Roshan Rahain

Roshan Rahain Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Roshan Rahain, Peshawar.

Upgrade Your Style ✨
Your one-stop shop for fashion, beauty, and lifestyle.
🛍️ Stitched & unstitched suits | Undergarments | Accessories | Home & Kitchen | Cosmetics
🚚 Nationwide Delivery | 💬 DM for Orders
💖 Quality • Elegance • Affordability

05/06/2026

# وہ 30 منٹ... اور بچوں کے 3 گھنٹے

کل 3 جون تھی۔

آسمان پر بادل تھے، مگر وہ بادل جو بارش نہیں لاتے، صرف حبس بڑھا دیتے ہیں۔ درجہ حرارت 39 ڈگری تھا اور گرمی ایسی کہ چند منٹ کھڑا رہنا بھی مشکل لگ رہا تھا۔

فائنل امتحانات ختم ہو چکے تھے۔ عام طور پر اس وقت تک بچے گرمیوں کی چھٹیوں کے منتظر ہوتے ہیں، لیکن اس سال حکومتی ہدایات کے تحت بچوں کو سمر کیمپ سرگرمیوں کے لیے دوبارہ اسکول بلایا جا رہا تھا۔

میں نویں جماعت کے ایک کلاس روم میں داخل ہوئی جہاں سمر کیمپ کی ایک سرگرمی کروانی تھی۔ کمرے میں 59 بچیاں موجود تھیں۔ بادلوں کی وجہ سے سولر سسٹم کام نہیں کر رہا تھا، پنکھے بند تھے اور بچیاں اپنی کاپیوں کے صفحات سے خود کو ہوا دے رہی تھیں۔

آج کا موضوع تھا: **ضائع ہونے والی چیزوں کو دوبارہ استعمال کرنا (Reuse & Recycle)**۔

میں نے مسکراتے ہوئے کہا:

"بچو! آج ہم سیکھیں گے کہ پرانی اور بے کار چیزوں کو دوبارہ کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مجھے اپنے آئیڈیاز دو!"

لیکن ان کے چہرے کچھ اور کہانی سنا رہے تھے۔ گرمی نے ان کی توانائی نچوڑ لی تھی۔ اس لمحے مجھے احساس ہوا کہ سبق شروع کرنے سے پہلے ان کی کیفیت کو سمجھنا زیادہ ضروری ہے۔

میں نے چاک نیچے رکھا، ایک کاپی اٹھائی اور خود کو ہوا دیتے ہوئے کہا:

"چلو، پہلے پانچ منٹ سب کتابیں بند کرو اور خود کو ہوا دو۔ گرمی سے تھوڑا آرام کر لیتے ہیں۔"

کمرے میں ہلکی سی مسکراہٹ پھیل گئی۔

پھر میں نے ان سے کہا:

"آج کوئی نہیں ڈرے گا۔ غلط جواب بھی چلے گا۔ جو دل میں آئے، بول دو۔ غلط بولو، مگر بولو ضرور۔"

دیہی علاقوں کے بہت سے بچے ذہین تو ہوتے ہیں، مگر اپنی رائے دینے سے گھبراتے ہیں۔ انہیں ڈر ہوتا ہے کہ کہیں ان کی بات پر ہنسی نہ اڑ جائے یا انہیں غلط نہ سمجھ لیا جائے۔

شاید اس دن انہیں محسوس ہوا کہ یہاں ان کی بات سنی جائے گی۔

اور پھر واقعی کچھ بدل گیا۔

ایک کے بعد ایک ہاتھ اٹھنے لگے۔

کسی نے پلاسٹک کی بوتلوں سے گملے بنانے کا مشورہ دیا، کسی نے پرانے اخبار سے شاپنگ بیگ بنانے کا، اور کسی نے گتے سے نوٹس بورڈ تیار کرنے کا خیال پیش کیا۔

وہی بچیاں جو چند منٹ پہلے گرمی سے نڈھال بیٹھی تھیں، اب پورے اعتماد کے ساتھ گفتگو کر رہی تھیں۔ اگلے 30 منٹ میں انہوں نے اتنے خوبصورت آئیڈیاز دیے کہ میرا دل خوش ہو گیا۔

لیکن اصل احساس مجھے اس وقت ہوا جب گھنٹی بجی اور میں کلاس سے باہر نکلی۔

میں تو صرف 30 منٹ کے لیے وہاں گئی تھی۔ اب میں سٹاف روم واپس آئی تھی۔

مگر وہ 59 بچیاں؟

وہ اسی حبس بھرے کمرے میں، بغیر پنکھے کے، مزید تین گھنٹے گزارنے والی تھیں۔

اس لمحے میرا دل بھاری ہو گیا۔

میں نے سوچا، ان بچوں نے اپنے امتحانات مکمل کر لیے ہیں۔ وہ گرمیوں کی چھٹیوں کے حق دار تھے۔ شاید کچھ دن گھر میں آرام کرنے کے، اپنے خاندان کے ساتھ وقت گزارنے کے، اور اس شدید موسم سے بچنے کے حق دار تھے۔

اس کے باوجود وہ وہاں موجود تھیں۔

کاپی کے ایک صفحے کو پنکھا بنا کر۔

پسینے میں بھیگی ہوئی۔

اور پھر بھی سیکھنے کے لیے تیار۔

یہ منظر میرے لیے بچوں کی صلاحیت کا نہیں، ان کی برداشت کا ثبوت تھا۔

مجھے آج بھی یقین ہے کہ ہمارے بچے کسی سے کم نہیں۔ انہیں صرف مواقع، سہولتیں اور حوصلہ افزائی درکار ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ بچوں کی فلاح صرف تعلیم تک محدود نہیں ہوتی۔

کبھی کبھی ایک بچے کو نئی چیز سکھانے سے پہلے اسے ایک ٹھنڈی سانس لینے کا حق دینا بھی ضروری ہوتا ہے۔

تعلیم اہم ہے۔

سرگرمیاں بھی اہم ہیں۔

لیکن بچوں کا آرام، صحت اور موسم کی شدت کو مدنظر رکھنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔

اور شاید ایک استاد ہونے کے ناطے، کل میں نے صرف ایک سرگرمی نہیں کروائی تھی۔

میں نے 59 بچوں کی خاموش برداشت کو قریب سے دیکھا تھا۔

23/05/2026

میری ایک دوست نے کال کی،
“ایگزام ڈیوٹی کرنی ہے؟ تمہارا نام دے دوں؟”

میں نے فوراً کہا، “ہاں دے دو۔”

شاید اس لیے بھی کہ سارا سال ایک ہی اسکول میں پڑھاتے پڑھاتے انسان اندر سے تھک جاتا ہے۔
نہ کوئی training، نہ workshop، نہ کوئی نئی exposure۔
ایک وقت کے بعد دل چاہتا ہے کہ باہر نکل کر کچھ نیا دیکھا جائے…
لوگ بھی، ماحول بھی، اور شاید خود کو بھی۔

سات سال بعد میری کہیں exam duty لگی تھی۔
میں نے online apply بھی کیا تھا، مگر جب BISE کا message آیا اور system check کیا تو وہاں ابھی بھی “Application Pending” لکھا تھا۔
اسی لمحے خاموشی سے سمجھ آگئی کہ اس سسٹم میں صرف قابلیت ہی کافی نہیں ہوتی بلکہ approach بھی دروازے کھول دیتی ہے۔

اگلے دن اپنے اسکول سے relief لینا بھی آسان نہیں تھا۔
یوں لگ رہا تھا جیسے ہر قدم پر خود کو prove کرنا پڑ رہا ہو۔
لیکن بعض اوقات زندگی آپ کو اُن راستوں پر بھی لے جاتی ہے جہاں جانا ضروری ہوتا ہے، چاہے آسان نہ ہو۔

پھر جب duty پر پہنچی تو ماحول بالکل مختلف تھا۔
کچھ experienced teachers، کچھ fresh graduates، حتیٰ کہ semester والے بھی۔
ہر چہرے کے پیچھے ایک الگ کہانی تھی…
اور ایک الگ Reference بھی۔

پھر Superintendent اور Deputy آئیں۔
نہ سلام، نہ مسکراہٹ، نہ یہ احساس کہ ہم سب ایک ہی ٹیم کا حصہ ہیں۔
ایک لمحے کے لیے دل میں آیا،
“آخر اس attitude کی کیا ضرورت ہے؟”

ڈپٹی نے کافی کام invigilators سے کروایا،
لیکن ہم نے خاموشی سے، خوش دلی سے اپنا کام کیا۔

اور میں…
ایک چھوٹے سے گاؤں کے اسکول سے نکل کر سسٹم کو دیکھ رہی تھی۔
لوگوں کو بھی، رویّوں کو بھی…
اور شاید خود کو بھی۔

اس پہلے دن نے مجھے ایک اہم حقیقت سکھائی:

باہر کی دنیا کتابوں جیسی سیدھی نہیں ہوتی۔
یہاں صرف ڈگری یا قابلیت کافی نہیں ہوتی۔
یہاں برداشت، مشاہدہ، self-control اور خاموش رہ کر آگے بڑھنے کا ہنر بھی چاہیے ہوتا ہے۔

لیکن سچ یہ ہے کہ اس پورے تجربے میں سب سے خوبصورت احساس یہ تھا کہ
میں ٹوٹی نہیں۔
میں ڈری نہیں۔
میں وہاں موجود رہی۔

خاموشی سے سب کچھ دیکھتی رہی…
اور اندر ہی اندر مضبوط ہوتی رہی۔

کبھی کبھی زندگی ہمیں comfort zone سے نکال کر ایسے ماحول میں لے آتی ہے
جہاں ہم لوگوں کو نہیں…
بلکہ خود کو پہچاننا شروع کرتے ہیں۔

اور شاید اصل growth بھی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔

Address

Peshawar

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Roshan Rahain posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share