29/11/2017
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ } قَالَ " يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ ـ أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا ـ اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ، لاَ أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ لاَ أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، يَا عَبَّاسُ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لاَ أُغْنِي عَنْكَ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، وَيَا صَفِيَّةُ عَمَّةَ رَسُولِ اللَّهِ لاَ أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، وَيَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَلِينِي مَا شِئْتِ مِنْ مَالِي لاَ أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ". تَابَعَهُ أَصْبَغُ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ
Narrated By Abu Huraira : When Allah revealed the Verse: "Warn your nearest kinsmen," Allah's Apostle got up and said, "O people of Quraish (or said similar words)! Buy (i.e. save) yourselves (from the Hellfire) as I cannot save you from Allah's Punishment; O Bani Abd Manaf! I cannot save you from Allah's Punishment, O Safiya, the Aunt of Allah's Apostle! I cannot save you from Allah's Punishment; O Fatima bint Muhammad! Ask me anything from my wealth, but I cannot save you from Allah's Punishment."
ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ،انہوں نے زہری سے کہا مجھ کو سعید بن مسیب اور ابو سلمہ بن عبد الرحمن نے خبر دی کہ ابو ہریرہؓ نے کہا جب سورت شعراء کی یہ آیت اللہ تعالیٰ نے اتاری اور اپنے نزدیک کے ناطے والوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرا تو آپؐ نے یہ فرمایا کہ قریش کے لوگو!یا ایسا ہی کوئی اور کلمہ تم لوگ اپنی اپنی جانوں کو (نیک اعمال کے بدل )مول لے لو (بچالو) میں اللہ کے سامنے تیرےکچھ کام نہیں آنے کا (یعنی اس کی مرضی کے خلاف میں کچھ نہیں کر سکنے کا )عبد مناف کے بیٹو !میں اللہ کے سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آنے کا ۔عباس،عبد المطلب کے بیٹےمیں اللہ کے سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آنے کا۔صفیہ میری پھوپھی! میں اللہ کے سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آنے کا۔فاطمہؓ بٹیا !تو چاہے جو میرا مال مانگ لے لیکن اللہ کے سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آنے کا۔ ابو الیمان کے ساتھ اس حدیث کو اصبغ نے بھی عبد اللہ بن وہب سے ،انہوں نے یونس سے ،انہوں نے ابن شہاب سے روایت کیا۔
(بخاری شریف کتاب الوصایا حدیث نمبر 15 )