14/11/2024
ڈسکہ کے نواحی گاؤں میں سسرال والوں نے سات ماہ کی حاملہ بہو کو قتل کر کے اس کے جسم کےٹکرے ٹکرے کر کے دو بوریوں میں بند کر کے اسکی لاش نہر میں پھینک دی۔سر دھڑ سے الگ کر کے اس کو چولہے پر اس وقت تک جلایا جب تک اسکے نقوش گوشت کی بوٹی نہیں بن گئے۔ اسکے بعد سرکو الگ مقام پر پھینک دیا تاکہ ملے تو بھی شناخت نہ ہو سکے۔اور یہ سب لڑکی کی سگی خالہ (ساس)نے اور دو سگی خالہ زاد بہنوں (نندوں)نے کیا۔ تینوں ماں بیٹیوں نے لاہور سے جراحی کی خدمات لے کر یہ ظلم کیا ۔بعد میں جھوٹاالزام لگا دیا کہ آشنا کے ساتھ بھاگ گئی ہے۔بے چاری زارا قدیر کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ خوبصورت تھی اور شوہر کی محبت تھی جو بیرون ملک مقیم تھا۔۔
اس لڑکی کے بدقسمت باپ کی حالت یہ ہے کہ اب شاید ہی زندہ بچ سکے۔۔!
خدارا بیٹیاں بیاہیں تو ان کی خبر بھی رکھیں کہ کہیں سوروں کے جنگل میں تو نہیں بھیج دیا ان کو ؟ 🙏