مجھے کیوں نکالا

مجھے کیوں نکالا Bismillah

24/02/2026

السّلام وعلیکم

میری بہن (عمر 36 سال) شدید Aplastic Anemia میں مبتلا ہیں اور AFBMTC / CMH راولپنڈی میں بون میرو ٹرانسپلانٹ فوری طور پر درکار ہے (COL ڈاکٹر راحیل کی ہدایت کے مطابق)۔

علاج کی کل لاگت تقریباً 70 لاکھ روپے ہے، جس میں سے تقریباً 55 لاکھ روپے مزید فوری درکار ہیں۔
یہ کیس زکوٰۃ کے لیے جائز ہے — کم یا زیادہ، جتنی بھی اللہ توفیق دے، مدد فرمائیں۔

عطیات کے لیے بینک تفصیل:
بینک: عسکری بینک
IBAN:PK07ASCM0007073200003920

براہِ کرم ادائیگی کے بعد اسکرین شاٹ شیئر کر دیں۔

🤲 اللہ آپ سب کو جزائے خیر عطا فرمائے اور میری بہن کو مکمل شفا دے۔ جزاک اللّٰہ

ڈی ایچ کیو ہسپتال جھنگ کیتھ لیب فنکشنل پہلے دن ہی چار انجیوگرافی کیس مکمل ھوئے ہیں ان شاءاللہ یہ سہولت بڑھتی جائے گی ڈاک...
10/01/2026

ڈی ایچ کیو ہسپتال جھنگ کیتھ لیب فنکشنل پہلے دن ہی چار انجیوگرافی کیس مکمل ھوئے ہیں ان شاءاللہ یہ سہولت بڑھتی جائے گی
ڈاکٹر اطہر روف رانا ڈائریکٹر کیتھ لیب جھنگ

جھنگ ذرائع کے مطابق گزشتہ 3 دن سے پولیس شالیمار پمپ کمیرے کی وڈیو ڈیوائس  شیخ فواد اکرم (مدعی) سے طلب کر رہی ہے، تاہم وہ...
07/01/2026

جھنگ ذرائع کے مطابق گزشتہ 3 دن سے پولیس شالیمار پمپ کمیرے کی وڈیو ڈیوائس شیخ فواد اکرم (مدعی) سے طلب کر رہی ہے، تاہم وہ اسے فراہم کرنے سے انکار کر رہے ہیں آج موصول ہونے والی معلومات کے مطابق مبینہ طور پر یہ ڈی وی آر کو خیبر پختونخوا منتقل کر دیا گیا جس کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس میں من پسند تبدیلی کی جا سکتی ہے۔ ہم اہلِ جھنگ اعلیٰ حکام سے پُرزور اپیل کرتے ہیں کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے، ڈی وی آر کو فوری طور پر تحویل میں لے کر شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کو یقینی بنایا جائے، تاکہ حقائق سامنے آ سکیں اور انصاف کے تقاضے پورے ہوں محسن مرحوم کو انصاف مل سکے

05/01/2026

*ایڈیشنل سیشن جج لاہور شفقت راجہ کا بڑا حکم: پولیس شہریوں کا موبائل فون جیک نہیں کر سکتی*
لاہور کی عدالت نے شہریوں کے ڈیجیٹل حقوق کے تحفظ کے لیے اہم فیصلہ سناتے ہوئے حکم دیا ہے کہ پولیس کسی بھی شہری کا موبائل فون یا اس کے ڈیٹا کو بغیر عدالت کی تحریری اجازت کے چیک نہیں کر سکتی۔
عدالت کے مطابق ایڈیشنل سیشن جج شفقت راجہ نے واضح کیا کہ شہریوں کی پرائیویسی آئین کے آرٹیکل 14 اور 19 کے تحت بنیادی حق ہے، اور قانون نافذ کرنے والے ادارے صرف عدالت کی اجازت سے ہی موبائل فون کا ڈیٹا حاصل کر سکتے ہیں۔
فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ بغیر اجازت کی گئی کوئی بھی کارروائی غیر قانونی تصور ہوگی اور اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
ماہرین قانون کے مطابق یہ حکم شہریوں کے ڈیجیٹل حقوق کے تحفظ اور پولیس کی کارروائیوں کی شفافیت کے لیے سنگِ میل ثابت ہوگا، اور اس سے قانون کی بالادستی کو مزید مضبوطی حاصل ہوگی۔

03/01/2026

جنگ خیبر میں
دشمن کے قلعے توڑنے والے امیر المؤمنین خلیفہ چہارم حضرت علیؓ پر کروڑوں سلام۔

03/01/2026

Celebrating my 8th year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉

*جھنگ فائرنگ واقعہ ، ایف آئی آر کے متن سے واضع ہوتا ہے کہ محسن نول  مرحوم کی لاش پر آئندہ کئی ماہ تک سیاست جاری رہے گی۔*...
03/01/2026

*جھنگ فائرنگ واقعہ ، ایف آئی آر کے متن سے واضع ہوتا ہے کہ محسن نول مرحوم کی لاش پر آئندہ کئی ماہ تک سیاست جاری رہے گی۔*

محسن نول قتل کیس میں درج کی گئی ایف آئی آر اگر واقعی انصاف کے لیے ہوتی تو سب سے پہلے مدعی کا فیصلہ قانون اور اخلاق کے مطابق ہوتا۔ مقتول کے ورثا، یعنی محسن نول کے بھائی، ہسپتال کے باہر کھڑے ہو کر چیخ رہے تھے کہ وہ لاشوں پر سیاست نہیں ہونے دیں گے، کہ مدعی وہ خود ہوں گے۔ مگر ان کی آواز بے وزن نکلی، کیونکہ وہ طاقتور نہیں تھے ۔

مدعی محسن نول کے بھائیوں کو نہیں بنایا گیا، بلکہ پی ٹی آئی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم کے بھائی شیخ فواد اکرم کو مدعی مقرر کر دیا گیا۔ یوں ایک غریب مقتول کے مقدمے کی باگ ڈور ایک بااثر سیاسی خاندان کے ہاتھ میں دے دی گئی۔ یہ محض ایک قانونی فیصلہ نہیں ہے، یہ ایک سیاسی چال ہے۔ کیونکہ جب مدعی طاقتور ہو تو مقدمہ انصاف کا نہیں، ضرورت کا تابع ہو جاتا ہے۔ آج بیان، کل دباؤ، پرسوں ڈیل، اور آخر میں خاموشی۔ یہ پہلا وہ مقام ہے جہاں انصاف لڑکھڑا جاتا ہے اور ایک انسانی جان کا مقدمہ سیاسی حکمتِ عملی میں بدل جاتا ہے۔

دوسرا اور اس سے بھی زیادہ سنگین پہلو ایف آئی آر کے متن میں پوشیدہ ہے۔ اس کے مطابق شیخ معظم وحید، جو جھنگ میں سیاسی اثر و رسوخ رکھتے ہیں ممکنہ طور الیکشن میں امیدوار بھی ہیں ، کے بھائی شیخ مکرم وحید کو دفعہ 302 کے دائرے میں نامزد دیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں یہ لکھا گیا کہ جہاں محسن نول کو گولی لگی وہ فائر شیخ مکرم کی جانب سے کیا گیا تھا۔ یوں ایک سیاسی گروہ کو قتل کے مقدمے میں جکڑنے کی مکمل بنیاد رکھ دی گئی۔

اسی ایف آئی آر میں دوسری طرف اپنے ہی بھائی، شیخ شیراز اکرم، کو بڑی مہارت سے بچایا گیا۔ حالانکہ بنیادی تنازعہ شیخ شیراز اکرم اور شیخ وقاص اکرم کے ( سوتیلے بھائیوں) درمیان تھا، مگر اسے صرف “لوگوں کو زخمی کرنے” تک محدود کر دیا گیا۔ قتل کی دفعہ اس تک پہنچنے ہی نہیں دی گئی۔ یہ فرق کسی غلطی کا نتیجہ نہیں لگتا، بلکہ ایک سوچا سمجھا بندوبست محسوس ہوتا ہے۔

یوں ایک طرف سیاسی انتقام کی تیاری کی گئی، اور دوسری طرف اپنے لوگوں کے لیے قانونی ڈھال کھڑی کر دی گئی۔ محسن نول مرحوم اس پورے کھیل میں صرف ایک لاش بن کر رہ گیا۔ ایک ایسی لاش جس پر سیاست ہو گی، جس کے نام پر دباؤ بنایا جائے گا، اور جس کے خون سے سودے بازی کی جائے گی۔

اب سب سے اہم سوال جھنگ کے عوام سے ہے۔ یہ دونوں گروہ جھنگ میں سیاست کرنا چاہتے ہیں، جھنگ کے لوگوں سے ووٹ مانگتے ہیں، جھنگ کے نام پر اقتدار چاہتے ہیں۔ مگر اگر ان میں اتنی برداشت ہی نہیں کہ معمولی سی گاڑی لگنے پر ایک دوسرے پر گولیاں چلا دیں، اگر انا اتنی بڑی ہے کہ خون کی ہولی کھیل دی جائے، تو یہ جھنگ کے عوام کے حقوق کا تحفظ کیسے کریں گے؟

آج انہوں نے ایک دوسرے پر گولیاں چلائیں، کل یہ طاقت عام آدمی پر آزمانے میں کتنی دیر لگائیں گے؟ آج یہ اپنے اختلاف کو خون سے حل کرتے ہیں، کل غریب کے ساتھ کیا سلوک ہوگا؟ جس شہر میں سیاست دان ایک دوسرے کو برداشت نہیں کر سکتے، وہاں عوام کے لیے امن کہاں سے آئے گا؟

جھنگ کے لوگوں کو اب سوچنا ہوگا۔ خاموش رہنا بھی جرم بنتا جا رہا ہے۔ یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہمیں سیاست کے نام پر مسلح انا پرست چاہیے یا برداشت، قانون اور انسانیت پر یقین رکھنے والے نمائندے۔ کیونکہ جو لوگ آج ایک لاش پر سیاست کر سکتے ہیں، وہ کل پورے شہر کو یرغمال بنانے سے بھی نہیں ہچکچائیں گے۔ *آدھا نہیں مکمل سوچیں*

14/12/2025

پیر ذوالفقار احمد نقشبندی مہد الفقیر والے قضائے الٰہی سے انتقال کر گئے ہیں

30/09/2025

سنٹرل پولیس آفس میں انسپکٹر عہدے پر ترقی پانے والے 54 افسران کو پروموشن رینک لگانے کی تقریب،
آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے پروموٹ ہونے والے فیصل آباد ریجن کے29، ساہیوال 19 اور شیخوپورہ ریجن کے 6 پولیس افسران کو انسپکٹر عہدے کے رینک لگائے۔ پروموٹ ہونے والے افسران کے والدین، بچوں، اہلخانہ نے بڑی تعداد میں تقریب میں شرکت کی۔ سی سی ڈی، رائٹ مینجمنٹ پولیس سمیت نئے یونٹس کے قیام سے ہزاروں نئی آسامیاں اور ترقیاں ممکن ہوئیں، صوبائی ٹورازم پولیس، سائبر کرائم ڈیپارٹمنٹ کے قیام کے ذریعے مزید سینکڑوں نئی آسامیاں پیدا اور مزید پروموشنز ہوں گی۔
پروموشن سے افسران کو عزت دی، بہترین رویے سے شہریوں اور سائلین کو یہی عزت دیں، وزیر اعلی پنجاب نے پولیس کے ہیومن ریسورس، لاجسٹکس، انفراسٹرکچر، ٹرانسپورٹ کی فراہمی کیلئے بھرپور معاونت فراہم کی، پنجاب پولیس کی بھرپور سرپرستی پر وزیر اعلیٰ پنجاب اور حکومت پنجاب کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں، آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور

Address

Lahore
35202

Telephone

+923457585600

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when مجھے کیوں نکالا posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to مجھے کیوں نکالا:

Shortcuts

Share

Category