Fřiēñđs ŤÂiŁörş Masters

Fřiēñđs ŤÂiŁörş Masters 💖💖Malik Akhtar Hussain Tailor master Haveli Majoka Road Nihang 👕👖👚

10/04/2025
10/04/2025

*ایک گاؤں میں غریب نائی رہا کرتا تھا جو ایک درخت کے نیچے کرسی لگا کے لوگوں کی حجامت کرتا ۔*

مشکل سے گزر بسر ہو رہی تھی۔ اس کے پاس رہنے کو نہ گھر تھا۔ نہ بیوی تھی نہ بچے تھے۔ صرف ایک چادر اور ایک تکیہ اس کی ملکیت تھی ۔ جب رات ہوتی تو وہ ایک بند سکول کے باہر چادر بچھاتا، تکیہ رکھتا اور سو جاتا.

ایک دن صبح کے وقت گاوں میں سیلاب آ گیا۔

اس کی آنکھ کھلی تو ہر طرف شور و غل تھا۔
وہ اٹھا اور سکول کے ساتھ بنی ٹینکی پر چڑھ گیا. چادر بچھائی، دیوار کے ساتھ تکیہ لگایا اور لیٹ کر لوگوں کو دیکھنے لگا ۔

لوگ اپنا سامان، گھر کی قیمتی اشیا لے کر بھاگ رہے تھے. کوئی نقدی لے کر بھاگ رہا ہے، کوئی زیور کوئی بکریاں تو کوئی کچھ قیمتی اشیا لے کر بھاگ رہا ہے۔

اسی دوران ایک شخص بھاگتا آ رہا تھا اس نے سونے کے زیور پیسے اور کپڑے اٹھا رکھے تھے۔ جب وہ شخص اس نائی کے پاس سے گزرا اوراسے سکون سے لیٹے ہوئے دیکھا توغصے سے بولا !

" اوئے ساڈی ہر چیز اجڑ گئی اے۔
ساڈی جان تے بنی اے، تے تو ایتھے سکون نال لما پیا ہویا ایں"۔۔

یہ سن کرنائی بولا !
لالے اج ای تے غربت دی چس آئی اے"

جب میں نے یہ کہانی سنی تو ہنس پڑا مگر پھر ایک خیال آیا کہ شاید روز محشر کا منظر بھی کچھ ایسا ہی ہوگا۔

جب تمام انسانوں سے حساب لیا جائے گا۔
ایک طرف غریبوں کا حساب ہو رہا ہو گا ۔
دو وقت کی روٹی، کپڑا ۔حقوق اللہ اور حقوق العباد ۔

ایک طرف امیروں کا حساب ہو رہا ہو گا ۔
پلازے، دکانیں، فیکٹریاں، گاڑیاں، بنگلے، سونا اور زیوارات
ملازم ۔ پیسہ ۔ حلال حرام ۔ عیش و آرام ۔ زکوۃ ۔ حقوق اللہ۔ حقوق العباد۔۔۔۔
اتنی چیزوں کا حساب کتاب دیتے ہوئے پسینے سے شرابور اور خوف سے تھر تھر کانپ رہے ہوں گے۔

تب شاید اسی نائی کی طرح غریب ان امیروں کو دیکھ رہے ہوں گے۔
چہرے پر ایک عجیب سا سکون اور شاید دل ہی دل میں کہہ رہے ہوں گے۔۔۔۔!

"اج ای تے غربت دی چس آئی اے ۔۔۔۔

Address

Nihang
Sargodha
40210

Telephone

+923027290336

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Fřiēñđs ŤÂiŁörş Masters posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share