Bin Obaid - Caps

Bin Obaid - Caps Bin Obaid Islamic Caps Sales & Purchase. Order anywhere from Pakistan & get your Item at your door step.

For more details, contact us at:
===========================
Cell No: 03362004085
Email: [email protected]
===========================

مدرسہ انعامیہ و انعامیہ اسکول شعبہ اسکول اور حفاظ کورسز میں داخلوں کی گنجائش ہے  خواہشمند حضرات رابطہ فرمائیں۔0333-34831...
26/04/2024

مدرسہ انعامیہ و انعامیہ اسکول
شعبہ اسکول اور حفاظ کورسز میں داخلوں کی گنجائش ہے
خواہشمند حضرات رابطہ فرمائیں۔
0333-3483114

عید الفطر کے موقع پر میری طرف سے تمام اہلِ اسلام کو صمیم قلب کے ساتھ عید کی خوشیاں مبارک 🌹❤️🌹❤️تقبل اللہ منا ومنکم صالح ...
10/04/2024

عید الفطر کے موقع پر میری طرف سے تمام اہلِ اسلام کو صمیم قلب کے ساتھ عید کی خوشیاں مبارک 🌹❤️🌹❤️
تقبل اللہ منا ومنکم صالح الاعمال

مولانا محمد اورنگ زیب اعوان مدظلہ العالی                                    (حالات ِ زندگی  ،علمی ،تدریسی  اورادبی  خدما...
06/04/2024

مولانا محمد اورنگ زیب اعوان مدظلہ العالی
(حالات ِ زندگی ،علمی ،تدریسی اورادبی خدمات )
✍️مفتی سید ابوبکر شاہ
فاضل و متخصص جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی
مدرس:مدرسہ انعامیہ وانعامیہ اسکول ،گلشن اقبال کراچی

مولانا محمد اورنگ زیب اعوان ادام اللہ بقاءھم ہر ی پور ہزارہ کے علاقہ لوہاراں کی بہت علمی اور بزرگ شخصیت ہیں ۔آپ اردو ادب کے ماہراستاد،ادیب،کالم نگار،کئی کتابوں کے مصنّف،عالمی مجلسِ تحفظ ِختم نبوت ﷺ کے بہترین مبلغ ومقرراور موجودہ دور کے مفکرومدبر شخصیت ہیں۔ ہزارہ کے جید علماء میں دیکھا جائے تو مولانا محمد اورنگ زیب اعوان صاحب ان میں سے ایک ہیں۔آپ انتہائی سادہ لوح انسان، خوش مزاج اور نفیس طبیعت کے مالک ہیں۔ مطالعہ کا بہت شوق اور ادبی نکات اور اختلافی مسائل پر بہترین نقد و نظر اورتعلیمی میدان میں بھی کافی مہارت رکھتے ہیں۔
راقم نے؁2018ءمیں دورۂ حدیث شریف جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی سے مکمل کیا، اس وقت سے مولانا موصوف کے ساتھ بہت اچھا تعلق ہے۔ پہلی بار ہری پوربرادرم مولانا ابوبکر بن قاری علی اصغرؒ کے ساتھ سفر ہوا ، اس سفر میں بہت سی شخصیات سےملاقاتیں ہوئیں لیکن جب مولانا موصوف کی علمی سطح کا معلوم ہوا تو دل میں ملاقات کا اشتیاق پیداہوا ،مولانا سےپہلی بار ملاقات جناح جامع سکول اینڈ کالج ہری پور میں ہوئی اور اس کے بعد حضرت مولانا کے گھر پر۔
مولانا کہ مہمان خانہ میں تینوں جانب ترتیب اور سلیقہ سے الماری میں رکھیں کتابیں ہی کتابیں اور کمرے کے ایک جانب مسہری جس پر مولانا مطالعہ اور آرام فرماتے ہیں۔ اور دوسری جانب مہمان حضرات کے لئے رکھا ہواصوفہ سیٹ۔مولانا مدظلہ اس مجلس میں کافی بے تکلفی ، اور خوش مزاجی کے ساتھ گفتگو فرماتے رہے اس کے بعدپر تکلف ضیافت کا اہتمام بھی کیا۔مولانا موصوف نے چند کتابوں کے مطالعہ کی جانب راقم کی رہنمائی فرمائی (تاریخ دعوت و عزیمت،تفسیر الہام الرحمٰن ،حجۃ اللہ البالغہ ، بصائر وعبر اور الرحیق المختوم) (مولانا صفی الرحمٰن مبارک پوریؒ ) سیرت پر اس سے جامع اور مقبول کتاب شاید ہی کوئی اور ہو۔
مولانا موصوف سے اب تک کئی ملاقاتیں ہوئی ہیں ، جب بھی ملاقات ہوئی راقم نے علمی سیرابی حاصل کرنے کا کوئی موقع جانے نہ دیا ۔مولانا کبار اور مشاہیر علماء کی صحبت میں گزرے ایام کو بہت ہی خوبصورتی اور عقیدت کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔مولانا عبیداللہ سندھی ؒ ،مولانا ابوالکلام آزادؒ ،امیر شریعت سید عطاءاللہ شاہ بخاریؒ،مولانا احمد علی لاہوری ؒ،حضرت محدث العصر مولانا سید محمد یوسف بنوری ؒ،مولانا حبیب اللہ مختارؒ ،میرے دادا جان شیخ الحدیث جامعہ بنوری ٹاؤن حضرت مولانا سید مصباح اللہ شاہ صاحب ؒ اور مولانا محمد یوسف لدھیانوی ؒشہید جیسے عظیم اولیاء اور علمی شخصیات سے نہایت محبت و عقیدت رکھتے ہیں۔
رمضان کے پہلے عشرہ کی بات ہے مولانا موصوف سے بات ہوئی معلوم ہوا کہ حجازِ مقدس کے سفر پرہیں اور عمرہ کی ادائیگی کررہے ہیں۔سلام اور حال احوال دریافت کرنے کے بعد دعاؤں اور آپ ﷺ کے روضہ اطہر پر سلام کی درخواست کی ، مولانا کی طبیعت مستقل اسفار کی وجہ سے ناساز تھی ،گردوں کے مسائل سے بھی دوچار ہیں لیکن مولانا موصوف کی طبیعت بحال نہ ہونے کے باوجو دخوش قسمتی کی بات ہےکہ راقم کے لئے ایک طواف بطورِ خاص کیا۔اعظم اللہ اجرھم وزاد اللہ حیاتھم
چند ماہ قبل ہزارہ کی سرزمین پر سفر کا اتفاق ہوا ۔اسلام آباد ،مانسہرہ سے براستہ موٹر وے اپنے آبائی گاؤں چنار کوٹ پہنچا اپنے دادا جان مرحوم (شیخ الحدیث مولانا سید مصباح اللہ شاہ صاحبؒ) کے مرقد پر حاضری اور دعائے مغفرت کی ۔سفر سے واپسی پر ہری پور جانا ہوا تو مولانا موصوف سے رابطہ کیا پہلے تو حضرت نے مصروفیت کی بناء پر معذرت کی لیکن بعد از اں برادرم مولوی ابوبکر سے رابطہ کرکے ہری پور کے مشہور ہوٹل’’مطعم البخاری‘‘ پر عشائیہ کی دعوت دی۔دعوت میں راقم کے ساتھ مولانا ابوبکر ،مفتی طلحہ(برادرِ صغیر مولاناابوبکر) اورمولانا محمد شہزاد ( سری کوٹ)شریک ہوئے ۔
مولانا موصوف تاریخی انسان ہونے کے ساتھ ساتھ جغرافیائی لحاظ سے بہت پختہ اور ماہر فن ہیں۔مولانا کے ساتھ سرائے صالح کی گلیوں میں یادگار راجاؤں کے دور کی مساجد ،پتھروں کے بنے مضبوط مکانات تمباکو اور آٹا پیسنے والی پن چکیاں(جَندر) دیکھے اور اس نہر کا بھی معائنہ کیا جہاں سے رنگیلا کھتری نے اہلیانِ ہری پور کے لئے پانی کو ندی دوڑ سےآبادی کی جانب موڑا اور پھر 09 نالے بنائے جس سے علاقہ کی زمینیں خوب سیرابی حاصل کرتی ہیں ۔
راقم نے مولانا موصوف کے مختصر حالات زندگی جمع کرنے کی سعی کی ہے جس کو بالتفصیل قلمبندکر رہا ہوں۔
*مولانا محمد اورنگ زیب اعوان*
پیدائش: آپ یکم اپریل ؁1974ء کو محلہ لوہاراں( نیا نام ’’ محلّہ قتیل شفائی‘‘)ہری پور میں صوفی غلام سرور اعوان مرحوم کے گھر پیدا ہوئے ۔
عصری و دینی تعلیم: گورنمنٹ پرائمری سکول نمبر 1 سے پرائمری اور گورنمنٹ ہائی سکول نمبر 2 سے آپ نے میٹرک تک تعلیم حاصل کی، گورنمنٹ ڈگری کالج ہری پور سے ایف اے اور بی اے کے امتحانات پاس کیے۔ دینی تعلیم کا شوق بچپن سے ہی تھا۔ بادشاہی مسجد موچی بازار ہری پور سے قرآن مجید ناظرہ اور حفظ کی تکمیل کی۔ میٹرک تک کے عرصہ میں پندنامہ عطار ،کر یما،گلستان اور بوستان مولا نا محمد یعقوب ( گوہر خانؒ ) اور مولانا قاری شفیق الرحمٰن ؒ( کانگڑہ ) سے پڑھ لیں تھیں، یاد رہے کہ آپ نے باضابطہ کسی مدرسے میں داخل ہو کر دینی تعلیم حاصل نہیں کی ، البتہ مختلف علوم وفنون کے ماہر اساتذہ کرام سے مختلف اوقات میں "درس نظامی " کی ساری کتابیں پڑھیں۔
اساتذه کرام: آپ کے چند مشہور اساتذہ کے نام یہ ہیں۔
شیخ الحدیث مولانانذیراحمدؒ ،شیخ الحدیث مولانا غلام ربانیؒ، مولانا سعیدالدین شیر کوٹی ؒ، مولا نا شیخ حبیب اللہ صادق ؒ، مولانا عبدالدیان کلیمؒ ،مولانا مشتاق احمدؒ، مولانا تاج محمد خانؒ، مولانا محمد شریف ہزاروی دامت برکاتہم جبکہ مولانا قاری محمدتقی الاسلام د ہلویؒ اور مولانا قاری علی الرحمن بالا کوٹی صاحب سے آپ نے تجوید کے کچھ اسباق پڑھے۔
روحانی نسبت: خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف کے سجادہ نشین مولا نا خواجہ خان محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت ہوئے۔
ادبی خدمات: آپ نے با قاعدہ اپنے ادبی سفر کا آغاز 1992 ء میں ہفت روزہ "لولاک " فیصل آباد سے کیا۔ ہفت روزہ ختم نبوت " کراچی اور ماہ نامہ’’ نقیب ختم نبوت ‘‘ملتان میں بھی آپ کی تحریر یں شائع ہوتی رہی ہیں۔ بعد ازاں روز نامہ اوصاف " اسلام آباد میں بھی بحیثیت سب ایڈیٹر جمعہ کا ایڈیشن "عالم اسلام " تیار کرتے رہے اور روزنامہ "مشرق "پشاور میں بھی بحیثیت سب ایڈیٹر جمعہ کے ایڈیشن کے ذمہ دار رہے۔ روزنامہ " اساس" راولپنڈی میں سینئر رپورٹر اور میگزین ایڈیٹر رہے۔ ماہ نامہ " الراحہ "پشاور کے مدیر رہے۔ ماہ نامہ " الحامد " لاہور کے نائب مدیر رہے ۔
تصانیف:
مختلف اخبارات ورسائل میں صحافتی ذمہ داریاں ادا کرنے کے ساتھ ساتھ آپ نے تصنیف و تالیف کو بھی وقت دیا ہے، اب تک آپ کی درج ذیل چھ کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔
نوادرات ِ شیر کوٹی ،وجدانیات شیر کوٹی ،حیات وخدمات صاحبزادہ طارق محمود ،مکتوبات حقانی ،ہندوستان کے مظلوم عالمِ دین، مولانا محمد حسن امروہیؒ ، سرائے صالح کے در آبدار ۔۔ قاضی فہیم احمد قریشی۔
ان کے علاوہ درج ذیل کتا بیں منتظر طباعت ہیں۔
میں تو اس قابل نہ تھا۔۔۔ سفر نامہ حرمین شریفین، نقشبندیت کے نیر تاباں (میرے مرشد )
تعارف ِہری پور ( سوالاً" جواباً " ) تذکرہ علماء و مشائخ ہری پور، یاران رفتہ( تعزیتی مضامین )
دروس ختم نبوت ، تبصرے اور تقاریظ ، جگر لخت لخت ( حسن انتخاب )
خطابت تدریس اور تبلیغی خدمات: سکول کے زمانہ سے ہی آپ کو " تقاریر " کا شوق تھا۔ دو سال سکول کی "بزم ادب " کے جنرل سیکرٹری ر ہے اور کئی تقریری مقابلوں میں حصہ لیا۔ جامع مسجد امام ابو حنیفہؒ (پشاور ) جامع مسجد بلال ( ہری پور) جامع مسجد عمر فاروق ( ہری پور ) میں مستقل خطابت کے ساتھ ساتھ پورے ملک اور آزاد کشمیر کے تبلیغی دورے کئے، مختلف اجتماعات سے خطاب کیا ۔جامعہ سبیل الرحمت پشا ور اور جناح جامع سکول اینڈ کالج ہری پور میں کافی عرصہ تدریس کی۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سے وابستگی:
شروع ہی سے آپ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ساتھ وابستہ ہو گئے تھے۔ مولانا عبدالرحیم اشعرؒ، علامہ ڈاکٹر خالد محمودؒ، مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ ، مولانا محمد امین صفدر اوکاڑویؒ، مولانا عبدالرؤف الازہریؒ، مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ،مولانا عزیز الرحمن جالندھری اور مولانا اللہ وسایا صاحب سے آپ نے تحفظ ختم نبوت اور تردید مرزائیت کے اسباق پڑھے۔ مقامی جماعت کے ناظم تبلیغ رہے، بعد میں اسلام آباد، راولپنڈی اور آزادکشمیر میں بحیثیت’’ مبلغ‘‘ اپنی خدمات سر انجام دیں، کئی قادیانی مربیوں سے مباحثے اور مناظرے کئے، مختلف دینی و عصری تعلیمی اداروں میں ختم نبوت کورس پڑھائے ، الند وۃلائبریری اسلام آباد میں بھی خدمات سر انجام دیں۔
قائدین مجلس احرار اسلام سے خصوصی تعلق:
امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی تحریک آزادی وتحریک ختم نبوت میں گرانقدر سنہری خدمات کے پیش نظر ان کے خاندان سے بھی موصوف کا محبت و عقیدت کا تعلق قائم ہے۔ ابن امیر شریعت پیرجی سید عطاء المہیمن بخاریؒ اور نواسہ امیر شریعت حافظ سیدمحمدکفیل شاہ بخاری (امیر مجلس احرار اسلام ) سے تو خصوصی تعلق اور روابط رہے۔ غرض یہ کہ مولانا موصوف نے بھر پور علمی، ادبی تبلیغی اور تدریسی زندگی گزاری۔ ڈاکٹرابو سلمان شاہجہان پوری ؒ کےمسودات بھی مولانا موصوف کے پاس موجود ہیں جن پر تاحال کام جاری ہے۔
آج کل مولانا نےطبیعت ناساز ہونے کی وجہ سے تدریس کو تو موقوف کردیا لیکن صدائے ختمِ نبوت کو بلند کرنے کے لئے آل پاکستان اسفار فرمارہے ہیں ،عنقریب کراچی آمد ہوگی ۔دعا ہےکہ اللہ تعالیٰ مولانا موصوف کو صحت تندرستی اور سلامتی عطاء فرمائے۔(آمین)

سلامتی بزرگترین نعمت خداست
از خداوند منان روح و جسمی سالم برای شما دوست گرامی طلب می نمایم
و آرزو دارم بھترین ھا در زندگی قسمت و روزی شما شود

 #      ‏بھارتی ریاست کرناٹک میں ایک تیندوا پیٹ بھرنے کیلئے کتے کا پیچھا کر رہا تھا,, کتا بھاگتے ہوئے کھڑکی سے سرکاری ری...
05/04/2024

#
‏بھارتی ریاست کرناٹک میں ایک تیندوا پیٹ بھرنے کیلئے کتے کا پیچھا کر رہا تھا,, کتا بھاگتے ہوئے کھڑکی سے سرکاری ریسٹ ہاوس کے بیت الخلا میں کود گیا جس کا دروازہ باہر سے بند تھا, تیندوا کتے کے پیچھے داخل تو ہو گیا مگر دونوں پھنس گئے, کتا تیندوے کو دیکھ کر خاموشی سے ایک کونے میں بیٹھ گیا اور انتظار کرتا رہا کہ تیندوا کب اسے نوالہ بناتا ہے,

دونوں جانور تقریباً 12 گھنٹے تک مختلف کونوں میں اکٹھے رہے۔ پھر محکمہ جنگلات کی ٹیم نے ٹرانکوئلائزر ڈارٹ کا استعمال کرتے ہوئے تیندوا پکڑ کر آزاد کر دیا ,,

اب سوال یہ ہے کہ بھوکے تیندوے نے کتے کو کیوں نہیں کھایا حالانکہ وہ اسے کھانے کیلئے ہی پیچھا کر رہا تھا جبکہ بند واش روم میں وہ یہ کام آسانی سے کر سکتا تھا؟

اس حوالے سے جنگلی حیات کے ماہرین نے بتایا کہ جنگلی جانور اپنی آزادی کے لیے بہت حساس ہوتے ہیں۔ جیسے ہی انہیں احساس ہوتا ہے کہ ان کی آزادی چھین لی گئی ہے وہ گہرا دکھ محسوس کر سکتے ہیں، اتنا کہ وہ اپنی بھوک پیاس بھی بھول جاتے ہیں
بینظیر انکم سپورٹ کارڈ ، آٹے کی قطاریں ، لنگر خانے اور پھر مفت راشن کیلئے سالوں سے ذلیل ہونے والی قوم یہ کبھی نہی جان سکتی کہ آزادی ہی زندگی ہے۔

سنن ابو داؤدکتاب: روزوں کا بیانجلد دوم - باب: معتکف کے لئے مریض کے عیادتحدیث نمبر: 708حدیث نمبر 2473  حَدَّثَنَا وَهْبُ...
01/04/2024

سنن ابو داؤد
کتاب: روزوں کا بیان
جلد دوم - باب: معتکف کے لئے مریض کے عیادت
حدیث نمبر: 708

حدیث نمبر 2473 حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهَا قَالَتْ‏‏‏‏ السُّنَّةُ عَلَى الْمُعْتَكِفِ أَنْ لَا يَعُودَ مَرِيضًا وَلَا يَشْهَدَ جَنَازَةً وَلَا يَمَسَّ امْرَأَةً وَلَا يُبَاشِرَهَا وَلَا يَخْرُجَ لِحَاجَةٍ إِلَّا لِمَا لَا بُدَّ مِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا اعْتِكَافَ إِلَّا بِصَوْمٍ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا اعْتِكَافَ إِلَّا فِي مَسْجِدٍ جَامِعٍ. قَالَ أَبُو دَاوُد‏‏‏‏ غَيْرُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ‏‏‏‏‏‏لَا يَقُولُ فِيهِ‏‏‏‏ قَالَتْ‏‏‏‏ السُّنَّةُ. قَالَ أَبُو دَاوُد‏‏‏‏ جَعَلَهُ قَوْلَ عَائِشَةَ.

ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ سنت یہ ہے کہ اعتکاف کرنے والا کسی مریض کی عیادت نہ کرے، نہ جنازے میں شریک ہو، نہ عورت کو چھوئے، اور نہ ہی اس سے مباشرت کرے، اور نہ کسی ضرورت سے نکلے سوائے ایسی ضرورت کے جس کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو، اور بغیر روزے کے اعتکاف نہیں، اور جامع مسجد کے سوا کہیں اور اعتکاف نہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں عبدالرحمٰن کے علاوہ دوسروں کی روایت میں قالت السنة کا لفظ نہیں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں انہوں نے اسے ام المؤمنین عائشہ (رض) کا قول قرار دیا ہے۔

تخریج دارالدعوہ تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف ٧٣٥٤) (حسن صحیح )

Narrated Aishah, Ummul Muminin (RA) The sunnah for one who is observing Itikaf (in a mosque) is not to visit a patient, or to attend a funeral, or touch or embrace ones wife, or go out for anything but necessary purposes. There is no Itikaf without fasting, and there is no Itikaf except in a congregational mosque.

سنن ابو داؤدکتاب: روزوں کا بیانجلد دوم - باب: روزہ دار کے سر پر پیاس کی وجہ سے پانی ڈالنا اور ناک میں پانی ڈالنے میں مب...
20/03/2024

سنن ابو داؤد
کتاب: روزوں کا بیان
جلد دوم - باب: روزہ دار کے سر پر پیاس کی وجہ سے پانی ڈالنا اور ناک میں پانی ڈالنے میں مبالغہ سے کام لینا
حدیث نمبر: 600

حدیث نمبر 2365 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ‏‏‏‏ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ النَّاسَ فِي سَفَرِهِ عَامَ الْفَتْحِ بِالْفِطْرِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ‏‏‏‏ تَقَوَّوْا لِعَدُوِّكُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَصَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو بَكْرٍ‏‏‏‏ قَالَ الَّذِي حَدَّثَنِي‏‏‏‏ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعَرْجِ يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ الْمَاءَ وَهُوَ صَائِمٌ مِنَ الْعَطَشِ أَوْ مِنَ الْحَرِّ.

ابوبکر بن عبدالرحمٰن ایک صحابی سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا آپ نے فتح مکہ کے سال اپنے سفر میں لوگوں کو روزہ توڑ دینے کا حکم دیا، اور فرمایا اپنے دشمن (سے لڑنے) کے لیے طاقت حاصل کرو اور رسول اللہ ﷺ نے خود روزہ رکھا۔ ابوبکر کہتے ہیں مجھ سے بیان کرنے والے نے کہا کہ میں نے مقام عرج میں رسول اللہ ﷺ کو اپنے سر پر پیاس سے یا گرمی کی وجہ سے پانی ڈالتے ہوئے دیکھا اور آپ ﷺ روزے سے تھے۔

تخریج دارالدعوہ تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف ١٥٦٨٨) ، وقد أخرجہ موطا امام مالک/الصیام ٧ (٢) ، مسند احمد (٣/٤٧٥، ٤/٦٣، ٥/٣٧٦، ٣٨٠، ٤٠٨، ٤٣٠) (صحیح )

Narrated A Companion of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) Abu Bakr (RA) ibn Abdur Rahman reported on the authority of a Companion of the Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) I saw the Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) commanding the people while he was travelling on the occasion of the conquest of Makkah not to observe fast. He said Be strong for your enemy. The Apostle of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) fasted himself. Narrated Abu Bakr A man who narrated his tradition to me said I have seen the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) in al-Arj pouring water over his head while he was fasting, either because of thirst or because of heat.

سنن ابو داؤدکتاب: روزوں کا بیانجلد دوم - باب: روزہ کی حالت میں مسواک کرناحدیث نمبر: 599حدیث نمبر 2364  حَدَّثَنَا مُحَم...
19/03/2024

سنن ابو داؤد
کتاب: روزوں کا بیان
جلد دوم - باب: روزہ کی حالت میں مسواک کرنا
حدیث نمبر: 599

حدیث نمبر 2364 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شَرِيكٌ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَحْيَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ‏‏‏‏ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَاكُ وَهُوَ صَائِمٌ، ‏‏‏‏‏‏زَادَ مُسَدَّدٌ‏‏‏‏ مَا لَا أَعُدُّ وَلَا أُحْصِي.

عامر بن ربیعہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو روزے کی حالت میں مسواک کرتے دیکھا، جسے میں نہ گن سکتا ہوں، نہ شمار کرسکتا ہوں۔

تخریج دارالدعوہ سنن الترمذی/الصوم ٢٨ (٧٢٥) ، (تحفة الأشراف ٥٠٣٤) ، وقد أخرجہ مسند احمد (٣/٤٤٥، ٤٤٦) (ضعیف) (اس کے راوی عاصم ضعیف ہیں )

Narrated Amir ibn Rabiah (RA) I have seen the Apostle of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) using a tooth-stick while he was fasting. Musaddad added in his version "more often than I could count".

سنن ابو داؤدکتاب: روزوں کا بیانجلد دوم - باب: اگر غلطی سے سورج غروب ہونے سے پہلے روزہ افطار کرلے تو کیا کرےحدیث نمبر: 5...
17/03/2024

سنن ابو داؤد
کتاب: روزوں کا بیان
جلد دوم - باب: اگر غلطی سے سورج غروب ہونے سے پہلے روزہ افطار کرلے تو کیا کرے
حدیث نمبر: 594
حدیث نمبر 2359 حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْمَعْنَى، ‏‏‏‏‏‏قَالَا‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ‏‏‏‏ أَفْطَرْنَا يَوْمًا فِي رَمَضَانَ فِي غَيْمٍ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ طَلَعَتِ الشَّمْسُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو أُسَامَةَ‏‏‏‏ قُلْتُ لِهِشَامٍ‏‏‏‏ أُمِرُوا بِالْقَضَاءِ ؟ قَالَ‏‏‏‏ وَبُدٌّ مِنْ ذَلِكَ.

اسماء بنت ابوبکر (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ماہ رمضان میں ایک دن ہم نے بدلی میں روزہ کھول لیا اس کے بعد سورج نمودار ہوگیا۔ راوی ابواسامہ کہتے ہیں کہ میں نے ہشام بن عروہ سے سوال کیا کہ پھر تو لوگوں کو روزے کی قضاء کا حکم دیا گیا ہوگا ؟ کہنے لگے کیا اس کے بغیر بھی چارہ ہے ؟۔
تخریج دارالدعوہ صحیح البخاری/الصوم ٤٦ (١٩٥٩) ، سنن ابن ماجہ/الصیام ١٥ (١٦٧٤) ، (تحفة الأشراف ١٥٧٤٩) ، وقد أخرجہ مسند احمد (٦/٣٤٦) (صحیح )

Narrated Asma daughter of Abu Bakr (RA) We broke the fast one during Ramadan when it was cloudy in the lifetime of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ; then the sun rose. Abu Usamah said I said to Hisham Were they commanded to atone for it? He replied That was inevitable.

سنن ابو داؤدکتاب: روزوں کا بیانجلد دوم - باب: روزہ افطار کرنے میں جلدی کرنا بہتر ہےحدیث نمبر: 588حدیث نمبر 2353  حَدَّث...
15/03/2024

سنن ابو داؤد
کتاب: روزوں کا بیان
جلد دوم - باب: روزہ افطار کرنے میں جلدی کرنا بہتر ہے
حدیث نمبر: 588

حدیث نمبر 2353 حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَالِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ‏‏‏‏ لَا يَزَالُ الدِّينُ ظَاهِرًا مَا عَجَّلَ النَّاسُ الْفِطْرَ، ‏‏‏‏‏‏لِأَنَّ الْيَهُودَ وَ النَّصَارَى يُؤَخِّرُونَ.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا دین برابر غالب رہے گا جب تک کہ لوگ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے، کیونکہ یہود و نصاری اس میں تاخیر کرتے ہیں ۔

تخریج دارالدعوہ تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف ١٥٠٢٤) ، وقد أخرجہ سنن ابن ماجہ/الصیام ٢٤ (١٦٩٨) ، حم (٢/٤٥٠) (حسن )

Narrated Abu Hurayrah (RA) The Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said Religion will continue to prevail as long as people hasten to break the fast, because the Jews and the Christians delay doing so.

سنن ابو داؤدکتاب: روزوں کا بیانجلد دوم - باب: روزہ میں غیبت کرناحدیث نمبر: 597حدیث نمبر 2362  حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ ...
14/03/2024

سنن ابو داؤد
کتاب: روزوں کا بیان
جلد دوم - باب: روزہ میں غیبت کرنا
حدیث نمبر: 597

حدیث نمبر 2362 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْمَقْبُرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ‏‏‏‏ مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ. وقَالَ أَحْمَدُ‏‏‏‏ فَهِمْتُ إِسْنَادَهُ مِنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَفْهَمَنِي الْحَدِيثَ رَجُلٌ إِلَى جَنْبِهِ، ‏‏‏‏‏‏أُرَاهُ ابْنَ أَخِيهِ.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص (روزے کی حالت میں) جھوٹ بولنا، اور برے عمل کرنا نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو حاجت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے ۔

تخریج دارالدعوہ صحیح البخاری/الصوم ٨ (١٩٠٣) ، سنن الترمذی/الصوم ١٦ (٧٠٧) ، سنن ابن ماجہ/الصیام ٢١ (١٦٨٩) ، (تحفة الأشراف ١٤٣٢١) ، وقد أخرجہ سنن النسائی/ الکبری/ الصوم (٣٢٤٦) ، مسند احمد (٢/٤٥٢، ٥٠٥) (صحیح )

Narrated Abu Hurairah (RA) The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying If anyone does not abandon falsehood and action is accordance with it, Allah has no need that he should abandon his food and drink. The narrator Ahmad (b. Yunus) said I learnt the chain of narrators from Ibn Abi Dhib, and a man by his side made me understand the tradition. I think he was his cousin.

سنن ابو داؤدروزہ افطار کرنے کا وقتحدیث نمبر 2351
13/03/2024

سنن ابو داؤد
روزہ افطار کرنے کا وقت
حدیث نمبر 2351

کتاب: روزوں کا بیانجلد دوم - باب: سحری کھانے کی تاکیدحدیث نمبر 2343 سنن ابو داؤد
12/03/2024

کتاب: روزوں کا بیان
جلد دوم - باب: سحری کھانے کی تاکید
حدیث نمبر 2343
سنن ابو داؤد

Address

Karachi

Telephone

+923362004085

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Bin Obaid - Caps posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Bin Obaid - Caps:

Share