30/01/2026
اک دور
ا ک دور تھا جب میں بچہ تھا
اک دور تھا جب سب اچھا تھا
اک دور تھا جب میں سچا تھا
اک دور وہ اب بھی قائم ہے
اک دور جو اب بھی ظالم ہے
اک دور جو خود ہی عالم ہے
اک دور خدا جب حافظ ہے
اک دور جو اب بھی نافظ ہے
اک دور ہے جو کہ ناقس ہے
اک دور تھا اب جو واپس ہے
اک دور خدا اب کاغظ ہے
اک دور خدا جب اندر ہے
اک دور جہاں سب بندر ہے
اک دور کفالت پوچھے ہے
اک دور کہ جس کی موچھیں ہیں
اک دور میں اتنی سوچیں ہیں
کچھ بال پکڑکے نوچیں ہیں
کوئ ہاتھ پکڑکر روتے ہیں
اک دور میں بچے ہوتے تھے
اک دور ہے وہ اب سوتے ہیں
- فہد الحقؔ