24/05/2026
"آج سے 2 ماہ پہلے یہ معصوم بچی پشاور سے ایک عورت اٹھا لاتی ہے اور آگے عبدالوحید نامی ایک شخص kو دیتی ہے جو کچے کے علاقے میں اسے پیسوں کے عوض دے دیتا ہے، باپ کبھی شکارپور کبھی سندھ کے کسی پولیس سٹیشن میں چکر لگاتا ہے کوئی اسکی نہیں سنتا، سوشل میڈیا پر آواز اٹھائی جاتی ہے تو کچے کے ڈاکو اردو زبان میں کسی سے ایک ویڈیو بنواتے ہیں جہاں بتایا جاتا ہے کہ لڑکی کی ماں خود اسے یہاں چھوڑ گئی ہے جبکہ حقیقت میں بچی کی بازیابی کیلئے والدین نے 15 لاکھ روپے اکٹھے کر کے ڈاکوؤں کو دئیے لیکن پیسے لیکر بھی انہوں نے بچی وواپس نہیں کی تھی مگر ویڈیو جس میں بچی کہہ رہی ہے کہ مجھے میری ماں چھوڑ کر گئی ہے وائرل ہونے پر عوام تذبذب کا شکار ہو جاتی ہے لیکن باپ ہمت نہیں ہارتا یہ بات چلتے چلتے بلوچستان کے ایک بہادر سپوت دولت خان ترین تک جاتی ہے اور بہادر پختون KP سے بھی نکل آتے ہیں گاڑیوں کا لشکر سندھ میں داخل ہوتا ہے ویڈیوز اپ لوڈ ہوتی ہیں کہ اب پختون کچے کہ علاقے میں گھسنے آ رہے ہیں آوھنک سندھ پولیس اٹھتی ہے اور آپریشن شروع کر دیتی ہے اور اسی دن بچی کو وہاں دینے والا سرغنہ واصل جہنم ہو جاتا ہے اسی دن ڈاکوؤں کا مبینہ طور پر ٹھکانا ختم کر دیا جاتا ہے اور ایک لمبی پریس کانفرنس سے سندھ پولیس کے نام کامیابیاں سمیٹنا شروع ہو جاتے ہیں میرے نزدیک بچی حورم کے معاملے پر اگر یہ وائرل ناں ہوتی aگر اس کا باپ تھک جاتا اگر یہ پختون قوم گاڑیوں کا لشکر لیکر کچے کے علاقے میں گھسنے نہ نکلتی تو حورم کبھی بازیاب نہیں ہو سکتی تھی، تو میرے نزدیک یہ چھوٹی سی قیمت لیکر یعنی ایک. بندہ پار لگا کر کچے کے ڈاکوؤں کا اس پختون لشکر سے تحفظ دیا گیا ہے ورنہ اگر اتنا آسان ہوتا تو وه باپ 2 ماہ خوار نہ ہوتا اور آج کئی سال سے ہزاروں لوگوں کو اٹھانے والا اتنا بڑا نیٹ ورک ختم ہو چکا ہوتا انہیں محفوظ رکھا گیا ہے اور پختونوں کی بچی واپس کروا کر عوام کا منہ بند کرنے کے ساتھ ساتھ سندھ پولیس کی واہ واہ کروائی گئی ہے. بہرحال الحمد للہ کوئی تو اٹھا کسی نے تو غیرت دکھائی الله اسے سلامت رکھے. پاکستان
news