28/05/2026
🕋 حج 2026: عبادت یا صرف ایک "دکھاوا"؟ (ایک لمحۂ فکر)
بہت ہی افسوس، دکھ اور ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ یہ چند سطریں لکھ رہا ہوں۔ جب کوئی مسلمان مکہ اور مدینہ کی مقدس سرزمین پر قدم رکھتا ہے، تو اس پر ایک عجیب سی رقت اور خوفِ خدا طاری ہونا چاہیے، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ اس سال حج 2026 کے دوران جو کچھ پاکستانی حاجی کیمپس میں دیکھنے کو مل رہا ہے، اس نے دل کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ اگر 100 لوگ یہاں آئے ہیں، تو ان میں سے صرف 30 لوگ ایسے ہیں جو صحیح معنوں میں حج اور عبادت کی غرض سے آئے ہیں۔ باقی 70 فیصد لوگوں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ (نعوذ باللہ) کسی دینی و روحانی سفر پر نہیں، بلکہ کسی "تفریح اور پکنک" پر آئے ہوئے ہیں۔
🛏️ کمروں کا ماحول: رات کے 3 بجے تک گپیں اور بے ادبی
حاجی کیمپس کے کمروں کا حال یہ ہے کہ وہاں عبادت، ذکر و اذکار اور تلاوتِ قرآن کی جگہ بے مقصد باتیں اور گپیں چل رہی ہیں۔ رات کے تین تین بجے تک ہنسی مذاق اور شور و غل جاری رہتا ہے۔ کسی کو اس بات کا احساس ہی نہیں کہ ان کے ساتھ باقی حاجی بھی تھکے ہارے بیٹھے ہیں، جنہوں نے صبح عبادت کے لیے اٹھنا ہے، یا جو بیمار اور بوڑھے ہیں۔ دوسروں کی نیند اور آرام کا کوئی احساس نہیں رہا۔
📜 ہر کوئی "مفتی" بنا ہوا ہے
سب سے عجیب اور افسوسناک بات یہ ہے کہ ہر دوسرا شخص خود "مفتی" بنا بیٹھا ہے۔ دین کی عام معلومات تک نہیں ہوتیں، لیکن ہر کوئی دوسرے کو مشورے دے رہا ہوتا ہے: "تم ایسے کر لو، تم ویسے کر لو۔" نہ کوئی تمیز ہے، نہ شرم اور نہ ہی علماء سے رجوع کرنے کی زحمت۔ اپنی مرضی کا دین بنا کر حج جیسے عظیم فریضے کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔
📱 دکھاوا اور دین سے دوری (نوجوان اور 25 سے 55 سال کے لوگ)
یہ عظیم سفر اللہ کی رضا اور گناہوں کی معافی کے لیے ہوتا ہے، لیکن ہمارے اکثر پاکستانیوں نے اسے صرف "دکھاوے" (Show-off) کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ سوشل میڈیا کے لیے تصویریں اور ویڈیوز بنانا اصل مقصد بن چکا ہے۔
خصوصاً ہماری نوجوان نسل اور 25 سے 55 سال کے درمیان کے لوگ، جنہیں سب سے زیادہ سنجیدہ اور باادب ہونا چاہیے تھا، ان میں کوئی سنجیدگی نظر نہیں آتی۔ کوئی احساس ہی نہیں ہے کہ وہ کس مبارک جگہ کھڑے ہیں، مکہ اور مدینہ کا ادب کیا ہے، اور وہ یہاں کیا کرنے آئے ہیں!
🍽️ "جہالت کی انتہا": تمیز اور ڈسپلن کا خاتمہ
ڈسپلن نام کی کوئی چیز ہمارے کیمپس میں نظر نہیں آتی۔
واش رومز کا استعمال: نہ واش روم استعمال کرنے کا کوئی طریقہ ہے اور نہ ہی صفائی کا خیال۔ اپنے بعد آنے والے مسافر کا رتی برابر احساس نہیں کیا جاتا۔
کھانا کھانے کے آداب: کھا