Noorekauser

Noorekauser noorekauser online shopping store

22/06/2026

Turkish jewelry set

Shipping Nationwide 03211798730

Noorekauser

22/06/2026

"اگر تم مجھے یہ ثابت کر دو کہ خنزیر (Pig) حرام کیوں ہے... تو میں اسی وقت تم سب کے سامنے کلمہ پڑھ لوں گی!"
یہودیوں کے ایک بڑے اور طاقتور قبیلے کی خوبصورت اور مغرور شہزادی جب اندلس کے اسلامی دربار میں داخل ہوئی تو اس کے اس کھلے چیلنج نے پورے دربار میں سناٹا بچھا دیا۔ بڑے بڑے علماء کے ماتھے پر پسینہ آ گیا، کیونکہ وہ کوئی عام عورت نہیں تھی، وہ منطق اور بحث میں اپنا ثانی نہیں رکھتی تھی۔
اس نے تکبر سے دربار کے بیچوں بیچ کھڑے ہو کر کہا: "تمہارا اسلام کہتا ہے خنزیر حرام ہے۔ کیوں؟ یہ طاقتور ہے، ذائقہ دار ہے، اور ہمارا پسندیدہ گوشت ہے۔ مجھے کوئی پرانی کتابی کہانی نہیں، بلکہ کوئی ایسی منطقی اور ٹھوس وجہ بتاؤ جسے میرا دماغ ماننے پر مجبور ہو جائے!"
دربار میں موجود ایک بزرگ اور انتہائی دانا عالمِ دین اپنی جگہ سے اٹھے۔ انہوں نے کوئی غصہ نہیں کیا، بلکہ ایک پراسرار مسکراہٹ کے ساتھ شہزادی کی طرف دیکھا اور ایک ایسا لرزہ خیز سوال کیا جس نے وہاں موجود ہر شخص کی سانسیں روک دیں:
"شہزادی! کیا تم جانتی ہو کہ دنیا کا ہر جانور اپنی مادہ (Female) کے لیے غیرت کھاتا ہے؟ اگر ایک کتے یا بیل کے سامنے کوئی دوسرا اس کی مادہ کے قریب جائے تو وہ اس کی جان لے لیتا ہے۔ لیکن کیا تم نے کبھی خنزیر کو غور سے دیکھا ہے؟"
شہزادی نے الجھن سے سر ہلایا، "نہیں... کیا مطلب؟"
عالمِ دین کی آواز پورے دربار میں گونجی: "خنزیر دنیا کا واحد جانور ہے جس میں 'غیرت' نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی! وہ خود دوسرے خنزیروں کو بلا کر لاتا ہے تاکہ وہ اس کی مادہ (بیوی) کے ساتھ جسمانی تعلق بنائیں۔ اس میں اپنی مادہ کو شیئر کرنے پر کوئی غصہ، کوئی غیرت نہیں جاگتی! وہ دنیا کا بے شرم ترین اور غلیظ ترین جانور ہے جو اپنا ہی فضلہ (گندگی) کھاتا ہے۔"
دربار میں پن ڈراپ (Pin-drop) خاموشی تھی۔ عالم نے اپنی بات جاری رکھی:
"ہمارے نبی ﷺ اور سائنس کا یہ اٹل اصول ہے کہ تم جو کھاتے ہو، اس کے اثرات تمہارے جسم اور روح میں منتقل ہوتے ہیں۔ جو قومیں خنزیر کھاتی ہیں، ان میں سے 'غیرت' رفتہ رفتہ ختم ہو جاتی ہے۔ وہ اپنی عورتوں کو دوسروں کے ساتھ بانٹنے (Wife-swapping) میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتیں... اور آج تم اپنے مغربی معاشرے کو دیکھ لو، کیا وہاں سے غیرت کا جنازہ نہیں نکل چکا؟"
یہ سننا تھا کہ اس مغرور یہودی شہزادی کے پیروں تلے سے زمین کھسک گئی۔ اس کا تکبر پاش پاش ہو چکا تھا
اس کے پاس اس کڑوے اور سائنسی سچ کا کوئی جواب نہیں تھا۔ اس کے ہاتھ سے اس کا رومال گر گیا، آنکھوں میں آنسو آ گئے، اور اس نے دربار کے بیچوں بیچ کانپتی ہوئی آواز میں کہا:
"أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰهِ..."
آج دنیا کی ماڈرن میڈیکل سائنس بھی مانتی ہے کہ خنزیر کے گوشت میں 70 سے زائد مہلک بیماریاں ہیں، مگر 1400 سال پہلے اسلام نے اسے حرام کر کے مسلمانوں کو جسمانی اور روحانی غلاظت سے بچا لیا!
#باپ

22/06/2026

Party wear dress

Shipping Nationwide 03211798730

Noorekauser

19/06/2026
19/06/2026

💧 MaLRa Pure Water 💧
پاک صاف پانی، صحت مند زندگی
MaLRa Pure Water aap ko deta hai 100% pure, safe aur hygienically filtered drinking water. Ghar, office, events aur industrial supply ke liye bharosemand choice.
✅ 100% Pure & Safe
✅ Mineral Enriched
✅ Quality Assured
✅ Home & Office Delivery
✅ Event Supply Available
🏷️ Customized Label Bottles Available
Apni company, brand, event, wedding, seminar ya business promotion ke liye apne naam aur logo ke saath customized water bottles order karein.
MaLRa Pure Water — A Name You Can Trust.
📞 Order Now: +92 321 1798665

19/06/2026

Janamz
With tasbeeh

10/06/2026

💥 میری ساس نے سب کے سامنے کہا: “اس کی بیٹیوں کو مٹن قورمہ مت دینا۔۔ بچیاں ہیں، جو بچ جائے کھا لیں گی۔”
دعوتیں بیٹوں کے نام سے سجتی ہیں 💔💔

خالہ زبیدہ کی آواز شادی ہال کے شور میں بھی چاقو کی طرح کٹتی ہوئی میرے کانوں تک آئی۔

ویٹر کے ہاتھ میں سفید چینی کی پلیٹ تھی۔ پلیٹ میں گرم قورمہ تھا، اوپر ہری مرچ، ادرک کی باریک کترنیں اور گھی کی وہ چمک جو ہر دعوت میں عزت کی طرح بانٹی جاتی ہے۔

مگر وہ پلیٹ میری بیٹیوں تک پہنچنے سے پہلے ہی رک گئی۔

سات سالہ حرا نے پہلے پلیٹ کو دیکھا، پھر اپنی دادی کو۔
چار سالہ زینب نے اپنا چھوٹا سا ہاتھ میرے دوپٹے میں یوں پھنسا لیا جیسے کوئی بچہ اندھیرے میں دروازہ ڈھونڈتا ہے۔

یہ میرے سسر حاجی رفیق صاحب کی ریٹائرمنٹ کی تقریب تھی۔ سرکاری ملازمت کے چالیس سال پورے ہوئے تھے۔ خاندان بھر کے لوگ جمع تھے۔ ہال میں سفید میز پوش، سنہری غلاف والی کرسیاں، کیمرہ مین، اسٹیج پر پھول، اور ہر میز پر بریانی، قورمہ، چکن روسٹ، نان اور میٹھا رکھا جا رہا تھا۔

بس ہماری میز پر ایک وقفہ تھا۔

ہمیں آخری کونے میں بٹھایا گیا تھا، جہاں کولر کی ہوا بھی آتے آتے تھک جاتی تھی۔

حرا نے آہستہ سے پوچھا:

“امی… دادی نے ہمیں کیوں روکا؟”

میں نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا، مگر میرے پاس جواب نہیں تھا۔

کیونکہ سچ یہ تھا کہ یہ صرف قورمے کی پلیٹ نہیں تھی۔ یہ وہی پرانی بات تھی جو سات سال سے میرے گھر کی دیواروں میں گونج رہی تھی۔

جب حرا پیدا ہوئی تھی تو ساس نے کہا تھا:

“چلو پہلی اولاد ہے، اللہ اگلی بار وارث دے گا۔”

جب زینب پیدا ہوئی تو مبارک باد کے بجائے خاموشی آئی۔ پھر آہستہ آہستہ جملے آنے لگے۔

“احمد کی قسمت میں بیٹیاں ہی لکھی تھیں۔”
“گھر کا نام کون چلائے گا؟”
“بیٹا نہ ہو تو عورت کی زبان بھی نرم رہنی چاہیے۔”

احمد برا آدمی نہیں تھا، مگر کمزور ضرور تھا۔
وہ ماں کے سامنے چپ ہو جاتا، خاندان کے سامنے مسکرا دیتا، اور بعد میں مجھے کہتا:

“تم دل پر بہت لے لیتی ہو، مریم۔”

مگر کچھ باتیں دل پر نہیں لگتیں۔
وہ دل میں دفن ہو جاتی ہیں۔

اس رات بھی احمد سامنے والی میز پر اپنے چچا زاد بھائیوں کے ساتھ بیٹھا تھا۔ اس نے سب سنا۔ اس کی نظر میری طرف اٹھی بھی، مگر فوراً جھک گئی۔

خالہ زبیدہ ہماری طرف آئیں۔ ہاتھ میں ایک چھوٹا سا اسٹیل کا پیالہ تھا۔ اس میں سالن کی تہہ، دو ٹوٹے ہوئے نان کے ٹکڑے اور تھوڑے سے چاول تھے۔

“لو، بچیوں کو یہی دے دو،” انہوں نے کہا۔ “دعوتیں بیٹوں کے نام سے سجتی ہیں، بیٹیوں کے لیے اتنا ہی کافی ہوتا ہے۔”

قریب والی میز سے کسی عورت کی دبی ہوئی ہنسی اٹھی۔

میں نے پیالے کو دیکھا۔ پھر حرا کو دیکھا۔

وہ اپنے دونوں ہاتھ گود میں رکھے بیٹھی تھی۔ اس کی انگلیاں آپس میں الجھی ہوئی تھیں۔ وہ کچھ نہیں بول رہی تھی۔ مگر اس کی خاموشی میں ایک ڈر تھا؛ وہی ڈر جو کبھی میرے اندر پیدا ہوا تھا۔

حاجی رفیق صاحب اس گھر کے واحد آدمی تھے جن کے دل میں میری بچیوں کے لیے ایک نرم گوشہ تھا۔ وہ زیادہ بولنے والے نہیں تھے، مگر جب بھی حرا ان کے کمرے میں جاتی، وہ عینک اتار کر اسے اپنے پاس بٹھا لیتے۔ زینب کے لیے جیب میں ٹافی رکھنا ان کی عادت تھی۔ کئی بار میں نے دیکھا تھا کہ ساس جب بچیوں کے بارے میں کڑوا جملہ کہتیں تو حاجی صاحب خاموشی سے کھانس کر بات بدل دیتے۔ وہ گھر کے پرانے مرد تھے؛ عورتوں کے جھگڑوں میں کھل کر نہیں پڑتے تھے، مگر ان کی آنکھوں میں میری بچیوں کے لیے وہ سختی کبھی نہیں آئی جو باقی لوگوں کے لہجوں میں تھی۔

اسی لیے جب اسٹیج پر انہیں شیلڈ دینے کے لیے بلایا گیا اور ساتھ خاندان کے “پوتوں” کو بھی آواز دی گئی، تو میرے اندر کہیں ایک ہلکا سا سہارا جاگا۔

لڑکے دوڑتے ہوئے اسٹیج پر چڑھ گئے۔ کسی نے حرا اور زینب کو نہیں بلایا۔

حرا نے معصومیت سے پوچھا:

“امی، دادا ابو میرے بھی دادا ہیں نا؟”

یہ جملہ میرے سینے پر آ کر بیٹھ گیا۔

اسٹیج پر حاجی رفیق صاحب کھڑے تھے۔ ان کے دائیں بائیں خاندان کے لڑکے تھے۔ فوٹوگرافر بار بار کہہ رہا تھا:

“سر، وارثوں کو قریب کر لیں۔”

حرا نے یہ لفظ سن لیا۔

“وارث کیا ہوتا ہے، امی؟”

میں نے جواب دینے کے لیے ہونٹ کھولے، مگر آواز نہ نکلی۔

اسی وقت زینب نے پیالے کی طرف اشارہ کیا:

“امی، ہماری پلیٹ گندی کیوں ہے؟”

بس یہی لمحہ تھا۔

میں نے پیالہ آہستہ سے میز پر رکھا اور کھڑی ہو گئی۔

نہ میں چیخی۔
نہ میں نے تماشا بنایا۔
نہ کسی کو برا بھلا کہا۔

میں صرف اپنی بیٹیوں کے ہاتھ پکڑ کر اسٹیج کے قریب گئی۔

سب کی نظریں میری طرف اٹھیں۔ قوالی والے کی آواز بھی ہلکی پڑ گئی۔

میں نے حاجی رفیق صاحب سے کہا:

“ابا جی، ایک تصویر میری بیٹیوں کے ساتھ بھی بنوا لیجیے۔ یہ بھی آپ کے خون سے ہیں۔”

ہال میں عجیب سی خاموشی پھیل گئی۔

خالہ زبیدہ پیچھے سے بولیں:

“مریم، ابھی یہ موقع نہیں ہے۔”

میں نے پہلی بار پلٹ کر انہیں دیکھا۔

“موقع تو یہی ہے، خالہ۔ کیونکہ ذلت بھی ابھی سب کے سامنے دی گئی ہے۔”

احمد فوراً میرے پاس آیا۔

“مریم، پلیز… لوگوں کے سامنے بات نہ بڑھاؤ۔”

میں نے دھیمی آواز میں کہا:

“لوگوں کے سامنے میری بیٹیوں کو بچا کھچا دیا جا سکتا ہے، مگر لوگوں کے سامنے ان کی عزت کی بات نہیں ہو سکتی؟”

احمد خاموش ہو گیا۔

حاجی رفیق صاحب کا چہرہ بجھ سا گیا۔ شاید انہیں پہلی بار احساس ہوا کہ جس تقریب میں وہ عزت وصول کر رہے تھے، اسی تقریب میں ان کی اپنی پوتیاں بے عزت ہو رہی تھیں۔

انہوں نے کیمرہ مین کو روکا۔

پھر آہستہ سے حرا کو اپنے پاس بلایا۔

حرا پہلے جھجکی۔ پھر میری طرف دیکھ کر آگے بڑھی۔

حاجی صاحب نے زینب کو بھی اپنے ساتھ کھڑا کیا۔ زینب نے ان کی شیروانی کا دامن پکڑ لیا۔

تصویر بننے سے پہلے حرا نے وہ سوال کر دیا جس کا جواب پورے خاندان کے پاس نہیں تھا۔

“دادا ابو، وارث صرف لڑکے ہوتے ہیں؟”

ہال میں کسی چمچ کی آواز تک نہ آئی۔

حاجی رفیق صاحب نے دیر تک حرا کو دیکھا۔ ان کی آنکھوں میں وہی نرمی تھی جو میں نے کئی بار ان کے کمرے کی خاموشی میں دیکھی تھی۔

انہوں نے مائیک ہاتھ میں لیا۔

“نہیں بیٹا، وارث صرف لڑکے نہیں ہوتے۔ وارث وہ ہوتا ہے جو گھر کی عزت کو آگے لے جائے۔ اور عزت بیٹے یا بیٹی سے نہیں، انسان کے ظرف سے چلتی ہے۔”

یہ کوئی بڑا انقلاب نہیں تھا۔
کوئی فلمی موڑ نہیں تھا۔
بس ایک بوڑھے آدمی کے منہ سے نکلا ہوا سچ تھا، جس نے اس رات کئی لوگوں کی نظریں جھکا دیں۔

انہوں نے ویٹر کو آواز دی:

“ان بچیوں کے لیے الگ پلیٹ لگاؤ۔ وہی کھانا جو سب کو دیا گیا ہے۔ اور مریم بہو کو میرے ساتھ والی میز پر بٹھاؤ۔”

خالہ زبیدہ کا چہرہ اتر گیا۔
ساس نے کچھ کہنا چاہا، مگر حاجی صاحب نے پہلی بار ان کی طرف دیکھ کر صرف اتنا کہا:

“بس۔ آج نہیں۔”

احمد پہلی بار شرمندہ دکھائی دیا۔

اور میں؟

میں جیت نہیں رہی تھی۔
میں صرف اپنی بیٹیوں کو ہارنے سے بچا رہی تھی۔

کھانا آیا۔ حرا نے آہستہ سے نان توڑا۔ زینب نے قورمے کی بوٹی چمچ سے اٹھائی اور مسکرا دی۔

اتنی سی مسکراہٹ کے لیے شاید عورتیں پوری عمریں لڑتی ہیں۔

رات کے آخر میں جب ہم گھر لوٹے تو گاڑی میں دیر تک خاموشی رہی۔ پھر احمد نے آہستہ سے کہا:

“مریم، مجھے آج تمہارے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے تھا۔”

میں نے باہر گزرتی ہوئی سڑک کی روشنیوں کو دیکھا۔

“آج نہیں احمد، بہت پہلے۔ مگر ابھی بھی دیر نہیں ہوئی، اگر تم واقعی سمجھ گئے ہو۔”

اس نے کوئی بڑا وعدہ نہیں کیا۔
اور مجھے وعدوں کی ضرورت بھی نہیں تھی۔

مجھے صرف اتنا چاہیے تھا کہ میری بیٹیاں یہ نہ سیکھیں کہ خاموش رہنا عورت کی شرافت ہے۔

کچھ دن بعد گھر میں حاجی رفیق صاحب نے ایک چھوٹی سی بات کی۔ انہوں نے دیوار پر لگی پرانی خاندانی تصویروں کے ساتھ حرا اور زینب کی تصویر بھی لگوا دی۔ وہی تصویر جس میں دونوں دادا کے ساتھ کھڑی تھیں۔

ساس نے تصویر دیکھ کر منہ پھیر لیا۔
خالہ زبیدہ پھر بھی ویسی ہی رہیں۔
احمد کو بدلنے میں بھی وقت لگا۔

مگر حرا بدل گئی۔

اب وہ کسی دعوت میں پلیٹ روک دی جائے تو میری طرف نہیں دیکھتی۔ سیدھا کہتی ہے:

“یہ میری بھی ہے نا؟”

اور میں ہر بار اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر سوچتی ہوں:

اس رات میں نے صرف قورمے کی ایک پلیٹ نہیں مانگی تھی۔
میں نے اپنی بیٹیوں کے حصے کی جگہ مانگی تھی۔

کیونکہ بیٹیاں دسترخوان کی بچی ہوئی روٹی نہیں ہوتیں۔
وہ گھر کی پوری دعا ہوتی ہیں۔
Copied

Bubble embossed bedsheets 8500 rsShipping Worldwide Contact on watsap 03211798730
05/06/2026

Bubble embossed bedsheets

8500 rs

Shipping Worldwide

Contact on watsap

03211798730

20/05/2026

Newborn suit

Shipping Worldwide 03211798730










Noorekauser

Address

Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Noorekauser posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Noorekauser:

Share