04/07/2026
میں اپنے لیے ایک ایسا گھر چاہتی ہوں جہاں ایک کمرہ میری بیٹی کا ہو جو ہمیشہ میری بیٹی کا رہے اس کی شادی ہو جائے وہ جب چاہے آئے جتنا چاہے رہے اس کے پاس اس کا کمرہ ہو بالکل ویسا ہی جیسا شادی سے پہلے تھا۔ اس کی تمام چیزیں ویسے ہی موجود ہوں جیسے شادی سے پہلے تھیں۔
میں اپنی بیٹی کو کبھی نہیں کہتی کہ بیٹی پرائی ہوتی ہے میری بیٹی میری ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ بیٹی کبھی بھی پرائی نہیں ہوتی بیٹی جہاں بھی رہتی ہے اس کا دل اس کے ماں باپ کے پاس ان کے گھر میں ہوتا ہے وہ اس کو اپنی جائے پناہ سمجھتی ہے جب تھک جاتی ہے سستانے کو، ری فریش ہونے کو، کبھی خود کو پھر سے جوڑنے کو، کبھی بس صرف بے فکری سے سونے کو اسے اپنے ماں باپ کے پاس وہ جگہ درکار ہوتی ہے۔
ماں باپ اپنی بیٹیوں کو پرایا کر دیں ، اگلے گھر جائیں تو وہ اوٹ سائڈر سمجھیں
پیچھے مڑ کے دیکھیں تو "پرائی" کا بورڈ لگا ہوا ہو آگے دیکھیں تو آؤٹ سائڈر۔
کم از کم ماں باپ کی زندگی میں بیٹیوں کے کمرے انہیں کے رہیں یہ میں اپنی بیٹی کے لیے سوچتی ہوں۔
ہو سکے تو بیٹیوں کو مہنگے جہیز مت دیں عالی شان شادیاں مت کریں انکو ایسی تعلیم دلوائیں کہ وہ زرا زرا سے خواہش کے لیے کسی دوسرے شخص کا منہ نا دیکھیں کسی دوسرے کے ماتھے کے بل نا گنیں چاہے وہ کوئی بھی ہو۔ اس لیے نہیں کہ دوسرا ان کی خواہش پوری نہیں کرئے گا بلکہ صرف اس لیے کہ ان کی ذات کا غرور قائم رہے وہ اپنے لیے کسی سے پیسہ نا مانگیں۔
دوسرا انہیں ایک کمرے کی چھت ضرور دیں جو ان کی اپنی ہو۔
اور اپنی بیٹیوں کا ساتھ کبھی نا چھوڑیں۔
ہم جب اپنی بچوں کو سکول چھوڑنے جاتے ہیں تو بیٹے فورا سکول کے اندر چلے جاتے ہیں بیٹی گاڑی سے سکول کے گیٹ تک مڑ مڑ کے دیکھتی ہے ہاتھ ہلاتی ہے جب تک ہم اس کی نظروں سے اوجھل نا ہو جائیں۔
میں روز اپنے آنسو پونچھتی اپنے میاں کو کہتی ہوں کہ ایک دن آئے گا کہ ان بیٹیوں کی زندگی میں ایک شخص آ کے کہے گا تمہارا یہ باپ اور تمہاری یہ ماں آؤٹ سائڈر ہیں ان سے ملنے کے لیے ہم سے اجازت لو۔
تو سوچیں کہ ان بیٹیوں کے دل پر کیا گزرے گی اور وہ کیسے کیسے جتن کر کے اپنے آپ کو بہلاؤں میں لگائیں گی۔