06/08/2026
شادی کو اک ماہ سے کم دن ہوے ہیں دلہن کے پیٹ میں دو ماہ کا بچہ ہے ۔ ملک کی نامور گائناکلوجسٹ جاہلوں کے ہتھے چڑھ گئی ۔۔
یہ سر پکڑے بیٹھی خاتون سیالکوٹ کی مشہور گائناکلوجسٹ ڈاکٹر ہیں ان کے پاس اک کیس ایا نئی شادی شدہ عورت کو شادی کے تین ہفتے بعد الٹیاں شروع ہو گی ۔۔۔
وہ اس لیڈی ڈاکٹر کے پاس اس نے کہا کہ اسے تو دو ماہ کا حمل ہے۔
لڑکی کی ساس سیدھا اپنی بہو کو گھر لے گی گھر میں رولا مچ پڑ گیا ۔پورا خاندان جا پہنچا ڈاکٹر کے پاس ۔۔
دلہا کہے کہ ڈاکٹر صاحبہ ہماری شادی کو اک مہینہ بھی پورا نہی ہوا اور اپ کہتی ہو دو ماہ کا حمل ہے مطلب کہ یہ میرا نہی یا پھر اپ سے غلطی ہوی ہے ۔۔
ڈاکٹر نے سمجھانے کی بہت کوشش کی ہے بچی سے پوچھا پریڈ کب اے تھے پورا حساب بنا کر دیا کہ یہ بچہ تمھارا ہے یہ شادی کی پہلی یا دوسری رات حمل ٹھہرا ہے ۔۔
یہ لوگ پھر سے غصہ کریں دلہے کی ماں نے کہا نو بجے پیدا کر چکی ہوں تم ہمیں پاگل بنا رہی ہے لڑکے کی بہنیں باقی خاندان والے ڈاکٹر پر چڑھای کر دی ۔۔
اب جب ڈاکٹر کے سمجھانے کے باوجود بھی وہ پھر بھی جھگڑا کر رہے تھے ڈاکٹر نے کہا کہ تمھاری لو میرج ہے لڑکے نے کہا ڈاکٹر نے کہا کہ تمھیں اس کے کردار پر شک ہے تو کہتا نہی ۔۔
ڈاکٹر نے کہا پھر تم اسے لیکر چلے جاو وہ کہے میں کیسے اس کو لے جاوں شادی میری اک ماہ پہلے ہوی ہے بچہ دو ماہ کا ہے اپ کہتی ہو یہ بچہ تمھارا ہے ۔۔
خیر ڈاکٹر نے پھر اسے اک بار سمجھایا حمل کی تاریخ پریڈ سے طے ہوتی جو Sac بنا ہو ہے وہ دو ماہ کا ہے ۔۔ انکی بات سمجھ نہی ای۔۔
ڈاکٹر نے جان چھڑانے کیلے کہا کہ تم اسے قبول کرو یہ بچہ تمھارا ہے تم ڈی این اے ٹیسٹ کروالینا سارا سچ جھوٹ س سامنے ا جاے گا ۔ تم لوگ جاہل ہو ۔۔ شوہر مان گیا ساس بضد تھی ۔
ڈاکٹر نے کہا انٹی اپ لوگ نو ماہ گنتے ہیں ہم دس ماہ گنتے ہیں پچھلا ماہ پریڈ والا شامل ہوتا ہے اس کیے بچے کی عمر دو ماہ ہے ساس کہے ابھی اٹھارہ دن ہوے ہیں دو ماہ بچے کی عمر ہے یہ ہمارا نہی ہے ۔
ڈاکٹر غصہ میں ا گئی کہا اس لیے میں کہتی ہوں کہ بچی کی شادی پریڈ کے دوران کریں جاہل معاشرہ ہے جتنا سمجھا لو یہ نہی مانیں گے ۔
یہ لوگ ہر اس بچی کو ازیت دیتے رہیں گے جو پہلی رات پریگنینٹ ہو گی ۔۔
یقین جانیے اس سب بحث میں اک عورت خاموش تماشای بنی رہی وہ تو دلہن جس نے نکاح کی شادی کی اج اس کے کردار پر انگلی اٹھ رہی تھی ۔
یہ مسئلہ کئی زندگیاں برباد کر چکا ہے ۔اج کے اس دور میں بھی لوگوں کو نہی پتہ نہ وہ اس کو سمجھنا چاہتے ہیں ۔
ڈاکٹر نے ہر طرح سے سمجھایا مگر کسی کو سمجھ نہی ایا ۔۔ مجھے نہی پتہ اس دلہن کا کیا بنے گا مگر ساس کی بحث سن کر مجھے نہی لگتا یہ قبول کرے ۔اجکل کے دور میں اس طرح کی جہالت کئی بچیوں کی زندگیاں تباہ کر گئی ہے ۔اس مسیج کو پھیلائیں تاکہ لوگوں کو آگاہی ہو