01/03/2023
*تنبیہات سلسلہ نمبر 36*
*(قسط نمبر 1)*
*شب براءت کا تعین*
*سوال*
محترم مفتی صاحب شب برات کی رات کونسی ہے، اور 15 شعبان کی رات کی اہمیت کیا ہے؟
▪ *الجواب باسمه تعالی*
پندرہ شعبان کی رات جو شب برات کے نام سے مشہور ہے اس کے متعلق چند اہم امور پر بحث لازم ہے:
*١.* قال تعالى: {حم○ وَالْكِتَابِ الْمُبِينِ○ إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ○ فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ○
اس آیت میں لیلة مبارکة سے کونسی رات مراد ہے؟
*٢.* اس رات کی فضیلت میں وارد روایات کا درجہ اور حکم.
*٣.* اس رات کے متعلق جمھور امت کا عمل.
*٤.* اس رات کے متعلق اکابرین دیوبند کے اقوال.
■ *پہلی بات*
سورہ دخان میں کونسی رات مراد ہے:
جمھور مفسرین ومحدثین اس آیت میں *لیلة مبارکة* سے مراد شب قدر کی رات لیتے ہیں اور یہ قول *ابن عباس، قتادہ، حسن بصری، قرطبی، نووی، ابن حجر، ابن کثیر* جیسے عظیم مفسرین کا ہے. (رحمهم الله).
*امام نووی شرح مسلم میں لکھتے ہیں کہ شب قدر کو لیلۃ القدر اس لئے کہتے ہیں کہ اس میں فرشتوں کو رزق، اجل اور تقدیر لکھ کر دی جاتی ہے*
• قال الإمام النووي رحمه الله تعالى في شرحه لصحيح مسلم: «قال العلماء: وسميت ليلةالقدر لما يكتب فيها للملائكة من الأقدار والأرزاق والآجال التي تكون في تلك السنة كقوله تعالى: {فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيم}» [شرح مسلم للنووي، كتاب الصيام، باب فضل ليلةالقدر].
*علامہ ابن کثیر کہتے ہیں لیلۃ مبارکہ سے مراد لیلہ القدر ہے کہ اس رات لوح محفوظ سے ایک سال کے معاملات لکھنے والے فرشتوں کو دی جاتی ہیں*
• قال ابن كثير: وقوله: {فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ} [الدخان:٤] أي في ليلةالقدر من اللوح المحفوظ إلى الكتبة أمر السنة، وما يكون فيها من الآجال والأرزاق وما يكون فيها.... إلى آخرها. وهكذا روي عن ابن عمر ومجاهد وأبي مالك والضحاك وغير واحد من السلف. [تفسير ابن كثير، تفسير سورة الدخان].
*ابن کثیر کہتے ہیں کہ لیلۃ مبارکہ سے مراد شب قدر ہے*
• قال ابن كثير: يقول اللہ تعالى مخبراً عن القرآن العظيم أنه أنزله في ليلة مباركة، وهي ليلةالقدر كما قال عزوجل: {إِنَّا أَنزَلْنَـٰهُ فِى لَيْلَةِ ٱلْقَدْرِ} [القدر: ١] وكان ذلك في شهر رمضان كما قال تبارك وتعالى: {شَهْرُ رَمَضَانَ ٱلَّذِى أُنزِلَ فِيهِ ٱلْقُرْآنُ} [البقرة: ١٨٥].(تفسير ابن كثير، تفسير سورة الدخان).
*ابن العربی کہتے ہیں کہ اس رات سے مراد لیلۃ القدر ہے*
• وقال القاضي أبوبكر بن العربي: *وجمهور العلماء على أنها ليلةالقدر.*
*تفسیر قرطبی میں لکھا ہے کہ جو لوگ 15 شعبان کو لیلۃ مبارکہ قرار دیتے ہیں ان کا قول باطل ہے، کیونکہ قرآن مجید رمضان المبارک میں نازل ہوا، اور پھر اس کے نزول کی رات کو لیلہ مبارکہ قرار دیا گیا،
اور 15 شعبان کے متعلق کوئی روایت بھی موجود نہیں،
ومنهم من قال: إنها ليلة النصف من شعبان؛ وهو باطل لأن الله تعالى قال في كتابه الصادق القاطع: {شَهْرُ رَمَضَانَ ٱلَّذِيۤ أُنْزِلَ فِيهِ ٱلْقُرْآنُ} (البقرة: 185) فنصّ على أن ميقات نزوله رمضان، ثم عيّن من زمانه الليل هاهنا بقوله: {فِي لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ}؛ فمن زعم أنه في غيره فقد أعظم الفِرْية على الله، وليس في ليلة النصف من شعبان حديث يعوّل عليه؛ لا في فضلها ولا في نسخ الآجال فيها، فلا تلتفتوا إليها. [تفسير القرطبي، تفسير سورة الدخان]
*کسی نے حسن بصری سے کہا کہ لیلۃ القدر ہر رمضان میں ہوتا ہے تو فرمایا بلکل ہر رمضان میں آتا ہے اور اسی رات کو تمام فیصلے ہوتے ہیں*
• قال رجل للحسن: أرأيت ليلةالقدر، أفي كل رمضان هي؟ قال: نعم والله الذي لا إله إلاَّ هو، إنها لفي كل رمضان، وإنها الليلة التي يُفرق فيها كل أمر حكيم، يقضي الله كلّ أجل وخلق ورزق إلى مثلها. [تفسير الطبري، تفسير سورة الدخان]
■ *15 شعبان کی رات کو لیلۃ مبارکہ قرار دینے والے اقوال کی حیثیت*
● *تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ کتاب العروس میں لیلۃ مبارکہ سے 15 شعبان مراد لیا گیا ہے، جبکہ ہم نے ان کے قول کے ذکر کے بعد ان کے قول کا رد بھی ذکر کیا ہے*
واختار صاحب كتاب العروس، أن الليلة التي يفرق فيها كل أمر حكيم ھی ليلة النصف من شعبان، وأنها تسمى ليلة البراءة. وقد ذكرنا قوله والرد عليه وأن الصحيح إنما هي ليلةالقدر.
*اسی طرح ابن کثیر لکھتے ہیں کہ جنہوں نے 15 شعبان کی رات کو لیلۃ مبارکہ قرار دیا ہے انہوں نے دور کی کوڑی لائی ہے، کیونکہ قرآن مجید میں وہ شب قدر کو قرار دیا گیا ہے، اور جو روایت نقل کی جاتی ہے وہ مرسل روایت ہے جس سے قرآن مجید کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا*
• ومن قال: إنها ليلة النصف من شعبان، كما روي عن عكرمة فقد أبعد النجعة، فإنّ نص القرآن أنها في رمضان، والحديث الذي رواه عبدالله بن صالح عن الليث عن عقيل عن الزهري، أخبرني عثمان بن محمد بن المغيرة بن الأخنس قال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «تقطع الآجال من شعبان إلى شعبان حتى إن الرجل لينكح ويولد له وقد أخرج اسمه في الموتى» فهو حديث مرسل، ومثله لا يعارض به النصوص. [تفسير ابن كثير، تفسير سورة الدخان]
■ *مفتی سعید احمد پالنپوری صاحب (شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند):*
اور شب برات کا ثبوت صرف ضعیف احادیث سے ہے، قرآن کریم میں اس کا تذکرہ نہیں اور سورہ دخان کی ابتدائی آیات میں شب قدر کا ذکر ہے. بعض مقررین جو ان آیات کو شب برات پر فٹ کرتے ہیں وہ غلط ہے اس لئے کہ قرآن کریم لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر لیلةالقدر میں نازل ہوا ہے، شب برات میں نہیں۔ (تحفہ الألمعی، ج: 3/115)
▪ *خلاصہ کلام*
وہ عظیم رات جس میں تقدیر کے فیصلے لکھے جاتے ہیں یا رزق کی تقسیم کے معاملات کئے جاتے ہیں جمھور مفسرین کے نزدیک وہ رات لیلةالقدر یعنی رمضان کی رات ہے نہ کہ شعبان کی پندرہویں رات اور یہی قول راجح معلوم ہوتا ہے.
《واللہ اعلم بالصواب》
《کتبه: عبدالباقی اخونزادہ》
0333-8129000