Dynasty Exports Denim

Dynasty Exports Denim Wholesale Dealer of Export Quality Jeans

21/12/2020

گاما مراسی 😂

19/12/2020

اسے میں نے ہی لکھا تھا
کہ لہجے برف ہوجاٰئیں
تو پھر پگھلا نہیں کرتے
پرندے ڈر کر اڑ جائیں
تو پھر لوٹا نہیں کرتے
یقیں اک بار اٹھ جائے
کبھی واپس نہیں آتا
ہواؤں کا کوئی طوفاں
بارش نہیں لاتا
اسے میں نے ہی لکھا تھا
جو شیشہ ٹوٹ جائے تو
کبھی پھر جڑ نہیں پاتا
جو راستے سے بھٹک جائیں
وہ واپس مڑ نہیں پاتا
اسے کہنا وہ بے معنی ادھورے خط
اسے میں نے ہی لکھا تھا
اسے کہنا کے دیوانے مکمل خط نہیں لکھتے...!!!

05/11/2020

کبھی مل تو تجھ کو بتائیں ہم
تجھے اس طرح سے ستائیں ہم
تیرا عشق تجھ سے چھین کے
تجھے مے پلا کے رلائیں ہم
تجھے درد دوں تو نہ سہہ سکے
تجھے دوں زباں تو نہ کہہ سکے
تجھے دوں مکاں تو نہ رہ سکے
تجھے مشکلوں میں گھرا کے میں
کوئی ایسا رستہ نکال دوں
تیرے درد کی میں دوا کروں
کسی غرض کے سوا کروں
تجھے ہر نظر پر عبور دوں
تجھے زندگی کا شعور دوں
کبھی مل بھی جائیں گے غم نہ کر
ہم گر بھی جائیں گے غم نہ کر
تیرے ایک ہونے میں شک نہیں
میری نیتوں کو تو صاف کر
تیری شان میں کوئی کمی نہیں
میرے اس کلام کو تو معاف کر

21/10/2020

جب دِل ٹوٹ جائے تو اُٹھا کر___ اُسی مُصوّر کے پاس لے جاؤ، جس نے اسے بنایا ہے____

کیونکہ اُس سے بہتر__ کوئی جان ہی نہیں سکتا کہ کون سا رنگ کہاں بھرنا ہے، اور کِس دھاگے سے کہاں پِیوندّ لگانا ہے___

جس ماں نے اپنی بیٹی کو بیگ کے پیسے نا ہونے پریہ بستہ بنا کر دیا ہو گا  وہ کس کرب سے گُزری ہو گییا اللہ غریبوں کی مدد فرم...
25/09/2020

جس ماں نے اپنی بیٹی کو بیگ کے پیسے نا ہونے پر
یہ بستہ بنا کر دیا ہو گا وہ کس کرب سے گُزری ہو گی
یا اللہ غریبوں کی مدد فرما🤲🤲🤲

شاہراہ قراقرم  کی تعمیر کا آغاز 1966 میں ہوا اور تکمیل 1978 میں ہوئی۔ شاہراہ قراقرم کی کُل لمبائی 1,300 کلومیٹر ہے جسکا ...
24/09/2020

شاہراہ قراقرم کی تعمیر کا آغاز 1966 میں ہوا اور تکمیل 1978 میں ہوئی۔ شاہراہ قراقرم کی کُل لمبائی 1,300 کلومیٹر ہے جسکا 887 کلو میٹر حصہ پاکستان میں ہے اور 413 کلومیٹر چین میں ہے۔ یہ شاہراہ پاکستان میں حسن ابدال سے شروع ہوتی ہے اور ہری پور ہزارہ, ایبٹ آباد, مانسہرہ, بشام, داسو, چلاس, جگلوٹ, گلگت, ہنزہ نگر, سست اور خنجراب پاس سے ہوتی ہوئی چائنہ میں کاشغر کے مقام تک جاتی ہے۔

اس سڑک کی تعمیر نے دنیا کو حیران کر دیا کیونکہ ایک عرصے تک دنیا کی بڑی بڑی کمپنیاں یہ کام کرنے سے عاجز رہیں۔ ایک یورپ کی مشہور کمپنی نے تو فضائی سروے کے بعد اس کی تعمیر کو ناممکن قرار دے دیا تھا۔ موسموں کی شدت, شدید برف باری اور لینڈ سلائڈنگ جیسے خطرات کے باوجود اس سڑک کا بنایا جانا بہرحال ایک عجوبہ ہے جسے پاکستان اور چین نے مل کر ممکن بنایا۔ایک سروے کے مطابق اس کی تعمیر میں 810 پاکستانی اور 82 چینی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ رپورٹ کے مطابق شاہراہ قراقرم کے سخت اور پتھریلے سینے کو چیرنے کے لیے 8 ہزار ٹن ڈائنامائیٹ استعمال کیا گیا اور اسکی تکمیل تک 30 ملین کیوسک میٹر سنگلاخ پہاڑوں کو کاٹا گیا۔یہ شاہراہ کیا ہے؟ بس عجوبہ ہی عجوبہ!کہیں دلکش تو کہیں پُراسرار, کہیں پُرسکون تو کہیں بل کھاتی شور مچاتی, کہیں سوال کرتی تو کہیں جواب دیتی۔ اسی سڑک کنارے صدیوں سے بسنے والے لوگوں کی کہانیاں سننے کا تجسس تو کبھی سڑک کے ساتھ ساتھ پتھروں پر سر پٹختے دریائے سندھ کی تاریخ جاننے کا تجسس !!شاہراہ قراقرم کا نقطہ آغاز ضلع ہزارہ میں ہے جہاں کے ہرے بھرے نظارے اور بارونق وادیاں "تھاکوٹ" تک آپ کا ساتھ دیتی ہیں۔تھاکوٹ سے دریائے سندھ بل کھاتا ہوا شاہراہ قراقرم کے ساتھ ساتھ جگلوٹ تک چلتا ہے پھر سکردو کی طرف مُڑ جاتا ہے۔تھاکوٹ کے بعد کوہستان کا علاقہ شروع ہوجاتا ہے جہاں جگہ جگہ دور بلندیوں سے اترتی پانی کی ندیاں سفر کو یادگار اور دلچسپ بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔کوہستان کے بعد چلاس کا علاقہ شروع ہوتا ہے جوکہ سنگلاخ پہاڑوں پر مشتمل علاقہ ہے۔ چلاس ضلع دیا میر کا ایک اہم علاقہ ہے اسکو گلگت بلتستان کا دروازہ بھی کہا جاتا ہے۔ ناران سے بذریعہ بابو سر ٹاپ بھی چلاس تک پہنچا جا سکتا ہے۔ چلاس کے بعد شاہراہ قراقرم نانگا پربت کے گرد گھومنے لگ جاتی ہے اور پھر رائے کوٹ کا پُل آجاتا ہے یہ وہی مقام ہے جہاں سے فیری میڈوز اور نانگا پربت بیس کیمپ جانے کے لیے جیپیں کرائے پر ملتی ہیں۔ رائے کوٹ کے بعد نانگا پربت, دریائے سندھ اور شاہراہ قراقرم کا ایک ایسا حسین امتزاج بنتا ہے کہ جو سیاحوں کو کچھ وقت کے لیے خاموش ہونے پر مجبور کر دیتا ہے۔اس کے بعد گلگت ڈویژن کا آغاز ہوجاتا ہے جس کے بعد پہلا اہم مقام جگلوٹ آتا ہے جگلوٹ سے استور, دیوسائی اور سکردو بلتستان کا راستہ جاتا ہے۔ جگلوٹ کے نمایاں ہونے میں ایک اور بات بھی ہے کہ یہاں پر دنیا کے تین عظیم ترین پہاڑی سلسلے کوہ ہمالیہ, کوہ ہندوکش اور قراقرم اکھٹے ہوتے ہیں اور دنیا میں ایسی کوئی جگہ نہیں جہاں تین بڑے سلسلے اکھٹے ہوتے ہوں۔جگلوٹ کے بعد شمالی علاقہ جات کے صدر مقام گلگت شہر کا آغاز ہوتا ہے جو تجارتی, سیاسی اور معاشرتی خصوصیات کے باعث نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ نلتر, اشکومن, غذر اور شیندور وغیرہ بذریعہ جیپ یہیں سے جایا جاتا ہے۔ گلگت سے آگے نگر کا علاقہ شروع ہوتا ہے جس کی پہچان راکا پوشی چوٹی ہے۔ آپکو اس خوبصورت اور دیوہیکل چوٹی کا نظارہ شاہراہ قراقرم پر جگہ جگہ دیکھنے کو ملے گا۔ نگر اور ہنزہ شاہراہ قراقرم کے دونوں اطراف میں آباد ہیں۔ یہاں پر آکر شاہراہ قراقرم کا حُسن اپنے پورے جوبن پر ہوتا ہے میرا نہیں خیال کہ شاہراہ کے اس مقام پر پہنچ کر کوئی سیاح حیرت سے اپنی انگلیاں دانتوں میں نہ دباتا ہو۔ "پاسو کونز" اس بات کی بہترین مثال ہیں۔ہنزہ اور نگر کا علاقہ نہایت خوبصورتی کا حامل ہے۔ بلند چوٹیاں, گلیشیئرز, آبشاریں اور دریا اس علاقے کا خاصہ ہیں۔ اس علاقے کے راکاپوشی, التر, بتورہ, کنیانگ کش, دستگیل سر اور پسو نمایاں پہاڑ ہیں۔عطاآباد کے نام سے 21 کلومیٹر لمبائی رکھنے والی ایک مصنوعی لیکن انتہائی دلکش جھیل بھی ہے جو کہ پہاڑ کے گرنے سے وجود میں آئی۔سست کے بعد شاہراہ قراقرم کا پاکستان میں آخری مقام خنجراب پاس آتا ہے۔سست سے خنجراب تک کا علاقہ بے آباد, دشوار پہاڑوں اور مسلسل چڑھائی پر مشتمل ہے۔ خنجراب پاس پر شاہراہ قراقرم کی اونچائی 4,693 میٹر ہے اسی بنا پر اسکو دنیا کے بلند ترین شاہراہ کہا جاتا ہے۔ خنجراب میں دنیا کے منفرد جانور پائے جاتے ہیں جس میں مارکوپولو بھیڑیں, برفانی چیتے, مارموٹ, ریچھ, یاک, مارخور اور نیل گائے وغیرہ شامل ہیں۔اسی بنا پر خنجراب کو نیشنل پارک کا درجہ مل گیا ہے۔اس سڑک پر آپکو سرسبز پہاڑوں کے ساتھ ساتھ پتھریلے و بنجر پہاڑی سلسلے اور دیوقامت برفانی چوٹیوں, دریاؤں کی بہتات, آبشاریں, چراگاہیں اور گلیشیئر سمیت ہر طرح کے جغرافیائی نظارے دیکھنے کو ملتے ہیں جو نا صرف آپکا سفر خوبصورت بناتے ہیں بلکہ آپ کے دل و دماغ پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔ شاہراہِ قراقرم محض ایک سڑک نہیں ہے بلکہ یہ دنیا کا آٹھواں عجوبہ ہے.

‏عورت نے ساڑھی پہنی ہے ,شلوار قمیض پہنی ہے,ٹراوذر پہنا ہے,چوڑی دار پاجامہ پہنا ہے,سر سے پاوں تک چادر میں لپٹی ہے دوپٹہ گ...
10/09/2020

‏عورت نے ساڑھی پہنی ہے ,شلوار قمیض پہنی ہے,ٹراوذر پہنا ہے,چوڑی دار پاجامہ پہنا ہے,سر سے پاوں تک چادر میں لپٹی ہے دوپٹہ گلے میں ڈالا ہےدوپٹہ کے بغیر ہےپوری آستینیں پہنی ہیں,آدھی آستینیں ہیں برقعہ پہنا ہے یا ٹانگیں ننگی ہے چاہے جس بھی طرح کے لباس میں ہے ریپ ہو جاتی ہے
‏عورت چاہے 3 سال کی بچی ہے,4 سال کی سکول جانے والی ,8 سال کی قرآن پاک پڑھنے جانے والی,14 سال کی بلوغت میں قدم رکھنے والی, 20 سال کی جوان,40 سال کی ,50 سال می بزرگ,70 سال کی برگزیدہ یا پھر قبر میں لیٹی ہو ریپ کر دی جاتی ہے
‏عورت کا مذہب اسلام ہو. سکھ ہو ,عیسائیت ہو,یہودیت ہو,جین مت ہو,بدھ ہو ,چاہے وہ کسی بھی مذہب سے ہو مسلک سے ہو فرقے سے ہو یا وہ ان سب سے نا تعلق رکھتی ہو اس کو ریپ کر دیاجاتا ہے
‏کالی ہو ,گوری ہو,سانولی ہو,موٹی ہو,پتلی ہو,چھوٹی ہو,یا لمبی ہو اپاہج ہو اس کا ریپ ہونے کی خبریں آتی ہیں
‏مسئلہ اگر لباس,عمر مذہب,رنگ,سائز کا نہیں تو پھر مسئلہ ہے کیا مسئلہ ہے ہوس ,ہوس زدہ ذہنوں کا مسئلہ ہے درندگی کا مسئلہ ہے بھوک کا اور مسئلہ ہے "انسانیت" سے گرنے کا___؛
وما علینا الالبلاغ.

کاپیڈ

21/08/2020

محب وطن جولی کی کہی ایک ایک بات پہ ندامت کے آنسو بہائے گا ۔
بشکریہ پیج : محبّت اک اذیت

اس قوم پر قرضہ ہے
20/08/2020

اس قوم پر قرضہ ہے

پاکستان ایک ایسی قوم ہے جس کے آگے ان کا اپنا بس نہیں چلتا انڈیا کا کیا چلے گا 😂😂
12/08/2020

پاکستان ایک ایسی قوم ہے جس کے آگے ان کا اپنا بس نہیں چلتا انڈیا کا کیا چلے گا 😂😂

فرانو/چھوربٹ          District khaplu Ghanche Baltistan Pakistanوادی چھوربٹ فرانو آبادی کے لحاظ سے چھوربٹ کے سب سے بڑا گ...
12/08/2020

فرانو/چھوربٹ
District khaplu Ghanche Baltistan Pakistan
وادی چھوربٹ فرانو آبادی کے لحاظ سے چھوربٹ کے سب سے بڑا گاؤں مانا جاتا ہے اور قدیمی گاؤں میں شمار ہوتا ہےجس کا ثبوت گاؤں میں موجود خانقاہ معلی ہے جس کی سنگ بنیاد تقریبا پانچ سو سال پہلے حضرت امیر کبیر سید علی ہمدانی نے رکھا تھا اور ان کے اعصاء مبارک آج بھی فرانو گاؤں میں موجود ہے..
اس کے علاوہ اپو علی شاہ پُل بھی بھی اسی گاؤں میں موجود ہے جو پورے بلتستان میں سب سے پہلے اس دور کے عوام نے اپنے مدد آپ تحت اپو علی شاہ کے گاریگری سے بنایا گیا اور اس پل کو دیکھ کر ہی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ کتنا پرانا قدیمی اور کتنا محنت سے بنایا گیا ہے اُس دور میں لوگ اس پل سے گزر کر لہ لداخ تک تجارت کرنے جاتے تھے اب یہ پُل پاک فوج کے زیر استعمال ہے

ہنزہ میں ایک روایتی کام یہ ہے کہ وہاں تمام جانور ایک جگہ ذبح کئے جاتے ہیں اور اگر کوئی اپنے گھر میں بھی ذبح کرے تو گوشت ...
02/08/2020

ہنزہ میں ایک روایتی کام یہ ہے کہ وہاں تمام جانور ایک جگہ ذبح کئے جاتے ہیں اور اگر کوئی اپنے گھر میں بھی ذبح کرے تو گوشت پھر بھی قربان گاہ لایا جاتا ہے جہاں اس گوشت کو برابر تقسیم کیا جاتا ہے چاہے کسی نے قربانی کی ہے یا نہیں ۔ میری نظر میں یہ ایک اچھا اقدام ہے غریب امیر رنگ نسل ذات پات کا فرق ختم کرنے کا۔

Address

Lahore

Telephone

03026068786

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dynasty Exports Denim posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share