05/07/2026
خاتون کو بچاتے ہوئے پاک فضائیہ کے بہادر گروپ کیپٹن عاصم شہید
اسلام آباد میں انسانیت، جرات اور فرض شناسی کی ایک دردناک مثال سامنے آئی، جہاں پاک فضائیہ کے گروپ کیپٹن عاصم ایک نامعلوم خاتون کو مبینہ اغوا کی کوشش سے بچاتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر گئے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق گروپ کیپٹن عاصم نائنتھ ایونیو سے گزر رہے تھے کہ انہوں نے ایک موٹرسائیکل کے قریب ایک خاتون کو شدید پریشانی کی حالت میں دیکھا۔ موٹرسائیکل سوار مبینہ طور پر خاتون کا ہاتھ پکڑ کر اسے زبردستی اپنے ساتھ لے جانے کی کوشش کر رہا تھا۔ صورت حال کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے گروپ کیپٹن عاصم نے ایک ذمہ دار اور باہمت شہری ہونے کا ثبوت دیا۔ وہ فوراً اپنی گاڑی موڑ کر واپس آئے اور موٹرسائیکل کے قریب جا کر رکے۔
عینی حالات کے مطابق گروپ کیپٹن عاصم کی مداخلت پر خاتون فوراً موٹرسائیکل سے الگ ہو کر ان کی گاڑی کی دوسری جانب آ گئی اور یوں خود کو محفوظ کر لیا۔ اسی دوران مبینہ ملزم سعد نے گروپ کیپٹن عاصم کے ساتھ تلخ کلامی شروع کر دی، جو دیکھتے ہی دیکھتے فائرنگ میں تبدیل ہو گئی۔ ملزم نے قریب سے فائر کیے، جس سے گروپ کیپٹن عاصم شدید زخمی ہو گئے۔ انہیں فوری طور پر طبی امداد فراہم کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جام شہادت نوش کر گئے، جبکہ حملہ آور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔
پولیس کے مطابق خاتون کے ابتدائی بیان میں بتایا گیا ہے کہ مبینہ ملزم اس کا دفتر میں ساتھی ملازم تھا۔ اس نے خاتون کو دفتر لے جانے کی پیشکش کی، لیکن راستے میں گاڑی کا رخ تبدیل کر کے اسے کسی اور مقام پر لے جانے کی کوشش کی۔ خاتون کی مزاحمت کے دوران ہی گروپ کیپٹن عاصم وہاں پہنچے، بروقت مداخلت کی اور اسے ممکنہ خطرے سے محفوظ کر لیا۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ملزم کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔
گروپ کیپٹن عاصم نے اپنی جان دے کر ایک بے سہارا خاتون کی جان اور عزت کا تحفظ کیا۔ ان کی یہ قربانی اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ معاشرے میں ایسے بہادر اور باکردار لوگ موجود ہیں جو دوسروں کی حفاظت کے لیے اپنی جان کی بھی پروا نہیں کرتے۔
شہید گروپ کیپٹن عاصم اپنے سوگواران میں اہلیہ اور دو کم سن بیٹیاں چھوڑ گئے ہیں۔ ان کی شہادت نے نہ صرف ان کے خاندان بلکہ پوری قوم کو غمزدہ کر دیا ہے، جبکہ ان کی جرات، فرض شناسی اور ایثار ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔
سبوخ سید / آئی بی سی اُردو ۔