05/05/2026
*کوئی فارغ ہے ... اور کام کی تمنا رکھتا ہے ... اور کوئی کام (کی زیادتی) سے بیزار ہے ... مالدار تھکن اور فکر میں مبتلا ہے ... اور جو مفلس ہے وہ (تنگدستی کی) مشقتــــــــ میــــــــں ہے ... اولاد والا (ان کی فکر میں) غمگین ہے ... اور جو ان کا طلبگار ہے ... (محرومی سے) اس کا دل پھٹا جا رہا ہے ... انسان شکستــــــــ کھا کر بھی بدحالی کا شکار رہتا ہے ... اور فتح پا کر بھی اسے قرار نہیــــــــں ملتا ... وہ بڑی تڑپـــــــــ کے ساتـــــــھ بلندی اور شان و شوکتــــــــ چاہتا ہے ... لیکــــــــن جبــــــــ اسے پا لیتا ہے ... تو سستــــــــ پڑ جاتا ہے ... (اکتا جاتا ہے) ... کیا یہ لوگـــــــــ تقدیر کے سامنے حیران و پریشان ہیــــــــں ... یا انہوں نے اپنی خواہشاتـــــــ سے تقدیر کو حیرتــــــــ میــــــــں ڈال رکھا ہے .......؟*