04/04/2025
ایک خبر نے اسٹرابری کو آسمان سے زمین پر لا پٹخا ، 600 روپے کلو فروخت ہونے والی اسٹرابری ایک ہفتے میں سو روپے فی کلو پر آگئی ، وجہ کیا ہے ؟
ایک وجہ دکان داروں اور کاشت کاروں کا اپنا کیا گیا ظلم ہے ، اس سال انہوں نے عوام کی صحت سے کھیلتے ہوئے ان پر اینٹی فنگس دوا کا استعمال کیا جس سے اسٹرابری تین دن تک خراب نہیں ہوتی ورنہ سب کو معلوم ہے یہ چوبیس گھنٹے کے بعد پلپلی ہونے لگتی ہے۔ دوسرا ظلم ان پر کیڑے مار ادویات کا اسپرے حد سے زیادہ استعمال کیا گیا۔ کچھ لوگ کہتے ہیں ان میں رنگ تیز کرنے والے انجکشن بھی بھرے گئے ہیں ، انجکشن والی بات کو تحقیقاتی ٹیموں نے مسترد کردیا لیکن مختلف اضلاع سے لیے گئے اسٹرابری کے نمونوں سے یہ انکشاف ہوا کہ ان پر واقعی اینٹی فنگس اسپرے اور کیڑے مار ادویات 70 فیصد تک موجود ہیں ۔ جوکہ پہلے 30 فیصد ہوتی تھی ۔
۔ اسٹرابری میں یہ اس لیے خطرناک ہیں کہ باقی پھلوں کا چھلکا ہموار ہوتا ہے اور پھل دھونے سے یہ اثرات نکل جاتے ہیں مگر اسٹرابری کی سطح چونکہ کھردری اور سوراخ والی ہوتی ہے اور اس کا چھلکا بھی نہیں ہوتا تو کیڑے مار ادویات کی باقیات ان کے اندر تک سرایت کر جاتی ہیں جو دھونے پر بھی آسانی سے نہیں نکلتیں۔
اگر آپ کو بھی میری طرح اسٹرابری بہت پسند ہے تو اس کو کھلے پانی میں خوب تسلی سے دھوئیں ، بلکہ ٹکڑوں میں کاٹ کر دھوئیں اور پھر استعمال کریں ۔
افسوس اس بات کا ہے اس پھل سے ہم کروڑوں روپے زرمبادلہ کماتے ہیں ، بچوں بڑوں کا پسندیدہ پھل ہے مگر آج بازار میں رُل رہا یے ، چند کالی بھیڑوں نے اپنی بوٹی کے لیے پوری گائے ہی ذبح کر ڈالی۔
لوگوں کے بائیکاٹ سے آڑھتیوں کو جس قدر نقصان اس سال ہوا ہے امید ہے اگلے سال اس رسیلے اور کھٹے میٹھے پھل میں زہر گھولنے سے پہلے سو بار سوچیں گے ۔ یہ پوسٹ ان لوگوں کی آگاہی کے لیے ہے جو سستی ہونے پر دھڑا دھڑ خرید رہے ہیں ۔
(بشکریہ آصفہ عنبرین قاضی)