03/10/2026
نیو یارک میں یونائیٹڈ نیشن جنرل اسمبلی کے موقع پر بل گیٹس اور پاکستان کے پرائم منسٹر شہباز شریف کی ملاقات ہوئی اور اس ملاقات میں پاکستان کی زراعت، امپرووڈ بیج اور نئی ایگری ٹیک پر بل گیٹس کے کام کرنے کی بات ہوئی۔ یہ ان کے اپنے بیان کے الفاظ ہیں ۔ دنیا میں آج سب سے زیادہ زرعی زمین کا مالک کوئی اور نہیں، بل گیٹس ہے اور آج اس کی نظر پاکستان کے کھیتوں پر ہے۔ کہانی کیا ہے؟ آئیے سمجھتے ہیں۔ ہزاروں سال سے کسان کا سب سے بنیادی حق کیا تھا؟ اپنی فصل سے بچا ہوا بیج، اگلے سال وہ خود لیتا تھا، مفت۔ زمین اللہ کی، بیج اللہ کا، کسان آزاد۔ لیکن یہ نئے پیٹنٹڈ امپرووڈ بیج، یہ ایک اور ہی کھیل ہے۔ انہیں اکثر ایسے بنایا جاتا ہے کہ فصل سے یہ بیج اگر دوبارہ بویا جائے تو یہ دوبارہ اگتا ہی نہیں ہے۔ یعنی کسان کو ہر سال نیا بیج اسی کمپنی سے خریدنا پڑتا ہے جو اس بیج کی مالک ہوتی ہے اور یہ بیج پرانے بیج سے کئی گنا مہنگا ہوتا ہے۔ اور اس کا انجام دیکھنا ہو تو ذرا سرحد پار دیکھ لیجیے، انڈیا میں انیس سو پچانوے سے لے کر آج تک چار لاکھ سے زیادہ کسان خودکشی کر چکے ہیں۔ یعنی ان تیس سالوں میں روزانہ تقریباً 13333 کسان۔ پر کیوں؟
کیونکہ ان مہنگے بیجوں نے اور اس کے اوپر آنے والے قرضے نے ان کسانوں کی کمر توڑ دی۔ وہ اپنی ہی زمین پر ایک کمپنی کے قرضدار بن گئے اور جب قرض دار قرض نہ چکا سکے تو زندگی ہار بیٹھے اور یہی وہ بات ہے جو ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم برسوں پہلے کہہ گئے تھے کہ ڈبلیو ٹی او کا ایک معاہدہ ہے جسے ٹرپس ایگریمنٹ کہا جاتا ہے جو ممالک کو مجبور کرتا ہے کہ وہ بیجوں پر بھی پیٹنٹ یعنی ملکیت دیں۔ یہ قانون اس پرانے حق کو یعنی اپنے بیج کو بچانے کے حق کو ختم کر دیتا ہے۔ یہ پورا نظام فیک فوڈ کی طرف لے جاتا ہے اور یھی دجالی نظام کی ایک چال ہے کہ جب آپکے پاس اصلی چیز نہیں ہوگی جو کہ آپ روزانہ اپنی زندگی میں استعمال کرتے تو آپکا جسم جسے بھت سارے منرلز کی ضرورت ہوتی ہے جب اسے ایک ایسے چیز ملے گی جو صرف آپکا پیٹ بھرے لیکن آپکے جسم کو کوئ طاقت نہ دے تو آپکا جسم روزانہ کی بنیاد پر کمزور ہوتا جاۓ گا اور آخرکا آپ بیمار پڑجائیں گے اور پھر انھیں کی بنائی ہوئی دوائیاں استعمال کریں گے اس طرح آپ ہمیشہ اپنی چیز کا مالک ہوتے ہوئے بھی کبھی نہ اسکا مالک بنیں گے اور نہ ہی اس وہ چیز حاصل کر سکیں گے جو آپکی ضرورت ہے کیونکہ جنگ ہمیشہ تلوار سے نہیں ہوتی کبھی یہ جنگ امپرووڈ بیج میں بھی چھپی ہوتی تو کبھی ان چیزوں کے اندر چھپی رہتی ہے جو اپکی زندگی میں روزمرہ کے استعمال سے جڑی ہو ۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ کوئی ہمیں بھوکا مارنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ میں یہ کہہ رہا ہوں کہ جو قوم اپنا بیج، اپنی خوراک کسی اور کے ہاتھ میں دے دیتی ہے وہ اپنی آزادی اپنے ہاتھ سے گروی رکھ دیتی ہے۔
۔
۔
۔
۔؟