Adsew

Adsew m Imran khan

18/07/2025

Kabra Mein pahani Raat Allah Hu Akbar

17/07/2025
17/07/2025
14/12/2023
12/12/2023

*الشفا ہسپتال غزہ کے ڈائریکٹر کی دہائی*

” ہم بہت ہی مشکل ترین حالات میں ہیں اور اس وقت گردوں کے مریض اپنی آخری سانسیں لے رہے ہیں۔ہم پیاس کے مارے چیخ رہے ہیں اور فوت ہو جانے والوں کو دفن کرنے سے قاصر ہیں۔“

12/12/2023

*امیر المؤمنین سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی عیب جوئی کی سزا*

شمسُ الائمہ امام سرخسی رحمۃُ اللہِ علیہ نے مبسوط میں یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ پہلے پہل امامِ جلیل محمد بن فضل الکماری رحمۃُ اللہِ علیہ حضرت سیّدُنا امیر معاویہ رضیَ اللہُ عنہ کے خلاف بدگوئی اور عیب جوئی میں مبتلا ہوگئے تھے پھر ایک مرتبہ خواب میں دیکھا کہ ان کے منہ سے لمبے لمبے بال نکل کر پاؤں تک لٹک گئے ہیں اور وہ ان بالوں کو اپنے پاؤں میں روندتے چلے جارہے ہیں جبکہ زبان سے خون جاری ہے جس سے ان کو سخت تکلیف اور اذیت ہورہی ہے، بیدار ہونے کے بعد انہوں نے تعبیر بتانے والے سے اس کی تعبیر پوچھی تو اس نے کہا:
آپ کِبار صحابہ علیہمُ الرِّضوان میں سے کسی صحابی کی بدگوئی اور ان پر طعن کرتے ہیں، اس فعل سے بچئے اور اجتناب کیجئے۔ چنانچہ آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ اس سے فوراً تائب ہوگئے۔
(المبسوط،جز:24،ج 12،ص57)

12/12/2023

*اللہ کی خاطر ۔۔۔۔*

جن لوگوں کے پاس پرانی گاڑیاں ہوتی ہیں وہ اپنی گاڑی میں بیٹری وائر رکھتے ہیں تاکہ اگر بیٹری کمزور پڑ جائے تو وہ کسی سے مدد لے کر گاڑی اسٹارٹ کر لیں۔

ایک صاحب نے بھی اپنی گاڑی میں اسی طرح سیاہ و سرخ، مائنس پلس، دو وائر رکھے ہوئے تھے۔ امارات میں ایک انڈین عالم دین احمد سراج صاحب کافی وقت یہاں رہ کر گئے ہیں۔ وہ بتا رہے تھے کہ جب اس شخص سے ملاقات ہوئی تو مجھے کہنے لگے کہ بیٹری تو ٹھیک ھے مگر میں نے احتیاطاً وائر رکھ لیا ھے کہ کہیں مجھے اس کی ضرورت نہ پڑ جائے۔
مولانا احمد سراج صاحب نے کہا، آپ کو ایک ترکیب نہ بتا دوں جس سے یہ وائر جب تک آپ کی گاڑی میں پڑا رھے گا، آپ کو ثواب ملتا رھے گا؟

پوچھا!
وہ کیا؟
مولانا نے جواب دیا، بجائے اس نیت کے کہ کبھی "آپ" کو ضرورت پڑ سکتی ھے یہ نیت کر لیں کہ ھو سکتا ھے کہ کسی "دوسرے" کو اس کی ضرورت پڑ جائے۔ اس سے یہ ہوگا کہ وائر تو آپ بھی استعمال کریں گے مگر کسی دوسرے کی مدد کی نیت کی وجہ سے آپ کے کھاتے میں ثواب اس وقت تک لکھا جاتا رھے گا جب تک یہ وائر آپ کی گاڑی میں موجود رھے گا۔

مدینہ طیبہ میں ایک صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر کے کمرے میں روشن دان بنوایا۔ ایک دوسرے صحابی کے پوچھنے پر بتایا کہ تازہ ہوا اور روشنی کی خاطر بنوایا ھے۔ انہوں نے فرمایا، اگر نیت یہ کر لیں کہ یہاں سے آذان کی آواز آئے گی تو ثواب ملتا رھے گا۔ رہی تازہ ہوا اور روشنی، تو وہ تو ویسے بھی آتی رہیں گی۔

امارات کی ایک خاتون جواہرہ جنہوں نے ایک ٹرک ڈرائیور کی جان بچائی تھی جو حادثہ کے بعد آگ میں جل رہا تھا۔ جواہرہ کو چند گھنٹوں میں وہ شہرت ملی جس کا شاید انہوں نے کبھی تصور بھی نہ کیا ہو۔ اعزازات، انٹرویوز اور ویڈیو کلپس کا سلسلہ تا دیر جاری رہا۔ ان کا تعلق عجمان ریاست سے ھے۔ عجمان کے بادشاہ نے ان کو شرف ملاقات بھی بخشا۔

جواب میں جواہرہ نے کہا کہ انہوں نے یہ سب صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کیا ۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ وہ کہتیں کہ "یہ سب میں نے اللہ کی رضا کے لیے کیا "۔ انسانی ہمدردی والا مدعا تو اس سے بھی واضح ہو جاتا۔ یاد رھے کہ ٹرک ڈرائیور غیرمسلم تھا اور "اللہ کی خاطر" جیسے الفاظ سن کر وہ کم از کم ایک بار تو سوچنے پر مجبور ہوتا کہ مسلمان یہ سب کچھ اللہ، اپنے رب کی خاطر کیا / کرتے ہیں۔

جو بات سمجھنے کی ھے وہ یہ کہ ہم مسلمانوں سے بہت غیرمحسوس انداز میں ہمارا ربّ چھین لیا گیا ھے۔ وہ رب جس کی بدولت ہم سب کچھ ہیں مگر ہم اس کو کچھ بھی دیے نہیں سکتے ۔ بلکہ شاید دنیا کے سامنے اس کا نام لیتے بھی شرماتے ہیں کہ کہیں لوگ ہمیں دقیانوس نہ سمجھ لیں۔
کسی کھلاڑی، کسی فوجی، کسی مالدار، کسی آرٹسٹ، کسی سائنسدان، کسی مصور سے پوچھ کر دیکھ لیں، اس کی زبان پر یہی الفاظ ہوں گے کہ جو کچھ کارنامہ اس نے سرانجام دیا، اپنے وطن کے لیے، انسانیت کی خدمت کے لیے اور فلاں اور فلاں کے لیے دیا۔

جب کہ حقیقت یہ ھے کہ مسلمان تو ہر کام اللہ کی رضاجوئی کی خاطر کرتا ھے۔ اللہ تو ہمارا مرکزِمحبت ھے۔ وہ کہتا ھے "اور جو ایمان والے ہیں وہ تو اللہ سے شدید محبت رکھتے ہیں"۔
اللہ نے خود اپنے نبی صلى الله عليه وآله وسلم سے فرمایا:
"اے نبی (صلی اللہ علیہ وآله و سلم) آپ کہہ دیجئے کہ میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ ربّ العٰلمین کے لیے ھے۔

یہی حضور اكرم صلى الله عليه وآله وسلم کی وہ تربیت ھے جس کی بنا پر ہم دیکھتے ہیں کہ اصحاب رسول کے جملے کچھ اس طرح کے ہوتے تھے:
میں تم سے اللہ کی خاطر محبت کرتا ہوں۔
میں نے اسے اللہ کی خاطر معاف کیا
میں نے فلاں کی اللہ کی رضا کی خاطر مدد کی۔
میں صرف اللہ کے خوف کی وجہ سے فلاں کام سے باز آگیا۔ وغیرہ وغیرہ۔

کبھی کسی نے غور کیا کہ مسلمانوں کی زبانوں سے اس طرح کے فقرے کیوں کر غائب ہوگئے؟ اگر نہیں معلوم تو سن لیجیے کہ اس سے قبل جتنے بھی دوسرے نظریات اسلام کے مدمقابل لائے گئے وہ سب ایک ایک کر کے پسپا ہوگئے۔ اب بازی گروں نے مسلمانوں کے منہ میں "انسانیت سب سے بڑا مذہب" کا نعرہ ڈال دیا ھے.

اور وہ اسی میں خوش ھے کہ اسلام کو پسِ پشت ڈال کر فرعونِ وقت کے مذہب کا غیر محسوس پیروکار بن کر وہ طاغوتِ زمانہ کو خوش کر لے گا۔
ہر انسان جان لے کہ اگر اسے اللہ کی حاجت نہیں تو اللہ کو بھی اس کی حاجت نہیں۔ وہ تو ھے ہی بے نیاز۔
اسے کیا پڑی کہ بندوں کے پیچھے بھاگے جب کہ بندوں نے ایک دن بھاگ کر اسی کے قدموں میں پڑنا ھے!
منقول

12/12/2023

🔴 امریکہ میں جہاں ہر مذہب اور عقیدے کے خلاف بولنے کو آزادی اظہار کے رائے کی آزادی ہے لیکن ‎اسرائیل کے خلاف بولنا جرم ہے، سول سوسائٹی نے امریکی سینیٹ کے باہر ‎غزہ کے معصوم اور مظلوم عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کےلئے مظاہرہ کیا اور جنگ بندی کا مطالبہ کیا جس پر 51 مظاہرین کو پولیس نے گرفتار کر لیا اور کسی کو بھی احتجاج کرنے کی اجازت نہیں دی،، یہ ہے انکا اصل چہرہ

Address

Peshawar

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Adsew posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share