21/09/2023
ربیع الاول (پہلی بہار؟)
ربیع الاول کا ماہ مبارک سایہ فگن ہوچکا۔ جس کا معنی پہلی بہار ہے۔ مگر جانتے ہیں اسے یہ نام کیوں دیا گیا؟ پڑھئے ہمارا ایک تحقیقی مضمون اور ایمان کو جلا بخشیے۔۔۔۔
اللهم صل على محمد وعلى آله وصحبه وسلم❤️👇
کورونا انسانی تاریخ کی ایک بڑی وبا تھی، اس سے قبل 1918ء میں انفلوائنزا کی وبا بھی بہت خوفناک تھی، جس نے 100 ملین افراد کو نگل لیا تھا۔ اس سے بھی پہلے 1347ء میں یورپ میں کالی موت نے تباہی پھیلائی تھی۔ مگر یہ سب سال 536ء کی آفت کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔ یہ دستیاب انسانی تاریخ کا بدترین سال تھا، جب پورا سال سورج طلوع نہیں ہوا۔ امریکی جریدے sciencealert میں اس حوالے سے ایک مضمون شائع ہوا ہے۔ ہاورڈ یونیورسٹی میں Archaeology کے پروفیسر ڈاکٹر مايكل ماكورميک کے مطابق اس وقت سال بھر آسمان پر دھند نما بادل چھائے رہے۔ سورج کی ہلکی سی روشنی نمودار ہوتی، بالکل چاند کی طرح۔ لوگوں پر سخت دہشت طاری تھی۔ سورج طلوع نہ ہونے کی وجہ سے پورا کرہ ارض سخت ترین سردی کی لپیٹ میں آیا اور جون جولائی میں گرم ممالک میں برفباری ہونے لگی۔ فصلیں تباہ ہوگئیں اور بے شمار انسان اور حیوانات ہلاک ہوگئے۔ علماء اس کا سبب بڑے پیمانے پر آتش فشاں کا پھٹنا قرار دیتے ہیں۔ جس سے نکلنے والے دھوئیں اور گرد نے کرہ ارضی کی پوری فضا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا اور سورج کی روشنی زمین نہ پڑنے سے درجہ حرارت بہت نیچے گر گیا تھا۔ چرند، پرند، کھیت کھلیاں، پودے نباتات، غرض ہر ذی روح فنا کے گھاٹ اترنے والا تھا کہ قدرت مہرباں ہوگئی اور دنیا کے افق پر خورشید نبوت کا طلوع ہوا، رحمت کا ابر کرم برسا اور دھرتی سے یہ آفت دور ہوگئی۔ اسی لئے رحمت دو عالم ﷺ کی ولادت باسعادت کے بابرکت مہینے کا نام ربیع الاول (پہلی بہار) پڑ گیا۔
یہ صرف آئس لینڈ کا ہی نہیں بلکہ شاید دنیا کا سب سے بڑا آتش فشاں تھا۔ ارونو (Orono) کی مین (Maine) یونیورسٹی کے ”ادارہ برائے ماحولیاتی تبدیلی“ (Institute Climate Change) سے تعلق رکھنے مشہور ماہر برفانی تودہ جات (Glaciologist) کے مطابق ایک دن یہ پھٹ گیا اور اس میں سے اتنا دھواں نکلا جتنا آج تک کبھی کسی پہاڑ سے نہیں نکلا تھا۔ دھویں کی اس مقدار نے زمین اور آسمان کے درمیان ایک انتہائی دبیز تہہ قائم کر دی۔ دھوئیں سے بنی اس چادر نے پورے یورپ اور مشرق وسطیٰ، جبکہ ایشیا کے بعض حصوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ معاصر روزنامے کے ایک مشہور لکھاری لکھتے ہیں کہ یہ دھواں اتنا زیادہ تھا کہ اس نے زمین کو مکمل طور پر ڈھانپ دیا۔ سورج کی روشنی مکمل طور پر غائب ہو گئی اور زمین پر دن اور رات کی تمیز تک ختم ہو گئی تھی، یعنی اندھیرا اس قدر زیادہ تھا کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا تھا۔ یہ کیفیت اٹھارہ ماہ باقی رہی۔ اٹھارہ ماہ والی بات تو درست ہے، لیکن جہاں تک تعلق ہے سموگ کی وجہ سے سورج کے مکمل طور غائب ہو جانے کا تو حقیقتاً ایسا نہیں تھا جیسا کہ مشہور بازنطینی تاریخ دان پروکوپیس (Procopius) لکھتا ہے
مفہوم یہی ہے کہ سورج کی روشنی مکمل طور پر غائب نہیں ہوئی تھی، بلکہ اس کی روشنی کا تین چوتھائی حصہ دھوئیں کے بادلوں نے روک دیا تھا، لیکن اس کے باوجود اس کی روشنی کا ایک چوتھائی حصہ زمین تک پہنچ پا رہا تھا۔ البتہ اس کی روشنی چاند کی روشنی کی طرح حدت سے خالی تھی، لیکن ظاہر ہے کہ یہ روشنی زمین اور اس پر موجود مخلوق کے لئے ناکافی تھی۔ ان اٹھارہ مہینوں میں زمین کا درجہ حرارت کم سے کم 1.5جبکہ زیادہ سے زیادہ 2.5 سینٹی گریڈ رہتا تھا، جس سے سردی کا تئیس سو سالہ (2300) ریکارڈ ٹوٹ گیا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انسانوں اور جانوروں میں جلد اور ہڈیوں سے متعلقہ طرح طرح کے مسائل پیدا ہونے لگے۔ بچوں کے ساتھ ساتھ مختلف فصلوں، درختوں اور دیگر نباتات کی گروتھ بھی متاثر ہونے لگی، چونکہ پھلوں، پھولوں اور فصلوں کا اگنا اور پکنا سورج کی روشنی کے ہی کا مرہون منت ہوتا ہے، لہٰذا ان کی پیداوار پر بھی برے اثرات مرتب ہوئے اور یوں دنیا قحط سالی اور بھوک کی عالمی وبا کی لپیٹ میں آ گئی۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے مشہور زمانہ محقق ڈاکٹر مائیکل مکارمک کے مطابق ڈیڑھ سال بعد یعنی جون 537ء میں ماحول میں قدرے تبدیلی کے آثار نمودار ہونا شروع ہوئے، لیکن حالات زندگی کے لئے پھر بھی سازگار نہیں تھے۔
انسان ابھی اس مصیبت سے نکلا نہیں تھا کہ اچانک دنیا میں گلٹی والے سرطان کی پہلی بڑی وبا پھوٹ پڑی، جسے "Bubonic Plague" کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے۔ اس کی ہلاکت خیزی کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس نے صرف بازنطین ایمپائر میں پچیس سے پچاس ملین افراد کو نگل لیا۔ جسٹین اول بادشاہ تھا اور اسے علاج کی اعلیٰ سہولتیں بھی میسر تھیں، لیکن وہ بھی اسی وبا میں لقمہ اجل بن گیا، جس کی وجہ سے اس وبا کو "Plague of Justinian" کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔
اب دنیا کے حالات یہ تھے کہ ایک طرف آتش فشاں پھٹنے کی وجہ سے بننے والی سموگ نے سورج کی روشنی کو روک رکھا تھا، زمین کا درجہ حرارت خطرناک حد تک گر گیا تھا، حرارت کی کمی کی وجہ سے فصلوں اور پھلوں، بلکہ خود انسان کی افزائش اور پیدائش تک متاثر ہو چکی تھی، قحط، غربت اور افلاس نے ڈیرے ڈال رکھ تھے اور دوسری طرف یہ وبا، اسی وجہ سے تاریخ اسے "The worst year to be alive" کا نام دیتی ہے۔ انسان انہی حالات میں کسی نہ کسی طرح سسک سسک کر 570ء تک آن پہنچا اور یہی سال انسانیت کے لئے دوبارہ زندگی کی نوید لے کر آیا، لیکن ڈارک ایج سے متعلق تحقیق کرنے والی ہارورڈ یونیورسٹی کی ٹیم کا کہنا ہے کہ ہمیں اس بات کا جواب نہیں ملتا کہ آخر اس سال ایسا کیا ہوا تھا کہ چاند اور سورج اپنی مکمل روشنی، جانور اور پرندے اپنی بولیوں، فصلیں اور درخت اپنی آب و تاب اور تمام تر موسم اپنی رعنائیوں کے ساتھ واپس آ گئے؟
سائنس تمام تر حقیقت کے باوجود ایک ظنی علم ہی ہے، جس میں مزید تحقیق پہلی تحقیق کو ردی کا ٹکڑا ثابت کر دیتی ہے۔ سائنس اس تبدیلی کی وجہ جاننے سے قاصر ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے اسی سال ”رحمۃ للعالمین“ کو دنیا میں بھیجا اور یہ انہی کی برکت کا نتیجہ تھا۔ سیرت نگاروں اور تاریخ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ آپ ﷺ کے آنے سے پہلے حالات ایسے ہی تھے۔ دنیا تو کجا خود عرب کی تاریخ کے مطابق وہاں قحط سالی تھی، بارشیں نہیں ہو رہی تھیں، جانور اور انسان بھوک کے ہاتھوں نڈھال تھے، لیکن جس سال حضور انور ﷺ تشریف لائے اتنی بارشیں ہوئیں کہ فصلیں لہلہانے لگیں، پرندے چہکنے لگے، غنچے چٹکنے لگے، کلیاں مہکنے لگیں اور بوند بوند کو ترستی زمین جل تھل ہو گئی۔ اسی وجہ سے اس سال کو عرب کی تاریخ اور مسلمان سیرت مؤرخین اور سیرت نگاروں کے ہاں ”آسانی اور خوشیوں والا سال“ کے نام تعبیر کیا جاتا ہے، بلکہ عرب میں بچیوں کی پیدائش والدین اور برادری کو مغموم کر دیتی تھی۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اس سال سب کو بیٹے عطا فرمائے تاکہ حضور اکرمؐ کی آمد کے سال کوئی پریشان نہ رہے۔ اسی وجہ سے اس ماہِ مبارک کو ربیع الاول، یعنی پہلی بہار کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
اللھم صل علی سیدنا محمد وعلی آلہ وصحبہ وبارک وسلم