23/05/2026
💔 اُس رات میں نے پہلی بار اپنے ابو کو یہ کہتے سنا:
“ایک پیکٹ ٹافیوں کا مطلب میری پورے ہفتے کی کمائی ہے🥹 تو اگلی صبح میرا بچپن ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔ 🥀🙂💚 میں اُس وقت گیارہ سال کا تھا۔
ہم فیصل آباد کے ایک چھوٹے سے کرائے کے گھر میں رہتے تھے ابو پہلے پاور لوم فیکٹری میں کام کرتے تھے، مگر اچانک فیکٹری بند ہوئی تو اُن کی نوکری چلی گئی۔ 💔
اُس کے بعد وہ سائیکل پر محلے محلے جا کر دکانوں کو بسکٹ، ٹافیاں اور چاکلیٹ سپلائی کرنے لگے۔ 🚲
سارا دن دھوپ میں سائیکل چلاتے۔ رات کو پسینے اور گرد میں ڈوبے گھر واپس آتے۔ اگلے دن میری سالگرہ تھی۔ 🎂
میں بہت خوش تھا۔ اس لیے نہیں کہ کیک آئے گا…
بلکہ اس لیے کہ شاید اس بار میں بھی کلاس میں بچوں کو ٹافیاں بانٹ سکوں۔ 🍬 میں کمبل اوڑھے سونے کا بہانہ کر رہا تھا جب ابو گھر آئے۔ امی نے آہستہ سے کہا،
کل حسان کی سالگرہ ہے… ایک پیکٹ ٹافیاں دے دیں، سکول میں بانٹ دے گا۔ کمرے میں چند لمحے خاموشی رہی۔ پھر ابو کی تھکی ہوئی آواز آئی،
دے تو دوں مگر ایک پیکٹ ٹافیوں کا مطلب میری پورے ہفتے کی کمائی ہے۔ بس۔ صرف اتنا سا جملہ۔ مگر قسم سے
بعض جملے بچے کو ایک ہی رات میں بڑا کر دیتے ہیں۔ 🥀 میں کمبل کے اندر لیٹا چھت کو دیکھتا رہا۔ پہلی بار مجھے احساس ہوا کہ میرے ابو پورا ہفتہ دھوپ میں سائیکل چلاتے رہے اور گھر اتنے پیسے بھی نہیں آئے کہ میں سکول میں ٹافیاں بانٹ سکوں۔ 💔
امی دبے دبے رونے لگیں۔ اور ابو؟وہ خاموش بیٹھے رہے۔مرد اکثر اُس وقت سب سے زیادہ ٹوٹتے ہیں جب اُن کے بچے کی چھوٹی سی خوشی بھی اُن کی جیب سے بڑی ہو جائے۔ 🥹 اُس رات مجھے نیند نہیں آئی۔
میں صرف ایک بات سوچتا رہا: میری سکول فیس نوّے روپے ہے اور ابو پورے ہفتے میں پچاس روپے بھی نہیں کما سکے۔ اگلے ہی ہفتے میں نے محلے کے ہوٹل پر برتن دھونا شروع کر دیے۔ 🍽️ پوری شام جھاگ، گندے برتن اور گرم پانی۔ بدلے میں دس روپے ملتے تھے۔ مگر مجھے خوشی ہوتی تھی۔ کیونکہ اب میں صرف نو دن میں اپنی فیس جمع کر سکتا تھا۔ ❤️ میرے ہاتھ اکثر جل جاتے تھے۔ صابن سے انگلیوں کی کھال اُترنے لگتی تھی۔مگر جب رات کو ابو تھکے ہوئے گھر آتے اور جیب سے مڑے ہوئے نوٹ نکالتے… تو مجھے لگتا دنیا کا سب سے محنتی آدمی میرے گھر میں رہتا ہے۔ 🥀 وقت گزرتا گیا۔ میں بڑا ہوتا گیا۔ مگر اُس رات کی آواز آج بھی میرے اندر زندہ ہے۔اسی لیے آج بھی شام کے وقت کسی رکشے والے یا خوانچے والے سے بچے ہوئے پیسے واپس نہیں لیتا۔ 💚کیونکہ میں جانتا ہوں کبھی کبھی وہ پانچ دس روپے کسی باپ کی پوری رات بچا لیتے ہیں۔ آج بھی میں پلیٹ میں کھانا نہیں چھوڑتا۔ 🍛
آج بھی سالگرہ نہیں مناتا۔ لوگ کہتے ہیں، یار، زندگی enjoy بھی کیا کرو۔ اور میں صرف مسکرا دیتا ہوں۔ 🙂 کیونکہ کچھ لوگ خوشیاں منانے سے پہلے اپنے باپ کا پسینہ دیکھ لیتے ہیں۔ اور پھر اُن کی زندگی بدل جاتی ہے۔ آج اللہ کا شکر ہے، میرے پاس سب کچھ ہے۔ گھر بھی۔ اچھی نوکری بھی۔ سفر بھی۔ ✈️ مگر آج بھی جب گھر والوں کے لیے ٹکٹ بک کرتا ہوں تو اُن کے لیے AC لیتا ہوں اور خود کبھی کبھی جنرل ڈبے میں سفر کر لیتا ہوں۔ شاید غربت ختم ہو جاتی ہے مگر اُس کی تربیت نہیں جاتی۔ 🥀 میرے اور ابو کے درمیان آج بھی ہر بات پر بحث ہو جاتی ہے۔ اختلاف بھی ہوتا ہے۔ مگر آخر میں میں وہی کرتا ہوں جو وہ کہتے ہیں۔ کیونکہ میں نے اپنی آنکھوں سے ایک باپ کو اپنی خواہشیں مارتے دیکھا ہے تاکہ اُس کے بچے خواب دیکھ سکیں۔ ❤️ اور سچ پوچھیں جس دن ایک بچہ اپنے باپ کی خاموش قربانی سمجھ لے نا اُس دن اُس کی عمر نہیں بڑھتی
اُس کا دل بڑا ہو جاتا ہے۔ 🥹💚
#منقول