05/06/2026
# وہ 30 منٹ... اور بچوں کے 3 گھنٹے
کل 3 جون تھی۔
آسمان پر بادل تھے، مگر وہ بادل جو بارش نہیں لاتے، صرف حبس بڑھا دیتے ہیں۔ درجہ حرارت 39 ڈگری تھا اور گرمی ایسی کہ چند منٹ کھڑا رہنا بھی مشکل لگ رہا تھا۔
فائنل امتحانات ختم ہو چکے تھے۔ عام طور پر اس وقت تک بچے گرمیوں کی چھٹیوں کے منتظر ہوتے ہیں، لیکن اس سال حکومتی ہدایات کے تحت بچوں کو سمر کیمپ سرگرمیوں کے لیے دوبارہ اسکول بلایا جا رہا تھا۔
میں نویں جماعت کے ایک کلاس روم میں داخل ہوئی جہاں سمر کیمپ کی ایک سرگرمی کروانی تھی۔ کمرے میں 59 بچیاں موجود تھیں۔ بادلوں کی وجہ سے سولر سسٹم کام نہیں کر رہا تھا، پنکھے بند تھے اور بچیاں اپنی کاپیوں کے صفحات سے خود کو ہوا دے رہی تھیں۔
آج کا موضوع تھا: **ضائع ہونے والی چیزوں کو دوبارہ استعمال کرنا (Reuse & Recycle)**۔
میں نے مسکراتے ہوئے کہا:
"بچو! آج ہم سیکھیں گے کہ پرانی اور بے کار چیزوں کو دوبارہ کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مجھے اپنے آئیڈیاز دو!"
لیکن ان کے چہرے کچھ اور کہانی سنا رہے تھے۔ گرمی نے ان کی توانائی نچوڑ لی تھی۔ اس لمحے مجھے احساس ہوا کہ سبق شروع کرنے سے پہلے ان کی کیفیت کو سمجھنا زیادہ ضروری ہے۔
میں نے چاک نیچے رکھا، ایک کاپی اٹھائی اور خود کو ہوا دیتے ہوئے کہا:
"چلو، پہلے پانچ منٹ سب کتابیں بند کرو اور خود کو ہوا دو۔ گرمی سے تھوڑا آرام کر لیتے ہیں۔"
کمرے میں ہلکی سی مسکراہٹ پھیل گئی۔
پھر میں نے ان سے کہا:
"آج کوئی نہیں ڈرے گا۔ غلط جواب بھی چلے گا۔ جو دل میں آئے، بول دو۔ غلط بولو، مگر بولو ضرور۔"
دیہی علاقوں کے بہت سے بچے ذہین تو ہوتے ہیں، مگر اپنی رائے دینے سے گھبراتے ہیں۔ انہیں ڈر ہوتا ہے کہ کہیں ان کی بات پر ہنسی نہ اڑ جائے یا انہیں غلط نہ سمجھ لیا جائے۔
شاید اس دن انہیں محسوس ہوا کہ یہاں ان کی بات سنی جائے گی۔
اور پھر واقعی کچھ بدل گیا۔
ایک کے بعد ایک ہاتھ اٹھنے لگے۔
کسی نے پلاسٹک کی بوتلوں سے گملے بنانے کا مشورہ دیا، کسی نے پرانے اخبار سے شاپنگ بیگ بنانے کا، اور کسی نے گتے سے نوٹس بورڈ تیار کرنے کا خیال پیش کیا۔
وہی بچیاں جو چند منٹ پہلے گرمی سے نڈھال بیٹھی تھیں، اب پورے اعتماد کے ساتھ گفتگو کر رہی تھیں۔ اگلے 30 منٹ میں انہوں نے اتنے خوبصورت آئیڈیاز دیے کہ میرا دل خوش ہو گیا۔
لیکن اصل احساس مجھے اس وقت ہوا جب گھنٹی بجی اور میں کلاس سے باہر نکلی۔
میں تو صرف 30 منٹ کے لیے وہاں گئی تھی۔ اب میں سٹاف روم واپس آئی تھی۔
مگر وہ 59 بچیاں؟
وہ اسی حبس بھرے کمرے میں، بغیر پنکھے کے، مزید تین گھنٹے گزارنے والی تھیں۔
اس لمحے میرا دل بھاری ہو گیا۔
میں نے سوچا، ان بچوں نے اپنے امتحانات مکمل کر لیے ہیں۔ وہ گرمیوں کی چھٹیوں کے حق دار تھے۔ شاید کچھ دن گھر میں آرام کرنے کے، اپنے خاندان کے ساتھ وقت گزارنے کے، اور اس شدید موسم سے بچنے کے حق دار تھے۔
اس کے باوجود وہ وہاں موجود تھیں۔
کاپی کے ایک صفحے کو پنکھا بنا کر۔
پسینے میں بھیگی ہوئی۔
اور پھر بھی سیکھنے کے لیے تیار۔
یہ منظر میرے لیے بچوں کی صلاحیت کا نہیں، ان کی برداشت کا ثبوت تھا۔
مجھے آج بھی یقین ہے کہ ہمارے بچے کسی سے کم نہیں۔ انہیں صرف مواقع، سہولتیں اور حوصلہ افزائی درکار ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ بچوں کی فلاح صرف تعلیم تک محدود نہیں ہوتی۔
کبھی کبھی ایک بچے کو نئی چیز سکھانے سے پہلے اسے ایک ٹھنڈی سانس لینے کا حق دینا بھی ضروری ہوتا ہے۔
تعلیم اہم ہے۔
سرگرمیاں بھی اہم ہیں۔
لیکن بچوں کا آرام، صحت اور موسم کی شدت کو مدنظر رکھنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔
اور شاید ایک استاد ہونے کے ناطے، کل میں نے صرف ایک سرگرمی نہیں کروائی تھی۔
میں نے 59 بچوں کی خاموش برداشت کو قریب سے دیکھا تھا۔