوئے، اس نے ایک عجیب دروازہ دیکھا:
جو کتابوں کی الماری کے پیچھے چھپا ہوا تھا۔لینا چھپے ہوئے دروازے کو تلاش کرتی ہے اور اندر قدم رکھتی ہے۔
تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس نے دروازہ کھولا، اور ایک چھوٹا، تاریک کمرہ دیکھا۔

کمرے کی ہوا باسی تھی، اور دیواروں پر مکڑی کے جالے لٹک رہے تھے۔ لینا اندر داخل ہوئی، اور اس کی آنکھیں تاریکی کے مطابق ڈھلنے لگیں۔ اچانک، اس نے سرگوشیاں سنیں - اس کا نام بار بار دہرایا جا رہا تھا۔

جب وہ واپس مڑنے لگی، تو اس نے دیوار پر اپنی ہی تصویریں دیکھیں۔ تصاویر ایسے لگ رہیں تھیں جیسے بدل رہی ہوں، اور ایک تاریک حقیقت آشکار ہو رہی تھی: وہ اس اپارٹمنٹ میں پہلی بار نہیں تھی۔

سرگوشیاں بلند ہوئیں، اور لینا کو احساس ہوا کہ وہ اکیلی نہیں ہے۔لینا "میں سمجھ گئی کہ میں اکیلی نہیں ہوں۔"

دروازہ زور سے بند ہو گیا، اور اسے اپنی ہی آواز سنائی دی، "خوش آمدید گھر میں۔"
لینا
: "اور اب، میں تاریکی کا حصہ ہوں۔"

*Product Name*: 3 Pcs Women's Unstitched Embroidered Suit*Product Description*: ?  FABRIC LAWN 90/70*  3pc   ? Product D...
05/07/2025

*Product Name*: 3 Pcs Women's Unstitched Embroidered Suit
*Product Description*: ? FABRIC LAWN 90/70* 3pc ? Product Description ? Front full embroidered ? Sleeves full embroidered ? Plain back ? Dyed trouser ? Bamber embroidered duppata PAKAGE INCLUDED SAME AS OPEN PICTURE
*Product Details*:Shirt Fabric: Lawn
Pattern: Embroidered
Shirt Front Pattern: Embroidered
Shirt Back Pattern: Plain
Trouser Fabric: Lawn
Trouser Pattern: Plain
Dupatta Fabric: Bamber
Dupatta Pattern: Embroidered
Number Of Pieces: 5 Pcs
Package Includes: 2 x Shirt, 1 x Trouser, 1 x Dupatta
Shirt Cutting: 2.5 Meter
Trouser Cutting: 2.5 Meter
Dupatta Cutting: 2.5 Meter
Color: Beige

Note: There might be an error of 1-3 cm due to manual measurement, and slight color differences may occur as a result of varying lighting and monitor effer
Price 3500
Delivery charges100

25/02/2023

Address


Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Aiby's style posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Aiby's style:

  • Want your business to be the top-listed Clothing Store?

Share