Destiny guidance by sheeren

Directions

Destiny guidance by sheeren I m palm reader and tarot card reader. Soul and emotional healer. Contact me on what's app 03216353392
(1)

🌙 کن بروج کو احتیاط کی ضرورت؟ کڑا وقت، پھونک پھونک کر قدم رکھنے کا دور — فلکیاتی رپورٹ 🌙✨ برج جوزا (Gemini)غیر ضروری اخر...
30/06/2026

🌙 کن بروج کو احتیاط کی ضرورت؟ کڑا وقت، پھونک پھونک کر قدم رکھنے کا دور — فلکیاتی رپورٹ 🌙

✨ برج جوزا (Gemini)
غیر ضروری اخراجات، جلد بازی اور غلط فیصلوں سے بچنے کی ضرورت ہوگی۔ ہر بات پر فوراً ردِعمل نہ دیں۔

✨ برج سرطان (Cancer)
جذباتی دباؤ اور رشتوں میں غلط فہمیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ دل کے بجائے عقل سے فیصلے کریں۔

✨ برج میزان (Libra)
کاروباری شراکت داری اور مالی معاملات میں اضافی احتیاط کی ضرورت ہوگی۔ ہر وعدے پر فوراً یقین نہ کریں۔

✨ برج دلو (Aquarius)
ذہنی دباؤ، تھکن اور بے چینی بڑھ سکتی ہے۔ آرام، نظم و ضبط اور متوازن روٹین ضروری ہوگی۔

اس دوران کیا احتیاط کریں؟

جلد بازی میں فیصلے نہ کریں۔

قرض، ضمانت یا بڑی سرمایہ کاری میں مکمل تحقیق کریں۔

ہر شخص کے ساتھ اپنی ذاتی معلومات شیئر نہ کریں۔

غصے اور جذبات میں آ کر کوئی بڑا قدم نہ اٹھائیں۔

اپنی صحت، نیند اور ذہنی سکون کا خیال رکھیں۔

🤲 بہترین صدقات

پانی پلانا
ضرورت مندوں کی مدد
والدین اور بزرگوں کی خدمت
پرندوں کو دانہ ڈالنا

📿 روحانی معمول

روزانہ درودِ پاک، استغفار اور دعا کا اہتمام سکونِ قلب کا سبب بن سکتا ہے۔

✨ نوٹ

"کڑا وقت" ہمیشہ مستقل نہیں ہوتا۔ سمجھداری، صبر، دعا اور محنت ہر مشکل مرحلے کو آسان بنا سکتے ہیں۔

🤲 اللہ تعالیٰ سب کو ہر قسم کی آزمائش، پریشانی اور غلط فیصلوں سے محفوظ رکھے۔ آمین یا رب العالمین
fans

“Psychology of Sexual Fantasies”“جنسی تصورات کی نفسیات”مجھ سے فیس بک پر ایک جناب نے گزارش کی جنسی تصورات کی نفسیات پر رو...
29/06/2026

“Psychology of Sexual Fantasies”

“جنسی تصورات کی نفسیات”

مجھ سے فیس بک پر ایک جناب نے گزارش کی جنسی تصورات کی نفسیات پر روشنی ڈالی جائے، لیکن یہ آرٹیکل ہر قسم کی فینٹسی کی عکاسی کرتا ہے، خواہ وہ کامیابی کے تصوارات ہوں، شادی کے متعلق یا رومانس سے منسلک۔

سب سے پہلے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تصوارات کیسے بنتے ہیں؟؟

تصوارات (فینٹسی) آپ کے ذہن کی ایک خصوصیت (فیچر) ہے، یہ خصوصیت ہر انسان کے ذہن میں پائی جاتی ہے۔ ہم چیزوں کو تصور تب کرتے ہیں جب یا تو حقیقی زندگی میں انہیں حاصل کرنے یا ان تک رسائی ہونے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں یا پھر مستقبل میں جو ہونے والا ہے اسکو ہم تصور کے ذریعے تجربہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور اگر کوئی ٹروما سے گزرا ہے بچپن میں تو وہ ذہن کی اس خصوصیت کا استعمال اپنے تکلیف دہ جذبات اور حقیقت سے فرار حاصل کرنے کے لیے کرتا ہے۔ البتہ اس دنیا میں ہر انسان کے ذہن میں تصور کرنے والا فیچر موجود ہے۔

ان جناب نے یہ بھی پوچھا کہ کیا جنسی تصورات نارمل ہوتے ہیں یا یہ تصور ایب-نارمل حرکت میں شمار ہوتا ہے؟؟

آپ کے جنسی تصوارات سے اگر کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچ رہا، اور آپ کے تصوارات آپ کی روزمرہ زندگی، صحت، شادی شدہ زندگی، کام میں خلل نہیں پیدا کررہے تو وہ محض تصورات ہیں آپ ان تصوارات کو نہیں روک سکتے۔ لیکن اگر آپ کے تصورات میں جارحیت پسندی ہو، یا آپ کو لگتا ہے کہ آپ کی ذہنی کیفیت درست نہیں اس لیے آپ کے تصورات بہت شدت پسند ہیں اور آپ خود کو یا کسی انسان کو تکلیف پہنچا رہے ہیں، آپکا کام یا رشتے متاثر ہورہے ہیں تو ان حالات میں آپ کو کسی ماہرِ نفسیات کی مدد لینی چاہیے۔

لیکن اب یہ جاننا ضروری ہے کہ آپ کی فینٹسی کا مواد آتا کہاں سے ہے؟ کیونکہ ذہن میں خصوصیت تو موجود ہے لیکن کیا مواد بھی موجود ہوتا ہے؟؟

ہم انسانوں کے متعلق ایک بہت ہی تلخ فلسفہ جس کی تصدیق نفسیات بھی کرتی ہے، وہ یہ ہے کہ : “آپ جو چاہیں اس دنیا میں حاصل کرسکتے ہیں لیکن آپ چاہتے کیا ہیں یہ آپ چاہ نہیں سکتے”۔
آسان الفاظ میں کہوں تو “آپ جس چیز کو تصور کرنا چاہے کر سکتے ہیں لیکن آپ کے تصورات کا مواد آپ کے ذہن کے پاس مختلف ذرائع سے آتا ہے… جس میں ثقافت، معاشرہ، آپکے بچپن کے تجربات، ماضی کے تجربات، جذباتی یا جسمانی ضروریات جو بچپن میں ادھوری رہ گئیں، آپ کی شخصیت کی نفسیات وغیرہ شامل ہیں۔
لیکن وہ چیز جو بہت ہی طاقتور ہے آج کے دور میں وہ ہے میڈیا اور سوشل میڈیا۔ میڈیا میں ڈرامے، گانے، ویب سیریز، پورن، سوشل میڈیا کی شارٹ وڈیوز یہ سب شامل ہیں۔ اور میڈیا کا اثر آپ کی سوچ سے بھی کئی گنا زیادہ ہے آپ کی شادی، کامیابی، جنسی تعلق، خوبصورتی، رومانوی تعلق، زندگی کا مقصد…. ان سب کے متعلق تصورات اور فینٹسی زیادہ تر آج کے دور میں یہیں سے آتی ہے۔ آپ کو شادی، آزادی، خوشی، سیکس، رومانس، دوستی، اچھائی، برائی، رشتے، کامیابی، خوبصورتی کا ماڈل میڈیا اور سوشل میڈیا دے رہا ہے آج کل۔ ماڈل فراہم کرنا غلط بات نہیں لیکن ذرا سوچیں کہ ماڈل فراہم کرنے والا آپ کو “گمراہ” اور “الجھن” کا شکار کررہا ہو کیونکہ اس سے ماڈل بنانے والے کا مفاد جڑا ہے کہیں نہ کہیں!!

مثال کے طور پر آپ کسی انسان کو گھڑی کے وقفہ میں گھڑی پہن کر خوش ہوتا دیکھتے ہیں، لڑکیاں مڑ مڑ کر اس لڑکے کی گھڑی دیکھ کر اس پر واری نیاری جارہی ہیں تو اس سے آپ کے لاشعور کو یہ پیغام ملتا ہے کہ اگر میں بھی یہ گھڑی خرید لوں تو شاید اس آدمی کی طرح لوگ مجھے بھی مڑ مڑ کر دیکھیں (یہی رویہ ہمسفر، رومانس اور سیکس کو لے کر بھی ہوتا ہے) اور میں بہت خوش محسوس کروں، انسان آئینہ دار مخلوق (مرر-رنگ کریئیچر) ہے، ہم سب ایک انسان کو خوش دیکھ کے اسکے نقشِ قدم پر چل کر خوش ہونا چاہتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام اسی فلسفہ اور نفسیاتی اصول پر قائم ہے۔ اب یہ صحیح ہے یا غلط یہ ایک الگ بحث ہے لیکن اپنے ذہن کی اس خصوصیت (فیچر) کو سمجھ کر آپ بہت سے غلط فیصلے جو دوسروں کی دیکھا دیکھی ہیں، لینے سے بچ سکتے ہیں۔ کیونکہ جب بھی آپ ہر فینٹسی کو حقیقت میں بدلتے ہیں تو ایک چیز بھول جاتے ہیں…. کیا ہی وہ چیز؟؟؟

وہ یہ کہ تصورات کی دنیا میں “غلطیاں” (ایرر)اور “خرابیاں” نہیں ہوتیں۔ جب کہ حقیقی دنیا تو غلطیوں اور عدم یقینی کی صورتحال سے بھری پڑی ہے۔ آپ اور آپ کا پاڑٹنر اور تین چار لوگ ایک کمرے میں جو بھی کررہے ہو اپنی فینٹسی میں وہ سب فینٹسی میں بہت زبردست محسوس ہوتا ہے اکثر لوگوں کو، کیونکہ اس سے پلیژر کا ہارمون خارج ہوتا ہے دماغ ہے، لیکن آپ اپنی فینٹسی میں کمرے میں موجود تمام کرداروں کا رویہ، عمل، ردِ عمل، چہرے کے تاثرات، ذہن، نفسیات حتی کہ سب کچھ کنٹرول کرسکتے ہو، لیکن کیا حقیقت میں یہ ممکن ہے؟؟؟

یہ حقیقت میں ناممکن ہے، کیونکہ انسان بہت پیچیدہ اور جذبات سے بھرپور مخلوق ہے، انسانوں کے اندر انا، خود-توقیری، خود-خیالی، عزتِ نفس، شناخت، اور بھی پیچیدہ عوامل موجود ہوتے ہیں، آپ کے لیے کسی بھی انسان کے ردِ عمل کو کنٹرول کرنا ناممکن ہوسکتا ہے۔ آپ کو نہیں معلوم کہ جب آپ اپنی فینٹسی کو حقیقت کا لباس پہنائیں گے تو اسکا روپ بھیانک ہوگا یا پھر ہر قسم کے عیب سے پاک!!!

حقیقت میں عیب اور غلطیاں ہوتی ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ اکثر لوگوں کو اپنی فینٹسی کو حقیقت میں تبدیل کرنے کا خامیازہ بھرنا پڑتا ہے۔

آپ کی فینٹسی آپ کے لاشعور میں جانے کا ذریعہ بھی ہوسکتی ہے، کیونکہ بہت سے لوگ جن کی جذباتی اور جسمانی ضروریات مکمل نہ ہوئی ہوں، تو پھر فینٹسی وہ ایک ذریعہ سے جس سے بہت سے لوگ حقیقت سے پرے اپنی ضروریات کو اپنے ذہن میں پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں(لیکن حقیقت میں آپ ہمیشہ خالی ہی رہیں گے)۔ فینٹسی حقیقت سے فرار بھی دیتی ہے اگر حقیقت بہت تکلیف دہ ہو تو دماغ فینٹسی کے فیچر کا استعمال کرکے آپ کو اس تلخ تجربہ/جذبات/حقیقت سے دور لے جاتا ہے۔ میرے وہ کلائنٹ جن کے والدین کی علیحدگی، والدین میں سے کسی ایک کی وفات، سخت مزاج نرگسیت پسند والدین، وغیرہ جیسے واقعات سے گزرنا پڑا تو انہوں نے اپنے ذہن میں پوری رومانوی کہانیاں گڑھ رکھی تھیں کیونکہ وہ ادھوری ضروریات کو ذہن میں مکمل کرکے اپنے اندر کے خالی پن کو بھرتے تھے۔ لیکن وہ خالی پن کبھی نہیں بھرتا تھا، گزرتے وقت کے ساتھ مزید گہرا ہوتا جارہا تھا تبھی وہ تھراپی میں آئے۔

یہاں کارل یونگ کی تھیوری بہت کارآمد ثابت ہوتی ہے، “انا” اور “سایہ” والی۔ کیونکہ فینٹسی میں موجود سارے کردار آپ ہی کی نفسیات اور جذباتی ضرورتوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ کسی کی سیکشول فینٹسی میں کوئی بہت دیوانہ عاشق مزاج ہوسکتا/سکتی ہے، کوئی بہت رومانوی ہوسکتا/سکتی ہے، کوئی جارحانہ… یہ فہرست نہ رکنے والی ہے۔ آپ غور کریں کہ آپ کے تصورات کن کرداروں اور رویوں کے گرد گھومتے ہیں۔

مثال کے طور پر میرا ایک کلائنٹ جو بظاہر بہت مضبوط مرد نظر آتا ہے لیکن اسکے جنسی تصورات میں مطیع سلوک (سبمسوو رویہ) پایا جاتا ہے، اور اسکی سمجھ نہیں آتا کہ وہ کیوں ایسا ہے، وہ اس کا اظہار اپنے پارٹنر
سے نہیں کرسکتا! یہاں بھی یونگ کی “انا” اور “سایہ” والی تھیوری کا استعمال اس الجھن کو ختم کرتا ہے کیونکہ جب کسی گھر یا ثقافت میں آپ پر جذباتی طور پر بہت مضبوط رہنے کا دباؤ ہو تو اسکا متضاد رویہ “جذباتی کمزوری” جسکا اظہار کرنا صرف عورتوں پر فرض نہیں ہے، آپ کا “سایہ” یعنی کہ ایک رازدارانہ رویہ بن جاتا ہے اور پھر یہی رازداری ان لوگوں کو انٹرنیٹ پر کچھ اس قسم کی سرگرمیوں میں ملوث کرتی ہے جنکا وقت کے ساتھ محض نقصان ہوتا ہے۔ (کاش ہم انسانوں میں اتنا صبر ہوتا کہ ہم اپنے قریبی رشتوں کو سنتے سمجھتے نہ کہ انہیں اپنی انا کی تسکین اور اپنے مقصد کے لیے استعمال کرتے)۔

اس لیے اپنے پارٹنر سے اپنے جنسی تصورات کو شیئر کرنا بہت اہم ہے، لیکن یہ ناممکن ہے کیونکہ اس کے لیے جو جذباتی بلوغت چاہیے اسکا فقدان ہے ہمارے یہاں۔ یہی وجہ ہے کہ لوگوں کے چہروں پر دس قسم کے مکھوٹے ہیں، ان مکھوٹوں کو سنبھالنے میں انکی بہت ساری توانائی لگ جاتی ہے لیکن ایک دن ایسا آتا ہے جب آپ کا “سایہ” سب کے سامنے آشکار ہوجاتا ہے۔ دنیا کے سامنے مکھوٹے لگانا غلط نہیں کیونکہ دنیا کے ساتھ لین دین کا رشتہ ہے، البتہ آپ کے ہمسفر کے ساتھ تعلقات لین دین سے برتر ہونے چاہیے۔

ہر فینٹسی پر عمل درآمد کرنا گھاٹے کا سودا ہوسکتا ہے، اس لیے “شیڈو ورک” کے ذریعے یا جرنلنگ ، میڈیٹیشن کے ذریعے آپ اپنے تصورات کو اپنے شعور میں لاسکتے ہیں۔ کبھی کبھار صرف اپنے تصورات کو اپنے شعور میں لے آنا یا اسے قبول کرکے اپنی شخصیت کا حصہ ماننا اور اس کے لیے خود کو شرمندہ یا جج نہ کرنا آپ کی توانائی بچا سکتا ہے۔ یا پھر تھراپسٹ کے ساتھ “شیڈو ورک” کرنا یا “ٹاک تھراپی” کے ذریعے بھی آپ بہتر طور پر خود کو سمجھ سکتے ہیں، اور ادھوری/نامکمل ضروریات جو پوری ہوسکتی ہیں انہیں پورا کرکے اور جنہیں محض قبول کرنا ہے اسے قبول کرکے زندگی میں آگے بڑھ سکتے ہیں۔

جنسی تصورات کے علاوہ کامیابی، خوبصورتی، رومانس کو لے کر سرمایہ دارانہ نظام نے دکھتی رگوں پر پاؤں رکھا ہوا ہے اور لوگوں کی فینٹسیز اس قدر گمراہ کردینے والی ہوچکی ہیں کہ جسکو اس “عیب” اور “غلطیوں” سے بھری دنیااور بنی نوع انسانوں کی نسل میں تو کوئی بھی پورا نہیں کرسکتا اور نہ ہی انہیں پورا کرکے آپ کبھی خوشی حاصل کر پائیں گے کیونکہ ان تصورات کے پسِ پشت مختلف پراڈکٹ کو پیچنا اصل مقصد ہے نہ کہ آپ کی خوشی۔ ایسے “گمراہ” اور “الجھن” کا شکار کردینے والے مواد کو دیکھنے سے گرہیز کریں کیونکہ آرٹیکل کے شروع میں ذکر کیا میں نے کہ فینٹسی کا فیچر تو موجود تھا، ہے اور رہے گا آپ کے ذہن میں لیکن اس میں جو مواد شامل کررہے ہیں اس پر کڑی نظر رکھیں!!

27/06/2026

کسی جادوگر میں آپ کو نقصان پہچانے کی طاقت نہیں ہے کس کو آسیب پہنچتا ہے کون آپ کو بھٹکاتا پھرتا ہے یہ فلاں نے جادو کیا فلاں نے آسیب کیا فلاں نے نوکری بند کردی کام بند کردیا ۔
وَمَن یَّعشُ عَن ذِکرِالرَحمٰنِ نُقَیِض لَہُ شَیطانًا فَھُوَ لَہُ قَرِین۔۔ الزحرف

یہ اس پہ ساری چیزیں وارد ہوتی ہیں جو رحمن کے ذکر سے غافل ہوتا ہے یہ سارا سحر یہ ساری نظر بندی یہ سارا جھوٹ مکر و فریب اس پہ اثر انداز ہوتا ہے کہ" جو رحمٰن کے ذکر سے غافل ہوا ہم اس پہ شیطان کو غلبہ دے دیتے ہیں وہ اس کے قریب رہتا ہے" اور جو اپنے رسول ﷺ اور اپنے خدا کے ایمان پہ صاف ستھرے نکلے اور کہا میرا کوٸی دشمن نہیں میرا اللّٰہ میرے ساتھ ہے ۔

اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیہِ رَاجِعُون۔۔البقرہ

ذرا سی مصیبت آٸے پڑھو دشمن کا سامنا ہو پڑھو پھر ہو گا کیا اگر یہ کلمہ پڑھو گے تو خدا کہتا ہے ۔

اُولَٸِکَ عَلَیھِم صَلٰوَة” مِن رَبِّھُم وَرَحمَةً ۔۔۔ البقرہ

جو ایسا کہیں گے یقین کے ساتھ اعتماد کے ساتھ اخلاص کے ساتھ تو ان لوگوں پہ میرا درود و سلام ہے اور رحمت ہے جو آزماٸشوں میں ان جنبشوں میں پڑھے گا ان لوگوں پہ میرا درود و سلام ہے ۔

از استاد محترم پروفیسر احمد رفیق اختر

ایک سوال، جو، شاید، محبت کی، سب سے بنیادی، تعریف کو، ہلا دے: کیا، تم، اپنے ساتھی سے، محبت کرتے ہو — یا، تم، اُس "احساس" ...
23/06/2026

ایک سوال، جو، شاید، محبت کی، سب سے بنیادی، تعریف کو، ہلا دے: کیا، تم، اپنے ساتھی سے، محبت کرتے ہو — یا، تم، اُس "احساس" سے، محبت کرتے ہو، جو، وہ، تمہارے اندر، پیدا کرتے ہیں؟ اور، اگر، یہ، دوسری بات ہے، تو، کیا، یہ، محبت، واقعی، اُن کے بارے میں، ہے — یا، صرف، تمہارے بارے میں؟

یہ، کوئی، فلسفیانہ، الفاظ کی، چالاکی نہیں — یہ، نفسیات کی، ایک، گہری، اور، اکثر، تکلیف دہ، حقیقت کی، طرف، اشارہ کرتا ہے۔ ماہرینِ نفسیات، اِس فرق کو، "آبجیکٹ" بمقابلہ "تجربہ" کی، محبت کہتے ہیں۔ بعض اوقات، ہم، کسی، انسان سے، محبت کرتے ہیں، اُن کی، حقیقی، مکمل، ذات کے، لیے — اُن کے، عیب، اُن کی، خوبیاں، اُن کی، پیچیدگی، سب کچھ۔ اور، بعض اوقات، ہم، دراصل، اُس، خاص، اندرونی کیفیت سے، محبت کرتے ہیں، جو، وہ، شخص، ہمارے اندر، پیدا کرتا ہے — وہ، احساسِ تحفظ، وہ، احساسِ خاص ہونا، وہ، احساسِ، اپنے، خالی پن، کا، بھرنا۔

یہ، فرق، اِس وقت، سب سے زیادہ، واضح ہوتا ہے، جب، رشتہ، مشکل میں، پڑتا ہے۔ اگر، تم، واقعی، اُس انسان سے، محبت کرتے ہو، تو، اُن کی، تکلیف، تمہیں، تکلیف دیتی ہے، چاہے، اُس تکلیف کا، تمہارے، اپنے، احساسات سے، کوئی، براہِ راست، تعلق نہ ہو۔ مگر، اگر، تم، صرف، اُس "احساس" سے، محبت کرتے ہو، تو، جب، وہ، تمہیں، وہ، احساس، دینا، بند کر دیں — جب، وہ، خود، اداس ہوں، یا، الجھے ہوئے ہوں، یا، تمہیں، توجہ، نہ دے پائیں — تو، تمہاری، محبت، اچانک، کمزور پڑنے لگتی ہے، اور، تم، یہ، محسوس کرنے لگتے ہو، جیسے، "وہ، بدل گئے ہیں" — جبکہ، حقیقت میں، صرف، اُن کا، تمہیں، وہ، مخصوص احساس، دینا، رک گیا ہے۔

ماہرِ نفسیات ایرک فروم، اپنی، مشہور کتاب، "دی آرٹ آف لونگ" میں، اِس فرق کو، گہرائی سے، بیان کرتے ہیں۔ وہ، کہتے ہیں کہ، "نادان محبت" کہتی ہے، "میں، تم سے، محبت کرتا ہوں، کیونکہ، مجھے، تمہاری، ضرورت ہے۔" جبکہ، "پختہ محبت" کہتی ہے، "مجھے، تمہاری، ضرورت ہے، کیونکہ، میں، تم سے، محبت کرتا ہوں۔" یہ، ترتیب، بظاہر، چھوٹی، تبدیلی، لگتی ہے — مگر، یہ، محبت کی، پوری بنیاد، بدل دیتی ہے۔

سب سے دلچسپ، اور، خود کو، حیران کرنے والی، بات یہ ہے کہ، "احساس سے محبت" — جسے، فروم، "نادان محبت" کہتے ہیں — اکثر، شدت میں، "پختہ محبت" سے، بھی، زیادہ، لگتی ہے۔ یہ، ڈرامائی، شدید، جذباتی، اور، بسا اوقات، نشے کی، طرح، محسوس ہوتی ہے۔ کیونکہ، اِس کا، محور، خود، اپنی، اندرونی کیفیت ہے — اور، انسان، اپنی، خود کی، کیفیت سے، ہمیشہ، شدید، طور پر، جڑا ہوتا ہے۔

اِس کا سب سے قیمتی، نفسیاتی امتحان یہ ہے: ایک لمحہ، تصور کرو، تمہارا ساتھی، کسی، مشکل، یا، الجھن کا، شکار ہے — اور، وہ، تمہیں، وہ، خاص، توجہ، یا، وہ، خاص، احساس، نہیں دے پا رہے، جو، وہ، عام طور پر، دیتے ہیں۔ کیا، تمہاری، محبت، اُس وقت، بھی، اُتنی، ہی، مستحکم رہتی ہے — یا، تم، خود، اندر، کہیں، ایک، خفیف، ناراضی، یا، خالی پن، محسوس کرنے لگتے ہو؟

اگر، جواب، دوسرا ہے، تو، یہ، شرمندگی کی، بات نہیں — یہ، صرف، ایک، گہری، انسانی، حقیقت ہے، جسے، پہچاننا، ہی، حقیقی، پختہ محبت کی طرف، پہلا قدم ہے۔

ایک لمحہ، خود سے، یہ، مشکل سوال، دوبارہ، پوچھو۔ 👇🤍
Science. Compassion. Transformation.
#اردو #نفسیات #محبت

ماہرِ نفسیات جون گاٹمین نے کوئی جادوگر نہیں، مگر اُن کا دعویٰ کسی جادو سے کم نہیں لگتا: وہ صرف 15 منٹ کسی جوڑے کی گفتگو ...
22/06/2026

ماہرِ نفسیات جون گاٹمین نے کوئی جادوگر نہیں، مگر اُن کا دعویٰ کسی جادو سے کم نہیں لگتا: وہ صرف 15 منٹ کسی جوڑے کی گفتگو دیکھ کر، 90 فیصد درستگی کے ساتھ بتا سکتے ہیں کہ یہ رشتہ طلاق کی طرف جا رہا ہے یا نہیں۔ راز کسی پیچیدہ فارمولے میں نہیں — صرف چار مخصوص رویوں میں ہے، جنہیں اُنہوں نے "دی فور ہارس مین" کا نام دیا۔

یہ نام بائبل کی "قیامت کے چار سواروں" سے لیا گیا — جیسے وہ تباہی کی پیش گوئی کرتے ہیں، یہ چار رویے رشتے کی تباہی کی پیش گوئی کرتے ہیں۔

پہلا سوار: تنقید۔ یہ شکایت سے مختلف ہے۔ شکایت کہتی ہے "تم نے برتن نہیں دھوئے" — یہ ایک عمل پر بات ہے۔ تنقید کہتی ہے "تم ہمیشہ لاپرواہ ہو" — یہ ساتھی کی ذات پر حملہ ہے۔ ایک نشانہ بناتا ہے رویہ، دوسرا نشانہ بناتا ہے انسان کو۔

دوسرا سوار: حقارت۔ گاٹمین کہتے ہیں کہ یہ سب سے زیادہ مہلک ہے، طلاق کی سب سے بڑی پیش گوئی۔ یہ آنکھیں گھمانے، طنزیہ مسکراہٹ، یا کسی کو ذلیل کرنے والے لہجے میں ظاہر ہوتی ہے۔ حقارت کا پیغام صرف "تم نے غلطی کی" نہیں — یہ ہے "تم مجھ سے کمتر ہو۔" یہ محبت کا سب سے گہرا زہر ہے۔

تیسرا سوار: دفاعی پن۔ جب کوئی شکایت سنتا ہے اور فوراً اپنی صفائی میں الزام تراشی شروع کر دیتا ہے — "میں نے ایسا کیا کیونکہ تم نے پہلے یہ کیا" — تو وہ اصل مسئلے کو سننا بند کر دیتا ہے۔ دفاعی پن کہتا ہے "میں غلط نہیں، تم غلط ہو" — اور بات چیت وہیں رک جاتی ہے۔

چوتھا سوار: دیوار کھینچنا (سٹون والنگ)۔ جب ایک ساتھی مکمل طور پر بند ہو جائے — نہ بات کرے، نہ آنکھ ملائے، جیسے دیوار بن گیا ہو۔ یہ اکثر اُس وقت ہوتا ہے جب کوئی شخص جذباتی طور پر مغلوب ہو جائے اور اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے لیے مکمل طور پر بند ہو جائے۔ مگر دوسرے ساتھی کے لیے یہ خاموشی، سزا جیسی محسوس ہوتی ہے۔

گاٹمین کا سب سے اہم نکتہ یہ ہے: یہ چار رویے خود اتنے خطرناک نہیں جتنا اُن کا تسلسل۔ ہر جوڑا کبھی کبھار تنقید یا دفاعی پن کا شکار ہوتا ہے۔ خطرہ اُس وقت شروع ہوتا ہے جب یہ ایک مستقل پیٹرن بن جائیں، خاص طور پر جب حقارت باقاعدگی سے ظاہر ہو۔

مگر امید بھی ہے۔ گاٹمین کا کام صرف تباہی کی پیشن گوئی نہیں کرتا — یہ علاج بھی بتاتا ہے۔ تنقید کا جواب نرم آغاز ہے۔ حقارت کا جواب عزت اور تعریف کی ثقافت بنانا ہے۔ دفاعی پن کا جواب اپنی ذمہ داری کا کچھ حصہ قبول کرنا ہے۔ اور دیوار کھینچنے کا جواب، وقت پر بریک لے کر، پرسکون ہونے کے بعد بات چیت میں واپس آنا ہے۔

اگلی بار جب آپ کسی جھگڑے میں ہوں، رُک کر سوچیں: کیا میں شکایت کر رہا ہوں، یا تنقید؟ کیا میں سن رہا ہوں، یا دفاعی ہو رہا ہوں؟ کیونکہ رشتے تباہ نہیں ہوتے بڑی لڑائیوں سے — وہ تباہ ہوتے ہیں اِن چار خاموش سواروں کی روزمرہ موجودگی سے۔

کیا آپ نے اپنے کسی رشتے میں اِن چار رویوں میں سے کوئی ایک پہچانا؟ 👇🤍


What's app 03216353392
#اردو #نفسیات #رشتے

21/06/2026

السلام علیکم دوستو.. میرے پییج کی مکمل معلومات کے لیے اسٹوری دیکھنا نہ بھولیں...
ٹیورٹ ریڈنگ آپکی روزمرہ زندگی میں آپکو فیصلہ لینے اور مزاج کو بحال رکھنے میں مدد دیتی ہے. اپنی اور میری.. دنیا میں. وجود ہر وجود سے لہریں نکل رہی ہیں.. میرا نام شیریں ہے آہستہ آہستہ اس نام کو ذہن میں پکارتے ہوءے میرے خیالات کی دنیا میں.. میرے ساتھ جڑ جاءیں.. روزانہ کی ریڈنگ آپکو تبھی مدد کر سکے گی جب آپکی اور میری سوچ کا بہاو ایک سمت ہو جاءے گا.. انشاءاللہ اس موضوع پر ایک لاءیو ضرور کروں گی فالو کرتے رہیے پلیز. پامسٹ شیرین
03216353392
fans

کسی نے آپ کے لیے بغیر کہے کام کر دیا۔ آپ کسی اور دن، بغیر سوچے، اُن کے لیے کچھ کر دیتے ہیں۔ کوئی رسید نہیں، کوئی حساب نہ...
21/06/2026

کسی نے آپ کے لیے بغیر کہے کام کر دیا۔ آپ کسی اور دن، بغیر سوچے، اُن کے لیے کچھ کر دیتے ہیں۔ کوئی رسید نہیں، کوئی حساب نہیں لکھا جاتا — مگر کہیں نہ کہیں، گہرائی میں، ایک خاموش کھاتہ چل رہا ہے۔ نفسیات اِسے "فیور بینک" کہتی ہے، اور یہ ہر مستحکم رشتے کی پشت پر موجود، مگر کبھی واضح طور پر نظر نہ آنے والی بنیاد ہے.

یہ تصور سماجی نفسیات کے ایک قدیم اور طاقتور اصول سے جڑا ہے: "ریسیپروسٹی" — یعنی احسان کا جواب احسان سے دینے کی فطری انسانی خواہش۔ ماہرینِ سماجیات کہتے ہیں کہ یہ اصول ہر معلوم انسانی معاشرے میں پایا جاتا ہے، چاہے ثقافت کچھ بھی ہو۔ یہ کوئی سکھایا ہوا اصول نہیں — یہ ہماری سماجی نوعیت کا حصہ ہے۔

فیور بینک اِسی اصول کی روزمرہ شکل ہے۔ ہر رشتے میں، خاص طور پر قریبی رشتوں میں، ایک غیر تحریری، غیر بیان شدہ توازن بنتا رہتا ہے۔ آپ نے کسی کی مدد کی، تو ایک "ڈپازٹ" ہوا۔ آپ نے کسی سے مدد لی، تو ایک "قرض" بنا۔ یہ کھاتہ کوئی شخص شعوری طور پر نہیں لکھتا — مگر لاشعوری طور پر، ہر کوئی اِس کا حساب رکھتا ہے۔

سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ جب یہ کھاتہ نمایاں طور پر غیر متوازن ہو جائے، تو رشتے میں تناؤ پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے — چاہے دونوں طرف سے محبت کتنی ہی گہری ہو۔ وہ شخص جو ہمیشہ دیتا ہے، اور کبھی واپسی نہیں دیکھتا، آہستہ آہستہ ناراضی محسوس کرنے لگتا ہے — اکثر بغیر یہ جانے کہ وجہ کیا ہے۔ اور وہ شخص جو ہمیشہ لیتا ہے، اکثر ایک غیر واضح، بے نام بوجھ محسوس کرتا ہے، ایک ایسا قرض جو کبھی واضح طور پر مانگا نہیں گیا، مگر پھر بھی موجود ہے۔

یہ خاص طور پر اُن رشتوں میں خطرناک ہوتا ہے جہاں ایک شخص مستقل طور پر "دینے والا" بن جاتا ہے اور دوسرا "لینے والا" — والدین اور بچوں کے رشتے، یا طویل دوستیاں، یا شادیاں۔ شروع میں یہ توازن کسی کو نظر نہیں آتا۔ مگر سالوں بعد، جب دینے والا تھک جاتا ہے اور لینے والا یہ توقع کرنے لگتا ہے، تو ایک دھماکہ خیز ناراضی پیدا ہوتی ہے، جو اکثر دونوں کو حیران کر دیتی ہے — کیونکہ کسی نے کبھی اِس "کھاتے" کا ذکر زبان پر نہیں لایا تھا۔

سب سے صحت مند رشتے وہ نہیں ہوتے جن میں احسانات کا حساب بالکل برابر ہو — یہ ناممکن اور غیر فطری ہے۔ صحت مند رشتے وہ ہوتے ہیں جن میں دونوں طرف اعتماد ہو کہ وقت کے ساتھ، مجموعی طور پر، توازن قائم رہے گا — کبھی ایک طرف بھاری، کبھی دوسری طرف، مگر کبھی مستقل طور پر ایک ہی طرف نہیں۔

اِس کا سب سے قیمتی سبق یہ ہے: اگر آپ کسی رشتے میں بلاوجہ ناراضی محسوس کر رہے ہیں، تو خود سے پوچھیں — کیا میں مدت سے صرف دے رہا ہوں؟ اور اگر آپ کسی سے مستقل لے رہے ہیں، تو خود سے پوچھیں — کیا وہ کھاتہ جلد یا بدیر اپنا حساب مانگے گا؟

آپ کی زندگی میں کوئی ایسا رشتہ ہے جہاں آپ کو لگتا ہے کہ "کھاتہ" غیر متوازن ہو چکا ہے؟ 👇🤍
What's app 03216353392
#اردو #نفسیات #رشتے

ہم زندگی بھر ایک چیز چھپانے میں لگا دیتے ہیں: اپنی کمزوری۔ ہم چاہتے ہیں کہ لوگ ہمیں مضبوط، کامیاب، مکمل سمجھیں۔ مگر تحقی...
20/06/2026

ہم زندگی بھر ایک چیز چھپانے میں لگا دیتے ہیں: اپنی کمزوری۔ ہم چاہتے ہیں کہ لوگ ہمیں مضبوط، کامیاب، مکمل سمجھیں۔ مگر تحقیق ایک حیران کن بات کہتی ہے — جو کمزوری ہم سب سے زیادہ چھپاتے ہیں، وہی ہمیں دوسروں سے سب سے گہرا جوڑتی ہے۔

اِسے سمجھنے کے لیے سب سے زیادہ کام ماہرِ تحقیق برینے براؤن نے کیا، جنہوں نے دہائیوں تک شرم، ہمت اور "وَلنریبلٹی" یعنی جذباتی کھلے پن پر تحقیق کی۔ اُن کی سب سے بڑی دریافت ہمارے ہر تصور کے اُلٹ تھی: کمزوری دکھانا بزدلی نہیں — یہ سب سے بڑی ہمت ہے۔

ہم سب کے اندر ایک خوف بیٹھا ہے: "اگر لوگوں نے میرا اصل، نامکمل، ڈرا ہوا روپ دیکھ لیا، تو وہ مجھے چھوڑ دیں گے۔" تو ہم ایک کامل ماسک پہن لیتے ہیں۔ مگر اِس ماسک کی ایک بھاری قیمت ہے: جتنا ہم خود کو چھپاتے ہیں، اُتنا ہی ہم تنہا ہوتے جاتے ہیں۔ کیونکہ لوگ ہمارے ماسک سے محبت نہیں کر سکتے — وہ صرف اُس سے جُڑ سکتے ہیں جو ہم واقعی ہیں۔

یہاں ایک گہری نفسیاتی سچائی ہے۔ سوچیے، آپ کن لوگوں کے سب سے قریب محسوس کرتے ہیں؟ اکثر وہی، جنہوں نے آپ کے سامنے اپنا دل کھولا — اپنا ڈر، اپنی ناکامی، اپنا زخم بتایا۔ جب کوئی ہمارے سامنے کمزور پڑتا ہے، تو وہ ہم پر اعتماد کا اظہار کرتا ہے — اور یہ اعتماد ہمیں اُس کے قریب کھینچ لاتا ہے۔ کھلا پن قربت کا دروازہ ہے؛ کمال کی دیوار صرف فاصلہ بڑھاتی ہے۔

اِسی لیے ایک عجیب بات ہوتی ہے: جب کوئی اپنی غلطی مان لیتا ہے، اپنی کمزوری کا اعتراف کرتا ہے، یا کہتا ہے "مجھے تمہاری ضرورت ہے" — تو ہم اُسے کمزور نہیں، بلکہ زیادہ انسان، زیادہ قابلِ محبت سمجھتے ہیں۔ مگر جب بات خود پر آتی ہے، تو ہم وہی کھلا پن چھپا لیتے ہیں، اِس ڈر سے کہ کہیں کمزور نہ لگیں۔ ہم دوسروں کی کمزوری کو خوبصورتی، اور اپنی کو شرم سمجھتے ہیں
۔
براؤن اِسے یوں کہتی ہیں کہ وَلنریبلٹی سچی قربت، تخلیق، محبت اور تعلق کی جائے پیدائش ہے۔ کوئی گہرا رشتہ، کوئی سچی دوستی، کوئی حقیقی محبت کھلے پن کے بغیر ممکن نہیں۔ ہر بار جب ہم اپنا اصل روپ کسی کے سامنے رکھتے ہیں، تو ہم ایک خطرہ مول لیتے ہیں — اور یہی خطرہ تعلق کی واحد قیمت ہے۔

اِس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنا دل ہر کسی کے سامنے کھول دیں۔ کھلا پن سمجھداری مانگتا ہے — یہ اُن لوگوں کے لیے ہے جنہوں نے ہمارے اعتماد کا حق کمایا ہو۔ مگر کہیں نہ کہیں، کسی نہ کسی کے ساتھ، اپنا ماسک اتارنا ضروری ہے۔ کیونکہ جس سے ہم اپنا اصل روپ چھپاتے ہیں، اُس سے ہم کبھی واقعی جُڑ نہیں سکتے۔

سب سے بڑی طاقت یہ نہیں کہ آپ کبھی نہ ٹوٹیں۔ سب سے بڑی طاقت یہ ہے کہ آپ کسی کو اپنا ٹوٹا ہوا حصہ دکھانے کی ہمت رکھیں — اور یہ یقین رکھیں کہ پھر بھی آپ محبت کے قابل ہیں۔

آپ کس کے سامنے بغیر ماسک کے، بالکل "آپ" ہو سکتے ہیں — اور کیا آپ نے کبھی اُنہیں بتایا کہ یہ کتنی بڑی بات ہے؟ 👇🤍
#اردو #نفسیات #رشتے

19/06/2026

Palm reading and tarot card reading ke liye what's app
03216353392
Fees lazmi hai falto log bilkul msg na karen

”””””””””کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کو ”خربوزے والے“ کی بجائے ”پانی والے“ کے حوالے کر دیا جائے““““““““ *انسان بنو ، دین میں د...
19/06/2026

”””””””””کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کو ”خربوزے والے“ کی بجائے ”پانی والے“ کے حوالے کر دیا جائے““““““““

*انسان بنو ، دین میں داخل ہو جاوء ، اگر توبہ نہ کی تو آج تک جو واقعہ نہیں ہوا ، وہ ہو جائے گا ۔ اب زمانہ بدل رہا ہے اور پہلے کی طرح چھوٹ نہیں ملے گی

ایک شہر کا جو روحانی گورنر تھا وہ شاہی مسجد کے پاس خربوزے بیچتا تھا ۔ جو اس کے پاس جاتا کہ جی خربوزے دے دو تو وہ کہتے کہ جی لے لو ۔ کوئی کہتا کہ یہ خراب ہیں تو وہ کہتے کہ اور لے لو ، اگر کوئی کہتا یہ تھوڑا ہے تو وہ کہتے کہ اور زیادہ لے لو ۔ کسی کو مفت بھی دے دیتے ۔ تو جو آتا اس کی خواہش پوری کر دیتے ۔ ایک دن ان کا وصال ہو گیا ۔ تو پھر دوسرا بندہ نافذ ہو گیا اور وہ پانی پِلانے پر مامور ہو گیا ۔ کسی نے اس سے پانی کا گلاس مانگا تو اس نے پیسے مانگے ۔ اس آدمی نے ایک اور گلاس مانگا تو اس نے کہا اور پیسے دو ۔ تو اس شخص نے کہا بابا جی یہ کیا ہے؟ تو بابا جی نے کہا کہ وہ خربوزے والا مر گیا ہے اور اب یہ دوسرا آدمی ہے

تو میں آپ کو یہ اطلاع دے رہا ہوں کہ اب خربوزے والا مر گیا ہے جو آپ کی سر زنش نہیں کرتا تھا ، اب گناہ جو ہے وہ فوری عبرت میں آئے گا ۔ میں آپ کو وارننگ کے طور پر بتا رہا ہوں ۔ گناہ کو معاف کرنے والا دَور جو تھا بیت گیا ہے اور اب آپ وہ دَور بھول جاوء ۔ اب جو غلطی کرو گے اس کا فوری نتیجہ آئے گا ۔ اب آپ کو میں نے وضاحت سے بتا دیا ہے ۔ اس لیے میں یہ نہیں چاہتا کہ آپ لوگ مجھے پھر یہ کہیں کہ بتایا نہیں تھا ۔ آپ کو میں جس شعبے سے منع کر رہا ہوں ۔ یہ تو آپ کے ایک شعبہ کی بات ہے مگر میری یہ بات ہر ایک شخص کو الگ الگ سمجھ آ رہی ہے یعنی جو بات میں کر رہا ہوں وہ بات ہر ایک شخص کو الگ الگ سمجھ آ رہی ہے ۔ جو جو بات میں منع کر رہا ہوں وہ آپ لوگ ٹھیک کریں ۔ اس طرح سب آسان ہو جائے گا

یہ یاد رکھنا کہ در گزر کرنے والا دَور جو ہے وہ تقریباً خاتمے پر ہے ۔ اب یہ نہیں ہو سکتا کہ اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کی وجہ سے اسلام کو Defame کرا دے ، بد نام کرا دے ۔ اب مسلمانوں کے بھی اعمال کا محاسبہ ہو گا اور میں آپ کو یہ خود ہی بتا رہا ہوں اور میں یہ کہہ رہا ہوں کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دوسروں کو بری نیت سے دیکھنے والا اپنے گھر کو بچا نہیں سکتا ۔ اس لیے اے صاحبانِ علم و خرد ، عقل و دانش! اپنے گھروں کو ، اپنی بیٹیوں کو ، اپنے حالات کو اور اپنی عزتوں کو آپ خود محفوظ کرو! یہ اس طرح محفوظ ہوں گی کہ جب آپ دوسروں کی عزت محفوظ کریں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ پیغام آپ کے لئے ہے اور یہ چھوٹا سا پیغام ہے اور امید ہے آپ کو یہ چھوٹا سا پیغام یاد رہے گا اور آپ لوگ اس کو عمل میں لائیں گے ۔ اس معاملے میں آپ لوگوں کی طرف سے وعدہ خلافی نہیں ہونی چاہیے ۔ اگر آپ لوگوں نے کسی کی طرف بد نگاہی سے دیکھا تو پھر تمہاری اولاد اس سے بچ نہیں سکتی ۔ اس لیے اللہ سے توبہ کرو اور دل سے توبہ کرو ، میں آپ کو وقت دیتا ہوں ۔ میں آپ کو صاف بنا کر بھیجتا ہوں اور آپ جب واپس آتے ہو تو ویسے ہی ہوتے ہو ۔ کہیں ایسا نہ کہ آپ ”خربوزے والے کی بجائے “ ”پانی والے“ کے حوالے کر دیا جائے ، جو آپ کو سزا دے دے گا

لہٰذا آپ اس بات سے بچو ، کسی کی اولاد کی طرف ناپاک نگاہوں سے نہ دیکھو ۔ یہ وارننگ ہے! تھوڑی سی احتیاط سے یہ کام ہو جائے گا ۔ آپ لوگ صاحبانِ اولاد ہو اور آپ لوگوں کی عمریں بھی کافی ہو گئی ہیں ، اپنی نگاہیں پاک رکھو ۔ اب اگر آپ منظور نہیں کرو گے تو پھر آپ مشکل میں پڑ جاوء گے ۔ اللہ تعالیٰ آپ لوگوں پر اپنا فضل کرے اور رحم کرے ۔ آپ لوگ مکمل طور پر یہ بات یاد رکھنا کہ اب اس میں رعایت نہیں ہو گی اور پھر وہ واقعہ ہو گا کہ آپ اس کا اندازہ نہیں کر سکو گے اور آپ اس کو برداشت بھی نہیں کر سکو گے ۔ آپ اچھے انسان بن جاؤ ۔ نہ اپنی عمر سے کم نظر آؤ اور نہ بہت زیادہ نمایاں ہونے کی کوشش کرو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(گفتگو والیم 8 .......... صفحہ نمبر 105 ، 106 ، 107)

حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ


Address

House # 982 Q Block DHA
Multan
60000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Destiny guidance by sheeren posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share