Abo shafi shida

Abo shafi shida PۨF۩T |=||_||\/|/-\|\|

05/08/2025

New naat sharif
آواز حافظ بشیر جان ارمانی
کلام شاعر صدیق احمد سواتی

31/07/2025

پر جوش انداز
قاری فضل الرحمان۔صاحب

31/08/2024
 ؟    برصغیر میں ہندوستان دنیا کی بہترین فلاحی ریاست تھی، راسخ العقیدہ مسلمانوں، علماء، فقہاء اور صوفیاء کے اس دیس میں ہ...
14/08/2023

؟
برصغیر میں ہندوستان دنیا کی بہترین فلاحی ریاست تھی، راسخ العقیدہ مسلمانوں، علماء، فقہاء اور صوفیاء کے اس دیس میں ہندو اور سکھ اقلیتیں بھی خوشحالی کی زندگی بسر کرتی تھیں، معیشت اتنی مضبوط تھی کہ عوام خوشحال اور سرکاری خزانے بھرپور تھے، دنیا ہندوستان کو”سونے کی چڑیا“ سے تعبیر کرتی، یہاں اسلامی نظام عملاً نافذ تھا اور حکمران اپنی رعایا کے ہمدرد و خیر خواہ تھے، ما سوائے چند کے اکثر مغلیہ حکمران علم دوست،باعمل، سچے اور کھرے مسلمان تھے، یہاں کا تعلیمی نظام دین و دنیا کا مرقع تھا، سرکاری سرپرستی میں کام کرنے والے مدارس قرآن و سنت اور فقہ اسلامی کے ساتھ ساتھ سائنس، فلسفہ اور ریاضی وغیرہ کی بھی تعلیم دیتے، یوں ان مدارس سے علماء اور سائنس دان تیار ہو کر دین اور ملک و ملت کی خدمت کرتے،پرامن معاشرہ اور خوشحال زندگی جیسی نعمتیں انہیں میسر تھیں۔
دنیا کے تاجروں نے یہاں للچائی نظروں سے دیکھنا شروع کیا، تجارت کے راستے مختلف قوموں کے لوگ یہاں کے سادہ اور پرامن خطہ میں داخل ہوئے اور آہستہ آہستہ ملکی سیاست میں دخیل ہوتے چلے گئے، غیر ملکی مداخلت اتنی بڑھی کہ یہاں در اندازی کرنے والی اقوام کی باہم اور مقامی ریاستوں کے نوابوں سے جنگوں تک نوبت جا پہنچی، کمزور مغلیہ حکومت اس مداخلت کو نہ روک سکی، نتیجتاً برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے یہاں پر معیشت و سیاست میں اپنے پنجے مضبوطی سے گاڑھ لیے اور اہلیان ہند کی غلامی کے باب کا آغاز ہو گیا۔
رفتہ رفتہ آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کا عمل دخل کمزور اور ایسٹ انڈیا کمپنی یعنی انگریز کا اثر بڑھتا گیا، نوبت باین جا رسید کہ ۷۵۸۱ء کی جنگ آزادی پر مغلیہ بادشاہ کی برائے نام حکومت بھی ختم کر دی گئی اور انگریز ملک پر مکمل قابض ہو گیا، ۷۵۸۱ء میں اہلیان ہند،نے انگریز کے اس جابرانہ اور ظالمانہ قبضہ پر کاری ضرب لگانے کا فیصلہ کیا اور بھرپور تحریک آزادی کا آغاز ہوا، ملک کے طول و عرض میں اہلیان ہند نے انگریز کے خلاف علم بغاوت بلند کیا، علماء کرام بالخصوص قافلہئ ولی الہی اور حضرت سید احمد شہیدؒ، شاہ اسماعیل شہیدؒ کی تربیت یافتہ، انکے افکار پر گامزن علماء نے اس تحریک میں ہراول دستہ کا کردار ادا کیا، ان علماء ربانین نے باقاعدہ اعلان جہاد فرما کر استعمار کو دیس نکالا دینے کے لیے حجروں، مدرسوں اور خانقاہوں سے میدانوں میں کود جانے کی صدا بلند کی، رئیس قافلہ حضرت حاجی امداداللہ مکی ؒ کی قیادت میں حجۃ الاسلام، مولانا محمد قاسم نانوتویؒ، قطب الارشاد مولانا رشید احمد گنگوہیؒ، حافظ محمد ضامن شہیدؒ کی سپہ سالاری میں باقاعدہ محاذ سج گئے، یہ شب بیدارصوفی اور مرشدین گرامی، محقق اور مدرس علماء کرام انگریز کے خلاف صف آرا ہو گئے، بدقسمتی سے انگریز کے نمک خواروں اور غداران وطن کی جفا و غداری کی وجہ سے انگریز نے ظاہری طور پر تحریک کو کچل دیا، اہلیان ہند بالخصوص علماء کرام کا قتل عام کیا گیا،تحریک حریت کے رہنماؤں سے جیلیں بھر گئیں لیکن حریت و آزادی کے ان سپوتوں کی آواز کو دبانا ناممکن تھا۔
تحریک حریت بظاہر1857ء میں ناکام ہو گئی لیکن حقیقت میں اس تحریک نے 1857ء کے بعد ایک نیا رخ اختیار کر لیا، 1866ءمیں ان علماء کرام نے دارالعلوم دیوبند کے قیام کے ساتھ جہاں ایک اسلامی مرکز قائم کر کے اہلیان ہند کی ہمہ جہت راہنمائی کا انتظام کر دیا وہاں اہل اسلام کے عقیدہ و عمل کے تحفظ کے لیے خالص دینی تعلیم کی تحریک شروع فرما دی، یوں انگریز کے خلاف فکری و علمی جہاد بھی شروع ہوا اور عملی جہاد کی آبیاری بھی۔ 1857ء سے 1947ءتک کا عرصہ اہلیان ہند بالخصوص اسلامیان ہند کے لیے تاریخ کے سیاہ باب سے کم نہیں، اس دوران انگریز نے ہر طرح سے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے،یہاں کی آبادی کو بالجبر عیسائی بنانے کی سعی لا حاصل کی گئی، بہت سے علماء کرام کو جلا وطن کیا گیا تو ہزاروں علماء کو شہید کر کے دریا برد کیا گیا، یہاں کا نظام تعلیم یکسر بدل دیا گیا، اہل ہند کی معیشت تباہ کر دی گئی، انگریز نے یہاں کی دولت کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا، صنعتیں ختم کر دی گئیں، مقامی مصنوعات کو بند کر کے غیر ملکی مصنوعات مارکیٹ میں لائی گئیں، ہندومسلم فرقہ وارانہ فسادات کرائے گئے، مسلمان جاگیرداروں اور زمینداروں کی جائیدادیں، مکانات وغیرہ ضبط کر لی گئیں، مسلمانوں کو ملازمتوں سے فارغ کر دیا گیا، نئی ملازمتوں کے دروازے مسلمانوں پر بند کر دیے گئے، سرکاری زبان فارسی سے انگریزی کر دی گئی، ہندوؤں کو مسلمانوں پر ہر معاملہ میں ترجیح دی جانے لگی۔
ان حالات میں امت کی راہنمائی اور قوم کی قیادت کا فریضہ علماء دین نے ہی سر انجام دیا، چنانچہ بانیان دارالعلوم دیوبندحضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی، حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ، حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ، حضرت مولانا حافظ محمد ضامن شہیدؒ، مولانا محمدقاسم نانوتوی کے علاوہ دارالعلوم دیوبند کے تربیت یافتگان، حضرت شیخ الہند مولانا محمود الحسن دیوبندی، شیخ العرب والعجم حضرت مولانا حسین احمد مدنی، مولانا حفظ الرحمنسیوہاروی،حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی، مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ ؒ، مولانا احمد سعید دھلویؒ، شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی، امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی، ماسٹر تاج الدین انصاری، شیخ حسام الدین، مولانا مفتی محمد شفیعؒ، مولانا خیر محمد جالندھری جیسے اکابر کا کردار روز روشن کی طرح عیاں ہے، ان اکابرین کے استخلاص وطن کی تحریک نے دیگر راہنماؤں کے ساتھ قوم کو بیدار کیا، انگریز کی نفرت عوام کے دلوں میں بٹھائی اور انگریز سے ملک واپس لینے کے لیے مختلف تحریکیں چلائیں۔ نہایت ہی افسوس کے ساتھ اس حقیقت کو سپرد قلم کیا جا رہا ہے کہ آزادی ہند اور تحریک پاکستان کی تاریخ میں امت کے ان سرفروشوں کے تذکرہ میں دیدہ و دانستہ تساہل اور مجرمانہ تغافل سے کام لے کر ایک روشن کردار کو نظر انداز کیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ملکی نصاب میں ان اکابرین جنہوں نے حریت و استخلاص وطن کے لیے اپنی جانوں تک کا نذرانہ پیش کیا، اپنا تن من دھن سبھی قربان کیا، کالا پانی،مالٹا اور دیگر دور افتادہ علاقوں میں جلا وطن کیے گئے، ان پر طرح طرح کے ظلم ڈھائے گئے، ان سب کو ایک سازش کے تحت یکسر نظر انداز کر دیا گیا ہے اور بعض ایسی شخصیات جن کا اس حوالہ سے کردار برائے نام ہے، انکو ہیرو بنا کر پیش کیا جا تا ہے، احسان فراموشی کی اس سے بڑی مثال شائد دنیا میں نہ ہو کہ قوم اور ملک و ملت کے محسنین کو اس طرح یکسر فراموش کیا جا رہا ہے اور تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
استخلاص وطن کے لیے کی گئی کاوشوں میں حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ ور انکے تلامذہ کی کاوشیں تاریخ میں سنہری حروف کے ساتھ لکھی جائیں گی، حضرت شیخ الہندؒ کی تحریک ریشمی رومال 1915ء کا عظیم واقعہ ہے، حضرت شیخ الہندؒ نے اپنے تلمیذ خاص حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کی معاونت سے انگریز کے خلاف بغاوت کا عالمی منصوبہ تیار فرمایا، اس منصوبہ میں روس، افغانستان، ترکی، جاپان ور دیگر ممالک کو بھی شامل فرمایا لیکن بد قسمتی سے 1916ء میں یہ راز افشا ہو گیا اور انگریز نے اس تحریک کو کچل کر 1917ءمیں حضرت شیخ الہند اور انکے رفقاء کو سعودی عرب کے شہر طائف سے گرفتار کر کے مالٹا میں قید کر دیا، بلاشبہ اگر یہ تحریک کامیاب ہو جاتی تو برصغیرکا نقشہ مختلف ہوتااوردنیا میں ہمارا وطن ایک مضبوط سیاسی اور ناقابلِ تسخیر قوت ہوتا۔
علماء امت کا کردار اس عرصہ میں نہایت ہی شاندار رہا، انہی علماء نے تحریک فرائض، تحریک خلافت، تحریک ترک موالات وغیرہ میں قوم کی قیادت کرتے ہوئے انگریز کو ناکوں چنے چبوائے، اسی جہد مسلسل کے نتیجے میں ا نگریزی حکومت کمزور پڑی، ملک تمام باسی، ہندو اور مسلم سبھی انگریز کے خلاف یکجان ہو گئے یہاں تک کہ 23مارچ 1940ء میں اقبال پارک لاہور میں علامہ اقبالؒ نے حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ کاعطا کردہ اسلامی ملک کے قیام کا فارمولا قرار داد کی شکل میں پیش فرمایا جسے مسلم لیگ نے منظور کیا اور یوں تحریک آزادی کا دوسرا مرحلہ تحریک پاکستان کی صورت میں شروع ہوا، اس تحریک کی قیادت مسلم لیگ کے راہنمایان کر رہے تھے لیکن اکابرین علماء کی ایک جماعت ان کی بھرپور حمایت کر رہی تھی، تحریک پاکستان کے ان حامی علماء کرام میں حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ، حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی، حضرت مولانا خیر محمد جالندھری، حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ، حضرت مولانا مفتی محمد حسن رح وغیرہم کی شبانہ روز محنت کے نتیجے میں اس تحریک کی آبیاری ہوئی اور یوں یہ تحریک پروان چڑھی اور 14اگست 1947ءکو پاکستان معرض وجود میں آیا، موجودہ خیبر پختونخواہ(صوبہ سرحد) اور چند علاقوں کی پاکستان میں شمولیت خالصتاً ان علماء کی کاوشوں کا نتیجہ تھی، انہیں کاوشوں کے صلہ میں قائد اعظم نے مشرقی و مغربی پاکستان میں پرچم کشائی مولانا شبیر احمد عثمانیؒ اور مولانا ظفر احمد عثمانیؒ سے کروائی۔
علماء دیوبند کا ایک طبقہ تقسیم ہندکا مخالف تھا، ان حضرات کی قیادت شیخ العرب والعجم حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ فرما رہے تھے، ان حضرات کا اختلاف بھی اصول پر مبنی تھا، انکے پیش نظر وہ خدشات تھے جن کا ظہور اب ہو چکا ہے، انکے اندیشے بالکل بجا ثابت ہوئے، انکی سیاسی بصیرت نے ان حالات کا ادراک کر لیا تھا جن کا سامنا آج اہلیان پاکستان کر رہے ہیں، بایں ہمہ قیام پاکستان کے بعد ان علماء کرام نے بھی پاکستان کی حفاظت و حمایت کا زوردار اعلان فرمایا، انکا فرمان تھا کہ پاکستان کی مثال مسجد کی سی ہے جسے بننے میں اختلاف تھا لیکن جب پاکستان بن گیا تو مسجد کی طرح اس کی آبادی و تحفظ جملہ اہل اسلام کا فریضہ ہے۔
قیام پاکستان کے بعد سے اب تک استحکام وطن، دفاع وطن اور نظریہ پاکستان کے تحفظ کے لیے علماء کرام کا کردار روشن باب ہے، الحمد للہ ان علماء حق نے پاکستان کے ساتھ بھرپور وفااور محبت کا حق ادا کیا، وطن کی حفاظت کے لیے ہمیشہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنے رہے، کشمیر کی آزادی کی تحریک سے لے کر 1965ءکی جنگ تک 1965سے1971تک اور 1971کے جانکاہ حادثہ سقوط ڈھاکہ سے اب تک ملک متعدد بار خطرات سے دو چار ہوا تو علماء کرام اور مذہبی طبقہ نے فوج اور اداروں کے شانہ بشانہ ملک کی خدمت کی۔
دوسری جانب پاکستان بنانے والی پارٹی، قیام پاکستان کی دعویدار پارٹی اور اس کی کوکھ سے جنم لینے والی دیگر سیاسی جماعتوں نے ملک کو کیا دیا یہ حقیقت بھی قوم کے سامنے ہے۔ پاکستان کو دو لخت کس نے کیا؟ ملک کے خزانے لوٹ کر اپنی تجوریاں کس نے بھریں؟ ملکی خزانے غیر ملکی بنکوں میں کس نے منتقل کیے؟ آئین کی دھجیاں کس نے بکھیریں؟ملک کے نظریہ سے کس نے غداری کی؟ اپنے اقتدار کے تحفظ کے لیے کس قدر قانون شکنیاں ہوئیں اور انکے مرتکب کون ٹھہرے؟ پیارا وطن کس کی پالیسیوں سے خانہ جنگی میں مبتلا ہوا؟ اپنے ہی عوام پر کس نے بمباریاں کیں؟ کس نے غیر ملکی قوتوں کے لیے ملک کے دروازے کھولے؟ یہ تمام حقائق قوم کے سامنے ہیں، الحمد للہ مذہبی و دینی طبقہ، علماء کرام کسی بھی ملک دشمن منفی سرگرمی میں ملوث نہیں پائے گئے۔
قیام پاکستان کے وقت مسلم لیگ کے راہنماؤں نے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ پاکستان اسلامی فلاحی مملکت ہو گی، اس میں کلمہ طیبہ کا راج ہو گا، اس مقدس مشن کے لیے لاکھوں مسلمانوں نے قربانیاں دیں، وطن چھوڑا، جائیدادیں قربان کیں، دربدر ہوئے اور آبرو تک قربان کر دی، عزتیں اور عصمتیں تار تار ہوئیں، ہندوؤں اور سکھوں کی بربریت کا شکار ہوئے، دنیا کی بہت بڑی نقل مکانی ہوئی، ہجرت کے اس خونچکاں سفر کی داستانیں سوہان روح ہیں، لیکن ہم گریبان میں منہ ڈال کر سوچیں کہ کہیں پوری قوم کے ساتھ دھوکہ تو نہیں کیا گیا؟ آج شہداء کی روحیں کانپ رہی ہیں کہ کیا ہماری قربانیاں صرف اور صرف ایک خطہ کے حصول کے لیے تھیں جس میں اسلام کے علاوہ سب کچھ ہو گا، حیا باختہ اور ایمان سوز اقدامات ہوں گے، یہ زخمی روحیں حکمرانوں سے سوال کر رہی ہیں کہ ہم سے کیا گیا وعدہ کب ایفا ہو گا؟ علامہ اقبالؒ کا خواب کب شرمندہ تعبیر ہو گا؟ قائد اعظم کے وعدے کیونکر پورے ہوں گے؟تم مجرم ہو، تم مجرم ہو، روزمحشر ہمارا ہاتھ ہو گاا ور تمھارے گریبان، جواب تیار رکھیے گا، اللہ کی عدالت میں ہمارا سوال ہو گا کہ اسلام کے نام پر بننے والے ملک میں اسلام کو کیونکر ذبح کیا جا رہا ہے؟ اس سوال کا جواب قیام پاکستان سے لیکر اب تک زمام اقتدار سنبھالنے والے سبھی حکمرانوں کو دینا ہو گا۔
رہے گی کب تک کتاب سادہ کبھی تو آغازِ باب ہو گا
جنہوں نے بستی اجاڑ ڈالی کبھی تو ان کا حساب ہو گا

19/10/2022

Adresse

Democratic Republic Of The

Site Web

Notifications

Soyez le premier à savoir et laissez-nous vous envoyer un courriel lorsque Abo shafi shida publie des nouvelles et des promotions. Votre adresse e-mail ne sera pas utilisée à d'autres fins, et vous pouvez vous désabonner à tout moment.

Raccourcis

Partager