Syed Adnan Waseem

Syed Adnan Waseem Khadim E Rasool (S.A.W.W)

05/09/2022

_____نعتِ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم_____

جِس دِن سے پائے نسبت رکھا تِری گلی میں
دیکھا پھر اہلِ دِل نے کیا کیا تِری گلی میں

جب بھی کِیا ہے مَیں نے سجدہ تِری گلی میں
خِود کِھچ کے آ گیا ہے کعبہ تِری گلی میں

آتا نہیں ہے تب تک دِل کو قرار میرے
لگتا نہیں ہے جب تک پھیرا تِری گلی میں

تیری گلی کو پا کر جیسے تُجھی کو پایا
محسُوس ہو رہا ہے ایسا تِری گلی میں

تقویٰ، ادب، قناعت، خوفِ خُدا، اطاعت
بِکتا ہے آخرت کا سودا تِری گلی میں

قائل نہ تھے جو کل تک افسُونِ دلبری کے
پھرتے ہیں آج بن کر شیدا تِری گلی میں

اوروں کو ہوں مُبارَک رنگینیاں جہاں کی
ہم نے تو جو بھی دیکھا، دیکھا تِری گلی میں

تُو اور تیرا جلوہ، میں اور میری حیرت
گُم سُم کھڑا ہُوا ہُوں تنہا تِری گلی میں

تسکینِ دل کی خاطر کیا کیا نہ میں بھٹکتا
وہ تو مِرا مقدّر لایا تِری گلی میں

شاہ و گدا نے پائی خیرات دَر سے تیرے
خالی رہا ہے دامن کِس کا تِری گلی میں

تیرا کرم صدائیں دیتا ہے عاصیوں کو
بہتا ہے رحمتوں کا دریا تِری گلی میں

قِسمت ہے اپنی اپنی پاتے ہیں پانے والے
بٹتا ہے پنج تنؑ کا صدقہ تِری گلی میں

گھُومے پِھرے جہاں میں دَر دَر کی خاک چھانی
اب تو لگا لیا ہے ڈیرہ تِری گلی میں

جانے یہ ہر سُو کِس نے آئینے رکھ دیئے ہیں
ہر رُخ سے اُٹھ رہا ہے پردہ تِری گلی میں

خود اُس کے مُنھ کی رنگت کہتی ہے رازِ نِیّت
چُھپتا نہیں کِسی کا چہرہ تِری گلی میں

وہ کِس کا ہو سکا ہے وہ کِس کا ہو سکے گا
جو ہو سکا نہ دِل سے تیرا، تِری گلی میں

اب صِرف تُو رہے گا اپنی گلی کی رونق
آئے گا اب نہ کوئی تُجھ سا تِری گلی میں

بیٹھا ہُوا ہُوں اب تک لے کر ترا سہارا
تُجھ بِن نہیں ہے کوئی میرا، تری گلی میں

پُوچھ اُس کے دِل سے جا کر کیا اُس کے دِل پہ گُزری
جو اِک جھلک کو تیری ترسا تِری گلی میں

دِل ہیں کہ لُٹ رہے ہیں سَر ہیں کہ جُھک رہے ہیں
عالم ہے بے خُودی کا کیسا تِری گلی میں

قائم ہے آج تک بھی وہ رنگِ درس تیرا
مِلنا سِکھا رہا ہے میلہ تِری گلی میں

ہو جائے چشمِ رحمت اب تو نصِیرؔ پر بھی
کب سے پڑا ہُوا ہے آقاؐ تِری گلی میں

الشیخ سیّدپِیرنصِیرالدّین نصِیرؔ جیلانی،
رحمتُ اللّٰه تعالٰی علیہ، گولڑہ شریف_____نعتِ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم_____

جِس دِن سے پائے نسبت رکھا تِری گلی میں
دیکھا پھر اہلِ دِل نے کیا کیا تِری گلی میں

جب بھی کِیا ہے مَیں نے سجدہ تِری گلی میں
خِود کِھچ کے آ گیا ہے کعبہ تِری گلی میں

آتا نہیں ہے تب تک دِل کو قرار میرے
لگتا نہیں ہے جب تک پھیرا تِری گلی میں

تیری گلی کو پا کر جیسے تُجھی کو پایا
محسُوس ہو رہا ہے ایسا تِری گلی میں

تقویٰ، ادب، قناعت، خوفِ خُدا، اطاعت
بِکتا ہے آخرت کا سودا تِری گلی میں

قائل نہ تھے جو کل تک افسُونِ دلبری کے
پھرتے ہیں آج بن کر شیدا تِری گلی میں

اوروں کو ہوں مُبارَک رنگینیاں جہاں کی
ہم نے تو جو بھی دیکھا، دیکھا تِری گلی میں

تُو اور تیرا جلوہ، میں اور میری حیرت
گُم سُم کھڑا ہُوا ہُوں تنہا تِری گلی میں

تسکینِ دل کی خاطر کیا کیا نہ میں بھٹکتا
وہ تو مِرا مقدّر لایا تِری گلی میں

شاہ و گدا نے پائی خیرات دَر سے تیرے
خالی رہا ہے دامن کِس کا تِری گلی میں

تیرا کرم صدائیں دیتا ہے عاصیوں کو
بہتا ہے رحمتوں کا دریا تِری گلی میں

قِسمت ہے اپنی اپنی پاتے ہیں پانے والے
بٹتا ہے پنج تنؑ کا صدقہ تِری گلی میں

گھُومے پِھرے جہاں میں دَر دَر کی خاک چھانی
اب تو لگا لیا ہے ڈیرہ تِری گلی میں

جانے یہ ہر سُو کِس نے آئینے رکھ دیئے ہیں
ہر رُخ سے اُٹھ رہا ہے پردہ تِری گلی میں

خود اُس کے مُنھ کی رنگت کہتی ہے رازِ نِیّت
چُھپتا نہیں کِسی کا چہرہ تِری گلی میں

وہ کِس کا ہو سکا ہے وہ کِس کا ہو سکے گا
جو ہو سکا نہ دِل سے تیرا، تِری گلی میں

اب صِرف تُو رہے گا اپنی گلی کی رونق
آئے گا اب نہ کوئی تُجھ سا تِری گلی میں

بیٹھا ہُوا ہُوں اب تک لے کر ترا سہارا
تُجھ بِن نہیں ہے کوئی میرا، تری گلی میں

پُوچھ اُس کے دِل سے جا کر کیا اُس کے دِل پہ گُزری
جو اِک جھلک کو تیری ترسا تِری گلی میں

دِل ہیں کہ لُٹ رہے ہیں سَر ہیں کہ جُھک رہے ہیں
عالم ہے بے خُودی کا کیسا تِری گلی میں

قائم ہے آج تک بھی وہ رنگِ درس تیرا
مِلنا سِکھا رہا ہے میلہ تِری گلی میں

ہو جائے چشمِ رحمت اب تو نصِیرؔ پر بھی
کب سے پڑا ہُوا ہے آقاؐ تِری گلی میں

الشیخ سیّدپِیرنصِیرالدّین نصِیرؔ جیلانی،
رحمتُ اللّٰه تعالٰی علیہ، گولڑہ شریف_____نعتِ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم_____

جِس دِن سے پائے نسبت رکھا تِری گلی میں
دیکھا پھر اہلِ دِل نے کیا کیا تِری گلی میں

جب بھی کِیا ہے مَیں نے سجدہ تِری گلی میں
خِود کِھچ کے آ گیا ہے کعبہ تِری گلی میں

آتا نہیں ہے تب تک دِل کو قرار میرے
لگتا نہیں ہے جب تک پھیرا تِری گلی میں

تیری گلی کو پا کر جیسے تُجھی کو پایا
محسُوس ہو رہا ہے ایسا تِری گلی میں

تقویٰ، ادب، قناعت، خوفِ خُدا، اطاعت
بِکتا ہے آخرت کا سودا تِری گلی میں

قائل نہ تھے جو کل تک افسُونِ دلبری کے
پھرتے ہیں آج بن کر شیدا تِری گلی میں

اوروں کو ہوں مُبارَک رنگینیاں جہاں کی
ہم نے تو جو بھی دیکھا، دیکھا تِری گلی میں

تُو اور تیرا جلوہ، میں اور میری حیرت
گُم سُم کھڑا ہُوا ہُوں تنہا تِری گلی میں

تسکینِ دل کی خاطر کیا کیا نہ میں بھٹکتا
وہ تو مِرا مقدّر لایا تِری گلی میں

شاہ و گدا نے پائی خیرات دَر سے تیرے
خالی رہا ہے دامن کِس کا تِری گلی میں

تیرا کرم صدائیں دیتا ہے عاصیوں کو
بہتا ہے رحمتوں کا دریا تِری گلی میں

قِسمت ہے اپنی اپنی پاتے ہیں پانے والے
بٹتا ہے پنج تنؑ کا صدقہ تِری گلی میں

گھُومے پِھرے جہاں میں دَر دَر کی خاک چھانی
اب تو لگا لیا ہے ڈیرہ تِری گلی میں

جانے یہ ہر سُو کِس نے آئینے رکھ دیئے ہیں
ہر رُخ سے اُٹھ رہا ہے پردہ تِری گلی میں

خود اُس کے مُنھ کی رنگت کہتی ہے رازِ نِیّت
چُھپتا نہیں کِسی کا چہرہ تِری گلی میں

وہ کِس کا ہو سکا ہے وہ کِس کا ہو سکے گا
جو ہو سکا نہ دِل سے تیرا، تِری گلی میں

اب صِرف تُو رہے گا اپنی گلی کی رونق
آئے گا اب نہ کوئی تُجھ سا تِری گلی میں

بیٹھا ہُوا ہُوں اب تک لے کر ترا سہارا
تُجھ بِن نہیں ہے کوئی میرا، تری گلی میں

پُوچھ اُس کے دِل سے جا کر کیا اُس کے دِل پہ گُزری
جو اِک جھلک کو تیری ترسا تِری گلی میں

دِل ہیں کہ لُٹ رہے ہیں سَر ہیں کہ جُھک رہے ہیں
عالم ہے بے خُودی کا کیسا تِری گلی میں

قائم ہے آج تک بھی وہ رنگِ درس تیرا
مِلنا سِکھا رہا ہے میلہ تِری گلی میں

ہو جائے چشمِ رحمت اب تو نصِیرؔ پر بھی
کب سے پڑا ہُوا ہے آقاؐ تِری گلی میں

الشیخ سیّدپِیرنصِیرالدّین نصِیرؔ جیلانی،
رحمتُ اللّٰه تعالٰی علیہ، گولڑہ شریف_____نعتِ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم_____

جِس دِن سے پائے نسبت رکھا تِری گلی میں
دیکھا پھر اہلِ دِل نے کیا کیا تِری گلی میں

جب بھی کِیا ہے مَیں نے سجدہ تِری گلی میں
خِود کِھچ کے آ گیا ہے کعبہ تِری گلی میں

آتا نہیں ہے تب تک دِل کو قرار میرے
لگتا نہیں ہے جب تک پھیرا تِری گلی میں

تیری گلی کو پا کر جیسے تُجھی کو پایا
محسُوس ہو رہا ہے ایسا تِری گلی میں

تقویٰ، ادب، قناعت، خوفِ خُدا، اطاعت
بِکتا ہے آخرت کا سودا تِری گلی میں

قائل نہ تھے جو کل تک افسُونِ دلبری کے
پھرتے ہیں آج بن کر شیدا تِری گلی میں

اوروں کو ہوں مُبارَک رنگینیاں جہاں کی
ہم نے تو جو بھی دیکھا، دیکھا تِری گلی میں

تُو اور تیرا جلوہ، میں اور میری حیرت
گُم سُم کھڑا ہُوا ہُوں تنہا تِری گلی میں

تسکینِ دل کی خاطر کیا کیا نہ میں بھٹکتا
وہ تو مِرا مقدّر لایا تِری گلی میں

شاہ و گدا نے پائی خیرات دَر سے تیرے
خالی رہا ہے دامن کِس کا تِری گلی میں

تیرا کرم صدائیں دیتا ہے عاصیوں کو
بہتا ہے رحمتوں کا دریا تِری گلی میں

قِسمت ہے اپنی اپنی پاتے ہیں پانے والے
بٹتا ہے پنج تنؑ کا صدقہ تِری گلی میں

گھُومے پِھرے جہاں میں دَر دَر کی خاک چھانی
اب تو لگا لیا ہے ڈیرہ تِری گلی میں

جانے یہ ہر سُو کِس نے آئینے رکھ دیئے ہیں
ہر رُخ سے اُٹھ رہا ہے پردہ تِری گلی میں

خود اُس کے مُنھ کی رنگت کہتی ہے رازِ نِیّت
چُھپتا نہیں کِسی کا چہرہ تِری گلی میں

وہ کِس کا ہو سکا ہے وہ کِس کا ہو سکے گا
جو ہو سکا نہ دِل سے تیرا، تِری گلی میں

اب صِرف تُو رہے گا اپنی گلی کی رونق
آئے گا اب نہ کوئی تُجھ سا تِری گلی میں

بیٹھا ہُوا ہُوں اب تک لے کر ترا سہارا
تُجھ بِن نہیں ہے کوئی میرا، تری گلی میں

پُوچھ اُس کے دِل سے جا کر کیا اُس کے دِل پہ گُزری
جو اِک جھلک کو تیری ترسا تِری گلی میں

دِل ہیں کہ لُٹ رہے ہیں سَر ہیں کہ جُھک رہے ہیں
عالم ہے بے خُودی کا کیسا تِری گلی میں

قائم ہے آج تک بھی وہ رنگِ درس تیرا
مِلنا سِکھا رہا ہے میلہ تِری گلی میں

ہو جائے چشمِ رحمت اب تو نصِیرؔ پر بھی
کب سے پڑا ہُوا ہے آقاؐ تِری گلی میں

الشیخ سیّدپِیرنصِیرالدّین نصِیرؔ جیلانی،
رحمتُ اللّٰه تعالٰی علیہ، گولڑہ شریف

03/09/2022
السلام وعلیکم !کھیل سارا دھیان کا ہے دوستوں!یاداشت پر اگر تھوڑا سا زور دیا جائے تو یہ معلوم کرنا چنداں مشکل نہیں کہ  سے ...
02/09/2022

السلام وعلیکم !
کھیل سارا دھیان کا ہے دوستوں!
یاداشت پر اگر تھوڑا سا زور دیا جائے تو یہ معلوم کرنا چنداں مشکل نہیں کہ سے جب سے آپ نے شعور کے سطحی میدان میں قدم رکھنے شروع کیے تب سے آپ سوالوں کی زد میں رہے ہیں۔ ماں باپ کے تجسس اور لاڈ بھرے سوالات سے جن کے توتلے جواب سُن کر وہ ہنستے رہے سے شروع ہونے والا یہ سوالات کا سلسلہ کھبی رُکا نہیں، تعلیمی ادارے، کاروبار، ریاست ، قبیلہ، رشتہ دار، عقیدہ ، سماج ، معاشرہ سب کے سب اپنے اپنے سوالات کے کٹہرے میں آپ کو کھڑا کرتے چلے آئے ہیں ۔ اور انسانی زندگی کا زیادہ تر حصہ آپ انہی سوالوں کے جوابات دینے میں گزار دیتے ہیں۔ اور آپ اکیلے نہیں ہیں جو ایسا کر رہے ہیں ، اربوں لوگوں کی زندگی انہی سوالات کی زد میں ایک زہنی انتشار، تناؤ اور اضطراب میں گزر رہی ہے۔
کیونکہ ہمیشہ آپ سے ہی کوئی سوال کرتا رہتا ہے لہذا آپ ایک فاش مغالطے میں چلے جاتے ہیں کہ سوال ہمیشہ “ دوسرے” سے کیا جاتا ہے۔ اور نہیں جانتے کہ دراصل تمام ضروری سوال “ اپنے سوال” ہوتے ہیں جو “ اپنے آپ” سے کیے جاتے ہیں۔ اور سب سے “ اہم جواب” بھی وہی ہوتا ہے جو خود آپ اپنے آپ کو دیتے ہیں۔
اپنے آپ سے کیے جانے والے سوال ہی آپ کو بیدار کرتے ہیں، جگاتے ہیں۔ دوسروں سے کیے جانے والے سوالات سے آپ کو کچھ معلومات ملتی ہیں لیکن خود سے کیے جانے والے سوال آپ کو علم کے راستے پر چلاتے ہیں۔ آگہی کے راستے پر چلاتے ہیں۔
آپ کو سیاسی ، مذہبی، سماجی اور معاشی مسائل تکلیف دے رہے ہیں۔ آپ کی ٹینشن کیا ہے؟ ہر طرح کی سوچیں ، خوف ، لالچ، تعصب، غضب، دیوالیہ ہونے کا ڈر، روپے کی قدر گرنے کا ڈر وغیرہ وغیرہ ۔۔ آپ کی یہ ٹینشن ( زہنی تناؤ) آپ کے جسم پر بھی اثر انداز ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ کیونکہ جسم اور زہن الگ الگ نہیں ہیں ۔ یہ واحد نظام ہے پس جب ذہن تناؤ زدہ ہوتا ہے تب جسم بھی تناؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔ بھلے آپ اپنی روزمرہ کی زندگی کے تمام امور ایک روٹین میں انجام دیتے ہوئے نظر آ رہے ہوں، نیند بھی کر رہے ہوں مگر یہ سب کچھ دوسروں کو نظر آ رہا ہوتا ہے کیونکہ واردات دراصل اندر ہو جاتی ہے۔ یہ زہنی تناؤ ہر وقت آپ کے جسم کو “ مقابلہ یا فرار” ( fight or flee) کے mode میں رکھتا ہے۔ آپ کا جسم سو میٹر کی تیز دوڈ کے آغاز سے پہلے والی حالت میں ہوتا ہے کہ آپ کے جسم کا ہر خلیہ اور ہر پٹھہ کھنچاو میں اور سانس تھمی ہوئی۔۔۔ آپ کو احساس نہیں ہو پا رہا ہے کہ آپ کا جسم کتنے تناؤ کا شکار ہے اور کتنے عرصہ سے اس تناؤ کا شکار ہے۔
آپ بہت تھک چکے ہیں کیونکہ آپ کا زہن ہمیشہ سے دوسروں کے سوالات کے کٹہرے میں مجرم کی طرح کھڑے رہتا ہیں ۔آپ کب تک اس خود ازیتی کا شکار رہیں گے۔ کیا لذت ہے ان بے معنی رستے ہوئے پیپ زدہ سوالوں کی جو آپ کے زہن کو آلودہ کرنے کے بعد اب جسم میں ناسور کی صورت سامنے آ رہے ہیں۔
یہ سب دھیان، توجہ اور ارتکاز کا کھیل ہے۔ یہاں ہر طرف بھٹکانے ، بہلانے اور پھسلانے کا مکمل بندوبست کیا گیا ہے اور یہ by design ایسا ہے۔ جب کھیل ہی پہچان کا ہے، ڈھونڈنے کا ہے، تلاش کا ہے۔ تو سب سے بنیادی چیز انسان کا دھیان ہوتا ہے۔ اسکی توجہ اور اسکا ارتکاز ہوتا ہے۔
آپ کو اپنے سوال تلاش کرنا ہوں گے اور خود سے انکا جواب بھی ڈھونڈنا ہو گا جو یقین مانیے آپ کو ضرور مل جائے گا مگر اُسکا بنیادی طریقہ کچھ اور ہے۔
آپ کا زہنی فریم ورک جو اس معاشرے نے تشکیل دیا ہے وہ “ دوسرے” پر ہے ، آپ کو نیا زہنی فریم ورک تشکیل دینا ہو گا جو “ میرے” پر ہو۔
آپ اپنی توجہ اُس ( دوسرے) پر مرکوز کیے بیٹھے ہی۔ جو آپ کے کنٹرول میں نہیں۔ چاہے وہ انسان ہوں یا دیگر مخلوقات۔ آپ کے کنٹرول میں اگر کچھ جزوی طور پر ہے بھی تو وہ آپ خود ہیں۔ اس پر آپ کی کوئی توجہ نہیں۔ خود آپ کا کنٹرول اسی لیے “ دوسروں” کے پاس ہے کوئی تعریف کا بٹن دبا کر آپ کو خوش کر دیتا ہے اور کوئی تنقید کا بٹن دبا کر آپ کو غمناک، یا غضب ناک کر دیتا ہے۔ کیونکہ آپ دوسروں کو کنٹرول کرنے کی خواہش میں رہتے ہوئے اپنے آپ کی “ چیک پوسٹ” کو چھوڈ دیتے ہیں اور آپ کو کنٹرول کرنے والی پوسٹ پر کوئی اور آ جاتا ہے۔
تو درویش آج جمعہ کے دن آپ کو مشورہ دیتا ہے کہ
ائے زہن سے تنگ آئے زہین لوگو!
اپنی توجہ اس پر رکھو جو تمہارے کنٹرول میں ہے نہ کہ اُس پر توجہ رکھو جو تمہارے کنٹرول میں نہیں۔
Focus on what you control,
Not on what you do not control.
اپنے آپ سے توجہ کا سوال کیجے گا کہ آپ کی توجہ کتنی اپنی طرف رہتی ہے اور کتنی دوسروں کی طرف۔۔۔۔
جا جا وڈدا مندر مسیتی
کدی من اپنے وچ وڑیا ای نہیں۔
دُعاگُو
سید عدنان وسیم

09/07/2022

دعاء يوم عرفة لسيدي على زين العابدين رضي الله عنه.

الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ بَدِيعَ السَّمَاوَاتِ وَ الْأَرْضِ، ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ، رَبَّ الْأَرْبَابِ، وَإِلَهَ كُلِّ مَأْلُوهٍ، وَخَالِقَ كُلِّ مَخْلُوقٍ، وَ وَارِثَ كُلِّ شَيْءٍ، لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ، وَ لَا يَعْزُبُ عَنْهُ عِلْمُ شَيْءٍ، وَ هُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ مُحِيطٌ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ رَقِيبٌ.

أَنْتَ اللَّـهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، الْأَحَدُ الْمُتَوَحِّدُ الْفَرْدُ الْمُتَفَرِّدُ وَ أَنْتَ اللَّـهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، الْكَرِيمُ الْمُتَكَرِّمُ، الْعَظِيمُ الْمُتَعَظِّمُ، الْكَبِيرُ الْمُتَكَبِّرُ وَ أَنْتَ اللَّـهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، الْعَلِيُّ الْمُتَعَالِ، الشَّدِيدُ الْمِحَالِ وَأَنْتَ اللَّـهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ، الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ. وَأَنْتَ اللَّـهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، السَّمِيعُ الْبَصِيرُ، الْقَدِيمُ الْخَبِيرُ وَ أَنْتَ اللَّـهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، الْكَرِيمُ الْأَكْرَمُ، الدَّائِمُ الْأَدْوَمُ،

وَأَنْتَ اللَّـهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، الْأَوَّلُ قَبْلَ كُلِّ أَحَدٍ، وَ الْآخِرُ بَعْدَ كُلِّ عَدَدٍ وَ أَنْتَ اللَّـهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، الدَّانِي فِي عُلُوِّهِ، وَالْعَالِي فِي دُنُوِّهِ وَأَنْتَ اللَّـهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، ذُو الْبَهَاءِ وَالْمَجْدِ، وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْحَمْدِ وَأَنْتَ اللَّـهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، الَّذِي أَنْشَأْتَ الْأَشْيَاءَ مِنْ غَيْرِ سِنْخٍ، وَصَوَّرْتَ مَا صَوَّرْتَ مِنْ غَيْرِ مِثَالٍ، وَابْتَدَعْتَ الْمُبْتَدَعَاتِ بِلَا احْتِذَاءٍ.

أَنْتَ الَّذِي قَدَّرْتَ كُلَّ شَيْءٍ تَقْدِيراً، وَيَسَّرْتَ كُلَّ شَيْءٍ تَيْسِيراً، وَدَبَّرْتَ مَا دُونَكَ تَدْبِيراً أَنْتَ الَّذِي لَمْ يُعِنْكَ عَلَى خَلْقِكَ شَرِيكٌ، وَلَمْ يُوَازِرْكَ فِي أَمْرِكَ وَزِيرٌ، وَ لَمْ يَكُنْ لَكَ مُشَاهِدٌ وَ لَا نَظِيرٌ.

أَنْتَ الَّذِي أَرَدْتَ فَكَانَ حَتْماً مَا أَرَدْتَ، وَقَضَيْتَ فَكَانَ عَدْلًا مَا قَضَيْتَ، وَحَكَمْتَ فَكَانَ نِصْفاً مَا حَكَمْتَ. أَنْتَ الَّذِي لَا يَحْوِيكَ مَكَانٌ، وَ لَمْ يَقُمْ لِسُلْطَانِكَ سُلْطَانٌ، وَلَمْ يُعْيِكَ بُرْهَانٌ وَلَا بَيَانٌ.

أَنْتَ الَّذِي أَحْصَيْتَ كُلَّ شَيْءٍ عَدَداً، وَجَعَلْتَ لِكُلِّ شَيْءٍ أَمَداً، وَ قَدَّرْتَ كُلَّ شَيْءٍ تَقْدِيراً. أَنْتَ الَّذِي قَصُرَتِ الْأَوْهَامُ عَنْ ذَاتِيَّتِكَ، وَعَجَزَتِ الْأَفْهَامُ عَنْ كَيْفِيَّتِكَ، وَلَمْ تُدْرِكِ الْأَبْصَارُ مَوْضِعَ أَيْنِيَّتِكَ.

أَنْتَ الَّذِي لَا تُحَدُّ فَتَكُونَ مَحْدُوداً، وَلَمْ تُمَثَّلْ فَتَكُونَ مَوْجُوداً، وَلَمْ تَلِدْ فَتَكُونَ مَوْلُوداً. أَنْتَ الَّذِي لَا ضِدَّ مَعَكَ فَيُعَانِدَكَ، وَلَا عِدْلَ لَكَ فَيُكَاثِرَكَ، وَلَا نِدَّ لَكَ فَيُعَارِضَكَ. أَنْتَ الَّذِي ابْتَدَأَ، وَاخْتَرَعَ، وَ اسْتَحْدَثَ، وَ ابْتَدَعَ، وَأَحْسَنَ صُنْعَ مَا صَنَعَ.

سُبْحَانَكَ مَا أَجَلَّ شَأْنَكَ، وَأَسْنَى فِي الْأَمَاكِنِ مَكَانَكَ، وَأَصْدَعَ بِالْحَقِّ فُرْقَانَكَ سُبْحَانَكَ مِنْ لَطِيفٍ مَا أَلْطَفَكَ، وَرَءُوفٍ مَا أَرْأَفَكَ، وَحَكِيمٍ مَا أَعْرَفَكَ سُبْحَانَكَ مِنْ مَلِيكٍ مَا أَمْنَعَكَ، وَجَوَادٍ مَا أَوْسَعَكَ، وَرَفِيعٍ مَا أَرْفَعَكَ ذُو الْبَهَاءِ وَالْمَجْدِ وَ الْكِبْرِيَاءِ وَالْحَمْدِ.

سُبْحَانَكَ بَسَطْتَ بِالْخَيْرَاتِ يَدَكَ، وَ عُرِفَتِ الْهِدَايَةُ مِنْ عِنْدِكَ، فَمَنِ الْتَمَسَكَ لِدِينٍ أَوْ دُنْيَا وَجَدَكَ سُبْحَانَكَ خَضَعَ لَكَ مَنْ جَرَى فِي عِلْمِكَ، وَخَشَعَ لِعَظَمَتِكَ مَا دُونَ عَرْشِكَ، وَانْقَادَ لِلتَّسْلِيمِ لَكَ كُلُّ خَلْقِكَ

سُبْحَانَكَ لَا تُحَسُّ وَلَا تُجَسُّ وَلَا تُمَسُّ وَلَا تُكَادُ وَلَا تُمَاطُ وَلَا تُنَازَعُ وَلَا تُجَارَى وَلَا تُمَارَى وَلَا تُخَادَعُ وَلَا تُمَاكَرُ سُبْحَانَكَ سَبِيلُكَ جَدَدٌ. وَأَمْرُكَ رَشَدٌ، وَأَنْتَ حَيٌّ صَمَدٌ.

سُبْحَانَكَ قَولُكَ حُكْمٌ، وَ قَضَاؤُكَ حَتْمٌ، وَ إِرَادَتُكَ عَزْمٌ. سُبْحَانَكَ لَا رَادَّ لِمَشِيَّتِكَ، وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِكَ.

سُبْحَانَكَ بَاهِرَ الْآيَاتِ، فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ، بَارِئَ النَّسَمَاتِ لَكَ الْحَمْدُ حَمْداً يَدُومُ بِدَوَامِكَ وَلَكَ الْحَمْدُ حَمْداً خَالِداً بِنِعْمَتِكَ. وَلَكَ الْحَمْدُ حَمْداً يُوَازِي صُنْعَكَ وَلَكَ الْحَمْدُ حَمْداً يَزِيدُ عَلَى رِضَاكَ. وَلَكَ الْحَمْدُ حَمْداً مَعَ حَمْدِ كُلِّ حَامِدٍ، وَشُكْراً يَقْصُرُ عَنْهُ شُكْرُ كُلِّ شَاكِرٍ حَمْداً لَا يَنْبَغِي إِلَّا لَكَ، وَلَا يُتَقَرَّبُ بِهِ إِلَّا إِلَيْكَ حَمْداً يُسْتَدَامُ بِهِ الْأَوَّلُ، وَيُسْتَدْعَى بِهِ دَوَامُ الْآخِرِ. حَمْداً يَتَضَاعَفُ عَلَى كُرُورِ الْأَزْمِنَةِ، وَيَتَزَايَدُ أَضْعَافاً مُتَرَادِفَةً.

حَمْداً يَعْجِزُ عَنْ إِحْصَائِهِ الْحَفَظَةُ، وَيَزِيدُ عَلَى مَا أَحْصَتْهُ فِي كِتَابِكَ الْكَتَبَةُ حَمْداً يُوازِنُ عَرْشَكَ الْمَجِيدَ وَيُعَادِلُ كُرْسِيَّكَ الرَّفِيعَ. حَمْداً يَكْمُلُ لَدَيْكَ ثَوَابُهُ، وَيَسْتَغْرِقُ كُلَّ جَزَاءٍ جَزَاؤُهُ

حَمْداً ظَاهِرُهُ وَفْقٌ لِبَاطِنِهِ، وَبَاطِنُهُ وَفْقٌ لِصِدْقِ النِّيَّةِ حَمْداً لَمْ يَحْمَدْكَ خَلْقٌ مِثْلَهُ، وَلَا يَعْرِفُ أَحَدٌ سِوَاكَ فَضْلَهُ

حَمْداً يُعَانُ مَنِ اجْتَهَدَ فِي تَعْدِيدِهِ، وَيُؤَيَّدُ مَنْ أَغْرَقَ نَزْعاً فِي تَوْفِيَتِهِ. حَمْداً يَجْمَعُ مَا خَلَقْتَ مِنَ الْحَمْدِ، وَيَنْتَظِمُ مَا أَنْتَ خَالِقُهُ مِنْ بَعْدُ.

حَمْداً لَا حَمْدَ أَقْرَبُ إِلَى قَوْلِكَ مِنْهُ، وَلَا أَحْمَدَ مِمَّنْ يَحْمَدُكَ بِهِ. حَمْداً يُوجِبُ بِكَرَمِكَ الْمَزِيدَ بِوُفُورِهِ، وَ تَصِلُهُ بِمَزِيدٍ بَعْدَ مَزِيدٍ طَوْلًا مِنْكَ حَمْداً يَجِبُ لِكَرَمِ وَجْهِكَ، وَيُقَابِلُ عِزَّ جَلَالِكَ.

رَبِّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ، الْمُنْتَجَبِ الْمُصْطَفَى الْمُكَرَّمِ الْمُقَرَّبِ، أَفْضَلَ صَلَوَاتِكَ، وَبَارِكْ عَلَيْهِ أَتَمَّ بَرَكَاتِكَ، وَتَرَحَّمْ عَلَيْهِ أَمْتَعَ رَحَمَاتِكَ.

رَبِّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ، صَلَاةً زَاكِيَةً لَا تَكُونُ صَلَاةٌ أَزْكَى مِنْهَا، وَصَلِّ عَلَيْهِ صَلَاةً نَامِيَةً لَا تَكُونُ صَلَاةٌ أَنْمَى مِنْهَا، وَصَلِّ عَلَيْهِ صَلَاةً رَاضِيَةً لَا تَكُونُ صَلَاةٌ فَوْقَهَا.

رَبِّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِهِ، صَلَاةً تُرْضِيهِ وَتَزِيدُ عَلَى رِضَاهُ، وَصَلِّ عَلَيْهِ صَلَاةً تُرْضِيكَ وتَزِيدُ عَلَى رِضَاكَ لَهُ وَصَلِّ عَلَيْهِ صَلَاةً لَا تَرْضَى لَهُ إِلَّا بِهَا، وَلَا تَرَى غَيْرَهُ لَهَا أَهْلًا.

رَبِّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِهِ صَلَاةً تُجَاوِزُ رِضْوَانَكَ، وَيَتَّصِلُ اتِّصَالُهَا بِبَقَائِكَ، وَلَا يَنْفَدُ كَمَا لَا تَنْفَدُ كَلِمَاتُكَ.

رَبِّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِهِ، صَلَاةً تَنْتَظِمُ صَلَوَاتِ مَلَائِكَتِكَ وَأَنْبِيَائِكَ وَرُسُلِكَ وَأَهْلِ طَاعَتِكَ، وَتَشْتَمِلُ عَلَى صَلَوَاتِ عِبَادِكَ مِنْ جِنِّكَ وَ إِنْسِكَ وَأَهْلِ إِجَابَتِكَ، وَتَجْتَمِعُ عَلَى صَلَاةِ كُلِّ مَنْ ذَرَأْتَ وَبَرَأْتَ مِنْ أَصْنَافِ خَلْقِكَ.

رَبِّ صَلِّ عَلَيْهِ وَآلِهِ، صَلَاةً تُحِيطُ بِكُلِّ صَلَاةٍ سَالِفَةٍ وَ مُسْتَأْنَفَةٍ، وَصَلِّ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ، صَلَاةً مَرْضِيَّةً لَكَ وَلِمَنْ دُونَكَ، وَتُنْشِئُ مَعَ ذَلِكَ صَلَوَاتٍ تُضَاعِفُ مَعَهَا تِلْكَ الصَّلَوَاتِ عِنْدَهَا، وَتَزِيدُهَا عَلَى كُرُورِ الْأَيَّامِ زِيَادَةً فِي تَضَاعِيفَ لَا يَعُدُّهَا غَيْرُكَ.

رَبِّ صَلِّ عَلَى أَطَايِبِ أَهْلِ بَيْتِهِ الَّذِينَ اخْتَرْتَهُمْ لِأَمْرِكَ، وَجَعَلْتَهُمْ خَزَنَةَ عِلْمِكَ، وَ حَفَظَةَ دِينِكَ، وَخُلَفَاءَكَ فِي أَرْضِكَ، وَحُجَجَكَ عَلَى عِبَادِكَ، وَطَهَّرْتَهُمْ مِنَ الرِّجْسِ وَ الدَّنَسِ تَطْهِيراً بِإِرَادَتِكَ، وَجَعَلْتَهُمُ الْوَسِيلَةَ إِلَيْكَ، وَالْمَسْلَكَ إِلَى جَنَّتِكَ

رَبِّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِهِ، صَلَاةً تُجْزِلُ لَهُمْ بِهَا مِنْ نِحَلِكَ وَكَرَامَتِكَ، وَتُكْمِلُ لَهُمُ الْأَشْيَاءَ مِنْ عَطَايَاكَ وَنَوَافِلِكَ، وَتُوَفِّرُ عَلَيْهِمُ الْحَظَّ مِنْ عَوَائِدِكَ وَفَوَائِدِكَ.

رَبِّ صَلِّ عَلَيْهِ وَعَلَيْهِمْ صَلَاةً لَا أَمَدَ فِي أَوَّلِهَا، وَلَا غَايَةَ لِأَمَدِهَا، وَلَا نِهَايَةَ لِآخِرِهَا.

رَبِّ صَلِّ عَلَيْهِمْ زِنَةَ عَرْشِكَ وَمَا دُونَهُ، وَمِلْءَ سَمَاوَاتِكَ وَمَا فَوْقَهُنَّ، وَ عَدَدَ أَرَضِيكَ وَمَا تَحْتَهُنَّ وَمَا بَيْنَهُنَّ، صَلَاةً تُقَرِّبُهُمْ مِنْكَ زُلْفَى، وَتَكُونُ لَكَ وَلَهُمْ رِضًى، وَمُتَّصِلَةً بِنَظَائِرِهِنَّ أَبَداً.

اللَّهُمَّ إِنَّكَ أَيَّدْتَ دِينَكَ فِي كُلِّ أَوَانٍ بِإِمَامٍ أَقَمْتَهُ عَلَماً لِعِبَادِكَ، وَمَنَاراً فِي بِلَادِكَ بَعْدَ أَنْ وَصَلْتَ حَبْلَهُ بِحَبْلِكَ، وَجَعَلْتَهُ الذَّرِيعَةَ إِلَى رِضْوَانِكَ، وَافْتَرَضْتَ طَاعَتَهُ، وَحَذَّرْتَ مَعْصِيَتَهُ، وَأَمَرْتَ بِامْتِثَالِ أَوَامِرِهِ، وَالِانْتِهَاءِ عِنْدَ نَهْيِهِ، وَأَلَّا يَتَقَدَّمَهُ مُتَقَدِّمٌ، وَلَا يَتَأَخَّرَ عَنْهُ مُتَأَخِّرٌ فَهُوَ عِصْمَةُ اللَّائِذِينَ، وَكَهْفُ الْمُؤْمِنِينَ وَعُرْوَةُ الْمُتَمَسِّكِينَ، وَبَهَاءُ الْعَالَمِينَ.

اللَّهُمَّ فَأَوْزِعْ لِوَلِيِّكَ شُكْرَ مَا أَنْعَمْتَ بِهِ عَلَيْهِ، وَأَوْزِعْنَا مِثْلَهُ فِيهِ، وَآتِهِ مِنْ لَدُنْكَ سُلْطَاناً نَصِيراً، وَافْتَحْ لَهُ فَتْحاً يَسِيراً، وَأَعِنْهُ بِرُكْنِكَ الْأَعَزِّ، وَاشْدُدْ أَزْرَهُ، وَقَوِّ عَضُدَهُ، وَرَاعِهِ بِعَيْنِكَ، وَاحْمِهِ بِحِفْظِكَ وَانْصُرْهُ بِمَلَائِكَتِكَ، وَامْدُدْهُ بِجُنْدِكَ الْأَغْلَبِ. وَأَقِمْ بِهِ كِتَابَكَ وَحُدُودَكَ وَشَرَائِعَكَ وَ سُنَنَ رَسُولِكَ، صَلَوَاتُكَ اللَّهُمَّ عَلَيْهِ وَآلِهِ،

وَأَحْيِ بِهِ مَا أَمَاتَهُ الظَّالِمُونَ مِنْ مَعَالِمِ دِينِكَ، وَاجْلُ بِهِ صَدَاءَ الْجَوْرِ عَنْ طَرِيقَتِكَ، وَأَبِنْ بِهِ الضَّرَّاءَ مِنْ سَبِيلِكَ، وَأَزِلْ بِهِ النَّاكِبِينَ عَنْ صِرَاطِكَ، وَامْحَقْ بِهِ بُغَاةَ قَصْدِكَ عِوَجاً وَأَلِنْ جَانِبَهُ لِأَوْلِيَائِكَ، وَابْسُطْ يَدَهُ عَلَى أَعْدَائِكَ، وَهَبْ لَنَا رَأْفَتَهُ، وَرَحْمَتَهُ وَتَعَطُّفَهُ وَتَحَنُّنَهُ، وَاجْعَلْنَا لَهُ سَامِعِينَ مُطِيعِينَ، وَفِي رِضَاهُ سَاعِينَ، وَإِلَى نُصْرَتِهِ وَالْمُدَافَعَةِ عَنْهُ مُكْنِفِينَ، وَإِلَيْكَ وَإِلَى رَسُولِكَ صَلَوَاتُكَ اللَّهُمَّ عَلَيْهِ وَ آلِهِ بِذَلِكَ مُتَقَرِّبِينَ.

اللَّهُمَّ وَصَلِّ عَلَى أَوْلِيَائِهِمُ الْمُعْتَرِفِينَ بِمَقَامِهِمُ، الْمُتَّبِعِينَ مَنْهَجَهُمُ، الْمُقْتَفِينَ آثَارَهُمُ، الْمُسْتَمْسِكِينَ بِعُرْوَتِهِمُ، الْمُتَمَسِّكِينَ بِوِلَايَتِهِمُ، الْمُؤْتَمِّينَ بِإِمَامَتِهِمُ، الْمُسَلِّمِينَ لِأَمْرِهِمُ، الْمُجْتَهِدِينَ فِي طَاعَتِهِمُ، الْمُنْتَظِرِينَ أَيَّامَهُمُ، الْمَادِّينَ إِلَيْهِمْ أَعْيُنَهُمُ، الصَّلَوَاتِ الْمُبَارَكَاتِ الزَّاكِيَاتِ النَّامِيَاتِ الْغَادِيَاتِ الرَّائِحَاتِ.

وَسَلِّمْ عَلَيْهِمْ وَعَلَى أَرْوَاحِهِمْ، وَاجْمَعْ عَلَى التَّقْوَى أَمْرَهُمْ، وَأَصْلِحْ لَهُمْ شُئُونَهُمْ، وَتُبْ عَلَيْهِمْ، إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ، وَخَيْرُ الْغَافِرِينَ، وَاجْعَلْنَا مَعَهُمْ فِي دَارِ السَّلَامِ بِرَحْمَتِكَ، يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ.

اللَّهُمَّ هَذَا يَوْمُ عَرَفَةَ يَوْمٌ شَرَّفْتَهُ وَكَرَّمْتَهُ وَعَظَّمْتَهُ، نَشَرْتَ فِيهِ رَحْمَتَكَ، وَمَنَنْتَ فِيهِ بِعَفْوِكَ، وَأَجْزَلْتَ فِيهِ عَطِيَّتَكَ، وَتَفَضَّلْتَ بِهِ عَلَى عِبَادِكَ.

اللَّهُمَّ وَأَنَا عَبْدُكَ الَّذِي أَنْعَمْتَ عَلَيْهِ قَبْلَ خَلْقِكَ لَهُ وَبَعْدَ خَلْقِكَ إِيَّاهُ، فَجَعَلْتَهُ مِمَّنْ هَدَيْتَهُ لِدِينِكَ، وَوَفَّقْتَهُ لِحَقِّكَ، وَعَصَمْتَهُ بِحَبْلِكَ، وَأَدْخَلْتَهُ فِي حِزْبِكَ، وَأَرْشَدْتَهُ لِمُوَالَاةِ أَوْلِيَائِكَ، وَمُعَادَاةِ أَعْدَائِكَ.

ثُمَّ أَمَرْتَهُ فَلَمْ يَأْتَمِرْ، وَ زَجَرْتَهُ فَلَمْ يَنْزَجِرْ، وَ نَهَيْتَهُ عَنْ مَعْصِيَتِكَ، فَخَالَفَ أَمْرَكَ إِلَى نَهْيِكَ، لَا مُعَانَدَةً لَكَ، وَلَا اسْتِكْبَاراً عَلَيْكَ، بَلْ دَعَاهُ هَوَاهُ إِلَى مَا زَيَّلْتَهُ وَإِلَى مَا حَذَّرْتَهُ، وَ أَعَانَهُ عَلَى ذَلِكَ عَدُوُّكَ وَ عَدُوُّهُ، فَأَقْدَمَ عَلَيْهِ عَارِفاً بِوَعِيدِكَ، رَاجِياً لِعَفْوِكَ، وَاثِقاً بِتَجَاوُزِكَ، وَكَانَ أَحَقَّ عِبَادِكَ مَعَ مَا مَنَنْتَ عَلَيْهِ أَلَّا يَفْعَلَ.

وَهَا أَنَا ذَا بَيْنَ يَدَيْكَ صَاغِراً ذَلِيلًا خَاضِعاً خَاشِعاً خَائِفاً، مُعْتَرِفاً بِعَظِيمٍ مِنَ الذُّنُوبِ تَحَمَّلْتُهُ، وَجَلِيلٍ مِنَ الْخَطَايَا اجْتَرَمْتُهُ، مُسْتَجِيراً بِصَفْحِكَ، لَائِذاً بِرَحْمَتِكَ، مُوقِناً أَنَّهُ لَا يُجِيرُنِي مِنْكَ مُجِيرٌ، وَلَا يَمْنَعُنِي مِنْكَ مَانِعٌ.

فَعُدْ عَلَيَّ بِمَا تَعُودُ بِهِ عَلَى مَنِ اقْتَرَفَ مِنْ تَغَمُّدِكَ، وَجُدْ عَلَيَّ بِمَا تَجُودُ بِهِ عَلَى مَنْ أَلْقَى بِيَدِهِ إِلَيْكَ مِنْ عَفْوِكَ، وَامْنُنْ عَلَيَّ بِمَا لَا يَتَعَاظَمُكَ أَنْ تَمُنَّ بِهِ عَلَى مَنْ أَمَّلَكَ مِنْ غُفْرَانِكَ،

وَاجْعَلْ لِي فِي هَذَا الْيَوْمِ نَصِيباً أَنَالُ بِهِ حَظّاً مِنْ رِضْوَانِكَ، وَلَا تَرُدَّنِي صِفْراً مِمَّا يَنْقَلِبُ بِهِ الْمُتَعَبِّدُونَ لَكَ مِنْ عِبَادِكَ وَإِنِّي وَإِنْ لَمْ أُقَدِّمْ مَا قَدَّمُوهُ مِنَ الصَّالِحَاتِ فَقَدْ قَدَّمْتُ تَوْحِيدَكَ وَنَفْيَ الْأَضْدَادِ وَالْأَنْدَادِ وَالْأَشْبَاهِ عَنْكَ، وَأَتَيْتُكَ مِنَ الْأَبْوَابِ الَّتِي أَمَرْتَ أَنْ تُؤْتَى مِنْهَا، وَتَقَرَّبْتُ إِلَيْكَ بِمَا لَا يَقْرُبُ أَحَدٌ مِنْكَ إِلَّا بالتَّقَرُّبِ بِهِ.

ثُمَّ أَتْبَعْتُ ذَلِكَ بِالْإِنَابَةِ إِلَيْكَ، وَالتَّذَلُّلِ وَالِاسْتِكَانَةِ لَكَ، وَحُسْنِ الظَّنِّ بِكَ، وَالثِّقَةِ بِمَا عِنْدَكَ، وَشَفَعْتُهُ بِرَجَائِكَ الَّذِي قَلَّ مَا يَخِيبُ عَلَيْهِ رَاجِيكَ.

وَسَأَلْتُكَ مَسْأَلَةَ الْحَقِيرِ الذَّلِيلِ الْبَائِسِ الْفَقِيرِ الْخَائِفِ الْمُسْتَجِيرِ، وَمَعَ ذَلِكَ خِيفَةً وَتَضَرُّعاً وَتَعَوُّذاً وَتَلَوُّذاً، لَا مُسْتَطِيلًا بِتَكَبُّرِ الْمُتَكَبِّرِينَ، وَلَا مُتَعَالِياً بِدَالَّةِ الْمُطِيعِينَ، وَلَا مُسْتَطِيلًا بِشَفَاعَةِ الشَّافِعِينَ. وَأَنَا بَعْدُ أَقَلُّ الْأَقَلِّينَ، وَأَذَلُّ الْأَذَلِّينَ، وَمِثْلُ الذَّرَّةِ أَوْ دُونَهَا، فَيَا مَنْ لَمْ يُعَاجِلِ الْمُسِيئِينَ، وَ لَا يَنْدَهُ الْمُتْرَفِينَ، وَيَا مَنْ يَمُنُّ بِإِقَالَةِ الْعَاثِرِينَ، وَيَتَفَضَّلُ بِإِنْظَارِ الْخَاطِئِينَ.

أَنَا الْمُسِيءُ الْمُعْتَرِفُ الْخَاطِئُ الْعَاثِرُ. أَنَا الَّذِي أَقْدَمَ عَلَيْكَ مُجْتَرِئاً. أَنَا الَّذِي عَصَاكَ مُتَعَمِّداً. أَنَا الَّذِي اسْتَخْفَى مِنْ عِبَادِكَ وَبَارَزَكَ. أَنَا الَّذِي هَابَ عِبَادَكَ وَأَمِنَكَ. أَنَا الَّذِي لَمْ يَرْهَبْ سَطْوَتَكَ، وَلَمْ يَخَفْ بَأْسَكَ. أَنَا الْجَانِي عَلَى نَفْسِهِ أَنَا الْمُرْتَهَنُ بِبَلِيَّتِهِ. أَنَا القَلِيلُ الْحَيَاءِ. أَنَا الطَّوِيلُ الْعَنَاءِ.

بِحَقِّ مَنِ انْتَجَبْتَ مِنْ خَلْقِكَ، وَبِمَنِ اصْطَفَيْتَهُ لِنَفْسِكَ، بِحَقِّ مَنِ اخْتَرْتَ مِنْ بَرِيَّتِكَ، وَمَنِ اجْتَبَيْتَ لِشَأْنِكَ، بِحَقِّ مَنْ وَصَلْتَ طَاعَتَهُ بِطَاعَتِكَ، وَمَنْ جَعَلْتَ مَعْصِيَتَهُ كَمَعْصِيَتِكَ،

بِحَقِّ مَنْ قَرَنْتَ مُوَالَاتَهُ بِمُوَالَاتِكَ، وَمَنْ نُطْتَ مُعَادَاتَهُ بِمُعَادَاتِكَ، تَغَمَّدْنِي فِي يَوْمِي هَذَا بِمَا تَتَغَمَّدُ بِهِ مَنْ جَارَ إِلَيْكَ مُتَنَصِّلًا، وَعَاذَ بِاسْتِغْفَارِكَ تَائِباً.

وَتَوَلَّنِي بِمَا تَتَوَلَّى بِهِ أَهْلَ طَاعَتِكَ وَالزُّلْفَى لَدَيْكَ وَالْمَكَانَةِ مِنْكَ. وَتَوَحَّدْنِي بِمَا تَتَوَحَّدُ بِهِ مَنْ وَفَى بِعَهْدِكَ، وَأَتْعَبَ نَفْسَهُ فِي ذَاتِكَ، وَأَجْهَدَهَا فِي مَرْضَاتِكَ.

وَلَا تُؤَاخِذْنِي بِتَفْرِيطِي فِي جَنْبِكَ، وَتَعَدِّي طَوْرِي فِي حُدُودِكَ، وَمُجَاوَزَةِ أَحْكَامِكَ. وَلَا تَسْتَدْرِجْنِي بِإِمْلَائِكَ لِي اسْتِدْرَاجَ مَنْ مَنَعَنِي خَيْرَ مَا عِنْدَهُ وَلَمْ يَشْرَكْكَ فِي حُلُولِ نِعْمَتِهِ بِي. وَنَبِّهْنِي مِنْ رَقْدَةِ الْغَافِلِينَ، وَسِنَةِ الْمُسْرِفِينَ، وَنَعْسَةِ الْمَخْذُولِينَ وَخُذْ بِقَلْبِي إِلَى مَا اسْتَعْمَلْتَ بِهِ الْقَانِتِينَ، وَاسْتَعْبَدْتَ بِهِ الْمُتَعَبِّدِينَ، وَاسْتَنْقَذْتَ بِهِ الْمُتَهَاوِنِينَ.

وَأَعِذْنِي مِمَّا يُبَاعِدُنِي عَنْكَ، وَيَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَ حَظِّي مِنْكَ، وَيَصُدُّنِي عَمَّا أُحَاوِلُ لَدَيْكَ وَسَهِّلْ لِي مَسْلَكَ الْخَيْرَاتِ إِلَيْكَ، وَالْمُسَابَقَةَ إِلَيْهَا مِنْ حَيْثُ أَمَرْتَ، وَالْمُشَاحَّةَ فِيهَا عَلَى مَا أَرَدْتَ. وَلَا تَمْحَقْنِي فِيمَن تَمْحَقُ مِنَ الْمُسْتَخِفِّينَ بِمَا أَوْعَدْتَ وَلَا تُهْلِكْنِي مَعَ مَنْ تُهْلِكُ مِنَ الْمُتَعَرِّضِينَ لِمَقْتِكَ وَلَا تُتَبِّرْنِي فِيمَنْ تُتَبِّرُ مِنَ الْمُنْحَرِفِينَ عَنْ سُبُلِكَ وَنَجِّنِي مِنْ غَمَرَاتِ الْفِتْنَةِ، وَخَلِّصْنِي مِنْ لَهَوَاتِ الْبَلْوَى،

وَأَجِرْنِي مِنْ أَخْذِ الْإِمْلَاءِ. وَحُلْ بَيْنِي وَبَيْنَ عَدُوٍّ يُضِلُّنِي، وَهَوًى يُوبِقُنِي، وَمَنْقَصَةٍ تَرْهَقُنِي وَلَا تُعْرِضْ عَنِّي إِعْرَاضَ مَنْ لَا تَرْضَى عَنْهُ بَعْدَ غَضَبِكَ وَلَا تُؤْيِسْنِي مِنَ الْأَمَلِ فِيكَ فَيَغْلِبَ عَلَيَّ الْقُنُوطُ مِنْ رَحْمَتِكَ وَلَا تَمْنَحْنِي بِمَا لَا طَاقَةَ لِي بِهِ فَتَبْهَظَنِي مِمَّا تُحَمِّلُنِيهِ مِنْ فَضْلِ مَحَبَّتِكَ.

وَلَا تُرْسِلْنِي مِنْ يَدِكَ إِرْسَالَ مَنْ لَا خَيْرَ فِيهِ، وَلَا حَاجَةَ بِكَ إِلَيْهِ، وَلَا إِنَابَةَ لَهُ وَلَا تَرْمِ بِي رَمْيَ مَنْ سَقَطَ مِنْ عَيْنِ رِعَايَتِكَ، وَمَنِ اشْتَمَلَ عَلَيْهِ الْخِزْيُ مِنْ عِنْدِكَ، بَلْ خُذْ بِيَدِي مِنْ سَقْطَةِ الْمُتَرَدِّينَ، وَوَهْلَةِ الْمُتَعَسِّفِينَ، وَزَلَّةِ الْمَغْرُورِينَ، وَ وَرْطَةِ الْهَالِكِينَ.

وَعَافِنِي مِمَّا ابْتَلَيْتَ بِهِ طَبَقَاتِ عَبِيدِكَ وَإِمَائِكَ، وَبَلِّغْنِي مَبَالِغَ مَنْ عُنِيتَ بِهِ، وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ، وَ رَضِيتَ عَنْهُ، فَأَعَشْتَهُ حَمِيداً، وَتَوَفَّيْتَهُ سَعِيداً وَطَوِّقْنِي طَوْقَ الْإِقْلَاعِ عَمَّا يُحْبِطُ الْحَسَنَاتِ، وَيَذْهَبُ بِالْبَرَكَاتِ وَأَشْعِرْ قَلْبِيَ الِازْدِجَارَ عَنْ قَبَائِحِ السَّيِّئَاتِ، وَفَوَاضِحِ الْحَوْبَاتِ.

وَلَا تَشْغَلْنِي بِمَا لَا أُدْرِكُهُ إِلَّا بِكَ عَمَّا لَا يُرْضِيكَ عَنِّي غَيْرُهُ وَ انْزِعْ مِنْ قَلْبِي حُبَّ دُنْيَا دَنِيَّةٍ تَنْهَى عَمَّا عِنْدَكَ، وَتَصُدُّ عَنِ ابْتِغَاءِ الْوَسِيلَةِ إِلَيْكَ، وَتُذْهِلُ عَنِ التَّقَرُّبِ مِنْكَ.

وَزَيِّنْ لِيَ التَّفَرُّدَ بِمُنَاجَاتِكَ بِاللَّيْلِ وَ النَّهَارِ وَهَبْ لِي عِصْمَةً تُدْنِينِي مِنْ خَشْيَتِكَ، وَ تَقْطَعُنِي عَنْ رُكُوبِ مَحَارِمِكَ، وَتَفُكَّنِي مِنْ أَسْرِ الْعَظَائِمِ.

وَهَبْ لِيَ التَّطْهِيرَ مِنْ دَنَسِ الْعِصْيَانِ، وَأَذْهِبْ عَنِّي دَرَنَ الْخَطَايَا، وَسَرْبِلْنِي بِسِرْبَالِ عَافِيَتِكَ، وَ رَدِّنِي رِدَاءَ مُعَافَاتِكَ، وَ جَلِّلْنِي سَوَابِغَ نَعْمَائِكَ، وَظَاهِرْ لَدَيَّ فَضْلَكَ وَطَوْلَكَ وَأَيِّدْنِي بِتَوْفِيقِكَ وَتَسْدِيدِكَ، وَأَعِنِّي عَلَى صَالِحِ النِّيَّةِ، وَمَرْضِيِّ الْقَوْلِ، وَمُسْتَحْسَنِ الْعَمَلِ، وَلَا تَكِلْنِي إِلَى حَوْلِي وَقُوَّتِي دُونَ حَوْلِكَ وَقُوَّتِكَ.

وَلَا تُخْزِنِي يَوْمَ تَبْعَثُنِي لِلِقَائِكَ، وَلَا تَفْضَحْنِي بَيْنَ يَدَيْ أَوْلِيَائِكَ، وَلَا تُنْسِنِي ذِكْرَكَ، وَلَا تُذْهِبْ عَنِّي شُكْرَكَ، بَلْ أَلْزِمْنِيهِ فِي أَحْوَالِ السَّهْوِ عِنْدَ غَفَلَاتِ الْجَاهِلِينَ لِآلْائِكَ،

وَأَوْزِعْنِي أَنْ أُثْنِيَ بِمَا أَوْلَيْتَنِيهِ، وَأَعْتَرِفَ بِمَا أَسْدَيْتَهُ إِلَيَّ. وَاجْعَلْ رَغْبَتِي إِلَيْكَ فَوْقَ رَغْبَةِ الرَّاغِبِينَ، وَحَمْدِي إِيَّاكَ فَوْقَ حَمْدِ الْحَامِدِينَ

وَلَا تَخْذُلْنِي عِنْدَ فَاقَتِي إِلَيْكَ، وَلَا تُهْلِكْنِي بِمَا أَسْدَيْتُهُ إِلَيْكَ، وَ لَا تَجْبَهْنِي بِمَا جَبَهْتَ بِهِ الْمُعَانِدِينَ لَكَ، فَإِنِّي لَكَ مُسَلِّمٌ،

أَعْلَمُ أَنَّ الْحُجَّةَ لَكَ، وَأَنَّكَ أَوْلَى بِالْفَضْلِ، وَأَعْوَدُ بِالْإِحْسَانِ، وَأَهْلُ التَّقْوَى، وَأَهْلُ الْمَغْفِرَةِ، وَأَنَّكَ بِأَنْ تَعْفُوَ أَوْلَى مِنْكَ بِأَنْ تُعَاقِبَ، وَأَنَّكَ بِأَنْ تَسْتُرَ أَقْرَبُ مِنْكَ إِلَى أَنْ تَشْهَرَ.

فَأَحْيِنِي حَيَاةً طَيِّبَةً تَنْتَظِمُ بِمَا أُرِيدُ، وَتَبْلُغُ مَا أُحِبُّ مِنْ حَيْثُ لَا آتِي مَا تَكْرَهُ، وَلَا أَرْتَكِبُ مَا نَهَيْتَ عَنْهُ، وَأَمِتْنِي مِيتَةَ مَنْ يَسْعَى نُورُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ وَعَنْ يَمِينِهِ.

وَذَلِّلْنِي بَيْنَ يَدَيْكَ، وَ أَعِزَّنِي عِنْدَ خَلْقِكَ، وَضَعْنِي إِذَا خَلَوْتُ بِكَ، وَارْفَعْنِي بَيْنَ عِبَادِكَ، وَ أَغْنِنِي عَمَّنْ هُوَ غَنِيٌّ عَنِّي، وَزِدْنِي إِلَيْكَ فَاقَةً وَفَقْراً.

وَأَعِذْنِي مِنْ شَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ، وَمِنْ حُلُولِ الْبَلَاءِ، وَمِنَ الذُّلِّ وَالْعَنَاءِ، تَغَمَّدْنِي فِيمَا اطَّلَعْتَ عَلَيْهِ مِنِّي بِمَا يَتَغَمَّدُ بِهِ الْقَادِرُ عَلَى الْبَطْشِ لَوْ لَا حِلْمُهُ، وَالْآخِذُ عَلَى الْجَرِيرَةِ لَوْ لَا أَنَاتُهُ

وَإِذَا أَرَدْتَ بِقَوْمٍ فِتْنَةً أَوْ سُوءاً فَنَجِّنِي مِنْهَا لِوَاذاً بِكَ، وَإِذْ لَمْ تُقِمْنِي مَقَامَ فَضِيحَةٍ فِي دُنْيَاكَ فَلَا تُقِمْنِي مِثْلَهُ فِي آخِرَتِكَ وَاشْفَعْ لِي أَوَائِلَ مِنَنِكَ بِأَوَاخِرِهَا، وَقَدِيمَ فَوَائِدِكَ بِحَوَادِثِهَا،

وَلَا تَمْدُدْ لِي مَدّاً يَقْسُو مَعَهُ قَلْبِي، وَلَا تَقْرَعْنِي قَارِعَةً يَذْهَبُ لَهَا بَهَائِي، وَلَا تَسُمْنِي خَسِيسَةً يَصْغُرُ لَهَا قَدْرِي وَلَا نَقِيصَةً يُجْهَلُ مِنْ أَجْلِهَا مَكَانِي.

وَلَا تَرُعْنِي رَوْعَةً أُبْلِسُ بِهَا، وَلَا خِيفَةً أُوجِسُ دُونَهَا، اجْعَلْ هَيْبَتِي فِي وَعِيدِكَ، وَحَذَرِي مِنْ إِعْذَارِكَ وَإِنْذَارِكَ، وَرَهْبَتِي عِنْد تِلَاوَةِ آيَاتِكَ.

وَاعْمُرْ لَيْلِي بِإِيقَاظِي فِيهِ لِعِبَادَتِكَ، وَتَفَرُّدِي بِالتَّهَجُّدِ لَكَ، وَتَجَرُّدِي بِسُكُونِي إِلَيْكَ، وَإِنْزَالِ حَوَائِجِي بِكَ، وَمُنَازَلَتِي إِيَّاكَ فِي فَكَاكِ رَقَبَتِي مِنْ نَارِكَ، وَإِجَارَتِي مِمَّا فِيهِ أَهْلُهَا مِنْ عَذَابِكَ. وَلَا تَذَرْنِي فِي طُغْيَانِي عَامِهاً، وَلَا فِي غَمْرَتِي سَاهِياً حَتَّى حِينٍ،

وَلَا تَجْعَلْنِي عِظَةً لِمَنِ اتَّعَظَ، وَلَا نَكَالًا لِمَنِ اعْتَبَرَ، وَلَا فِتْنَةً لِمَنْ نَظَرَ، وَلَا تَمْكُرْ بِي فِيمَنْ تَمْكُرُ بِهِ، وَلَا تَسْتَبْدِلْ بِي غَيْرِي، وَلَا تُغَيِّرْ لِي اسْماً، وَلَا تُبَدِّلْ لِي جِسْماً، وَلَا تَتَّخِذْنِي هُزُواً لِخَلْقِكَ، وَلَا سُخْرِيّاً لَكَ، وَلَا تَبَعاً إِلَّا لِمَرْضَاتِكَ، وَلَا مُمْتَهَناً إِلَّا بِالِانْتِقَامِ لَكَ.

وَأَوْجِدْنِي بَرْدَ عَفْوِكَ، وَحَلَاوَةَ رَحْمَتِكَ وَرَوْحِكَ وَرَيْحَانِكَ، وَجَنَّةِ نَعِيمِكَ، وَأَذِقْنِي طَعْمَ الْفَرَاغِ لِمَا تُحِبُّ بِسَعَةٍ مِنْ سَعَتِكَ، وَالِاجْتِهَادِ فِيمَا يُزْلِفُ لَدَيْكَ وَعِنْدَكَ، وَأَتْحِفْنِي بِتُحْفَةٍ مِنْ تُحَفَاتِكَ.

وَاجْعَلْ تِجَارَتِي رَابِحَةً، وَكَرَّتِي غَيْرَ خَاسِرَةٍ، وَأَخِفْنِي مَقَامَكَ، وَشَوِّقْنِي لِقَاءَكَ، وَتُبْ عَلَيَّ تَوْبَةً نَصُوحاً لَا تُبْقِ مَعَهَا ذُنُوباً صَغِيرَةً وَلَا كَبِيرَةً، وَلَا تَذَرْ مَعَهَا عَلَانِيَةً وَلَا سَرِيرَةً.

وَانْزِعِ الْغِلَّ مِنْ صَدْرِي لِلْمُؤْمِنِينَ، وَاعْطِفْ بِقَلْبِي عَلَى الْخَاشِعِينَ، وَكُنْ لِي كَمَا تَكُونُ لِلصَّالِحِينَ، وَحَلِّنِي حِلْيَةَ الْمُتَّقِينَ،

وَاجْعَلْ لِي لِسَانَ صِدْقٍ فِي الْغَابِرِينَ، وَذِكْراً نَامِياً فِي الْآخِرِينَ، وَوَافِ بِي عَرْصَةَ الْأَوَّلِينَ. وَتَمِّمْ سُبُوغَ نِعْمَتِكَ، عَلَيَّ، وَظَاهِرْ كَرَامَاتِهَا لَدَيَّ، امْلَأْ مِنْ فَوَائِدِكَ يَدِي، وَسُقْ كَرَائِمَ مَوَاهِبِكَ إِلَيَّ، وَجَاوِرْ بِيَ الْأَطْيَبِينَ مِنْ أَوْلِيَائِكَ فِي الْجِنَانِ الَّتِي زَيَّنْتَهَا لِأَصْفِيَائِكَ،

وَجَلِّلْنِي شَرَائِفَ نِحَلِكَ فِي الْمَقَامَاتِ الْمُعَدَّةِ لِأَحِبَّائِكَ. وَاجْعَلْ لِي عِنْدَكَ مَقِيلًا آوِي إِلَيْهِ مُطْمَئِنّاً، وَمَثَابَةً أَتَبَوَّؤُهَا، وَأَقَرُّ عَيْناً، وَلَا تُقَايِسْنِي بِعَظِيمَاتِ الْجَرَائِرِ، وَلَا تُهْلِكْنِي يَوْمَ تُبْلَى السَّرَائِرُ،

وَأَزِلْ عَنِّي كُلَّ شَكٍّ وَ شُبْهَةٍ، وَاجْعَلْ لِي فِي الْحَقِّ طَرِيقاً مِنْ كُلِّ رَحْمَةٍ، وَأَجْزِلْ لِي قِسَمَ الْمَوَاهِبِ مِنْ نَوَالِكَ، وَوَفِّرْ عَلَيَّ حُظُوظَ الْإِحْسَانِ مِنْ إِفْضَالِكَ.

وَاجْعَلْ قَلْبِي وَاثِقاً بِمَا عِنْدَكَ، وَهَمِّي مُسْتَفْرَغاً لِمَا هُوَ لَكَ، وَاسْتَعْمِلْنِي بِمَا تَسْتَعْمِلُ بِهِ خَالِصَتَكَ، وَأَشْرِبْ قَلْبِي عِنْدَ ذُهُولِ الْعُقُولِ طَاعَتَكَ،

وَاجْمَعْ لِيَ الْغِنَى وَالْعَفَافَ وَالدَّعَةَ وَالْمُعَافَاةَ وَ الصِّحَّةَ وَالسَّعَةَ وَالطُّمَأْنِينَةَ وَالْعَافِيَةَ. وَلَا تُحْبِطْ حَسَنَاتِي بِمَا يَشُوبُهَا مِنْ مَعْصِيَتِكَ، وَلَا خَلَوَاتِي بِمَا يَعْرِضُ لِي مِنْ نَزَغَاتِ فِتْنَتِكَ،

وَصُنْ وَجْهِي عَنِ الطَّلَبِ إِلَى أَحَدٍ مِنَ الْعَالَمِينَ، وَذُبَّنِي عَنِ الْتِمَاسِ مَا عِنْدَ الْفَاسِقِينَ. وَلَا تَجْعَلْنِي لِلظَّالِمِينَ ظَهِيراً، وَلَا لَهُمْ عَلَى مَحْوِ كِتَابِكَ يَداً وَنَصِيراً، وَحُطْنِي مِنْ حَيْثُ لَا أَعْلَمُ حِيَاطَةً تَقِينِي بِهَا،

وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ تَوْبَتِكَ وَ رَحْمَتِكَ وَرَأْفَتِكَ وَرِزْقِكَ الْوَاسِعِ، إِنِّي إِلَيْكَ مِنَ الرَّاغِبِينَ، وَأَتْمِمْ لِي إِنْعَامَكَ، إِنَّكَ خَيْرُ الْمُنْعِمِينَ

وَاجْعَلْ بَاقِيَ عُمُرِي فِي الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ، يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ، وَصَلَّى اللَّـهُ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِهِ الطَّيِّبِينَ الطَّاهِرِينَ، وَالسَّلَامُ عَلَيْهِ وَعَلَيْهِمْ أَبَدَ الْآبِدِينَ.

________

Address

Street # 15
Karachi

Telephone

+923172166603

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Syed Adnan Waseem posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Syed Adnan Waseem:

Share