03/12/2018
السلام و علیکم دوستوں آج کل مرغی کے گوشت کے متعلق دو چینلز کی وڈیو بہت وائرل ہو گئی ہیں کچھ لوگوں کا گروہ بغیر تحقیق کے عوام کو گمراہ کر رہے ہیں اسی کے متعلق ایک آیت مبارکہ کے ساتھ پیغام لکھا گیا ہے پڑھیئے گا اور لوگوں کے ساتھ شیئر کیجیئے گا
قرآن کریم کی متعدد آیات تحقیق کی طرف رہنمائی کرتی ہیں:
یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ جَائَکُمْ فَاسِقٌ بِنَبَاٍٴ فَتَبَیَّنُوْآ اَنْ تُصِیْبُوْا قَوْمًا بِجَہَالَةٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰی مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِیْنَ(الحجرات۰۶)
ترجمہ: اے ایمان والو اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کر لو کہ کہیں کسی قوم کو بے جانے ایذا نہ دے بیٹھو پھر اپنے کئے پر پچتاتے رہ جاؤ۔(الحجرات:۰۶)
اسی طرح قرآن کریم میں متعدد مقامات پر لوگوں کے سوال نقل کرکے جواب کا ذکر ہے تاکہ ان کی معلومات میں اضافہ اور تحقیق کی راہیں ہموار ہوں۔
ایف ڈی اے نے جو رپورٹ دی ہے وہ ایک امریکن کمپنی Pfizer کی ایک میڈیسن کے بارے میں ہے جو صرف امریکہ، لاطینی امریکہ اور یورپ کے چند ممالک میں استعمال ہورہی ہے۔
ایف ڈی اے کی جس رپورٹ کی بات کی جارہی ہے اور جس کی بنیاد پہ اتنا واویلا مچا ہوا ہے یہ رپورٹ 2011 میں آئی تھی اور اسکے مطابق Pfizer کی میڈیسن Nitro-3 کے مرغی کی خوراک میں استعمال سے مرغی کی صرف کلیجی میں آرسینک کی مقدار بڑھ سکتی ہے۔
اسکے نتیجے میں جو لوگ مرغی کی کلیجی شوق سے کھاتے ہیں ان کے اندر بھی آرسینک کی مقدار بڑھ سکتی ہے اور یہی بڑھا ہوا آرسینک کینسر کا باعث بن سکتا ہے۔
اب اس میں دو چیزیں نوٹ کرنے کی ہیں۔
1۔ کیا پاکستان میں Pfizer کی یہ میڈیسن استعمال ہورہی ہے؟؟؟
اس کا جواب ہے نہیں۔
یہ میڈیسن صرف اور صرف فیڈ کی شیلف لائف بڑھانے کے لئیے استعمال ہوتی ہے جسکا پاکستان میں نہ ہی رواج اور نہ ہی ضرورت کیوئکہ پاکستان میں فیڈ بڑے بڑے سٹوروں کی شیلف پہ نہیں بلکہ روزانہ آرڈر کی بنیاد پہ تیار کرکے فیکٹری سے براہ راست فارمر کی سیل کی جاتی ہے۔
اسکے ساتھ ہی ساتھ دوسرا پہلو اسکی قیمت کا بھی ہے۔
یہ میڈیسن اتنی مہنگی ہے کہ پاکستان کی فیڈ انڈسٹری اس کا استعمال کرکے اپنی فیڈ کو موجودہ ریٹس پہ کبھی سیل نہیں کرسکتی۔
2۔ جس آرسینک کی سٹی 42 اور چینل 24 والوں نے اتنی کھپ ڈالی ہوئی ہے اس کی مقدار لاہور سمیت پنجاب اور سندھ کے دوسرے چھوٹے بڑے شہروں کے پانی میں ایک بار ضرور چیک کروائے گا۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن WHO کی رپورٹ کے مطابق پنجاب و سندھ کے ان علاقوں میں ہینڈ پمپ کے ذریعے حاصل کیے گئے پانی میں بالخصوص اور سرکاری واٹر سپلائی کے ذریعے حاصل کردہ پانی میں بالعموم آرسینک کی مقدار 10μg/L کے عالمی معیار سے کہیں زیادہ μg/L 300 تک جاپہنچی ہے۔ یہی نہیں بلکہ کچھ انڈسٹریل ایریاز میں اسکی مقدار 1000 سے بھی اوپر جاپہنچی ہے۔ اس قدر بڑے ایریا کے تقریبا 8 کڑوڑ لوگوں کے اس آرسینک زدہ پانی پینے سے کیا ہوسکتا ہے آپ میرے سے بہت بہتر سمجھ سکتے ہیں۔
پاکستان میں آرسینک کی بڑھتی ہوئی ہلاکت انگیزی کو مرغی کے نام کرنے کی بجاے اسکو پانی میں تلاش کریں تو آپکو اور باقی سب دوستوں کو اپنے سوالات کے سیر حاصل جواب بھی مل جائیں گے اور تسلی بھی ہوجاے گی۔
بشکریہ:
ملک خرم شہزاد کھوکھر
پی ایچ ڈی سکالر
یونیورسٹی آف دی پنجاب، لاہور
ایڈووکیٹ ہائیکورٹ، لاہور