•o.O ••Still Same•• O.o•

•o.O ••Still Same•• O.o• PENGUIN.GE founded by the enthusiasts aiming to make most desirable branded items more accessible to all consumers.

PENGUIN.GE is a reminder that there's an item for everyone, regardless of brand, price, style, size, and function. We want to know you better and help to find your best product! We work every day and night to be trusted and seamless e-commerce marketplaces for unique style products shipped worldwide.

05/11/2017
10/06/2017

مستنصر حسین تاررڈ۔۔
میرا بیٹا نیا نیا سکول میں داخل ہواتو میں نے اسے پوچھا’ بیٹا آپ کےماسٹروں کے کیانام ہیں؟
وہ کہنے لگا”کونسے ماسٹرابو؟
میں نے کہا’بیٹے وہی ماسٹر جوآپ کے سکول میں ہوتے ہیں،
نہیں ابوہمارے سکول میں توکوئی ماسٹر نہیں ہوتے“وہ بولا
ہائیں!غضب خدا کاسکول میں ماسٹر نہیں ہیں یہ کیسے ہوسکتا ہے؟
“کہہ جوریا ہوں کہ ہمارے سکول میں ماسٹرنہیں ہیں“
ماسٹر نہیں ہیں توپھر تمییں پڑھاتاکون ہے؟
ہمیں ٹیچر پڑھاتے ہیں۔
اچھا․․․بہت خوب․․․بہرحال آپ کے سکول میں ہیڈماسٹرہوگا“
وہ بھی نہیں ہے․․․ ہمارے پرنسپل ہیں“
یہاں پہنچ کرمیں خاموش ہوگیاکیونکہ میرے زمانے میں توماسٹر ہواکرتے تھے اور میرے بیٹے کے زمانے میں ٹیچر اور پرنسپل تھے چنانچہ گفتگو آگے کس طرح بڑھتی۔
تھوڑی دیر کے بعد میرابیٹا کہنے لگا”ابو آپ کے زمانے میں توماسٹر ہواکرتے تھے ناں توماسٹر اور ٹیچر میں کیافرق ہوتاہے؟
میں نے کہا”بھئی ماسٹر اور ٹیچر میں بہت فرق ہوتا ہے ماسٹر ہوتاہے شلوارقمیض پہنے اوپر سے بندگلے کی واسکٹ‘سائیکل تھامے‘ ہنیڈل پر تھیلالٹکائے اور اس تھیلے میں اکثراوقات حسب پسند ایک عدد چھڑی․․․اور بہت غریب غرباقسم کی مخلوق‘خواہ مخواہ کوپڑھاتارہتاہے ٹوشین نہیں پڑھاتا،خواہ مخواہ پڑھاتا ہے اور صرف اس لئے کہ اس کارزلٹ اچھا آئے اور سینہ تان کرسکول میں چل سکے․․․اب ٹیچر کے بارے میں توتم ہی بتاسکتے ہوکہ ٹیچر کیاہوتاہے۔
ابوہماراٹیچر توسوٹ پہنتاہے اور اس کے پاس مائیکل جیکسن کی ڈھیرساری کیسٹیں ہیں“
بس یہی فرق ہے ماسٹر اور ٹیچرمیں“
یہ گفتگو مجھے یاد آئی کہ کل شام ہمارے سکول میں پڑھنے والے اولڈ بوائیزکا ایک اجلاس تھا جس میں بے شمار بوڑھے ‘گنجے،دُبلے پتلے،موٹے،امیرغریب لائق اور نالائق”بوائیز“ جمع تھے پہلے توحسب معمول کلاس میں کی گئی شرارتوں کے تذکرے ہوئے گفتہ اور ناگفتہ کا بیان ہواایک دوسرے پرخوشی خوشی کیچڑااچھالا گیااور پھر گفتگو کارُخ”ماشٹروں“ کی جانب مڑگیا ہرایک نے حسب توفیق اپنے ماسٹروں کی توصیف کی کہ کس طرح وہ مشقت سے بغیر لالچ کے ہمیں پڑھایا کرتے تھے اور آج ہم جوکچھ بھی ہیں ان کی ”پڑھائیوں“ کے بدولت ہیں،اللہ تعالیٰ انہیں اس کا اجردے گا ہم کیادے سکتے ہیں سوائے دعاؤں کے․․․تب میرے ذہن میں وہ تمام ماسٹر آئے جنہوں نے مجھے پڑھایا بلکہ یوں کہیے کہ پڑھانے کی کوشش کی اور اگر ہم آج تک نالائق چلے آرہے ہیں اتواس میں ان کاقصور نہ تھا میرا خیال ہے بارے ماشٹروں کے کچھ بیاں ہوجائے۔
سب سے دہشت ناک یاوماسٹردین محمدکی ہے ہم چھٹی جماعت میں تھے پہلے روزفارسی پڑھانے کے لیے ماسٹردین محمد تشریف لائے کسرتی اور متناسب جسم،حجامت فوجیوں جیسی بڑے مزے سے پہلا سبق پڑھا، گپ شپ لگائی اور چلے گئے۔دوسرے روزبھی آئے اور مسکراہٹیں بکھیرتے پڑھاتے رہے، چنانچہ وہ وہ ہمارے پسندیدہ ماسٹر ہوگئے نہ ہاتھ میں چھڑی نہ چہرے پر خشونت اور نہ کسی کو کچھ کہنا اور نہ ہی سننا․․․ہماری سمجھ میں یہ نہ آیا سکول کے پہلے دن سینئرلڑکوں نے یہ کیوں کہا تھا کہ ماسٹر دین محمد سے بچ کے رہنا قصائی ہے قصائی․․․بھلااتنے خوشگوارشخص کوقصائی کہناکہاں کی شرافت ہے․․․بہرحال ایک روز ماسٹرصاحب فرمانے لگے کہ بھئی بچومیں نے تمہیں محنت سے پڑھایاہے،میری درخواست ہے کہ کل آپ ساراسبق یادکرکے آئیں میں سنوں گا․․․دوسرے روز حسب سابق آئے بچوں سے سبق سنا جس بچے کویاد ہوتا اسے ایک طرف کھڑا کردیتے اور جسے نہ یاد ہوتا اسے دوسری طرف،جب یہ کام مکمل ہوگیا تومعلوم ہواکہ جن بچوں کوکچھ یادتھان کی تعدادچھ ہے اور بقیہ حضرات تقریباََ تیس ہیں جو کھڑے مسکرائے چلے جارہے تھے․․․ماسٹر صاحب پیچھے مڑے ہم نے سمجھا کمرے سے باہر جانے لگے ہیں لیکن نہیں انہوں نے دروازہ بندکرکے چٹخنی لگائی پھرایک لمبی ساری دبیزچھڑی(بلکہ سوٹی) پتہ نہیں کہاں سے برآمدکی اور اسی طرح مسکراتے ہوئے کہنے لگے” میرے پیارے طالب علموں جن بچوں نے سبق یادکیا ہے وہ ذراادھر وہوجائیں کیونکہ یہ سارے جنتی ہیں اور جنہوں نے یاد نہیں کیاوہ جہنمی ہیں اور جہنم میں رہنے والوں کوسزاملنی چاہیے․․․اس کے بعد انہوں نے چھڑی کوتلوار کی طرح فضا میں بلند کیااور ”یاعلی“ کانعرہ لگاکرجہنمیوں پرٹوٹ پڑے دروازہ بند تھااور پورے دس منٹ ماسٹر دین محمد نے جہنمیوں کومارمار کران کابھرکس نکال دیا۔جب وہ کمرے سے باہر گئے توکلاس روم میں میدان جنگ کے بعد کانقشہ تھا،امی جانوں کویادکیاجاعہاتھا،ہائے ہائے کیاجارہاتھا،متاثرہ حصوں پر پھونکیں ماری جارہی تھیں اور آنسوتھے کہ تھمنے میں نہ آتے تھے․․․میں نے ایک غیر جانبدار مبصر کی حیثیت سے یہ تمام یک طرفہ جنگ دیکھی کیونکہ خوش قسمتی سے میں جنتیوں میں شامل تھا۔
اگلے روز جب فارسی کاپیریڈآیا توہم سب کونہ صرف”شنیدہ کے بود ماننددیدہ“ کامطلب بھی آتا تھا بلکہ ہم نے شیخ سعدی کے اشعار بھی زبانی یادکرنے کی کوشش کی تھی۔ماسٹردین محمد حسب معمول مسکراتے ہوئے آئے لیکن لڑکوں کودیکھ یک دم سنجیدہ ہوگئے”یہ جنتی اور جہنمی آپس میں گھل مل کے کیوں بیٹھے ہوئے ہیں جنتی ایک طرف اور جہنمی دوسری طرف․․․بے چارے جہنمیوں نے عرض کی کہ ماسٹر صاحب سب یادہے بے شک سن لیں لیکن ماسٹڑ صاحب نے چھڑی گھمائی اور جنتیوں کوالگ بٹھایا اور جہنمیوں کوالگ․․․حسب معمول انہوں نے ”یاعلی“ کانعرہ لگایااور جہنمیوں پر ٹوٹ پڑے پانچ منٹ تک انہیں پیٹتے رہے پھر کتاب اٹھاکرآرام سے اگلاسبق پڑھانے لگے اس کے بعد روزانہ یہی ہوتا کہ وہ کلاس میں داخل ہوتے پہلے پانچ منٹ جہنمیوں کی پٹائی کرتے اور پھر پڑھائی کرتے جہنمیوں نے لاکھ منت سماجت کہ ماسٹر صاحب اب توسن لیں ہمیں یادہے ہمیں یاد ہے لیکن ماسٹر صاحب کہتے کہ جوایک مرتبہ جہنم میں چلاگیا سوچلاگیا واپس نہیں آسکتا․․․پورے دس روزبعد انہوں نے پھرسبق سنااور اس مرتبہ سارے ہی جنتی ہوگئے۔
جب کبھی ایران سے گزرہوامجھے ماسٹردین محمد بہت یادآئے وہ بہت بے دردی سے پیٹتے تھے لیکن تہران میں‘تبریزمیں ‘مشہدمیں انہی کے یادکرائے ہوئے فارسی کے لفظ بول کرمیں نے راستے دریافت کیے،ایرانیوں کے ساتھ گفتگوکی اور میں ان کاشکرگزار ہوں۔
آٹھویں جماعت میں ہمارے حساب کے استاد ماسٹر نادرخان تھے بعدمیں معلوم ہواکہ وہ دراصل نادرشاہ ہیں۔موٹے کھدر کی شلوار قمیض‘اوپرکوٹ‘بڑی بڑی نادرشاہی مونچھیں اور طرے دار پگڑی کہیں ملاقات ہوجاتی توہاتھ ملانے کی بجائے طالب علم کاکان پکڑکرزور زور سے کھینچتے اور کہتے’ اوئے کیاحال ہے تیرا؟اور جواب آتا”ہائے ماسٹر جی بڑااچھاہائے حال ہے“میراحساب توواجبی تھالیکن الجبرے کے موجدکوکبھی معاف نہیں کرسکتا ماسڑنادرخاں بھی میری اس کمزوری سے واقف تھے چنانچہ سردیوں کی خوشگوار دھوپ میں جب اوپن ائرکلاسیں شروع یوجاتیں توماسٹر صاحب بلیک بورڈپر سب سے پہلے الجبرے کاکوئی سوال لکھ دیتے اور کہتے’آناتوادھرمس تن سراور نکالناہاں ذرایہ سوال“ میں لرزتی ٹانگوں سے لڑکھڑاتا ہواتختہ سیاہ کی جانب یوں روانہ ہوتاجیسے پھانسی کے تختے کی جانب جارہاہوں چاک ہاتھ میں لیتا سرکوکھجاتااور اس طرح گہری سوچ میں غرق ہوجاتاجیسے اس سے بیشتر سوچنے کے عمل سے میں الجبرے کاسوال حل کرلیاکرتاہوں۔
اوئے کدھرچلاگیاہے؟ماسٹر صاحب گرجتے اور میں چاک رکھ کران کے سامنے اپنی ہتھیلیاں کھول دیتا․․․اور چھڑی کی ضرب سے پیشترہی ”ہائے ماسٹرجی“ کانعرہ لگادیتا۔
ورینکلرفائنل کاامتحان سرپرآیاتوماسٹرنادرخاں کوبخارچڑھ گیاوہ دن رات ایک کرکے طالب علموں کوپڑھانے لگے۔رات کی کلاسیں اس طرح شروع ہوئیں کہ ایک روزماسٹر صاحب نے چھٹی کے وقت حکیم دیاکہ آج سے تمام لڑکے شام کاکھاناکھاکرسیدھے سکول آئیں اور یہاں پرتین گھنٹے مزید پڑھائی ہوگی۔جملہ طالب علموں کی توبس جان ہی نکل گئی کہ اب دن کے بعدرات کوبھی شامت آئے گی اور وہاں اس ایکسٹراپڑھائی کے لئے کوئی علیحدہ فیس وغیرہ نہیں تھی صرف ماسٹرنادرخان کی لگن تھی ایک دو لڑکوں نے حسب توفیق بہانے بنانے کی کوشش کی لیکن ناکام ہوگئے تب مجھے پسلیوں میں ٹہوکے دے دے کرکہاگیاکہ تم ہی کچھ کرومیں کھڑاہوگیا”جناب ماسٹر صاحب جیساکہ آپ جانتے ہیں آج کل سردیون کازمانہ ہے سردی بہت ہے ہم چھوٹے چھوٹے بچے کس طرح سکول پہنچیں گے۔
نہیں پہنچیں گے تو اگلے دن بیس بیس بیدکھاٹیں چھوٹے چھوٹے بچے ماسٹرصاحب گرج کو بولے۔
میں جی پھر کمبل لے آؤں ساتھ․․․میں نے گزارش کی۔
توکمبل چھوڑ رضائی لے آنا․․․پرآجاناورنہ“ وہ بھناگئے۔
اس شال کھانے کے بعدمیں نے گھرکی سب سے طویل وعریض رضائی سائیکل کے کیرئرپر باندھی اور سکول پہنچ گیاجو نہی میں رضائی سرپراٹھائے کلاس روم میں داخل ہواوہاں”رضائی زندہ باد“ کے نعرے لگنے لگے چونکہ شام کی نشست کے لئے کمرے میں سے ڈیسک اور کرسیاں وغیرہ اٹھاکرصفیں بچھادی گئی تھیں اس لئے ٹیک لگاکربراجمان ہوگیا۔ماسٹر نادرکمرے میں داخل ہوئے طالب علموں کی تعداد دیکھ کربہت خوش ہوئے بلیک بورڈصاف کرکے اس پرکوئی سوال لکھنے لگے تو ان کی نظرمجھ پرپڑی۔ اوئے توحقہ پینے آیاہے یہاں مستنصر․․․یہ رضائی کس کی ہے؟میں نے وہیں بیٹھے بیٹھے کہا”ماسٹر صاحب میری ہے اور آپ نے خود ہی توکہاتھاکہ توکمبل چھوڑرضائی لے آنا۔
ماسٹر صاحب کے چہرے کی رنگت بدلی دانت کچکچائے لیکن وہ کچھ بولے نہیں اور نظریں نیچی کرکے پڑھانے لگے چونکہ سردی توتھی اس لئے آہستہ آہستہ باقی لڑکوں کی ٹانگیں اور ہات میری رضائی کی گرمی میں پہنچنے لگے تھوڑی دیربعد نصف سے زیادہ کلاس میری رضائی سے لطف اندوزہورہی تھی اس موقع پرماسٹر نادرخان نے بلیک بورڈپرالجبرے کاایک سوال لکھا”آہاں رضائی والے باؤ‘نکال یہ سوال اب ظاہر ہے یہ صریحاََ خودکشی کی دعوت تھی میں نے رضائی کواپنے آپ سے علیحدہ کیااس سوال کودیکھا جومیری موت تھاماسٹر نادرکے ہاتھ میں پکڑے بیدکودیکھا جو میرامنتظر تھااور بلیک بورڈکی جانب آہستہ آہستہ قدم قدم اٹھانے لگایہی وہ لمحہ تھاجب پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت نوازش کوکمرے میں روشن بجلی کے واحد بلب کے بٹن کوآف کردیناتھا․․․چنانچہ عین اس وقت جب میں تختہ دار پرچڑھنے کوتھا روشنی گل ہوگئی اور دھماچوکڑی مچ گئی ماسٹر صاحب اپنا بیداٹھائے اندھیرے میں ہی حساب کتاب لگاتے مجھ پر وار کرنے لگے لیکن میں واپس اپنی رضائی میں پہنچ چکاتھاجس کی دبیزتہیں میرے لئے ڈھال کاکام دے رہی تھیں اندھیرے سے فائدیہ اٹھاتے ہوئے بیشتر لڑکے کھسلتے کھسلتے کلاس روم سے بھاگ گئے اور ان میں میں بھی شامل تھا اپنی رضائی سمیت․․․دوسری صبح ماسٹر نادرنے ہمیں ہیڈماسٹر صاحب کے حوالے کردیا اور اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی․․بہت عرصہ بعدایک روزمیری دکان پرایک بوڑھا شخص آیاجس کی مونچھیں مردہ ہوچکی تھیں آواز میں تھراہٹ تھی اور آنکھیں بجھ رہی تھیں میں نے ہاتھ آگے کیاتو اس نے مجھے گلے لگالیا۔
مستنصرمیں بڑے فخرسے لوگوں کوکہتاہوں کہ تومیراشاگرد ہے․․․میری آنکھوں میں نمی کی ہلکی تہ اترآئی یہ ماسٹر نادخاں تھے․․․ہاں ماسٹر اور ٹیچرمیں بہت فرق ہوتاہے
مستنصر حسین تارڑ:

08/06/2017

(مجھے صرف تین منٹ چاہئیں)

ہمیں مرے ہوئے تین منٹ ہو چکے تھے لیکن ہمیں یقین نہیں آ رہا تھا‘ ہم نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا‘ ہم بھی مر سکتے ہیں!

میرے ساتھ ایک اسمارٹ قسم کا خوبصورت مردہ بیٹھا تھا‘ اس کے بازو‘ ٹانگیں‘ گردن‘ چھاتی پیٹ اور کمر بتا رہی تھی‘ اس نے زندگی کا زیادہ تر وقت جم میں گزارا ہو گا. یہ دنیا کی متوازن اور بہترین خوراک کھاتا ہو گا اور اس نے اپنے جسم کو ہر قسم کی آلودگی،بیماری اور بدپرہیزی سے بھی بچا کر رکھا ہو گا. میں نے اس سے پوچھا ’’ تم نے کبھی سگریٹ پیا‘‘ اس نے انکار میں سر ہلا دیا۔
میں نے پوچھا ’’ شراب‘ چرس‘ گانجا‘‘
اس کا سر انکار میں ہلتا رہا‘ میں نے پوچھا تم نے کبھی رش ڈرائیونگ کی‘ پانی میں اندھی چھلانگ لگائی‘ تم سڑک پر پیدل چلتے رہے ہو یا تم لوگوں سے الجھ پڑتے ہو‘‘ اس نے انکار میں سر ہلایا اور دکھی آواز میں بولا ’’ میں نے زندگی میں کبھی کوئی غلط کام نہیں کیا‘‘
میں نے پوچھا ’’ تمہاری عمر کتنی تھی‘‘ اس نے جواب دیا ’’ صرف 32 سال‘‘
میں نے حیرت سے پوچھا ’’ پھر تم کیسے مر گئے‘‘
اس کا دکھ بڑھ گیا‘ میں بھی اس بات پر حیران ہوں‘ میں اپنے آپ سے مسلسل پوچھ رہا ہوں‘ میں کیسے مر سکتا ہوں‘‘
میں نے پوچھا ’’ تم مرے کیسے تھے‘‘
اس نے چیخ کر جواب دیا ’’ میں اپنے لائونج میں ٹی وی دیکھ رہا تھا‘ مجھے اچانک سینے میں درد محسوس ہوا۔ میں نے چائے کا کپ میز پر رکھا‘ دُہرا ہوا اور اس کے بعد سیدھا نہیں ہو سکا‘ میں مر گیا‘‘۔
میں نے پوچھا ’’ تمہاری اس وقت سب سے بڑی خواہش کیا ہے؟‘‘
اس نے میری طرف دیکھا اور بولا ’’ تین منٹ کی زندگی!! میں صرف تین منٹ کے لیے واپس جانا چاہتا ہوں. میرے والد میرے ساتھ خفا تھے، میں اپنی بیوی سے بدتمیزی کرتا تھا، میں نے اپنے بچوں کو کبھی پیار نہیں کیا، میں ملازموں کو وقت پر تنخواہ نہیں دیتا تھا اور میں نے اپنے لان میں گلاب کے پھول لگوائے تھے لیکن میں ان کے پاس نہ بیٹھ سکا. میں نے ہمیشہ اپنے جسم کو اللہ تعالیٰ کی کبریائی سے مقدم رکھا. میں تین منٹ میں سب سے معافی مانگنا چاہتا ہوں اور میں اپنے گلابوں کو چھو کر دیکھنا چاہتا ہوں‘‘

ہم سب سناٹے میں آ گئے. پہلوان کی بات ابھی جاری تھی کہ دوسرا بول پڑا۔
یہ ایگزیکٹو قسم کا سیریس مردہ تھا. اس کے چہرے پر کامیاب بزنس مین کا اعتماد تھا. کامیابی انسانی چہرے پر اعتماد کی چند لکیریں چھوڑ جاتی ہے، یہ لکیریں کامیاب لوگوں کو عام اشخاص سے مختلف بنا دیتی ہیں. آپ دنیا کے مختلف کامیاب لوگوں کی تصویریں لیں، یہ تصویریں میز پر رکھیں اور غور سے دیکھیں. آپ کو تمام چہروں پر خاص قسم کا اعتماد ملے گا اور وہ خاص اعتماد اس کے چہرے پر بھی موجود تھا!
میں نے اس سے پوچھا ’’ تم بھی مر گئے؟‘‘
اس نے افسوس سے سر ہلایا اور جواب دیا ’’ میں بھی اس بات پر حیران ہوں. میں دنیا کے بہترین ڈاکٹر، اعلیٰ ترین اسپتال اور مہنگی ترین دوائیں افورڈ کر سکتا تھا. میں نے دنیا کی مہلک ترین بیماریوں کی ویکسین لگوا رکھی تھی. میں امریکا اور یورپ کی بہترین لیبارٹریوں سے ہر چار ماہ بعد اپنے ٹیسٹ کرواتا تھا۔
ہفتے میں دو بار اسٹیم باتھ لیتا تھا، میں ڈائیٹ چارٹ کے مطابق خوراک کھاتا تھا. ہر ہفتے فل باڈی مساج کرواتا تھا. میں کام کا سٹریس بھی نہیں لیتا تھا. میں نے ہمیشہ بلٹ پروف گاڑی اور ذاتی جہاز میں سفر کیا‘ میرے پاس پانچ ہزار لوگ ملازم تھے. یہ لوگ میرا سارا سٹریس اٹھا لیتے تھے اور میں صرف عیش کرتا تھا مگر پھر مجھے کھانسی آئی‘ میں نیچے جھکا‘ فرش پر گرا اور مر گیا اور میں پچھلے تین منٹ سے یہ سوچ رہا ہوں‘ میں کیسے مر سکتا ہوں‘ میں نے تو کبھی مرنے کے بارے میں سوچا ہی نہیں تھا‘‘
میں نے اس سے پوچھا ’’ تم اب کیا چاہتے ہو‘‘
اس نے تڑپ کر جواب دیا ’’ تین منٹ کی زندگی‘ میں واپس جا کر اپنی ساری دولت ویلفیئر کے لیے وقف کرنا چاہتا ہوں‘ میں اس سے فری میڈیکل کالج‘ ملک کا سب سے بڑا تھیلیسیمیا اسپتال یا پھر ملک کی سب سے بڑی سائنس یونیورسٹی بنانے کا حکم دوں گا اور پھر واپس آ جاؤں گا۔

ابھی اس کی بات جاری تھی تیسرا مردہ بول پڑا‘ یہ مردہ چال ڈھال اور شکل شباہت سے سیاستدان دکھائی دیتا تھا‘ دنیا کے تمام سیاستدانوں کے چہروں پر مکاری ہوتی ہے‘ اس کے چہرے پر بھی مکاری موجود تھی.
میں نے پوچھا ’صاحب آپ بھی فوت ہو گئے‘‘
وہ دکھ میں ڈوبی آواز میں بولا ’’ ہاں اور میں اسی بات پر حیران ہوں‘ سوچ رہا ہوں‘ میں کیسے مر سکتا ہوں‘ میں تو وہ شخص تھا جس کے ایک نعرے پر لوگ جان دیتے تھے‘ میری گرفتاری‘ میری قید پر میرے ورکر خود سوزی کر لیتے تھے‘ لوگ مجھ سے ٹکٹ لینے کے لیے گیارہ ہزار وولٹ کے کھمبے پر چڑھ جاتے تھے۔
میرے جوتے اٹھا کر سینے سے لگا لیتے تھے اور میں اس وقت تک کوئی چیز کھاتا تھا اور نہ ہی پیتا تھا میرے ڈاکٹر جب تک اس کی تصدیق نہیں کر دیتے تھے. میں ہمیشہ بلٹ پروف شیشوں کے پیچھے رہا اور میں تقریر بھی بلٹ پروف کیبن میں کھڑے ہو کر کرتا تھا‘ میں ہر مہینے عمرے کے لیے جاتا تھا اور ہر دوسرے دن دو لاکھ روپے خیرات کرتا تھا مگر آج اچانک میرے سر میں درد ہوا‘ میں نے کنپٹی دبائی‘ میرے دماغ میں ایک ٹیس سی اٹھی‘ میں نے چیخ ماری اور میں مر گیا۔
میرے ڈاکٹر مجھے زندہ کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں مگر میں اب آپ کے ساتھ کھڑا ہوں‘‘
میں نے اس سے بھی پوچھا ’’ آپ کی اس وقت سب سے بڑی خواہش کیا ہے‘‘
اس نے ہنس کر جواب دیا ’’ تین منٹ کی زندگی‘
میں اس دنیا کے تمام سیاستدانوں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں‘ آپ موت سے نہیں بچ سکتے چنانچہ عوام اور اپنے درمیان سے بلٹ پروف شیشے ہٹا دیں‘ خدمت اور تبدیلی وہی ہے جو آپ آج لے آئے‘ اگر آج کی ٹرین مس کر دی تو دوبارہ نہیں پکڑ سکیں گے‘ آپ خادم ہیں تو خدمت کریں نعرے نہ لگائیں‘‘
وہ خاموش ہوا تو چوتھا مردہ بول پڑا۔
یہ مسکین مردہ تھا‘ نائین ٹو فائیو والا مسکین شخص‘ یہ لوگوں کی وہ کلاس ہے جو کندھے پر کوہلو کا شہتیر لے کر پیدا ہوتی ہے اور زندگی ایک دائرے میں گزار دیتی ہے‘ یہ قانون کے اس قدر پابند ہوتے ہیں کہ یہ قانون کی لکیر پر اپنا اور کسی دوسرے کا پاؤں نہیں آنے دیتے‘ یہ ناک کی سیدھ میں زندگی گزارتے ہیں اور ناک ٹیڑھی ہونے دیتے ہیں اور نہ ہی زندگی‘
میں نے اس سے پوچھا ’’ تم بھی مر گئے‘‘
اس نے کہا ’’ یہ ہی تو پریشانی ہے‘ میں نے زندگی میں کبھی غلطی نہیں کی‘ حرام کو ہاتھ تک نہ لگایا‘ پونے آٹھ بجے دفتر پہنچا‘ چھٹی کے بعد آدھ گھنٹہ دفتر بیٹھا‘ ہمیشہ فائلیں گھر لے کر آیا اور اپنے عزیز ترین شخص کو بھی کوئی رعایت نہیں دی‘ پانچ وقت نماز پڑھی‘ پورے روزے رکھے‘ اپنے ضمیر کو ہمیشہ مطمئن رکھا۔
نفس کو خواہشوں کے ڈنگ سے بچا کر رکھا مگر میں اس کے باوجود مارا گیا‘
میں نے پوچھا ’’ تم کیسے مارے گئے‘‘
اس نے جواب دیا ’’ میں چھت سے اپنی قمیض اتارنے گیا‘ آوارہ گولی آئی‘ سر میں لگی اور میں بیالیس سیکنڈ میں زندگی کی حد کراس کر گیا‘‘
میں نے پوچھا ’’ تم اب کیا چاہتے ہو‘‘
اس نے فوراً جواب دیا ’’ میں بھی تین منٹ کی اضافی زندگی چاہتا ہوں‘ میں ان تمام سائلوں سے معافی مانگنا چاہتا ہوں جنھیں میں نے جعلی ضابطوں اور جھوٹے اصولوں کی ٹکٹکی پر لٹکائے رکھا‘ میں اپنے کولیگز کو بھی یہ بتانا چاہتا ہوں‘ ضابطے انسانوں کے لیے ہیں‘ انسان ضابطوں کے لیے نہیں‘ آپ کو کسی کے جائز کام کے لیے ضابطے کی ساری کتاب بھی قربان کرنی پڑے تو کر جائیں کیونکہ آپ نے اصول پسندی کی اس جھوٹی ضد کے باوجود اچانک مر جانا ہے‘‘
ابھی اس کی بات جاری تھی کہ مولوی صاحب کا مردہ سیدھا ہو گیا۔
ان کے ماتھے پر زہد اور تقویٰ کا محراب تھا‘ گردن عجز اور انکساری کے بوجھ سے جھکی ہوئی تھی‘
میں نے انھیں پوچھا ’’ حضور آپ بھی مر چکے ہیں‘‘
مولوی صاحب بولے ’’ میں بھی اس بات پر حیران ہوں‘ میں نے زندگی میں سیکڑوں جنازے پڑھائے‘ اپنی ہر تقریر میں موت‘ میدان حشر اور حساب کا ذکرکیا لیکن اس کے باوجود مجھے یقین تھا میں نہیں مروں گا‘ اللہ تعالیٰ مجھے سو سال سے زائد عمر دے گا اور میں جب تک موت کے فرشتے کو اجازت نہیں دوں گا یہ میرے بستر کے قریب نہیں پھٹکے گا مگر ہوا اس سے الٹ‘ میں موٹر سائیکل سے گرا اور ٹرک میرے اوپر سے گزر گیا اور مجھے بھی اب صرف تین منٹ چاہئیں۔
میں دنیا کو بتانا چاہتا ہوں ہم لوگ آپ کو جو مذہب سکھا رہے ہیں‘ یہ غلط ہے‘ آپ کو اللہ‘ کتاب اور رسولؐ کے سواکسی مولوی‘ کسی پیر‘ فقیر کی ضرورت نہیں‘ اللہ سے اپنی غلطیوں‘ گناہوں اور کوتاہیوں کی معافی مانگو‘ نماز نہیں پڑھتے تو بھی نماز کے وقت قبلہ رو ہو کر آنکھیں بند کرو اور صرف تین سیکنڈ کے لیے اللہ سے کہو‘ یا اللہ میں حاضر ہو گیا‘ مجھے معاف کر دے‘ قرآن مجید ترجمے کے ساتھ پڑھو اور رسولؐ کی کوئی ایک سنت پوری زندگی سنوارنے کے لیے کافی ہے‘
اس کی بات ابھی ادھوری تھی کہ وہ میری طرف مڑے اور مجھ سے پوچھا ’’ اف جاوید چوہدری تم بھی مر گئے‘ تمہیں تو نہیں مرنا چاہیے تھا‘‘۔
مردوں کی اف میری روح میں ترازو ہوگئی‘ میں نے سوچا ’’ واقعی میں کیسے مر سکتا ہوں‘ میں ڈسپلن میں رہنے والا شخص ہوں‘ میں نے تو ابھی مرنے کا منصوبہ ہی نہیں بنایا تھا مگر میں سویا اور صبح اٹھ نہ سکا‘ میری ننھی بیٹیاں مجھے اٹھاتی رہیں‘ یہ میرے اوپر چھلانگیں لگاتی رہیں‘ ان کا خیال تھا میں ان کے ساتھ مذاق کر رہا ہوں‘ میں ابھی بھی اٹھوں گا‘ مگر میں نہ اٹھا اور ان کے قہقہے چیخوں میں بدل گئے‘ میں نے زندگی میں اپنی بچیوں کو کبھی دکھ نہیں دیا‘ میں انھیں زندگی میں پہلی بار روتے‘ چیختے دیکھ رہا ہوں اور ان کی چیخیں میری روح کو تار تار کر رہی ہیں‘ مجھے بھی تین منٹ چاہیے تھے‘ صرف تین منٹ‘ میں ان کی گیلی پلکوں پر بوسہ دینا چاہتا ہوں‘ میں انھیں روز کی طرح اسکول بھجوانا چاہتا ہوں‘ خدا کے لیے مجھے صرف تین منٹ چاہئیں‘ کوئی مجھے یہ تین منٹ دے دے گا؟ خدا کے لیے‘‘۔

(جاوید چوہدری)
____________________

08/06/2017

ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﮐﻮ ﮨﻨﺴﻨﺎ ﻣﻨﻊ ﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﺩ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﮐﻮ ﭘﮍﮬﻨﺎ __

ﻓﯿﺲ ﺑﮏ ﮐﮯ ﺩﺷﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﮐﺜﺮ ﻣﺮﺩ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﮐﯽ ﺗﻼﺵ ﻣﯿﮟ ﻣﺎﺭﮮ ﻣﺎﺭﮮ ﭘﮭﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﯿﺴﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﯿﻠﮯ ﭨﮭﯿﻠﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺮﺍ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ .. ﺍﺱ ﻣﻌﺎﻣﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﻋﻤﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﮐﺎ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮕﺎﮌﺗﯽ ... ﺑﯿﭽﺎﺭﮮ ﻣﮩﯿﻨﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﺤﻨﺖ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻻﺋﮏ ﺍﻭﺭ ﮐﻤﻨﭧ ﮐﮯ ﺟﺎﻥ ﻟﯿﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺘﮭﮏ ﻣﺸﻘﺖ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻧﺒﺎﮐﺲ ﮐﺎ ﺭﺥ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ .. ﺍﻧﺒﺎﮐﺲ ﺳﻔﺮ ﺟﻮﻧﮩﯽ ﻭﭨﺲ ﺍﯾﭗ ﮐﺎ ﺳﮩﺎﺭﮦ ﻟﯿﻨﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﺗﺎ ﮬﮯ ﺗﻮ ﻓﻮﻥ ﺑﮏ ﻣﯿﮟ ﻧﻤﺒﺮ ﺍﯾﮉ ﮐﺮﺗﮯ ﮬﯽ ﺗﻮ ﻧﻮﮮ ﻓﯽ ﺻﺪ ﺣﯿﺮﺍﻧﯽ ﺍﻭﺭ ﺻﺪﻣﮯ ﮐﮯ ﮬﺎﺗﻮﮞ ﺫﮬﻨﯽ ﮐﺸﻤﮑﺶ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮬﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮬﯿﮟ ﺟﺐ ﺍﯾﻤﻮ ﺳﮯ ﻣﯿﺎﮞ ﺑﺸﯿﺮ ﮐﮯ ﺍﯾﻤﻮ ﺟﺎﺋﻦ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻣﯿﺴﺞ ﻣﻠﺘﺎ ﮬﮯ ....
ﻓﯿﺲ ﺑﮏ ﭘﮧ ﺍﮐﺜﺮ ﻣﺮﺩ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﮐﺎ ﭘﺴﻨﺪﯾﺪﮦ ﻣﻮﺿﻮﻉ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﮐﮯ ﺣﻘﻮﻕ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﺎ ﭘﺮﺩﮦ ﮬﮯ ... ﻣﮕﺮ ﺟﻮﻧﮩﯽ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺳﯽ ﺑﮯ ﺗﮑﻠﻔﯽ ﮬﻮﺗﯽ ﮬﮯ ﺍﻧﺒﺎﮐﺲ ﻣﯿﮟ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﻣﺎﻧﮕﻨﺎ ﺍﭘﻨﺎ ﺷﺮﻋﯽ ﺣﻖ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﮬﯿﮟ ... ﭘﻨﺪﻭ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﻻﺟﻮﺍﺏ ﺫﺧﯿﺮﮦ ﺍﻧﮩﯽ ﺍﺯﺑﺮ ﯾﺎﺩ ﮬﻮﺗﺎ ﮬﮯ ... ﺩﮐﮫ ﺗﻮ ﯾﮧ ﮬﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﻣﺮﺩ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﺑﮭﯽ ﻓﯿﺲ ﺑﮏ ﭘﮧ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﻗﺎﺋﺪ ﺍﻋﻈﻢ ﺛﺎﻧﯽ ﺳﻤﺠﮫ ﺭﮬﮯ ﮬﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ .. ﺟﻨﮩﯿﮟ ﻧﮧ ﺗﻮ ﻗﺎﺋﺪ ﺍﻋﻈﻢ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﭘﺘﺎ ﮬﻮﺗﺎ ﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮬﯽ ﺛﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﻟﻔﻆ ﮐﮯ ﮨﺠﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﻌﻨﯽ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮬﻮﺗﮯ ﮬﯿﮟ ... ﻋﻼﻣﮧ ﺍﻗﺒﺎﻝ , ﺷﯿﺦ ﺳﻌﺪﯼ , ﻣﻮﻻﻧﺎ ﺭﻭﻡ , ﻭﺍﺻﻒ ﻋﻠﯽ ﻭﺍﺻﻒ , ﺍﺷﻔﺎﻕ ﺍﺣﻤﺪ , ﺑﺎﻧﻮ ﻗﺪﺳﯿﮧ , ﻣﻤﺘﺎﺯ ﻣﻔﺘﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﻥ ﮐﯽ ﭘﻮﺳﭧ ﺍﮐﺜﺮ ﻗﺮﺁﻥ ﺍﻭﺭ ﺣﺪﯾﺚ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﺰﯾﻦ ﮬﻮﺗﯽ ﮬﯿﮟ ... ﻣﮕﺮ ﻣﺠﺎﻝ ﮬﮯ ﮐﮧ ﭼﻮﺭﯼ ﮐﯽ ﯾﮧ ﭘﻮﺳﭧ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻋﻠﻢ ﺍﻭﺭ ﻋﻤﻞ ﻣﯿﮟ ﭘﺨﺘﮕﯽ ﮐﺎ ﺑﺎﻋﺚ ﺑﻨﯽ ﮬﻮﮞ ... ﺍﺳﻼﻡ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﺍﻭﺭ ﻭﺍﺑﺴﺘﮕﯽ ﮐﺎ ﺣﺎﻝ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﻗﺎﺑﻞ ﺭﺣﻢ ﮬﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮬﮯ ﺟﺐ ﺷﺐ ﻣﻌﺮﺍﺝ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺷﺐ ﺑﺮﺍﺕ ﮐﮧ ﮐﺮ ﮔﻨﺎﮬﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﻌﺎﻓﯽ ﺍﻭﺭ ﺩﻋﺎﺅﮞ ﮐﯽ ﺩﺭﺧﻮﺍﺳﺖ ﮐﺮ ﺭﮬﮯ ﮬﻮﺗﮯ ﮬﯿﮟ ..
ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﮐﮯ ﺑﺮﻋﮑﺲ ﻣﺮﺩ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﮐﯽ ﮈﯼ ﭘﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺭ ﻓﻮﭨﻮ ﺑﮭﯽ ﺗﻔﺮﯾﺢ ﺍﻭﺭ ﻣﺰﺍﺡ ﮐﺎ ﻧﺎﺩﺭ ﻧﻤﻮﻧﮧ ﮬﻮﺗﯽ ﮬﯿﮟ ... ﺟﻮ ﺍﯾﮏ ﻋﺪﺩ ﮔﺎﮌﯼ ﺍﻭﺭ ﮐﮭﻮﭨﮭﯽ ﮐﮯ ﻭﺳﯿﻊ ﻭﻋﺮﯾﺾ ﻻﻥ ﭘﮧ ﻣﺸﺘﻤﻞ ﮬﻮﺗﯽ ﮬﯿﮟ ... ﺑﻤﺸﮑﻞ ﭘﺎﻧﭻ ﻓﭧ ﮐﮯ ﻓﺮﺿﯽ ﺷﮩﺰﺍﺩﮮ ﺑﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﺧﻮﺑﺮﻭ ﺩﻭﺷﯿﺰﮦ ﮐﯽ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺣﺴﺮﺕ ﮐﮯ ﺧﻮﺍﺏ ﺳﺠﺎﺋﮯ ﺭﻭﺯ ﮈﯼ ﭘﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺭ ﻓﻮﭨﻮ ﺍﯾﺴﮯ ﺑﺪﻟﺘﮯ ﮬﯿﮟ ... ﺟﯿﺴﮯ ﻭﯾﺴﭧ ﺍﻧﮉﯾﺰ ﮐﯽ ﮐﺮﮐﭧ ﭨﯿﻢ ﻣﯿﭻ ﺟﯿﺘﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺟﺸﻦ ﮐﺎ ﺳﭩﺎﺋﻞ ﺑﺪﻟﺘﯽ ﮬﮯ .. ... ﺍﻭﺭ ﺳﭻ ﺗﻮ ﯾﮧ ﮬﮯ ﮐﮧ ﺍﻥ ﻓﺮﺿﯽ ﺷﮩﺰﺍﺩﻭﮞ ﮐﺎ ﺭﻧﮓ ﺭﻭﭖ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﮩﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﯿﭻ ﮬﻮﺗﺎ ﮬﮯ ...
ﺷﺎﺩﯼ ﺷﺪﮦ ﻣﺮﺩ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﮐﺎ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﺗﻮ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﯽ ﻋﺠﯿﺐ ﮬﮯ ... ﺟﻦ ﮐﺎ ﻣﯿﺮﭨﯿﻞ ﺳﭩﯿﭩﺲ ﺑﺎﺭﮦ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﮭﯽ ﻏﯿﺮ ﺷﺎﺩﯼ ﺷﺪﮦ ﮬﯽ ﺭﮬﺘﺎ ﮬﮯ ... ﺍﻥ ﮐﯽ ﺁﯼ ﮈﯼ ﻧﺎﻡ ﺗﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺮﺿﯽ ﮐﮯ ﮬﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﯾﮧ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﮬﺮ ﭨﺎﺋﻢ ﺍﻧﺠﺎﻧﮯ ﺧﻮﻑ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮬﻮﺗﮯ ﮬﯿﮟ ... ﯾﮧ ﻧﺮﮔﺲ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮐﮯ ﻣﻌﺼﻮﻡ ﺑﻨﺘﮯ ﮬﯿﮟ .. ﺍﻭﺭ ﻧﺼﯿﺒﻮ ﻟﻌﻞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮐﮯ ﺍﻧﺠﺎﻥ .. ﺍﻥ ﮐﯽ ﻓﺮﯾﻨﮉ ﻟﺴﭧ ﻣﯿﮟ ﻋﺎﻡ ﻃﻮﺭ ﭘﮧ ﻭﮦ ﻟﻮﮒ ﮬﻮﺗﮯ ﮬﯿﮟ ﺟﻮ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺭﺍﮬﻮﮞ ﮐﮯ ﮬﯽ ﻣﺴﺎﻓﺮ ﮬﻮﺗﮯ ﮬﯿﮟ ... ﻓﺮﯾﻨﮉ ﻟﺴﭧ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﺩﻭﺭ ﮐﮯ ﺭﺷﺘﮯ ﺩﺍﺭ ﮐﮯ ﺑﮭﯽ ﺭﺷﺘﮯ ﺩﺍﺭ ﮐﻮ ﺷﺎﻣﻞ ﮐﺮﻧﺎ ﮔﻨﺎﮦ ﮐﺒﯿﺮﮦ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﮬﯿﮟ ... ﺍﺱ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺖ ﭘﮧ ﺗﺮﺱ ﺁﺗﺎ ﮬﮯ ﺟﻮ ﮐﺴﯽ ﻓﯿﺲ ﺑﮏ ﭘﺮﻧﺴﺰ ﮐﮯ ﭼﮑﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﭘﺮﺳﻨﺴﺰ ﮐﻮ ﻃﻼﻕ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﺎ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺗﮩﯿﮧ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﻣﺎﻧﮕﺘﺎ ﮬﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺣﻮﺵ ﮐﮯ ﻃﻮﻃﮯ ﺍﮌ ﺟﺎﺗﮯ ﮬﯿﮟ ﺟﺐ ﭘﺮﺳﻨﺰ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﮬﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﻧﮑﻠﺘﯽ ﮬﮯ ... ﯾﻮﮞ ﻭﮦ ﻓﯿﺲ ﺑﮏ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﺴﯿﻨﺠﺮ , ﺍﯾﻤﻮ ﺍﻭﺭ ﻭﺍﭨﺲ ﺍﯾﭗ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﻨﺎﺭﮦ ﮐﺸﯽ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﺎ ﮬﮯ ....
ﺍﯾﮏ ﮔﺮﻭﮦ ﮐﮯ ﺗﺰﮐﺮﮦ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﯾﮧ ﭘﻮﺳﭧ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﺮﺩﻭﮞ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﺗﻮﮨﯿﻦ ﮬﮯ . ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﮔﺮﻭﮦ ﮬﮯ ﮔﺮﻭﭖ ﮬﮯ ﻓﯿﺲ ﺑﮏ ﮐﯽ ﺳﺴﮍﺭﺯ ﮐﮯ ﺑﮭﺎﺋﯿﻮﮞ ﮐﺎ ... ﺍﻥ ﮐﯽ ﺳﺴﭩﺮﺯ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﻏﯿﺮ ﻣﻠﮑﯽ ﻗﺮﺿﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺩﻥ ﺩﻭﮔﻨﯽ ﺭﺍﺕ ﭼﻮﮔﻨﯽ ﺗﺮﻗﯽ ﮐﺮﺗﯽ ﮬﮯ ... ﮬﺮ ﻧﺌﯽ ﺳﺴﭩﺮ ﮐﻮ ﺣﻘﯿﻘﯽ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﮐﺎ ﺳﺎ ﮨﻘﯿﻦ ﺩﻻﻧﺎ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺷﺮﻋﯽ ﻓﺮﺍﺋﺾ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮬﮯ .. ﻣﮕﺮ ﺍﻥ ﮐﯽ ﭘﻮﺳﭧ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﻗﺎﺑﻞ ﺭﺣﻢ ﮬﻮﺗﯽ ﮬﯿﮟ ﺟﺐ ﺳﺴﭩﺮ ﮐﮯ ﺑﮭﺎﺋﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﮐﺎ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﮬﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮬﮯ ... ﺍﻭﺭ ﯾﻮﮞ ﻭﮦ ﺳﺴﭩﺮ ﮐﮯ ﻏﻢ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﻭﯾﺶ ﺍﻭﺭ ﺳﻨﯿﺎﺳﯽ ﺑﺎﺑﮯ ﮐﺎ ﺭﻭﭖ ﺩﮬﺎﺭ ﻟﯿﺘﮯ ﮬﯿﮟ ... ﺍﻭﺭ ﻣﺤﺒﺖ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﻭﻓﺎﺋﯽ ﭘﮧ ﻟﯿﮑﭽﺮ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﺳﭧ ﮬﯽ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺷﻨﺎﺧﺖ ﺗﺼﻮﺭ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮬﯿﮟ ....
ﺍﯾﮏ ﮔﺮﻭﮦ ﮐﺎ ﺗﺬﮐﺮﮦ ﺗﻮ ﺁﭖ ﭼﮭﻮﮌ ﮬﯽ ﺩﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﮔﺮﻭﮦ ﮬﮯ ﺍﯾﮉﻣﻦ ﻣﺮﺩ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﮐﺎ ... ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺑﯿﺸﺘﺮ ﻭﮦ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﮨﯿﮟ .. ﺟﻨﮩﯿﮟ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﮯ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺩﻓﻌﮧ ﺳﺎﻟﻦ ﺑﮭﯽ ﺷﻨﺎﺧﺘﯽ ﮐﺎﺭﮈ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﮯ ﺩﯾﺘﮯ ﮬﯿﮟ ......

05/06/2017

بچو آؤ مل کےاردو زبان سیکھیں......😂

جانوروں کے بچہ کو ہم بچہ ہی کہتے ہیں ، سانپ کا بچہ ، الو کا بچہ ، بلی کا بچہ ؛ لیکن اردو میں ان کے لیے جدا جدا لفظ ہیں ۔ مثلاً :
بکری کا بچہ : میمنا
بھیڑ کا بچہ : برّہ
ہاتھی کا بچہ : پاٹھا
الوّ کا بچہ : پٹھا
بلی کا بچہ : بلونگڑہ

بچھڑا : گھوڑی کا بچہ
کٹڑا : بھینس کا بچہ
چوزا : مرغی کا بچہ
برنوٹا : ہرن کا بچہ
سنپولا : سانپ کا بچہ
گھٹیا : سور کا بچہ

اسی طرح بعض جانداروں اور غیر جانداروں کی بھیڑ کے لیے خاص الفاظ مقرر ہیں ۔جو اسم جمع کی حیثیت رکھتے ہیں ؛ مثلاً : طلباء کی جماعت ، رندوں کا حلقہ ، بھیڑوں کا گلہ ، بکریوں کا ریوڑ ، گووں کا چونا ، مکھیوں کا جھلڑ ، تاروں کا جھڑمٹ یا جھومڑ ، آدمیون کی بھیڑ ، جہازوں کا بیڑا ، ہاتھیوں کی ڈار، کبوتروں کی ٹکڑی، بانسوں کا جنگل ، درختوں کا جھنڈ ، اناروں کا کنج ، بدمعاشوں کی ٹولی ، سواروں کا دستہ ، انگور کا گچھا، ٹڈیاں کا ٹڈی دَل ، کیلوں کی گہل ، ریشم کا لچھا ، مزدوروں کا جتھا ،فوج کا پرّا ، روٹیوں کی ٹھپی، لکڑیوں کا گٹھا ، کاغذوں کی گڈی ، خَطوں کا طومار، بالوں کا گُچھا، پانوں کی ڈھولی ، کلا بتوں کی کنجی ۔

اردو کی عظمت کا اندازہ اس سے کیجیے کہ ہر جانور کی صوت کے لیے علیحدہ لفظ ہے ، مثلا :
شیر دہاڑتا ہے ، ہاتھی چنگھارتا ہے ، گھوڑا ہنہناتا ہے ، گدھا ہیچوں ہیچوں کرتا ہے ، کتا بھونکتا ہے ، بلی میاؤں کرتی ہے، گائے رانبھتی ہے ، سانڈ ڈکارتا ہے ، بکری ممیاتی ہے ، کوئل کوکتی ہے ، چڑیا چوں چوں کرتی ہے ، کوا کائیں کائیں کرتا ہے ، کبوتر غٹر غوں کرتا ہے ، مکھی بھنبھناتی ہے ، مرغی کرکڑاتی ہے، الو ہوکتا ہے ، مور چنگھارتا ہے ، طوطا رٹ لگاتا ہے ، مرغا ککڑوں ککڑوں کوں کرتا ہے ، پرندے چہچہاتے ہیں ، اونٹ بغبغاتا ہے، سانپ پھنکارتا ہے ، گلہری چٹ چٹاتی ہے ، مینڈک ٹرٹراتا ہے ، جھینگر جھنگارتا ہے ، بندر خوخیاتا ہے ،

کئی چیزوں کی آوازوں کے لیے مختلف الفاظ ہیں مثلا
بادل کی گرج، بجلی کی کڑک ، ہوا کی سنسناہٹ ، توپ کی دنادن ، صراحی کی گٹ گٹ ،گھوڑے کی ٹاپ ، روپوں کی کھنک ، ریل کی گھڑ گھڑ، گویوں کی تا تا ری ری، طبلے کی تھاپ، طنبورے کی آس، گیند کی گونج،گھڑیال کی ٹن ٹن، چھکڑے کی چوں، اور چکی کی گھُمر۔
ان اشیاء کی خصوصیت کے لیے ان الفاظ پر غور کیجیے:
موتی کی آب ، کندن کی دمک، ہیرے کی ڈلک ، چاندنی کی چمک ، گھنگھرو کی چھُن چھُن ،دھوپ کا تڑاقا ۔ بو کی بھبک ،عطر کی لپٹ ،پھول کی مہک ۔
مسکن کے متعلق مختلف الفاظ
جیسے بارات کا محل ،بیگموں کا حرم ، رانیوں کا انواس، پولیس کی بارک ، رشی کا آشرم ، صوفی کا حجرہ ،فقیہ کا تکیہ یا کٹیا ،بھلے مانس کا گھر ، غریب کا جھونپڑا ، بھڑوں کا چھتا ، لومڑی کا بھٹ ،پرندوں کا گھونسلہ ، چوہے کا بل ،سانپ کی بانبی ،فوج کی چھاونی ،مویشی کا کھڑک ، گھوڑے کا تھان

02/06/2017

بابا کی پرنسس کی رمضان کی روٹین
۔
سحری کے وقت
دہی اور چھوٹی الائچی والی "پیاس بچاؤ" پوسٹ
سحری کے بعد
دو آیتیں بمعہ ترجمہ "کاپی پیسٹ" اور پھر برتن دھو کر لمبی تان کر "لم لیٹ"
12 بجے اُٹھ کر
گرمی کے خلاف واویلا اور واپڈا والوں کے لیے بدعاؤں کی ایک پوسٹ
2 بجے
روزہ لگنے کا اعلان اور پھر لمبا آرام
4 بجے
روزہ کب کھلے گا؟ والی ایک نہایت معلوماتی پوسٹ
5 بجے
چکن بریانی کی ریسپی کی ایک پوسٹ
6 بجے
پکوڑوں اور دہی بھلوں کی ایک تصویر
6:30 بجے
فٹافٹ تیار ہوجانے والے رمضان مشروب کا ایک جگ دسترخوان (وال) پر سجایا
روزہ جلدی کھلنے کی کچھ دعائیں کرائیں
گوگل سے افطار دسترخوان کی چند تصاویر ڈاؤنلوڈ کر کے پوسٹ کیں
اور
فیس بک بند کر کے جلدی سے منہ ہاتھ دھو کر دسترخوان پر بیٹھ کر امی کو آواز لگائی
۔
۔
۔
۔

"امی ٹینڈیاں دا سالن وی گرم کر لینا"
نی ویلیے ! او تے کل ای مُک گیا سی اَج گھیا توری بنائی اے۔۔۔😜😜

25/05/2017

Address

Faisalabad
38000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when •o.O ••Still Same•• O.o• posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to •o.O ••Still Same•• O.o•:

Shortcuts

Share

Category