16/09/2021
*15/09/2021*
*تحریر؛!!سید مدبر شاہ*
*یارن مارکیٹ میں بھونچال*
کھارادر کراچی سے لے کر فیصل آباد سوتر مارکیٹ تھا ایک سراسمگی صاف نظر آ رہی ہے یارن مارکیٹ کریش حالت میں ہے 31 پی سی رنگ سپن یارن جو 215 سے 240 روپیے تھا اس وقت پنجاب مارکیٹ میں اس کا کیش خریدار 200 سے 215 لگا رہا ہے جبکہ ایکسپورٹرز کا کہنا ہے کہ ان کی کاسٹ 195 سے اوپر نہیں ہے
جبکہ 20 سنگل کاٹن 2000 سے 3000 بورا کم ریٹ مارکیٹ میں نظر آ رہا ہے
جبکہ باقی تمام اقسام کے یارن کی قیمتوں میں بھی کمی ہوئی ہے
حقیقت یہ ہے کہ آٹو کورو کے یارن نے رنگ سپن یارن کو امتحان میں ڈالا ہوا ہے کیونکہ آٹو کارو 20سے 40فیصد کم ریٹ پر دستیاب ہے
کراچی کی کریڈٹ والی یارن مارکیٹ جہاں گزشتہ دو ماہ سے قیمت نہیں
ٹائم فروخت ہو رہا تھا مطلب یارن خریدنے والا ریٹ بعد میں پوچھتا تھا اور پہلے پوچھتا تھا کریڈٹ کتنے دنوں کا ملے گا اس وقت وہاں بھی خاموشی ہے
انڈیا اور بنگلا دیش کا ایکسپورٹرز یورپ اور امریکہ میں پاکستانی ایکسپورٹرز سے 10 فیصد کم کر کے آفر لگا رہا ہے
کنٹینرز کے زائد کرایوں کو ہینڈل کرنے کے لئے انڈین اور بنگلا دیشی ایکسپورٹرز امریکہ اور یورپ میں دو فیصد کم ریٹ کا کھیل جاری رکھے ہوئے ہیں
اب 170 کے ڈالر پر بھی اگر ہمارا ایکسپورٹ کرنے والا پریشان ہے اور اس کی کاسٹنگ نہیں ہو رہی تو صورتحال بہتر نہیں ہے
دلچسپ بات یہ ہے کہ اب پنجاب جہاں یارن کیش پر فروخت ہوتا تھا وہاں کی مارکیٹ بھی 30 فیصد کریڈٹ پر چلی گئی ہے
اور اس کی حقیقی وجہ 17فیصد سیلز ٹیکس ہے
دیکھا جائے تو اس وقت یارن مارکیٹ امید پر کھڑی ہے ڈالر زیادہ اوپر جائے گا تو بہتری آئے گی خام مال نیچے جائے گا تو بہتری آئے گی
ڈالر کو دیکھ کر کاٹن مارکیٹ میں مندا رک گیا ہے جبکہ سوموار سے شروع ہونے والے اگلے ہفتہ میں پولسٹر فائبر کی قیمتوں میں بھی اضافہ کے اشارے ہیں
اب سوال یہ ہے کہ کیا ٹیکسٹائل سیکٹر کا وہ ہنی مون پیریڈ ختم ہو گیا ہے جس میں ملوں نے 10سے 25 فیصد اپنی مشنری میں اضافہ کیا تھا
اور موجودہ حالات میں جب ٹیکسٹائل سیکٹر کو ریورس گیر لگ گیا ہے
اپٹما اور حکومت کی کیا حکمت عملی ہونی چاہیے کیونکہ ہمارے پاس ایکسپورٹ کرنے کے لئے ٹیکسٹائل مصنوعات کے علاؤہ کچھ بھی نہیں ہے
پاکستان میں ٹیکسٹائل سیکٹر والے اس اس بات پر متفق ہیں کہ یہ 17 فیصد سیلز ٹیکس حکومت فوری ختم کرے تاکہ ٹیکسٹائل سیکٹر کا سانس بحال ہو
ختم شد
03008281021
Send a message to learn more