26/06/2025
بادشاہ اور آم
مغل بادشاہوں کو آم سے بے حد محبت تھی۔ ان میں سب سے مشہور مغل شہنشاہ اکبر اعظم تھا، جسے آم نہایت پسند تھے۔ اکبر کے دورِ حکومت میں آم کو شاہی میوہ قرار دیا گیا، اور اس کی کئی اقسام کو خاص طور پر بادشاہ کے لیے تیار کیا جاتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اکبر نے دارالحکومت فتح پور سیکری کے گرد آموں کا ایک وسیع باغ لگوایا، جسے "لکھ باغ" کہا جاتا تھا، کیونکہ اس میں ایک لاکھ سے زائد آم کے درخت تھے۔
ایک دن اکبر اپنے وزیرِ خاص بیربل کے ساتھ آم کھا رہا تھا۔ بیربل نے آم کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیے۔ اکبر ہنسا اور کہا، "بیربل، تم صرف میرے سامنے آم کی تعریف کرتے ہو، اگر یہ آم کسی فقیر کے پاس ہوتے تو تم انہیں کمتر پھل کہتے!" بیربل نے عاجزی سے جواب دیا، "جہاں پناہ، آم کی خوبی دراصل کھانے والے کے مرتبے سے ظاہر ہوتی ہے۔ آم تو ویسے ہی میٹھا ہے، لیکن جب شہنشاہ اکبر کھائے، تو وہ جنت کا میوہ بن جاتا ہے!"
اکبر بیربل کی حاضر جوابی پر بہت خوش ہوا اور اس نے بیربل کو انعام سے نوازا۔ یہ واقعہ نہ صرف آم کی تاریخی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے بلکہ مغل دربار کے ذوقِ طعام اور وزیروں کی ذہانت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔
آج بھی آم کو "پھلوں کا بادشاہ" کہا جاتا ہے، اور اس کی مقبولیت برصغیر میں صدیوں پرانی ہے۔ آم نے تاریخ، ادب اور ثقافت میں ایک خاص مقام حاصل کیا ہے، جو اس پھل کی شیرینی کی طرح امر ہے۔
بلال